میرے گھر نیوزی لینڈ کا ٹی وی نہیں آتا… پر پھر بھی

لکھاری کی تصویر
یاسر چٹھہ

میرے گھر نیوزی لینڈ کا ٹی وی نہیں آتا… پر پھر بھی

از، یاسر چٹھہ

بہت رنج ہوا نیوزی لینڈ کے انسانی المیے پر، ہم پاکستانی یہ درد سمجھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس کرب کو سمجھنے کے لیے جنازے اٹھانے، اعضاء کٹوانے، اور دل فگار کرانے کی بڑی طویل صعوبتوں اور نفسیاتی گھاؤ لگوانے کی مشقیں کی ہوئی ہیں۔ ہم بے چارے وہ عُنصر تھے،( جن کی ہتھکڑی لگا کر شمولیت سے) ریاست کی تعریف و ساخت ترتیب پاتی ہے: یعنی، رقبہ، آبادی اور اقتدارِ اعلیٰ۔ اقتدارِ اعلیٰ کہاں ہوتا ہے، ہم یہ باتیں کرتے ہی رہتے ہیں، پھر کسی روز سہی۔ یہ آسمان پر رہتا ہے، جسے کچھ زمین والے آپسی بانٹ لیتے ہیں، غلاف چڑھا کر، تلوار سونت کر، کسی اور دن بات ہو گی۔

ابھی یہ ہی کہنا تھا کہ ہمیں ہمارے ذمے داران نے کچھ سانپ اور ناگ بہ طورِ تحفہ دیے تھے۔ ان سانپوں اور ناگوں نے ہمارے ساتھ بہت برا کیا۔ ہم میں سے وہ کتنوں کو چِرکے لگاتے جاتے تھے، پر ہم ایک دوسرے پر الزام دھرتے جاتے تھے۔ ان سانپوں اور ناگوں نے کب کی ہماری سمجھ پر جادو گروں اور ٹُونے کرانے والوں جیسی پھونکیں مار دی ہوئی تھیں۔ پھر جب انہوں نے سپیروں پر بھی اپنا لطفِ حرکت شروع کر دیا تو پھر کچھ ہوا۔ بَل کہ، کچھ کچھ ہوا۔ اب کچھ شانتی ہے۔ شکر ہے۔

نیوزی لینڈ میں اپنے جیسے بھلے انسانوں کے خون کے زمین پر گرنے کا نیا چِرکا لگا ہے۔ سوچتا ہوں بَل کہ امید کرتا ہوں کہ نیوزی لینڈ کی کوئی جماعتِ حلالی دہشت گرد کو بلیک واٹر کا عامل agent نہیں کہہ رہی ہو گی، اور وہاں کے کوئی صلیبی خلیفہ ہائے غیر راشد اس دہشت گرد کی انٹرویو کے ذریعے پروفائل build نہیں کر رہے ہوں گے۔ اس کے گناہوں کے آنکھ جھپکنے میں دُھل جانے کا اہم اعلان نہیں کیا جا رہا ہو گا۔

وہاں کے معتدل، متوازن، highly literate شہری اس ہول ناک انسانی سانحے پر، یہ، وہ، اگر، مگر، الم غلم وغیرہ کی خلجانی گردانیں نہیں کر رہے ہوں گے۔

وہاں کا Far Right جو کہہ رہا ہو گا، اسے البتہ ہمارے یوریائی، لقمانی، سرخ ٹوپی والے، عامر لیاقت، دلیل والے، پورے معاشرے پر محمول کرنے کے لیے اور لیپنے کے لیے ریکارڈنگیں کر رہے ہوں گے۔ اپنے جیسے، اپنے جیسے کی بُو پا لیتا ہے کہ وہ کہاں ہو گا۔ 

البتہ اس سانحے سے سالم بچ نکلنے والی کسی خاتون کی ٹویٹ سے پتا چلا کہ جس ٹیکسی چلانے والی تین بچوں کی ماں ڈرائیور نے اس سالم بچ نکلنے والی خاتون کو رونے کے لیے، دل ہلکا کرنے کے لیے، اپنا کندھا دیا، اس سے انسانیت پر یقین قائم رہا۔ (وہ ٹیکسی ڈرائیور کلمہ گو نہیں تھی، اس کی جلد کا رنگ گندمی. پیلا، اور سرخ و سپید نہیں، یا کوئی اور رنگ بہ رنگا نہیں تھا۔ رنگت کا کوئی اور خاص شیڈ تھا: انسانی شیڈ) مجھے اس کی تفصیلات دیتے اپنے آپ سے شرمندگی ہوئی کہ بس انسان کہہ دینے سے کام کیوں نا چلا۔

میرے گھر نیوزی لینڈ کا ٹی وی

لیکن کیا کریں جہاں رہتے ہیں وہاں اپنا قابلِ قبول بھلا کردار دکھانے کے لیے نکاح نامے کی کاپی پاس رکھنے کے حکم نامے جاری ہوتے رہے، جہاں تقویٰ کا بر لبِ سڑک لیب ٹیسٹ، یعنی مُنھ سونگھنے کا کام ہوتا رہا۔ جہاں مکان کرایہ پر لینے، برتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے سے قبل، شناختی کارڈ بنوانے سے پہلے، پاسپورٹ کا فارم بھرتے سمے آپ کو اپنا کلمہ، اس کلمے کی لمبائی، اور اس کلمے کے بعد ازاں کسی توسیع و عدم توسیع کا حلف نامہ جمع کرانا از حد ضروری ہوتا ہے۔ صرف مسلمان ہونے کا بتانا کب کا معنی کھو بیٹھا، بہ طورِ شناخت انسان ہونے کا تصور تو اس سے کہیں پہلے، جانے کب کا تحلیل ہو کر ہوا میں بخارات بن کر اُڑ چکا۔

New Zealand attacker

ہم زیادہ کب مانگتے ہیں کہ کون کیا ہے۔ کس رنگ کا ہے، کس ڈھنگ کا ہے۔ ہمیں، بس اتنا کچھ ہی چاہیے کہ جب سب منتر، کلمے، بھجن بے آواز ہو جائیں تو پھر بھی رہے نام سوہنے پرور دگار کا، اور اس کی اس مخلوق کا جس کے لیے اس نے یہاں کی یہ دنیا زندہ رہنے کے لیے بنائی، مرتے رہنے کے لیے نہیں۔

البتہ وہاں، یعنی نیوزی لینڈ کے اخبارات میں سے کم از کم ایک نے اس دہشت گرد کی قومیت، اور یہ بتانا بہت ضروری جانا کہ وہ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ کس قدر مجبور ہوتے ہیں کچھ لوگ… ۔

پسِ نوشت: کچھ سوال و خیال ہم پر، ہمارے ذہن پر آکاس بیل کی طرح چمٹ جاتے ہیں: کیا ہم کرائسٹ چرچ کے انسانی المیے پر زیادہ دکھی ہیں؟ یا ہم، دہشت گردی پر زیادہ رنجیدہ ہیں؟ کیا ہمیں اپنے دکھ اور کرب کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے؟

About یاسرچٹھہ 136 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