بچوں کی ذہنی اور تعلیمی تربیت سے متعلق اہم دو نکات

بچوں کی ذہنی اور تعلیمی تربیت

بچوں کی ذہنی اور تعلیمی تربیت سے متعلق اہم دو نکات

(ڈاکٹر عرفان شہزاد)

ذہین لیکن سست رو بچے

ہمارے ہاں بچوں کی نفسیات سے عمومی عدم اعتنا پایا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں بچے، بڑوں کے ہاتھوں بہت کچھ غلط سہتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو اہم نکات کی نشاندہی درج ذیل مضمون میں کی گئی ہے۔

مشاہدہ ہے کہ کچھ بچے زیادہ ذہین ہونے کے باوجود slow learner سست متعلم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ کسی چیز کے سمجھنے اور سیکھنے کے دوران وہ اس کو سوچ بھی رہے ہوتے ہیں، اس کے تجزیے میں بھی لگے ہوتے ہیں۔ یعنی دو پراسیس ایک ساتھ ان کے دماغ میں چل رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سیکھنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

ایسے بچوں کو عمومًا غبی یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے، پھر جب ان کے ساتھ بار بار یہی معاملہ پیش آتا ہے تو ہمارے ہاں کے جلد باز اور کم صبر والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ بڑی بڑی توقعات وابستہ کیے ہوتے ہیں، اور کم فرصتی کا شکار اساتذہ بھی انہیں غبی اور کند ذہن ڈکلیئر کر دیتے ہیں۔

بچے خود بھی نا سمجھی کی عمر میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ غبی اور کند ذہن ہی ہوں گے، اس لیے ہم سبق ساتھیوں جیسے کارکردگی دکھا نہیں پاتے۔ یوں ان کی سیکھنے کی امنگ بھی متاثر ہو جاتی ہے اور اس طرح ایک متوقع ذہین دماغ غلط تشخیص سے ضائع ہو کر رہتا ہے۔

ان ذہین لیکن سست رو بچوں کی پہچان یہ ہے کہ انہیں اپنے اطمینان کے ساتھ جب کوئی کام کا موقع ملتا ہے اور بہت اعلی درجے کا کام کر لیتے ہیں۔ اس وقت استاد اور والدین حیرت سے پوچھتے ہیں کہ اتنا کچھ اگر کر سکتے ہو تو دوسرے اوقات میں سمجھنے میں سستی کیوں دکھاتے ہو۔ اس کا جواب بچے کے پاس نہیں ہوتا، لیکن والدین اور استاد کے پاس ہونا چاہیے۔

آپ سنتے ہوں گے بہت سے ذہین قرار پانے والے لوگ اپنے بچپن میں کند ذہن سمجھے جاتے تھے، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے جو بیان ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ اس طرح کے اکثر بچے ہمارے سماج میں ضائع ہی ہوتے ہیں اور بہت معمولی کارکردگی سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ کسی ذہین کا خود کو غبی اور نالائق سمجھ کر زندگی بسر کرنا بڑی اذیت کی بات ہے۔

ایسے بچوں کو بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ پڑھانا اور سکھانا پڑتا ہے۔ انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنا دماغی پراسیس پورا کر لیں پھر دوسری بات انہیں بتائی جائے۔ وہ ایک ایک قدم سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں، لیکن ایک بار جب وہ کوئی چیز سمجھ جاتے ہیں تو ان کی کارکردگی نہایت عمدہ ہوتی ہے لیکن یہ مرحلہ بدقسمتی سے کم ہی آنے پاتا ہے۔

یہ بچے گروپس میں پوی طرح سیکھ اور سمجھ نہیں پاتے، کیونکہ گروپس کو اوسط رفتار سے لے کر چلنا استاد کی مجبوری ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو انفرادی تعلیم اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین اور اساتذہ ایسے بچوں کی درست شناخت کریں اور درست خطوط پر ان کی پڑھائیں۔

خاموش طبع بچے اور سماجی تربیت

بچوں کی تعلیم و تربیت ایک بہت ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ والدین بننے کے قابل تو بہت ہیں، لیکن والدین بننے کے لائق بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں والدین اپنی قربانیوں کی داستانیں تو بہت سناتے ہیں،  لیکن اپنی کوتاہیوں کو کبھی آشکار نہیں کرتے، جو انہوں نے اپنے بچوں کی ناسمجھی اور ناپختہ عمر میں ان کے ساتھ کی ہوتی ہیں۔

ذیل میں اپنے بیٹے کے سکول والوں سے اس کی شخصیت کے حوالے سے اپنی خط و کتابت دے رہا ہوں، والدین کو بچے کے ان پہلوؤں کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔ والد کا محض پیسہ کمانا اور ماں کا کھانا کپڑا پورا کرنا ہی والدینی نہیں ہے، یہ اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔

اس لیے والدین وہی بننے کی ہمت کریں جو اتنی مشکل ذمہ داری ادا کر سکنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہاں بچے بھی اللہ کے بھروسے پر پیدا کر لیے جاتے ہیں، جب کہ خدا نے انہیں آپ کے بھروسہ پر پیدا کرنا ہوتا ہے۔

مسئلہ یہ درپیش تھا کہ میرا بیٹا طبعًا کچھ introvert واقع ہوا ہے۔ زود رنج بھی ہے۔ دوست بنانے اور پہل کرنے میں اچھا نہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ کلاس میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگا تھا۔ اسی وجہ سے سکول سے اس کا دل بھی اچاٹ ہو رہا تھا۔

سکول سے دل اچاٹ ہونے پر میں نے روایتی والدین کی طرح اسے مار پیٹ کر یا طعنے دے دے کر، یا اپنے احسان جتا جتا کر سکول بھیجنے کی بجائے، اس کا مسئلہ معلوم کیا اور پھر سکول والوں سے ڈسکس کیا۔ سکول والوں نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس پر کام کیا۔

میں نے بیٹے کو کچھ نہیں بتایا کہ میں اس کے سکول سے اس مسئلے پر بات کر رہا ہوں۔ میں نے اس کے برتاؤ کی تبدیلی کا انتظار کیا۔ دو تین دن بعد ہی اس نے مجھے بتایا کہ وہ کلاس کے لڑکوں کے ایک گروپ کا حصہ بن گیا ہے اور اس کا بہترین دوست، اس کے ساتھ بیٹھنے لگا ہے اور وہ دونوں چپکے چپکے باتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔

سکول انتظامیہ کا میں نے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے میرا۔ خط و کتابت برقی پیغامات کے ذریعے انگریزی میں کی گئی تھی، اس کا ترجمہ یہاں دیا جاتا ہے:

محترمہ پرنسپل صاحبہ

یہ خط میں اپنے بیٹے، جو کلاس دوئم کا طالب علم ہے، کی شخصیت کے ایک مسئلہ پر آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ چونکہ آپ کے سکول نے بچوں کی شخصیت سازی کی ذمہ داری بھی اٹھا رکھی ہے، اس لیے میں یہ خط آپ کو لکھ رہا ہوں۔

میرا بیٹا فطرتًا اداس طبیعت کا واقع ہوا ہے، اس لیے دوست بنانے  میں اچھا نہیں۔ یہی مسئلہ گزشتہ سال بھی اسے درپیش تھا اور اب بھی ہے۔ اس وجہ سے وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور اسی وجہ سے سکول میں اس کی دلچسپی بھی کم ہو رہی ہے۔

کیا آپ اس کی شخصیت کی اس کمی کو پورا کرنے میں اس کی مدد کر سکتی ہیں؟

ممنون

ڈاکٹر عرفان شہزاد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم ڈاکٹر صاحب

میں ضرور اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کروں گی۔

نیک تمنائیں

سکول انتظامیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترمہ پرنسپل صاحبہ

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے بیٹے کو اس کے دوست بنانے میں مدد دی۔ میں نے انتظار کیا کہ وہ خود مجھے بتائے، اور اس نے بتایا کہ کہ وہ اب کلاس کے ایک گروپ کا حصہ ہے اور اس کا بہترین دوست اس کے ساتھ بیٹھنے لگا ہے۔

میں تو بس مسئلہ کی نشاندہی ہی کر سکتا ہوں، مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیادہ قابلیت اور ہنرمندی درکار ہوتی ہے اور اس دفعہ بھی آپ نے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کیا۔

نیک تمنائیں

ڈاکٹر عرفان شہزاد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم ڈاکٹر صاحب

اگرچہ میں نے ذاتی طور پر اس مسئلے کو حل کیا اور میں نے ہر بچے سے اس پر مسئلے پر بات کی۔ تاہم میں نے گروہ بندی کی حوصلہ شکنی کرتی ہوں۔ بہرحال، میں طلبہ کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت موجود ہوں۔

میں آپ کی اس فکرمندی کی تعریف کرتی ہوں اور اس بات کی بھی کہ آپ طلبہ کی شخصیت سازی سے متعلق ہماری کوششوں کو سراہتے اور تسلیم کرتے ہیں۔

نیک تمنائیں

سکول انتظامیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترمہ پرنسپل صاحبہ

میں دل سے آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں اور اس کے لیے آپ کا ممنون بھی ہوں۔ تعلیم ایک بہت ہی نازک کام ہے۔ آج کے اس جلد باز دور میں یہ آپ کا سکول ہی ہے جو ٹھہر کر ہماری ان فکر مندیوں کو توجہ سے سنتا ہے۔

گروہ بندی روکنا ضروری ہے تاہم یہ ایک ناگزیر مظہر بھی ہے۔

نیک تمنائیں۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد