لا وارث شہر
کہانی از، رابعہ ابرار
ہال میں شور اچانک شروع ہوا تھا۔ اس نے گھبرا کہ آنکھیں کھولی تھیں۔ بہت سے سوالات اس کا سر بوجھل کر رہے تھے۔ کالی شرٹ اور خاکی پینٹ میں ملبوس وہ نوجوان بار بار اپنے سینے پہ ہاتھ پھیرتا تھا۔
“گھبرا نہیں بچہ اللہ سب اچھا کرے گا۔” اس نے دیکھا اس کی دائیں جانب ایک باریش بزرگ براجمان تھے، کامل سفیدی میں ملبوس ان کا چہرہ خدا داد نور سے منور تھا۔ ان کی نگاہ اس کی گود میں دھری فائل پہ مرکوز تھی۔ ان کے برابر مٹیالے لباس میں، اس کی اپنی ہم عصر کوئی لڑکی تھی۔ وہ جیسے پارے کی بنی تھی، اس کا رواں رواں بے چین تھا، وہ مارے باندھے بیٹھی تھی۔
ہال میں ملگجا اندھیرا تھا جس کے باعث اس کی حدود کا تعین ممکن نہ تھا۔ فرش پہ ایک فربہ شخص نیم دراز تھا، اس کے وجود پہ اس قدر چربی تھی کہ وہ گیند کی مانند گول تھا۔ اس کے برابر میں وکیل کے لباس میں ایک درمیانی عمر کا شخص اس پر ترچھا ہو کر جھکا ہوا تھا۔ نوجوان سے نگاہ ملتے وہ استہزائیہ ہنستے اپنے ساتھی سے بولا تھا “نئی اینٹری”. فربہ شخص نے بدقت گردن گھما کہ اسے دیکھا تھا، پھر واپس اپنے حال میں مست ہو گیا تھا۔
“یہ ضرور وکیل استغاثہ ہوگا, میرا وکیل کہاں ہے؟” نوجوان کو زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی تھی, اس کے بائیں جانب ایک ادھیڑ عمر شخص دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں اڑسائے قدرے اگے کو جھکا بیٹھا تھا۔ متفکر چہرہ، باتکرار پھسلتی موٹی عینک۔
نوجوان کو بے اختیار مایوسی ہوئی تھی۔
“آگیا جج! آگیا۔” نوجوان نے دیکھا اعلانچی لال پیلے لباس والا ایک بونا تھا، جو کرسیوں کے بیچ گھومتا پھرتا یکدم اوجھل ہو گیا تھا۔ اس نے جج کی طرف نظر اٹھائی، وہ ایک پختہ عمر، باوقار شخص معلوم ہوتے تھے۔ مگر ان کا حلیہ ایسا تھا جیسے کوئی زنگ آلود دروازہ، جو مالکان کے عدم استعمال اور بے توجہی کا شکار ہو۔ جج کی نگاہ اس پہ ٹھہری تو اس نے موقع غنیمت جانتے فورا اپنا مدعا سنانا چاہا تھا۔
“سر میں ایک باعزت, تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔ اکلوتا بیٹا اپنے والدین کی امید۔۔۔۔۔۔۔”
” آبجیکشن! یہ کون سی باتیں ہیں، یہ آخر کون سا طریقہ ہے بات شروع کرنے کا؟” وکیل استغاثہ چیخ چلا رہا تھا.
“بات یہ ہے کہ یہ لوگ ملک و قوم کا سرمایہ ہیں, ان کے ساتھ بھی ایسا ہوگا تو باقی لوگ کدھر جائیں گے۔” یہ الفاظ وکیل دفاع کے نہ تھے بلکہ اس نوجوان لڑکی کے تھے جو متواتر سر اٹھاتی اب خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی.
