شام۔۔۔ایک نوحہ

(محمد انور فاروق)

میری گڑیا دیکھو شام اتر آئی ہے اب شاید یہاں سے جانا آسان ہو کیونکہ دن کے وقت تاک میں بیٹھے دشمنوں کی نظروں سے بچنا بہت مشکل  تھا اور کسی طرف سے آنے والی اندھی گولی ہماری زندگی ختم کر سکتی تھی ۔ اب اندھیرا ہے ۔اب ہمارے دیکھ لئے جانے کا امکان بہت کم ہے ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اس شہر میں صبح کی روشنی زندگی کی نوید سنایا کرتی تھی اب یہاں اندھیرا زندگی کی ضمانت بن چکا ہے۔ جہاں خوشنما پھول کھلتے تھے اب وہاں بارودکے دھویں اور ہمارے گھروں کے ملبے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سب لوگ تو جا چکے اور جو رہ گئے تھے وہ اب ملبے تلے دب چکے ہیں۔ صرف میری گڑیا میں اور تم ہی اس ملبے سے باہر رہ گئے ہیں۔ دیکھو یہاں سے جانا مجھے بڑا مشکل لگ رہا ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں میں پیدا ہوا ، پلا بڑھا۔میرے ماں باپ نے بھی یہیں زندگی گزاری اور اسی مٹی میں مدفون ہوئے۔ یہیں پر میری  تمہاری ماں سے شادی ہوئی اور  دو سال  پہلےاسی جگہ میری گڑیا تم ہماری زندگی میں آئی۔ تمہارے آتے ہی میں نے خواب دیکھنا شروع کر دئیے تمہارے روشن مستقبل کے خواب۔دیکھو تم اور میں ابھی یہاں سے نہیں جا سکتے کیونکہ تمہاری ماں ملبے تلے دبی شاید اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہو گی۔میں کچھ نہیں کر سکتا اور مجھے پتہ ہے کہ مدد بھی نہیں آئے گی۔ یہ شاید تمہاری ماں کی سانسیں ہی ہیں جو ہم دونوں کو جانے سے روک رہی ہیں مگر اب بھی اس کے دل میں تمہارے محفوظ مستقبل کی خواہش ضرور ایک زندگی کی حرارت دینے والے دئیے کی طرح روشن ہو گی۔ وہ اپنے آخری وقت میں بھی دعا کر رہی ہو گی کہ میں اور تم یہاں سے چلے جائیں۔میری گڑیا ضروری تو نہیں کہ جووہ چاہتی ہےحقیقت بن جائے۔

ہم یہاں سے چلے بھی جائیں تو کون سا زندگی کی خوشیاں ہمارے انتظار میں ہوں گیں۔ سب سے پہلے تو چھپتے چھپاتے اندھی گولیوں سے بچتےبارڈر تک کا سینکڑوں کلو میٹرز کا فاصلہ  پیدل طے کرنا پڑے گا۔اس سارے سفر میں خوف، پیاس اور بھوک مسلسل گِدھوں کی طرح ہمارے سروں پر منڈلاتے رہیں گیں۔ بارڈر پر پہنچ بھی گئے تو پھر طویل انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ ہمارے پاس کوئی کاغذات نہیں ہیں اور اس دنیا میں کاغذات کے بغیر اپنے آپ کو زندہ انسان ثابت کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے۔ کاغذات  کےبغیر بارڈر پار کریں گیں تو مار دئے جائیں گیں ۔پھر وہاں کچھ دن لگیں گیں کاغذات بننے میں اور ہم ایک نئے ملک میں مہاجرین کے طور پر داخل ہو جائیں گیں۔ جہاں نہ رہنے کو جگہ ملے گی اور نہ ہی مجھے کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ میں تمہارے پینے کے لئے دودھ نہ لا سکوں گا۔ وہاں ہمیں صرف اور صرف  اپنے ملک میں جنگ کے خاتمے کا اورامداد کا انتظار کرنا ہو گا اور اسی امداد کے سہارے زندگی گھسیٹنا ہو گی۔ تمہیں معلوم ہے کہ انتظار کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ سنو وہاں نہ تو تمہارے دوست ہوں گے اور نہ ہی تمہارا سکول ۔ وہاں گندگی اتنی ہو گی کہ شاید تم بیمار ہو جاو اور تمہاری بیماری مجھ سے دیکھی نہیں جائے گی۔تمہارے علاج کے لئے ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی ڈاکٹر بھی نہ ہو۔میں نے سنا ہے کہ ان مہاجر کیمپوں میں  ہمارے جیسے پچاس لاکھ لوگ رہتے ہیں ۔جن میں آدھے سے زیادہ بچے اور عورتیں ہیں کیونکہ ان خاندانوں کے مرد تو جنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔اب ایسے گھرانوں کی واحد کفیل عورتیں ہیں ۔ میں سوچتا ہوں ایک ایسی عورت جس نے آج تک گھریلو زندگی گزاری ہے وہ کس طرح اپنے بچوں کی کفالت کر ے گی ۔اس کا اور اس کے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ ان مہاجر کیمپوں میں بہت سارے بچے تو ایسےبھی ہیں جن کے ماں باپ  اور خاندان کے دوسرے لوگ ہی نہیں رہے ۔ان کا کوئی اپنا رہا ہی نہیں ۔ اب پتہ نہیں وہ خود زندہ رہ پائیں گیں یا نہیں ؟مجھے فکر ہے کہ ایسے بچے کہیں غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔

