کچھ بات ذکرِ میر آپ بیتی کی
از، نصیر احمد
ذکر میر اردو کے مشہور شاعر میر تقی میر کی فارسی میں آپ بیتی ہے جس کا ترجمہ نثار احمد فاروقی نے کیا ہے۔
آپ بیتی بھی ہے، لیکن جگ بیتی بھی ہے۔ میر صاحب اپنے زمانے کا حال بھی بھی بتاتے ہیں۔ اور حال کیا ہے مغل سلطنت کی ابتری کے بعد نراجیت، انتشار، قتل و غارت، لوٹ مار، چوری چکاری، بھرشٹا چار، ظلم و ستم، انسانیت دشمنی اور اخلاقی ابتری کی اندوہ ناک داستانیں ہیں جن کی جُزئیات میں میر صاحب نے غلطیاں کی ہیں، لیکن وہ جیسے کہتے ہیں بڑی مورت ویسی ہی دکھائی ہے جو تاریخی کتابوں میں درج ہے۔
بس یہی لگتا ہے چاروں طرف بلوے ہی بلوے ہیں جن کی زَد میں میر صاحب کی زندگی آ گئی ہے۔ اور ایسے بلوے ہیں جن میں گروہی طور پر کسی کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ ذرا اچھے لوگ تھے۔
میر صاحب نے یہ آپ بیتی اٹھارویں صدی کے اواخر میں مکمل کی اور یہی ان کی عمرِ عزیز کا بھی آخری حصہ تھا۔ میر صاحب کی رسائی بھی ذرا کم اہم رئیسوں اور شریفوں تک لگتی ہے اور جگ بیتی ان کی محفلوں کی خوشہ چینی اور کچھ آنکھوں دیکھا حال لگتا ہے۔
ہمارے ہاں کی لوگوں کا کسی معاملے کا آنکھوں دیکھا حال بھی مشکوک سا ہی ہوتا ہے اور سنی سنائی بھی کافی نا معتبر سی ہوتی ہے اور میر صاحب نے اس معاشرے میں اپنے مقام مرتبے کے بارے میں خوش فہمی پر مبنی اندازوں سے بھی کام چلایا ہے۔ مذہب، ذات برادری کے تعصبات بھی ہیں۔ اور اپنے خاندان کی مِیری اور تصوف میں مقام کے بارے میں بھی گپیں بھی بہت ہانکی ہیں۔ اس سب کے باوجود اس زمانے کے حکم ران جو کر رہے تھے اس کا احوال کچھ اتنا غلط نہیں ہے۔ احمد شاہ ابدالی کے بارے میں لکھتے ہیں:
اس کی فوجوں نے لوٹ مار شروع کر دی اور متھرا میں جو شہر (آگرہ) سے اٹھارہ کوس ادھر بڑا با رونق شہر تھا قتلِ عام ہوا۔
میر صاحب کی آپ بیتی کے مؤلف بتاتے ہیں جو میر صاحب نے بتایا ہے وہ اس کا عشرِ عشیر نہ تھا جو اصل میں ہوا۔
احمد شاہ ابدالی کی فوج نے ظلم و تعدّی کی انتہا کر دی تھی۔’ قتل و غارت کا وہ بازار گرم ہوا کہ سپاہی مقتولوں کے سروں کو نوٹوں کی طرح جمع کرتے’ اور ‘شرَفاء کی بہو بیٹیوں کی وہ بے توقیری ہوئی کہ جن مغویہ عورتوں سے ابدالی کے سپاہی زنا کرتے تھے ان کی فریاد و فغان سے راتوں تک کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔
احمد شاہ ابدالی کو بھی مسیحا اور نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے، لیکن جب ان کا لشکر دہلی پہنچا تو میر صاحب کے مطابق عفو و امان کے وعدہ وعید کے باوجود ان کے لشکر نے قتل و غارت کی اور لوٹ مار مچائی۔ میر صاحب لکھتے ہیں:
یہ (غارت گر ) زخم بھی لگاتے، گالیاں بھی بَکتے، روپیہ بھی چھین لیتے اور سیدھیاں بھی سناتے۔ ایک عالم تکلیفیں جھیل کر مر گیا۔ ایک جہان کی ناموس برباد ہوئی۔
ایک اور جگہ دلی کے لٹنے کا حال لکھتے ہیں:
‘نہ وہ بازار (تھے) جن کا بیان کروں نہ بازار کے حسین لڑکے (میر صاحب کے زمانے میں ایک طرح کی مقدس لونڈے بازی رائج تھی اور میر صاحب سے متصوّف شعراء روحانی اور شاید جسمانی مسرت کا ایک اہم ذریعہ تھی) وہ حسن کہاں جس کی میں پرستش کیا کرتا تھا۔ وہ یاران عاشق مزاج کدھر گئے۔ گلیاں معدوم ہو گئیں اور ہر طرف وحشت برس رہی تھی۔’ ایک استاد کی مجھے رباعی یاد آ گئی:
افتاد گزارم چو بویرانہ طوس
دیدم چغدے نشستہ برجائے خروس
گفتم چہ خبر داری ازین ویرانہ
خبر اینست کہ افسوس افسوس
سکّھوں نے ابدالی کی واپس جاتی فوج کو بہت تنگ کیا تھا۔ میر صاحب سکھوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں:
‘غیرتِ خداوندی نے انھیں سکھوں کے ہاتھوں ذلیل کیا۔ جو بے اصلوں، جولاہوں، ندافوں، بزازوں، دلالوں، بقالوں، نجاروں، قذاقوں، کم مایہ لوگوں، سِفلوں، جنگلیوں، بازاریوں، کمینوں اور تہی دستوں کی ٹولی تھی۔’
ل
