سٹیریو ٹائپنگ کی جذباتی ڈرامے بازی

Naseer Ahmed 2

سٹیریو ٹائپنگ کی جذباتی ڈرامے بازی

از، نصیر احمد

جو سٹیریو ٹائپ کرتے ہیں ان میں جذباتی ڈراما بازی کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ سٹیریو ٹائپنگ جذباتی ڈراما بازی کا نتیجہ ہوتی ہے اور جذباتی ڈرامے بازی کو بڑھاتی بھی رہتی ہے۔ نسل پرستوں کی ویب سائٹس میں شادیانے بجاتے تبصرے مل جاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں ایک مسلمان کا مطلب اربوں مسلمان ہیں۔
نیوزی لینڈ کی حکومت کی ناکامی تو ہے کہ انھوں نے اس طرف سے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز گفتگو مسلمانوں کے خلاف تشدد کی شکل اختیار نہیں کرے گی۔
مگر بات صرف اتنی تو نہیں ہے، نیوزی لینڈ کی حکومت اور معاشرہ اپنے مسلمان شہریوں کی مدد بھی تو کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایمرجنسی سروسز پوری کوشش کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کے علاج، تحفظ، درد مندی، غم گساری کے لیے جو بھی وسائل میسر ہیں، ان کو بروئے کار لائیں۔

وزیر اعظم بھی اجتماعی زیاں کے بارے میں رنجیدہ ہیں۔ سوالات کے جواب دے رہی ہیں، معلومات فراہم کر رہی ہیں اور دہشت گردی کو دہشت گردی ہی کہہ رہی ہیں۔ (اس بات کا بہت گلہ رہتا ہے کہ اپنے دہشت گردوں کو پگلا کہتے ہیں)۔ پھر دہشت گردی ان کے ملک میں روزانہ، ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر ہوتی بھی نہیں۔
یہ سب دیکھتے ہوئے بھی ساری دنیا کے غیر مسلموں کے خلاف تہذیبی سٹیریو ٹائپنگ کرتے ہوئے گھٹیا ڈراما کرنے کا کیا جواز ہے؟یہ تو وہی بات ہے جو نسل پرست دہشت گرد اور ان کے حامی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کرتے ہیں۔

نفرت کی سیاست کا ایک عالمی رجحان ہے اور اس کی وجوہات ہیں مگر ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے یہ کیا کہ خود بھی نفرت انگیز نوٹنکی شروع کر دیں۔

عورت ایسے سوچتی ہے، ہندو ایسا ہوتا ہے، مسلمان ایسا ہوتا ہے، عیسائی ایسا ہوتا ہے۔ عورتیں، مسلمان، ہندو، عیسائی اربوں کی تعداد ہے اور سب ایک ہی شخصیت نہیں ہوتے مگر مسلسل انتہا پسندی کی وجہ سے بنیادی حقائق نظر انداز کرتے ہوئے عجیب ہی قسم کا ناٹک کرنے لگتے ہیں۔ بہت ساری نفرت تو اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنے سے کم ہو جائے گی۔

مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کا دکھ ہونا چاہیے اور جسے نہیں ہے،وہ سنگ دل ہی ہے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جو مسلمان نہیں ہیں ان میں انسانی احساسات ہی نہیں ہیں اور ایک واقعے کی بنیاد پر اربوں لوگوں کی ملامت کی جائے کہ سب کے سب مسلمانوں کو آزار پہنچانے کی سازش میں شریک ہیں۔

ڈاکٹر جو زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں، پولیس جو مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے، سیاست دان جو دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں، سارے کے سارے مسلمان تو نہیں ہیں۔

نیوزی لینڈ کی حکومت کی نسل پرستوں کی طرف سے دہشت گردی کے امکانات پر مناسب توجہ نہ دینے تنقید کریں اور ان کے ان قوانین پر بھی تنقید کریں جو ہتھیاروں تک رسائی کو آسان بناتے ہیں اور نیوزی لینڈ سمیت دوسری مغربی جمہوریتوں کی ملامت بھی کریں کہ وہ مسلمانوں اور دوسرے تارکین وطن کے خلاف نفرت کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہیں جس کی وجہ سے نسل پرست شدت پرستی حکومتوں میں شامل ہو رہی ہے اور یا منتظر حکومت بنتی جارہی ہے۔لیکن یہ اوریا مقبول جان طرز کی نفرت انگیز، حقائق سے دور قسم کی ڈراما بازی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ چٹخارے کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ رہا ہی نہیں جاتا۔

بات بنتی نہیں؟ نیوزی لینڈ کی جمہوری وزیر اعظم سے دور اندیشی اور دور بینی کی صلاحیت نہ استعمال کرنے کی شکایت درست ہے مگر اپنے ہاں جو روزانہ مسلمانوں اور غیر مسلم شہریوں کو بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں کر پاتے، ان کا کیا؟ اس حقیقت کو نوٹنکی کر کے فراموش کیا جا سکتا ہے؟یہ بے چارے مجبور ہیں، وہ مکار ہیں، یہ تو بس سادہ سی توضیحات کے ارد گرد جذباتی کھیل تماشہ ہی ہے۔

کسی بھی سانحے پر مشترکہ انسانیت پر اصرار کرتے ہوئے مسائل حل کرتی ہوئی، دکھ درد بانٹتی ہوئی با معنی گفتگو ہی شہریوں کو زیب دیتی ہے۔ اور جو کچرا بات کرے اس کے ساتھ وہی سلوک بنتا ہے جو ایک لڑکے نے آسٹریلیا کے اس سینیٹر کے ساتھ کیا جو تارکین وطن کے بارے میں واہی تباہی بک رہے تھے کیوں کہ اس لڑکے کو سانحے پر سینیٹر کے ہاں انسانیت کا غیاب اچھا نہیں لگا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.