“تم بیٹھی رہو, یوں پے در پہ تمہاری اٹھنے کی ضرورت نہیں, بات ہو رہی ہے بات بن جائے گی۔”
وکیل استغاثہ بدتمیزی کی حد تک اس لڑکی کے منہ کو آگیا تھا، وہ مجبوراً واپس بیٹھی تھی۔ مگر وہ مستقل بدبدا رہی تھی، ” آخر کب تک باتیں ہوں گی؟ کتنے اور سال میں ترازو برابر ہوگا؟”
“سر ان کا کیس باقیوں سے منفرد نہ صحیح مگر اب بس ہو چکی ہے. قانون اپنا کام کب کرے گا؟ جرم ہونے سے روکے گا نہیں، تو کیا مجرم کو شناخت بھی نہیں کرے گا؟ اسے سزا کے لیے پیش بھی نہیں کرے گا؟” وکیل دفاع کے مریل انداز کے جواب میں وکیل استغاثہ بھرپور حرکت میں آیا تھا۔
“مان لیا برا ہو گیا آپ کے ساتھ, مگر جتنی بلند اڑان اتنی ہی سخت پچھاڑ۔ ہم معمولی لوگ ہیں ہمارے روز کے پسینے سے مہینے کی گاڑی کھنچتی ہے.ہمارے بیوی بچوں کے لیے کون کھڑا ہوگا؟” وکیل ایک سانس بولتا چلا گیا تھا۔
“اگر ہم نے آواز اٹھائی اور کسی نے ہمیں نقصان پہنچا دیا تو؟ ہمارا تو کوئی بھی نہیں, ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں.” بونا اب استغاثہ کی کرسیوں کے درمیان چھپا بلند آواز میں بے ربط بول رہا تھا۔ عجب تھا کہ اس کا قد بڑھا ہوا محسوس ہو رہا تھا، مگر اس کا وجود پتے کی طرح کپکپا رہا تھا۔
” ہوش سے کام لیجئے جج صاحب ! ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟ جان نہ بھی جائے یوں روز روز کی غوغاں میں اگر نوکری چلی گئی تو پتہ ہے نا کیا صورتحال ہے ملازمتوں کی؟” فربہ شخص اپنی ساری جسامت کے باوجود چستی سے جج کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا تھا، پھر وہط راز و نیاز کرنے لگا تھا۔ ” پھر سر آپ نے ہر ہفتے فیملی کو آؤٹنگ پہ لے جانا ہوتا ہے, گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، اس پہ آپ نے اپنی بیٹی سے نئے سمارٹ فون کا وعدہ بھی کر رہا ہے۔ یہ روز کے حوادث زمانہ، بڑے لوگوں کے معاملات، پیچیدہ واقعات، ان میں الجھنا عبث ہے”
وہ کام جو وکیل استغاثہ کی چبھتی آواز نہ کر سکی تھی، وہ فربہ شخص کی مدھم میٹھی اواز کر رہی تھی۔ جج صاحب اپنی کرسی میں اپنے ہی بازوؤں کے درمیان غرق سے ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔ معاملہ ہاتھ سے نکلتا دیکھ نوجوان تاسف سے گویا ہوا تھا۔
” میں نئی زندگی شروع کرنے جا رہا تھا.”
“زندگی تو میں نے بھی شروع کی تھی. شادی، پھر اولاد کی آمد آمد، ہم ہسپتال سے خوش لوٹ رہے تھے، مستقبل قریب کا ایک کلکاریوں بھرا خواب بُنتے۔” اس نے دیکھا وہاں فرش پہ ایک نوعمر جوڑا بیٹھا تھا۔ مرد کے ہاتھ میں اس کی فائل کی طرح کی ایک فائل تھی، عورت کے ہاتھوں میں ایک برہنہ نو زائیدہ بچہ تھا جس کی آنول نال ابھی اس کے جسم سے لٹک رہی تھی۔ وہ آدمی کھوئی کھوئی نظروں سے خلا میں دیکھتا اپنی کہانی کہہ رہا تھا۔ پھر وہ غضب ناک جج کی طرف متوجہ ہوا۔ “کوئی انسان اس طرح کچلے جاتے ہیں کیا؟ یا وہ اس طرح دن دہاڑے کسی پھل سبزی کی طرح پھٹ کر سڑک پر پڑے ہونے کے مستحق ہوتے ہیں؟” وہ بمشکل چپ ہوا, تو اس کی بیوی اپنا بچہ سب کے سامنے لہرانے لگی تھی۔ “میں نے اس کے لیے بہت اچھی شاپنگ کی تھی, بہت نرم بستر بنوایا تھا. یہ تو مگر تپتی, گندی, پتھریلی سڑک پہ جا گرا.” وہ دوپٹہ منہ میں بھر کر رونے لگی تھی.
“تمہارا بچہ تمہیں مل گیا؟ میرا پتہ نہیں کہاں گیا؟ جب ہم گرے تھے تب میری گود میں تھا. دو ماہ کا بچہ ماں کے بغیر کیسا ہوگا؟” ایک دوسرے عورت کی اواز گونجی تھی. اس کی بس انکھیں خشک تھیں, باقی اس کا پورا وجود کسی کالے سیال سے تر تھا۔ اس کی فائل اس کے پیروں کے پاس پڑی تھی اس کے ہاتھوں میں خالی بستر تھا جسے وہ وحشت سے تک رہی تھی۔
