جب سیاست خدا کی زبان بولنے لگے

yasser chattha aprilmay2025

جب سیاست خدا کی زبان بولنے لگے

از، یاسر چٹھہ

انسانی معاشرے صرف منطق سے نہیں چلتے۔ یہ شاید سیاسی تاریخ کے ان حقائق میں سے ایک ہے؛ اسے حقیقت کو ہم جتنا سمجھنے کی کوشش کریں، اتنا ہی واضح ہوتا جاتا ہے: انسان کو محض یہ بتا دینا کافی نہیں ہوتا کہ کیا دُرُست ہے۔ انھیں یہ بھی باور کرانا پڑتا ہے کہ کون دُرُست ہے، کون غلَط ہے، اور کس کے ساتھ کھڑا ہونا اخلاقی طور پر لازم ہے۔

یہیں سے سیاست اور مذہب کی وہ سرحد دُھندلی ہونا شروع ہوتی ہے جہاں اقتدار صرف دلائل نہیں دیتا؛ اقتدار اپنے لَبوں پر مقدس زبان کی کَیسِٹ  چلا دیتا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حیران کُن تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ طاقت ور رہ نماؤں نے بارہا اپنے سیاسی مقاصد کو مذہبی زبان کی تختی میں ڈھالا۔ انھوں نے اپنے اقتدار، اپنی جنگ، اپنی قوم، اپنی جد و جہد اور بعض اوقات اپنے مخالفین تک کو خدائی ارادے کے تناظر میں بیان کیا۔

یہ ہمیشہ مذہبی بیداری نہیں تھی۔ اکثر یہ طاقت کے حَربوں کی سائنس ایک نہایت مؤثر سماجی ٹیکنالوجی تھی۔ اس طاقت کے کار و بار کی اس سماجی ٹیکنالوجی کا مقصد صرف لوگوں کو قائل کرنا نہیں تھا۔ مقصد ایک ایسا ’’ہم‘‘ تخلیق کرنا تھا جس کے اندر موجود لوگوں کو یقین ہو کہ وہ محض ایک گروہ نہیں، بَل کہ حق کے ساتھ کھڑے لوگ ہیں۔

اور پھر ’’وہ‘‘ پیدا ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو صرف مختلف رائے نہیں رکھتے، بَل کہ غلَط ہیں، نِجس ہیں، غدار ہیں، بد اخلاق ہیں، “لَتّھی چَڑھی” سے نا بلد مخلوق ہیں، سرا سر نا موجود رہنے کے سزاوار وُجود ہیں۔

مقدس ’’ہم‘‘ کہاں سے آیا؟

اس کہانی کی جڑیں بہت پیچھے جاتی ہیں۔ قدیم میسوپوٹیمیا میں، تقریباً 2285 قبلِ مسیح، اکدی شہزادی اینہیدوانا ایک ایسی سلطنت کا حصہ تھیں جو وسیع و بسیط بھی تھی اور سیاسی طور پر غیر مستحکم بھی۔ شہزادی اینہیدوانا نے بغاوت اور بے چینی کے ماحول میں اقتدار کا دفاع صرف سیاسی دلیل سے نہیں کیا گیا۔ مذہبی شاعری اور حمدیہ کلام کے ذریعے حکم ران طبقے کو خدائی ارادے سے جوڑا۔ یہ ایک بنیادی سیاسی دریافت تھی: اگر حکم ران کا اختیار خدا کے ارادے سے جُڑ جائے تو اس کی مخالفت محض حکم ران کی مخالفت نہیں رہتی۔

یہی اصول مختلف شکلوں میں صدیوں تک سفر کرتا رہا۔ روم میں سِیسرَو جانتے تھے کہ پالیسیوں اور قوانین پر بحث لوگوں کو کچھ دیر کے لیے قائل کرسکتی ہے، لیکن مُطلق وفاداری پیدا نہیں کرتی۔ اس لیے انھوں نے شہری فرض، اخلاقی نظم اور رُوم کی اجتماعی تقدیر کو اپنی سیاسی خطابت کا حصہ بنایا۔ کیٹیلائن جیسے مخالفین کو یوں پیش کیا گیا کہ وہ محض سیاسی مخالف نہیں، بُل کہ خود رُومی نظم کے لیے خطرہ ہیں۔