آج تمہاری ماں نے اچھا ہی کیا تھا کہ تمہیں سکول نہیں جانے دیا تھا۔ آج تمہارا سکول تو گولہ باری کی نظر ہو گیا اور وہاں سے شاید ہی کوئی زندہ بچ پایا ہو۔ مگرسکول کے بعد وہ ہی گولہ باری سب کے گھروں پر ہونا شروع ہو گئی ۔ جس کا جدھر رخ ہو ا وہ ادھر کو ہی بھاگ نکلا مگر بچ نہ سکا کیونکہ گولی سے تیز رفتار تو کوئی بھی نہ تھا۔  لڑنے والے دونوں گروہوں میں ایک آزادی لینے کی خاطر اور دوسرا آزادی سلب کرنے کی خاطر لڑ رہا تھا  مگر مرنے والے لوگوں کا تو کسی گروہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ میں اور تم باہر والے کمرے میں تھے جب  ایک دھماکہ ہوا اورہمارا گھر گر گیا اور تمہاری ماں جو گھر کے اندر والے کمرے میں تھی اس کو نکلنے کا موقع ہی نہ ملا ۔  اس وقت مٹی اور دھویں میں تم مجھے نظر نہیں آئی۔جب میں دیکھنے کے قابل ہوا تو تم مجھے لوہے کی ایک گرِل کے نیچے نظر آئی جہاں تمہارے سر سے خون بہہ رہا تھا ۔ اب دیکھو تو کافی دیر ہو گئی ہے اور خون بہنا رک گیا ہے۔میں نے ملبے کو ہٹانے کی کئی گھنٹے کوشش کی مگر میں تمہاری ماں تک نہیں پہنچ پایا۔

اب تو رات ہو گئی ہے اور تمہارے دودھ پینے کا وقت ہو گیا ہے مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔اب تم رونا مت مجھے سوچنے دو  کہ کہاں سے دودھ ملے گا۔ ہمارے اردگرد تو کافی فاصلے تک کوئی نہیں ہے۔ اگر مدد مانگوں بھی تو کس سے؟ میری گڑیا مجھے نہیں معلوم کہ میں تم سے یہ ساری باتیں کیوں کر رہا ہوں تم تو ابھی بہت چھوٹی ہو تمہیں تو یہ باتیں سمجھ بھی نہیں آئیں گی  اور تم کوئی جواب بھی نہیں دے سکتی۔مجھے یاد آیا کہ اگر ہم بارڈر پر پہنچ بھی جائیں تو تمہیں تو بارڈر پار جانے بھی نہیں دیا جائے گا۔ تمہیں یہیں رہنا ہے کیونکہ تمہاری روشن خواب دیکھنے والی آنکھیں تو بجھا دی گئیں ہیں ۔ تمہارے ننھے ہاتھ میری انگلی تھامنے کی طاقت سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔ اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاوں گا کیونکہ مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اس وقت تمہیں دودھ کی نہیں تدفین کی ضرورت ہے۔

About محمد انور فاروق 2 Articles
آپ ایم ٹی بی بی کالج، صادق آباد سے بطور لیکچرار وابستہ ہیں اورلکھتے بھی ہیں-

3 Comments

  1. بہت اعلی تحریر۔۔۔خاص طور پر آخری لائن دل کو چھو لینے والی ہے۔

  2. بہت شاندار توجہ دلاو تحریر۔۔۔کسی دوسرے لے درد کو محسوس کر کے اسے آٹیکولیٹ کرنا بہت بڑا کمال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.