اَیپی کیورس کا نامہ بنام مینوسیئس

اَیپی کیورس نامہ بنام مینوسیئس

اَیپی کیورس کا نامہ بنام مینوسیئس

انگریزی سے ترجمہ، روبرٹ ڈرو ہکس

اردو ترجمہ، نصیر احمد

آداب

کسی کو دانائی کی جستجو میں سست نہ ہونے دو جب وہ نوجوان ہوتا ہے اور بعینہٖ کسی کو اس تلاش میں ماندہ بھی نہ ہونے دو جب وہ بوڑھا ہو جائے، کیوں کہ روح کی صحت کے لیے کوئی بھی عمر نہ بہت  چھوٹی ہوتی ہے اور نہ بہت بڑی۔ یہ کہنا کہ فلسفے کی تعلیم کا موسم ابھی نہیں پہنچا یا بیت گزر چکا ہے ایسے کہنے کی مانند ہے کہ خوشی کا موسم ابھی نہیں ہوا یا اور نہیں رہا۔ اس لیے بوڑھے اور نوجوان دونوں کو دانائی کی جستجو کرنی چاہیے، بوڑھے کو اس لیے کہ جب عمر اس پر چھا جاتی ہے وہ نیک چیزوں میں شاید نوجوان رہے، جو ہو چکا ہے اس کے کرم کے سبب، اور نوجوان کو اس لیے، جب وہ جوان ہوتا ہے اسی سمے شاید وہ بوڑھا بھی رہے، کیوں کہ آنے والے معاملوں کا اسے کچھ ڈر نہیں ہوتا۔ تو ہمیں ان چیزوں کی ضرور مشق کرنی چاہیے جو خوشی لاتی ہیں، کیوں کہ اگر یہ موجود ہے، ہمارے پاس سب کچھ  ہوتا ہے، اور اگر  یہ غائب ہے، ہمارے سب کاج اسے پانے کی جانب جتے  ہوتے ہیں۔

وہ چیزیں جو میں نے رکے تھمے بغیر تم پر فاش کر دی ہیں، کام  آتی ہیں، اور تم ان کی مشق کرو، راستی کی زندگی کے انھیں عناصر جانتے ہوئے۔ پہلے اس بات پر ایمان رکھو کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، لافانی اور مسرور، نوعِ انسان کی عمومی ذہانت  سے ظاہر کیے ایک تصور کے مطابق، سو اس کے بارے میں جو کچھ بھی ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہے جو اس کی خوشی اور دوام کے بارے میں جو کچھ مانا جاتا ہے، اس کے مطابق نہیں ہے۔

ایسے ہے کہ دیوتا واقعی ہیں، اور ان کے بارے میں علم  بھی ظاہر ہے، لیکن وہ ایسے نہیں جیسے بِھیڑ انھیں مانتی ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ لوگ ان کی تعظیم میں جو تصورات تشکیل دیتے ہیں، ان سے پختگی سے استوار نہیں رہتے۔

سچ تو یہ ہے کہ فاسق وہ شخص نہیں جو ان دیوتاؤں کا انکار کرتا ہے جنھیں بِھیڑ پوجتی ہے، بَل کہ وہ شخص ہے جو ان دیوتاؤں کی تصدیق کرتا ہے جنھیں بھیڑ پوجتی ہے کیوں کہ دیوتاؤں کے بارے میں بھیڑ کی کہی ہوئی باتیں سچے تصورات نہیں  ہوتے، بَل کہ جھوٹے اندازے  ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو دیوتاؤں کی طرف سے  بڑی بڑی بدیاں سرکشوں  کو پیش آتی  ہیں اور  اور اشرف ترین نعمتیں نیکو کاروں کو ملتی ہیں، یہ دیکھتے ہوئے کہ دیوتا ہمیشہ اپنی نیک صفات کے پاسے میں ہوتے ہیں اور ان لوگوں میں مسرور ہوتے ہیں جو ان جیسے ہوتے ہیں، اور جو ان کی طرح کا نہیں ہوتا اسے کسی پرائے کی حیثیت سے مسترد کر دیتے اس بات کے ماننے کی عادت ڈالو کہ موت ہمارے لیے کوئی شے نہیں ہوتی، کیوں کہ نیکی اور بدی کے معانی آگاہی کے ہوتے ہیں، اور موت سب آگاہی کا فقدان ہوتی ہے، اس لیے یہ درست تفہیم کہ موت ہمارے لیے کچھ نہیں ہے زندگی کا فانی ہونا لطف انگیز بنا دیتی ہے۔