بعد میں آگُسٹس کے عہد میں سیاسی اقتدار اور مذہبی تقدیس کا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔ شہنشاہ کی شخصیت کو مقدس یاد داشت اور مذہبی علامتوں سے جوڑنے نے نئی سیاسی حقیقت کو قبول کرنے کے لیے ایک طاقت ور اخلاقی و مذہبی فریم فراہم کیا۔ یہاں ایک نہایت اہم چیز پیدا ہوتی ہے: ایک ایسا ’’ہم‘‘ جس کی اپنی زبان بھی مقدس ہے۔ زبانوں کی سماجیات میں اسے ’’textual community‘‘ یعنی نصابی برادری کے تصور سے سمجھا جاسکتا ہے۔

جب کوئی با اثر گروہ مقدس متن یا خدائی ارادے کی تشریح اپنے سیاسی مقصد کے مطابق متعین کرنے لگتا ہے تو وہ صرف لفظوں کی تشریح نہیں کر رہا ہوتا؛ وہ حقیقت کو سمجھنے کا ایک پورا دائرہ تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ اس دائرے کے اندر رہنے والا ’’ہم‘‘ ہے، “ساڈا اپناں اے” رہتا ہے۔

اس دائرے سے باہر نکلنے والوں کا کیا ہو جاتا ہے؟ وہ صرف اختلاف کرنے والے نہیں رہتے۔وہ اجنبی بن جاتے ہیں۔ قوموں کو خدا کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ سلطنتوں کے زوال اور قومی ریاستوں کے ظہور کے ساتھ سیاست نے مذہبی زبان ترک نہیں کی۔ اس نے صرف اسے نئےچوغے، پتلونیں ٹائیاں اور وردیاں بُوٹ پہنا دیے۔ اب بادشاہ کو خدا کا نمائندہ ثابت کرنے کے بَہ جائے پوری قوم کو ایک مقدس قوم باور کیا گیا، یہ مقدس قوم ارضِ پاک پر رہتی ہے، یہ دکھایا گیا۔

کسی قوم کو صرف سرحدیں نہیں جوڑتیں؛ قوم کو ایک مشترکہ کہانی بھی چاہیے۔ ایک مشترکہ ماضی۔ ایک مشترکہ دشمن (زیادہ دشمنوں کا انتظام ہو جائے تو چُپڑیاں اور دو دو!)۔ اور سب سے بڑھ کر: ایک مشترکہ مستقبل۔ مذہب اس کے لیے غیر معمولی طور پر طاقت ور زبان فراہم کرتا ہے۔

سولہویں صدی کے انگلستان میں Stephen Gosson جیسے مصنفین نے انگریزوں کو بائبل کے ’’بنی اسرائیل‘‘ سے تشبیہ دے کر قومی شناخت کو مذہبی معنویت دی۔ اس زبان کا پیغام سادہ تھا: ہم صرف ایک قوم نہیں؛ ہم ایک خاص مقصد رکھنے والی قوم ہیں۔

پھر یہی منطق امریکی خانہ جنگی کے دوران ایک نئی شدت کے ساتھ سامنے آئی۔ ابراہام لنکن ایک ایسی قوم کے سامنے کھڑے تھے جو آئینی بحثوں سے زیادہ، گہری سطحوں پر ٹوٹ چکی تھی۔ صرف قانون یہ طے نہیں کر سکتا تھا کہ اس خون ریزی کا اخلاقی مطلب کیا ہے۔

