سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان

naseer ahmed
naseer ahmed

سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان

از، نصیر احمد 

ہم تو کافی عرصے سے اس کی نِشان دہی کر رہے ہیں، لیکن فرینک میکلن جیسے محقق بھی کہتے ہیں کہ خوارزم کی مہم کے دوران خاقانِ اعظم چنگیز خان کو صوفی بہت پسند آئے اور صوفیوں کو خاقانِ اعظم۔

وہ لکھتے ہیں کہ بعضے صوفی تو خاقان اعظم کو درویشی کا جلالی رُوپ کہتے تھے اور ان سے التجائیں کرتے تھے کہ کافر گُم راہوں کا کام تمام کر دے۔ بعد میں تو یہ رشتہ اور پختہ ہو گیا جب ایل خانی اور سنہری لشکر کے منگول مسلمان ہونے لگے۔ اور امیر تیمور کے لشکر کو تو درویش دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے۔

رشتے ہوتے ہیں تو ان کے سبب بھی ہوتے ہیں۔ فرینک میکلن نے یہ اسباب تو نہیں بتائے، لیکن ہم خود سے ہی کچھ سوچ لیتے ہیں۔

ایک واقعہ یاد آ گیا۔ علاقے کے مشہور دانش وروں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے اور وہ بڑی ثقیل اصطلاحیں، جیسے عملی فعلِیّت میں عقل کی منطقی حرکت استِعمال کر رہے تھے اور ہمارے پلّے کچھ نہیں پڑ رہا تھا اور ہم اپنی دل چسپی کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک اور لڑکے سے رونالڈو اور کارلوس جیسے فٹ بالروں کی باتیں کرنے لگے۔

اب دانش ور لوگ جیسے ہوتے ہیں جب معاملات دل چسپ نہیں رکھ پاتے تو طعنہ بازی تو کرنے لگتے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ شوپنہار نے کہا ہے کہ دو ذہین لوگوں کو آپس میں بات چیت کرنے میں بہت وقت لگتا ہے، احمق تو ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رَواں ہو جاتے ہیں۔

اسی قسم کی مشترکہ صفات ہی ایسی پسندیدگی کی وجہ ہوتی ہیں۔ اور ماضی و موجود میں بہت جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔

خاقانِ اعظم بھی سمجھتے تھے کہ انھیں افلاک سے مِشن عطا ہوا ہے کہ وہ دنیا فتح کریں۔ اور صوفی بھی حقائق اُولیٰ سے انتہائی قربتوں کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ اور خاقانِ اعظم بھی اس دعویٰ کے ثبوت کے لیے روحانی قلابازیاں، ملکُوتی چھلانگیں اور لاہُوتی رقص جیسے تماشے کرتے تھے۔

صوفیوں کا تو ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں مزاج میں روحانیت تھی اور روحانیت کو سیاسی و معاشرتی طاقت کی اساس بنا لیا تھا۔

انھی روحانی کارِروائیوں کے تحت مرشد اپنے مریدوں سے ایک مکمل اطاعت کا تقاضا کرتے ہیں۔

اور خاقانِ اعظم بھی منگولوں، بَل کہ پوری دنیا سے مکمل اطاعت کا تقاضا کرتے تھے۔ اور اطاعت شِعاری میں جس کا مقام بہتر ہو اسے خوب نوازتے بھی تھے، تو صوفیوں کے خصوصی چیلے بھی بڑے بڑے خلیفے ہوتے ہیں بعد میں خود بڑے پیر بن جاتے ہیں۔

خاقانِ اعظم کا بھی مکمل قبضے پر بہت اصرار تھا اور صوفی بھی مرید پر شیخ کے مکمل تصرُّف کے قائل ہیں۔ طاقت سے متعلق انسانی نفسیات کا خاقانِ اعظم کا گہرا مشاہدہ تھا اور صوفیاء کے مریدوں کے جتھے کے جتھے بتاتے ہیں کہ صوفیاء بھی جذبات کے استِحصال کے ماہر ہیں۔

انسانیت کے درد و غم سے ایک بے پرواہی بھی صوفی اور چنگیزی مشن کا ایک اہم فیچر ہے۔ اس ابتلاء کے زمانے میں جب منگول لشکر دنیا اجاڑ رہے تھے ایسے میں ان میں باہمی پسندیدگی بَہ ذاتِ خود اس بے پرواہی کی دلیل ہے۔

بعد میں جب اتحاد ہو گیا اور شیخ سعدی ایل خانی اکیانو کے قصیدے کہنے لگے تب بھی انسانوں کی بربادی سے پرواہی دیکھی جا سکتی ہے۔ اب یہ اتحاد اَزمنہ وسطیٰ میں بہت مضبوط تھا اور بعد میں جب اشتراکیت اور فاش ازم کاملیّت پرستی کے فروغ کے لیے انسانیت کُشی کے مرتکب ہوئے تو وہان بھی کامل سیاسی طاقت کا تصوف سے اتحاد دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت میں تو مذہبی فاشسٹوں اور اشتراکیوں کے اکثریتی گروہ بھی صوفیاء کی بہت تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔

بات وہی جزو کے کل میں ادغام کی ہے۔ اور فرد کے کل کی ترجمانی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہونے کے دعوے کی ہے۔ شعر و نغمہ میں، گپ شپ میں اچھی لگتی رہے گی لیکن جب وہ سیاسی طاقت بنے گی تو اس کے نتائج پوری انسانیت کی بربادی کے ہوں گے۔

کائنات کے مقاصد اور ان کا مظہر ہونے کے دعویٰ اور مقاصد اور ان دعووں کے نتیجے میں مکمل اطاعت پر اصرار کاملیّت پرستی کی اساس ہے اور فلسفے پر بھی اس کے اثرات بذریعہ روحانیت ہی آئے ہیں۔

بکارن، سٹالن کے بارے میں کہا کرتے تھے، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان۔ تو یہ مشابہتیں جب نظر آتی ہیں تو ان کی وجوہات ہوتی ہیں۔ ہر کیس میں نہیں، لیکن کاملیّت پرستی اور روحانیت کے سلسلے میں بہت شواہد مل جاتے ہیں۔

وحشت بھی دونوں سلسلوں میں مشترک ہے۔ مفادات کا تعاقب کرتی کیلکُولیٹڈ وحشت۔ حال کھیلتے ہوئے بھی اور شہر اجاڑتے ہوئے بھی اور شہر اجڑنے پر حال کھیلتے ہوئے بھی کیلکُولیٹڈ۔