زندگی میں لا محدود وقت کا اضافہ کرتے ہوئے نہیں، بَل کہ لافانی ہونے کی تڑپ پرے لے جاتے ہوئے۔ ایسے ہے کہ زندگی میں کوئی دہشت نہیں  ہوتی، ان کے لیے جو پوری طرح جان لیتے ہیں کہ جینے کے خاتمے میں ان کے لیے کوئی دہشتیں نہیں ہیں۔

اس لیے احمق ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ موت سے ڈرتا ہے۔اس لیے نہیں کہ جب وہ آئے گی تو درد لائے گی، بَل کہ اس کے امکان سے اسے تکلیف ہوتی ہے۔ جو کچھ بھی جب موجود ہے تو کسی نا گواری کا سبب نہیں بنتا، توقعات میں محض بے بنیاد تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے موت، برائیوں میں سب سے زیادہ بے زار کن برائی، ہمارے لیے کچھ نہیں ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ جب ہم ہوتے ہیں تو موت نہیں آتی اور جب موت آجاتی ہے، ہم نہیں ہوتے۔ تو یہ زندہ یا مردہ کے لیے کچھ نہیں ہے، کیوں کہ زندوں کے سنگ یہ ہے نہیں اور مردے اور اب زندہ نہیں ہیں۔ لیکن دنیا میں لوگ ایک وقت موت کو سب سے بڑی برائی جان کر دھتکارتے ہیں اور دوسرے وقت اسے زندگی کی برائیوں سے فراغت کے طور پر چنتے ہیں۔

ایک دانا شخص زندگی نہیں ٹھکراتا اور نہ اس کے خاتمے سے خوف کھاتا ہے۔ زندگی کی سوچ اسے نالاں نہیں کرتی اور نہ اس کے خاتمے کو وہ بدی سمجھتا ہے۔ اور جیسے لوگ سادگی سے اور صرف کھانے کا بڑا حصہ نہیں چنتے، بَل کہ زیادہ مزے دار حصہ چنتے ہیں ایسے ہی دانا اس وقت کی جستجو کرتا ہے جو کہ لطف انگیز  ہوتا ہے نہ کہ  محض وہ وقت جس کا دورانیہ طویل ہوتا ہے۔ اور جو جوانوں کو اچھے سے جیون بتانے اور بوڑھوں کو انت اچھا کرنے کی مت دیتا ہے بے وقوفی کی بات کرتا ہے، محض زندگی کی خوش باشی  کے کارن نہیں بَل کہ یہی جینے کی مشق ساتھ ہی اچھے سے جینا اور اچھے سے مرنا سکھاتی ہے۔

اور اس سے بدتر وہ ہے جو کہتا ہے پیدا ہونا ہی اچھا نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی پیدا ہو جائے تو اسے تیزی سے آخرت زیریں کے دروازوں میں سے گزر جانا چاہیے۔ ایسے ہے کہ اگر وہ واقعی اسے مانتا ہے تو زندگی سے رخصت کیوں نہیں ہو جاتا؟ اگر یک بار وہ اس کا پختگی سے قائل ہوتا تو ایسا کرنا اس کے لیے سہل ہوتا۔ اور اگر وہ ٹھٹھولی کرتا ہے تو اس کے لفظ بے وقوفی کے ہیں کہ جو اسے سنتے ہیں، اس کا یقین نہیں کرتے۔

ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ مستقبل نہ تو تمام کا تمام ہمارا ہے اور نہ ہی پورے کا پورا ہمارا نہیں ہے۔ ہمیں اس پر کافی یقین کرتے ہوئے بھروسا نہیں کرنا چاہیے کہ یہ آئے گا اور نہ ہی ایسا ہی یقین کرتے ہوئے مایوس ہونا چاہیے کہ یہ نہیں آئے گا۔

ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ کچھ خواہشیں فطری ہوتی ہیں اور دیگر بے بنیاد، اور جو فطری ہوتی ہیں ان میں سے کچھ فطری ہونے کے ساتھ ساتھ لازمی بھی ہوتی ہیں، اور کچھ صرف فطری۔ اور ضروری خواہشوں میں سے کچھ  اس لیے ضروری ہوتی ہیں کہ ہم خوش ہونا چاہتے ہیں، کچھ اس لیے کہ جسم بے آرامی سے نجات چاہتا ہے، اور کچھ اس لیے بھی کہ ہم جینا چاہتے ہیں۔ جس کے ہاں ان چیزوں کی واضح اور یقینی تفہیم ہے، وہ ہر ترجیح اور گریز جسمانی صحت اور دماغی تسکین کے حصول کی دشا میں لے جائے گا، یہ دیکھتے ہوئے کہ یہی تو ایک مسرور زندگی کی پونجی اور مآل ہے۔

چوں کہ ہمارے تمام افعال کا مقصد درد و خوف سے آزاد ہونا ہوتا ہے، اور جب ہم یہ پا لیتے پیں، تو روح کا طوفان تھم جاتا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ زندہ مخلوق کو ان چیزوں کی ڈھونڈ کی چنداں ضرورت نہیں جن کی کمی ہے اور نہ ہی کوئی اور شے دیکھنے کی ضرورت ہے جس سے تن و روح کی بھلائی کی تسکین ہو گی۔ جب ہم دکھیا مزا ہوتے ہیں، تب صرف تب ہی ہم مزے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم لطف کو ایک اچھی زنگی کی الف بے سمجھتے ہیں۔

مسرت ہماری پہلی اور قریبی بھلائی  ہوتی ہے۔ یہ ہمارے ہر انتخاب اور ہر گریز کا نقطۂِ آغاز  ہوتا ہے اور اسی کی طرف ہم لوٹتے ہیں، اتنی کثرت سے کہ ہم اس احساس کو قاعدہ بنا لیتے ہیں جس سے ہم ہر بھلی شے کو پرکھتے ہیں۔ اور چُوں کہ مسرت ہماری پہلی اور گھریلو بھلائی ہوتی ہے، اس وجہ سے ہم ہر کوئی مسرت نہیں چُنتے، بَل کہ اکثر بہت سی مسرتوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں جب ان سے کوئی بڑی ناگواری مترشح ہوتی ہے۔ اور اکثر ہم دکھوں کو مزوں سے برتر گردانتے ہیں جب ایک لمبے عرصے کے لیے دکھوں کی سیوا نتیجے کے طور پر ہماری لیے بڑی مسرتیں لاتی ہے۔

ابھی یہ ایسے ہی کہ سب مسرتیں چوں کہ  فطری طور پر ہماری قریبی ہوتی ہیں اس لیے بھلی ہوتی ہیں لیکن سب مزے ہمارے چناؤ کے لائق نہیں ہوتے بالکل اسی طرح جیسے سب درد بدی ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہر تکلیف دھتکاری نہیں جاتی۔ تاہم ایک کو دوسرے کے مقابل تول کر، سہولتیں اور تکلیفیں دیکھتے ہوئے، ان سب معاملوں کو پرکھنا چاہیے۔ کبھی ہم نیکی سے بدی کا سا برتاؤ کرتے ہیں اور کبھی اس کے الٹ بدی سے نیکی کا سا۔ پھر بھی بیرونی اشیاء کو ہم بڑی نیکی سمجھتے ہیں، ہر معاملے میں انھیں تھوڑا برتنے کے لیے نہیں بَل کہ تھوڑے پر گزارا کرنے کے لیے اگر ہمارے پاس زیادہ نہیں ہے، دیانت سے اس بات کا قائل ہونے کے بعد کہ عشرت کا شیرین ترین لطف انھی کا ہوتا ہے جنھیں اس کی تھوڑی ضرورت ہوتی ہے، اور جو کچھ فطری ہوتا ہے، آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے، محض فضول اور بے وقعت ہی مشکل سے جیتنے ہوتا ہے۔

روکھی سوکھی بھی اتنا ہی مزا دیتی ہے جتنا مہنگی خوراک، جب اشتہاء کا دکھ مٹا دیا جاتا ہے جب کہ روٹی اور پانی بھی اعلیٰ ترین درجے کا سرور انعام کر دیتے ہیں جب وہ بھوکے ہونٹوں کے پاس لائے جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو سستی اور سادہ غذا کا عادی بنانا اسے خوب مہیا کرتا ہے جو صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے اور ایک شخص کو گھٹے بغیر زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے قابل بناتا ہے، اور ہمیں ایک بہتر حالت میں لے جاتا ہے جب ہم مہنگی غذاؤں کے وقفوں کے سامنے آتے ہیں اور ہمیں مقدر سے بے نیاز رکھتا ہے۔

تو پھر جب ہم کہتے ہیں کہ مسرت ہی زندگی کا مآل و مقصد ہے تو اس سے ہماری مراد مسرف کے مزوں کی یا حِسّیاتی مسرتوں کی نہیں ہوتی جیسے  ہمارے  بارے میں جہالت، تعصب اور جانی بوجھی تفسیر کے باعث سمجھا جاتا ہے۔