لنکن نے بائبل کی زبان، اس کے آہنگ اور اس کے ’’Jeremiad‘‘ انداز کو استعمال کیا: ایک ایسا خطابی انداز جس میں اجتماعی مصیبت کو اخلاقی اور خدائی آزمائش کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یوں جنگ صرف جنگ نہیں رہی۔ قومی بحران صرف سیاسی بحران نہیں رہا۔ وہ ایک اخلاقی آزمائش بن گیا۔ اور قوم کی بقاء صرف ریاست کی بقاء نہیں رہی؛ اسے ایک مقدس عہد اور وعدے کی تکمیل کے طور پر دیکھا جانے لگا  یہیں ’’civil religion‘‘ یعنی شہری مذہبیت کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔

ریاست رسمی طور پر سیکُولر رہ سکتی ہے، مگر قوم اپنے بارے میں ایسی مقدس علامتیں، رُسُومات، قربانیوں اور اخلاقی تصورات پیدا کرسکتی ہے جو مذہب سے مُشابِہ کام کرتے ہیں۔ یوں شہریت محض شناختی کارڈ یا قانونی حیثیت نہیں رہتی: وہ اخلاقی وابستگی بن جاتی ہے۔

جب کم زور بھی خدا کو اپنے ساتھ کھڑا کر لے!

لیکن مقدس زبان ہمیشہ طاقت وروں کا ہتھیار نہیں رہی۔ کبھی کبھی یہی زبان ان لوگوں کے ہاتھ میں سب سے طاقت ور ہتھیار بن جاتی ہے جن کے پاس ریاستی طاقت نہیں ہوتی۔ جب قانون آپ کے خلاف ہو، عدالتیں آپ کی بات نہ سنیں، اور طاقت کا پورا ڈھانچہ آپ کے مقابل کھڑا ہو تو ایک سوال پیدا ہوتا ہے: آپ کس عدالت میں اپیل کریں گے؟ گاندھی نے اس سوال کا جواب سیاسی سے زیادہ اخلاقی زبان میں دیا۔

گاندھی نے سیاسی سچائی کو خدا کے تصور سے جوڑ کر سامراج مخالف جد و جہد کو محض سیاسی مطالبے سے آگے بڑھایا۔ آزادی ایک پالیسی نہیں رہی؛ وہ ایک اخلاقی اور روحانی ذمے داری بن گئی۔

اسی طرح مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر نے نسلی امتیاز کے خلاف جد و جہد کو صرف امریکی آئین یا قانونی حقوق کی بحث تک محدود نہیں رکھا۔انھوں نے اسے گناہ اور انصاف کی زبان میں بیان کیا۔ یہ فرق معمولی نہیں تھا۔ اگر segregation صرف ایک بُرا قانون ہے تو اسے پارلیمنٹ بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر segregation گناہ ہے تو پھر سوال قانون کا نہیں رہتا۔ پھر سوال یہ ہے: آپ خدا اور انصاف کے کس طرف کھڑے ہیں؟ یہی مذہبی خطابت کی غیر معمولی طاقت ہے۔ وہ سیاسی اختلاف کو اخلاقی سوال میں تبدیل کردیتی ہے۔ اور اخلاقی سوال کو بعض اوقات وجودی سوال میں: آپ آخر کس کے ساتھ ہیں؟ ’’ہم نیک ہیں، وہ برے ہیں‘‘

کرِیٹکل ڈسکورس اینالسِس (CDA) میں Teun van Dijk کا Ideological Square اس عمل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ بہت سادہ ہے: ہماری خوبیاں نمایاں کرو۔ ان کی برائیاں نمایاں کرو۔ ہماری خامیاں چھپاؤ۔ ان کی خوبیاں چھپاؤ۔ مذہبی زبان اس کام کو مزید طاقت ور بنا دیتی ہے۔ کیوں کہ جب آپ کہتے ہیں: “ہم حق پر ہیں،” تو آپ صرف سیاسی پوزیشن بیان نہیں کر رہے۔ اور جب آپ کہتے ہیں: “وہ باطل پر ہیں،” تو آپ صرف اختلاف نہیں کر رہے۔ آپ ایک اخلاقی کائنات تشکیل دے رہے ہیں جس میں سنہری اوسط کے میزان کے لیے دست یاب جگہ تیزی سے سکڑنے لگتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مذہبی خطابت میں آہنگ، تکرار، استعارہ اور جذباتی زبان اتنی مؤثر ہوتی ہے۔ یہ سامع سے صرف یہ نہیں کہتی: ’’میرے دلائل سنو!‘‘ وہ ان سامعین و ناظرین سے کہتی ہے: ’’اپنی شناخت پہچانو!‘‘ اور شناخت، اکثر منطق سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔

اکیسویں صدی: مقدس زبان کا سیاسی ہتھیار

اکیسویں صدی میں مذہبی زبان کا سیاسی استّعمال ختم نہیں ہوا؛ بَل کہ شاید زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ 11 ستمبر کے بعد جارج ڈبلیو بش کی حکومت نے ’’روشنی اور تاریکی‘‘، آزادی اور برائی جیسے ایسے استعاروں کا استعمال کیا جن میں مذہبی اور اخلاقی معنوِیّت واضح تھی۔ امریکہ کو آزادی کے محافظ اور مخالف قوّتوں کو برائی کے نمائندوں کے طور پر پیش کرنے سے ایک مضبوط قومی ’’ہم‘‘ تشکیل پاتا تھا۔

لیکن یہاں ایک اور دل چسپ حقیقت سامنے آئی۔ مقدس زبان کسی ایک سیاسی فریق کی جاگیر نہیں۔ مخالفین نے بھی اسے استعمال کیا۔ سنہ 2001 سے 2005 کے دوران امریکی امن تحریک نے مذہبی اور اخلاقی زبان کو اختیار کر کے جنگ کے خلاف اپنا مقدمہ محض پالیسی اختلاف کے طور پر نہیں، بَل کہ اخلاقی ذمے داری کے طور پر پیش کیا۔ یعنی جس زبان سے حکومت جنگ کو جائز قرار دے سکتی ہے، اسی زبان سے اس کے مخالفین جنگ کو گناہ قرار دینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

مقدس زبان طاقت کو جائز بھی بنا سکتی ہے اور طاقت کو چیلنج بھی کرسکتی ہے۔ یہی اس کا حسن بھی ہے اور یہی اس کی فتنہ پروری بھی۔ آج مسئلہ شاید مذہب سے زیادہ ’’سِگنلِنگ‘‘ کا ہے۔ آج سیاسی زبان میں مذہبی الفاظ کا استعمال کئی مرتبہ حقیقی مذہبی فکر سے زیادہ شناختی سِگنل بن چکا ہے۔ یعنی مقرّر کو لازماً مذہبی فلسفے پر گہری گفتگو نہیں کرنی۔ مقرر کو صرف اتنا بتانا ہے: ’’میں تمھاری طرح سوچتا ہوں۔ میں تمہاری اقدار کا آدمی ہوں۔ میں تم میں سے ہوں۔‘‘

اسی لیے مذہبی الفاظ اور استعارے سیاسی ابلاغ میں ایک طرح کے tribal markers بن سکتے ہیں: ایسے نشان جن سے سامِع چند لمحوں میں اندازہ لگا لیتے ہیں کہ سامنے والا ’’ہم‘‘ میں ہے یا ’’وہ‘‘ میں۔ یہاں مذہب عقیدے سے زیادہ شناخت کی زبان بن جاتا ہے۔ اور شاید یہی جدید سیاست کا سب سے دل چسپ اور خطر ناک مرحلہ ہے: اب ضروری نہیں کہ سیاست دان واقعی مذہبی ہو۔ کبھی کبھی اسے صرف مذہبی زبان بولنے میں ماہر ہونا کافی ہے۔