یجیے یہ نجات دہندوں کا ایک اور گروہ ہے جس کے بارے میں آج کل بھارتی پنجاب میں بہت فلمیں بنتی ہیں۔ لیکن میر صاحب کی رائے پر اگر تھوڑا اعتبار کیا جائے تو نجات والی بات تو کم ہی حقیقت لگتی ہے، لیکن یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ سکھ تحریک محروموں کی رئیسوں کے خلاف ایک طرح کی بغاوت تھی، لیکن اخلاقی ابتری دونوں طرف سے ایک ہی جیسی تھی۔ وہی لوٹ مار، قتل و غارت، ظلم و ستم۔ دونوں کیا ہر طرف ہی یہی حال تھا۔
اور میر صاحب کی آپ بِیتی ایسا حمام بن جاتی ہے جس میں گروہی طور پر سب ہی ننگے نظر آتے ہیں۔ کہیں، افغانوں کا لشکر لوٹ مار کرتا ہے تو کہیں مغل امراء قتلِ عام، کہیں سکھ ظلم و ستم کرتے ہیں تو کہیں جاٹ بد سازی کرتے ہیں۔ کہیں مرہٹے جو دل چاہے وہ کرتے ہیں۔ گھمنڈ رہتے ہیں۔ جاگیریں ضبط کراتے ہیں اور ایسی ہڑبونگ مچاتے ہیں کہ لکھی ہی نہیں جا سکتی۔
سدا شیو بھاو کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ دلیر آدمی تھا لیکن ابدالی سے جیت نہ پایا۔ فلمیں تو مرہٹوں پر بھی بنتی ہیں، لیکن جنوبی ایشیا میں فلمیں بنانے والے ایک ہی رخ دکھاتے ہیں۔ میر صاحب مغلوں سے زیادہ ہم دردی رکھتے ہیں، لیکن انھوں نے ایک جامِع تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس زمانے کی عمومی ابتری اور بلوے بازی کی انتہاؤں کی تصویر کشی کرتی ہے۔
انگریزوں کا ذکر آتا ہے بہ طورِ ایک ایک بالا دست قوم جو جنگ و جدل میں ہندوستانیوں سے بہتر ہے اور بہتر طریقے سے جنگ کرتی ہے اور لوٹ مار سے گریز کرتی ہے۔
میر صاحب اپنے لکھنؤ کے سفر کا حال بھی بتاتے ہیں۔ اور وہاں آصفُ الدّولہ کے ہاں وائسرائے کی دعوت کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں:
‘راتوں کو رقصندگان پری وش، نہیں نہیں حوران بہشتی سے دل کش۔ فرنگی رقص، خوشی کا تماشا، رنگ برنگ گل ہائے فالودہ، قسم قسم کی روٹیاں دستر خوان پر، نان بادام بڑی نزاکت سے بنی ہوئی، شیر مال باقر خانی، خورشید ہر طعنہ زن، نان جوان ایسی گرمی اور خوبی کی بوڑھا کھائے تو جوان ہو جائے، نان ورقی کی تعریف کروں تو دفتر بھر جائے اور نان زنجبیلی کو دیکھ کر ذائقہ محظوظ ہوتا تھا۔’
اس طرح کے خوانِ نعمت تک رسائی کے لیے بھارت باولا ہو رہا تھا اور بھارت جب باولا ہوتا ہے تو یکایک اس کے مذاہب اس کے جنون کے ہم نوا ہو جاتے ہیں۔ اور بلوے ہی بگڑتے اور بنتے رہتے ہیں۔
ششی تھرور وغیرہ بڑے پروپیگنڈے وغیرہ کرتے ہیں لیکن یہ حال دیکھ کر لگتا نہیں کہ بھارت کی حالت اپنے آپ ہی سنورتی۔ مرکزی طاقت کی موجودی سے معاملات کچھ بہتر ہو جاتے ہیں، لیکن اگر وہ طاقت اورنگ زیب جیسی پالیسیوں پر اتر آئے تو طاقت بھی بگڑتی ہے اور معاملات بھی بگڑتے ہیں۔ اس لیے بھارت والوں کو ہندوتوا وغیرہ کے ترک کرنے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔
باقی رہا جمہوریت کا معاملہ پاک و بھارت و بنگلہ و دیش و سری لنکا و افغانستان و برما سب کو اس بے فکری کا درمان کرنا ہو گا جو بلوؤں پر اکساتی ہے۔ مذہب و معاشرت کی کاملیّت پرست تشریحیں بھی ترک کرنی ہوں گی۔ اور کسی ایسے نظام کے لیے بے تابی بھی چھوڑنی پڑے گی جو ہر طرح کا بلوہ سہل کر دیتا ہے، تب شاید جمہوریت کی کچھ بات بنے۔ ابھی تو گروہی طور پر سب وِلنز ہی ہیں جنھیں فلم کے ذریعے ہیرو بنایا جاتا ہے۔
لیکن ذکرِ میر جیسی آپ بیتیاں ٹکر جاتی ہیں اور غیر جانب داری سے تجزیہ کرتے مؤرخین کی کتابیں بھی تو فلموں کا جادو ٹوٹ جاتا ہے۔ باقی میر صاحب کی آپ بیتی کے اور بھی پہلو ہیں۔ عشق کی فضیلت میں جو انھوں نے گپیں ہانکی ہیں۔ تھوڑے بہت انعام و اکرام کے لیے جو جتن کیے ہیں، خان آرزو کے بارے میں میر کے تضادات کا باعث کیا بنا، وہ سب بھی کافی دل چسپ ہے لیکن ابھی یہی ہو سکا ہے۔
کہتا تھا کسی سے کچھ تکتا تھا کسی کا مُنھ
کل میر یاں کھڑا تھا سچ ہے کہ دوانا تھا