مسرت سے ہماری مراد جسم سے درد کے عدم موجودگی اور روح سے پریشانی کی غیر حاضری کی ہے۔ مسلسل مے نوشی، تفریح، جنسی محبت، مچھلی کا لطف اور میز کی دیگر  عشرتیں اور لطافتیں تو ایک خوش کن زندگی کی افزائش نہیں کرتیں، وہ تو ہوش مندانہ تدبر ہوتا ہے، انتخاب اور گریز کی بنیادوں کی تلاش ہوتی ہے، اور ایسے عقیدوں سے دوری ہوتی ہے جن کے باعث بڑی بڑی پریشانیاں روح پر قبضہ جما لیتی ہیں۔ اور اس سب کا توڑ سمجھ داری ہے۔ اس وجہ سے سمجھ داری دوسری خوبیوں سے بھی زیادہ بیش قیمت شے ہوتی ہے۔

اس لیے مسرت کی ایسی زندگی نہ گزارو جو  سمجھ داری اور عدل و اعزاز کی بھی زندگی نہیںں ہوتی اور سمجھ داری، عدل اور اور اعزاز کی بھی ایسی زندگی نہ گزارو جو پر مسرت نہیں ہوتی۔ ایسے ہے کہ خوبیاں بڑھ کر ایک خوش کن زندگی کے سنگ یک جا ہو جاتی ہیں اور  ایک خوش کن زندگی  ان سے جدا نہیں کی جا سکتی۔

تو تمھاری جانچ میں ایسے شخص سے کون برتر ہے؟ وہ دیوتاؤں کے گوچری مقدس ایمان رکھتا ہے اور موت کے خوف سے بالکل بے نیاز  ہوتا ہے. اس نے فطرت کے طے کردہ انجام پر تدبر کیا ہے اور سمجھتا ہے کہ کتنی آسانی سے اچھی چیزوں کی حد حاصل کی جا سکتی ہے، رسا ہو سکتی ہے اور بدی کی شدت اور دورانیہ بھی کتنا مختصر ہوتا ہے۔

مقدر جس کا تعارف کچھ سب اشیاء کے حاکم کے طور پر کرواتے ہیں، وہ تحقیر سے اس کی ہنسی اڑاتا ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ کچھ چیزیں لازمی ہوتی ہیں اور دیگر اتفاق سے۔ اور کچھ ہماری مختاری سے۔ ایسے ہے کہ وہ دیکھ لیتا ہے کہ جبر ذمے داری برباد کر دیتا ہے اور اتفاق یا تقدیر بے وفا ہوتے ہیں جب کہ ہمارے افعال مختار ہوتے ہیں اور ستائش اور الزام فطری طور پر انھی سے منسلک ہوتے ہیں۔ در حقیقت، دیوتاؤں کی داستانوں کا ماننا بہتر ہے اس تقدیر کے سامنے جھکنے سے جو فطرت کے فلسفیوں نے ہم پر عائد کر دی ہے۔ ایک تھوڑی امید تو اجاگر کیے تو ہوتا ہے جس سے شاید ہماری نجات ہو سکے اگر ہم دیوتاؤں کا آدر کرتے ہیں جب کہ فطرت پسندوں کا جبر تو سب التجاؤں سے بہرا ہوتا ہے۔ نہ ہی وہ اتفاق کو دیوتا مانتا ہے اور جیسے دنیا عموماً مانتی ہے کیوں کہ کسی دیوتا کے کاج میں بے ترتیبی نہیں ہوتی اور نہ ہی کارن بننا ہوتا ہے  چاہے غیر یقینی ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ہے کہ  وہ  یہ مانتا ہے کہ اتفاق  لوگوں میں کوئی نیکی اور کوئی بدی نہیں بانٹتا تا کہ ان کی زندگی پر مسرت ہو جائے،اگر چِہ وہ بڑی نیکی اور بڑی برائی کا نقطۂِ آغاز فراہم کرتا ہے۔ 

وہ یہ بھی مانتا ہے کہ دانا کی بد قسمتی بھی احمق کی خوش حالی سے بہتر ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ اچھا ہوتا ہے کہ کسی بھی عمل میں جو بھی اچھا پرکھتے ہیں اس کا با مراد فروغ اتفاق کی امداد کا مرہونِ منّت نہ ہو۔

ان اور ان جیسے تصورات کی دن رات مشق کرو خود بھی اور اس کے سنگ بھی جو تم جیسا ہے۔ تب تم نہ سوتے میں اور نہ جاگتے میں پریشان ہو گے، بَل کہ لوگوں میں دیوتا کی مانند جیو گے، ایسے ہے کہ لوگ فناء کا سب ظاہر کھو دیتے ہیں لافانی نعمتوں کے بیچ جیتے ہوئے۔

ختم شد