اصل سوال: خدا کہاں ہے، اور سیاست کہاں؟

اس پوری تاریخ کو دیکھتے ہوئے شاید ہمیں ایک مشکل سوال پوچھنا چاہیے۔ جب کوئی سیاسی رہ نما خدا، مذہب، مقدس اقدار، شہادت، گناہ، حق اور باطل کی زبان استعمال کرتے ہیں تو کیا وہ واقعی مذہب کی بات کر رہے ہوتے ہیں؟ یا وہ طاقت کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں؟ شہزادی اینہیدوانا سے لے کر آگُسٹس تک، قومی ریاستوں سے لے کر لِنکن تک، گاندھی سے مارٹن لوتھر کنگ تک، اور جدید جماعتی سیاست تک۔ کہانی بدلتی رہی، مگر ایک بنیادی سماجی ٹیکنالوجی بار بار واپس آتی رہی: دنیاوی سیاسی مقصد کو مقدس معنی دے دو؛ کیوں کہ جب کوئی مطالبہ صرف سیاسی ہو تو اس پر بحث ہو سکتی ہے؛ اسے رد کیا جا سکتا ہے؛ اس سے سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب وہی مطالبہ مقدس بن جائے تو صورتِ حال بدل جاتی ہے: پھر مخالف صرف اختلاف کرنے والا نہیں رہتا؛ وہ حق کے خلاف کھڑا شخص بن جاتا ہے۔ اور جب سیاست میں اختلاف، اخلاقی جرم کا درجہ اختیار کر لے تو جمہوری مکالمے کے پاؤں تلے موجود زمین بہت تیزی سے سکڑنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں محتاط ہونا چاہیے۔

مقدس زبان انسانوں کو متحد کر سکتی ہے۔ یہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی دے سکتی ہے۔ یہ کم زور کو طاقت ور کے سامنے اخلاقی برتری بھی دے سکتی ہے۔ لیکن یہی زبان، اگر اقتدار کے ہاتھ میں چلی جائے… تو لوگوں کو اس طرح تقسیم بھی کر سکتی ہے کہ مخالف کو انسان، شہری یا برابر کا فریق سمجھنا ہی مشکل ہو جائے۔

شاید اس لیے اصل مسئلہ مذہب کا سیاست میں آنا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے: کون مقدس زبان کی تشریح کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال: کیا وہ اپنے سیاسی مفاد کو خدا کی مرضی کے طور پر پیش کرنے لگا ہے؟

کیوں کہ تاریخ کا ایک سبق بہت واضح ہے: جس دن کوئی سیاسی قوت یہ باور کرانے میں کام یاب ہو جائے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے، اس دن اسے اپنے مخالف کو شکست دینے کے لیے صرف ووٹ یا دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے پاس اس سے کہیں طاقت ور ہتھیار آ جاتا ہے: یعنی اخلاقی جواز۔

اور جب اقتدار کو اخلاقی جواز بھی حاصل ہو جائے تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کون حکومت کرے گا؟ سوال یہ بن جاتا ہے: کون ’’حق‘‘ کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست، مذہب اور انسانی نفسیات ایک دوسرے میں مدغَم ہو جاتے ہیں۔ اور شاید یہیں سے وہ سیاست جنم لیتی ہے جس میں مخالف کو شکست دینا کافی نہیں ہوتا: اسے غلط، گُم راہ، غدار یا نا پاک ثابت کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

تاریخ میں مقدس زبان کی طاقت شاید یہی ہے: یہ لوگوں کو صرف ایک جھنڈے کے نیچے جمع نہیں کرتی؛ یہ انھیں یقین دلاتی ہے کہ اس جھنڈے کے نیچے کھڑا ہونا اخلاقی طور پر دُرُست ہے۔ اور جو اس جھنڈے کے دوسری طرف کھڑا ہو، وہ صرف دوسری طرف نہیں ہوتا۔ وہ ’’دوسرا‘‘ بن جاتا ہے۔

About یاسرچٹھہ 247 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