“مما مما, بابا بابا” ایک تین سالہ پیارا سا بچہ منظر عام پہ ابھرا تھا۔ اس کا ننھا وجود بھی اس عورت جیسے کالے ملغوبے سے لپٹا ہوا تھا۔ اس نے اپنی فائل بہت زور سے بھینچ رکھی تھی۔
“یہ سب کیا ہے جج صاحب؟ ان سب کا اس کیس سے کیا تعلق ہے؟ اور یہ بچے یہاں کیا کر رہے ہیں, ان کو یہاں کون آنے دیتا ہے؟ یہ بہت شور مچاتے ہیں، عصاب شل کر دیتے ہیں۔ یہ اپ کی عدالت ہے کہ کیا ہے؟” وکیل استغاثہ نے چڑ کر گستاخانہ لہجے میں جج سے مطالبہ کیا تھا. ہال میں بہت سے بچوں کا شور گونجنے لگا تھا، وہ بچے جیسے مسلے ہوئے، اَن کِھلے پھول تھے۔ ان میں ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں تھے، ایک بچی تو اتنی چھوٹی تھی کہ ڈائیپر میں تھی۔ بعض بچے مدرسے کے لباس میں تھے۔ ان بچوں کی بے کسی بہت بلند تھی ۔
“میں ان میں سے کسی کو یہاں آنے سے نہیں روک سکتا۔” جج صاحب گویا ہوئے تھے. ” یہ سب ایک مالا کے دانے ہیں، نیا گرنے والا دانہ پچھلوں کی گونج ساتھ لاتا ہے۔” جج کی بات جیسے حوصلے کی ہوا تھی. یکایک ہال میں کئی نئے چہرے ابھرنے لگے تھے, جلے ہوئے وجود, کچلے ہوئے, کٹے ہوئے, ہر کسی کے ہاتھ میں اس کی فائل تھی. وہ سبھی آنکھیں جج پہ مرکوز تھیں۔ وکیل استغاثہ کا سانس بھرنے لگا تھا۔ وہ خوشامد کرنے لگا۔
“جج صاحب یہ سب مختلف واقعات ہیں. یہ حادثات کا شکار کیسز ہیں اور فی الوقت کیس قتل کا دائر ہے. ابھی تو اس کیس کے پورے حقائق بھی سامنے نہیں آئے ہیں۔”
“کون فیصلہ کرے کیا حادثہ تھا کیا نہیں؟ سٹیرنگ ویل کے پیچھے والا شخص کتنا باثر ہے یہ کچلے جانے والے کی زندگی کی قیمت طے کرتا ہے.” ایک نوجوان لڑکی اپنے بزرگ باپ کا بازو تھامے گویا تھی۔
“یہ مدعا کوئی آج کا نہیں۔ آپ نے کیا حقائق جاننے ہیں؟ مجرم کا اثر رسوخ سب طے کرتا ہے۔ میں یاد ہوں اپ کو جج صاحب، میرا کیا قصور تھا، اپنی عزت کی حفاظت؟ میرے مجرم تو معلوم تھے، کیا سزا ہوئی؟ دباؤ کی مصلحت انصاف نہیں ہوتی جج صاحب!” جوشیلے انداز میں مخاطب وہ ایک اور نوجوان تھا جو دلیری سے جج کی آنکھوں میں انکھیں ڈالے بات کر رہا تھا۔ اتنے لوگوں میں وہ پہلا مدعی نوجوان کہیں دب کر رہ گیا تھا، وکیل دفاع اسے ہاتھ پکڑے جج کے قریب لے آیا تھا۔
“جج صاحب یہ واقعات الگ الگ نہیں, حادثہ وہ ہوتا ہے جو اللہ کی قدرت کی ایسی قوت سے سرزد ہو جس کے آگے انسان سرے سے بے بس ہو، لاعلم ہو اور جس کے لیے کوئی سد باب کرنے سے عاجز ہو۔ قوانین کی عدم پاسداری، حادثات کے لیے ریسکیو ذرائع کا کافی نہ ہونا یا گٹر کھلے رہ جانا، یہ افسوسناک حادثات نہیں مجرمانہ غفلتیں ہیں۔ کتے بلی کا بچہ بھی گٹر میں گر جانا سمجھ نہیں ہے آتا، یہاں انسان گٹر میں بہہ جاتے ہیں۔ بنیادی ضرورت کا پانی نلکوں میں دینے سے قاصر حکومت نئے مافیاز کو جنم دیتی ہے۔ سڑک پہ دندناتا ہیوی ٹریفک بے ضابطہ کیوں ہے؟ سال بھر میں پانچ سو لوگ کچل دیے جانا معمولی ہے؟ کسی کی جوان اولاد کفن میں لپٹی گھر پہنچے، ایک ہی گھر سے کئی کئی جنازے اٹھنا، متوقع خوشیاں کا ماتم میں بدل جانا۔ یہ کیسا شہر ہے آپ کا؟ وکیل دفاع جذباتی تقریر کے بعد چپ ہوا تو وہ مٹیالے لباس والی لڑکی آگے بڑھی تھی، اس کے حوصلے اب بلند تھے وہ بڑے جذب سے گویا ہوئی۔
“بالکل سر اب ہم صرف انصاف نہیں چاہتے، ہمیں قانون کا ایسا نفاذ چاہیے کہ عام انسان محفوظ ہو، ترقی کا خواہ انسان درست راستوں پہ آگے بڑھتے نڈر ہو۔ مائیں بچوں کو کب تک روئیں گی، وہ اپنے بچوں کو کتنا سمیٹیں گی اور کیوں سمیٹیں گی۔ جو خوف والدین کے دلوں میں ہے وہ مجرموں کے دلوں میں ہونا چاہیے۔ چند کی سخت سزائیں باقیوں کے لیے بھی عبرت بن جائیں گی، پھر بچے گھر میں بھی مامون ہوں گے اور محلے میں بھی کوئی ان کی طرف نظر نہیں اٹھائے گا۔ لاقانونیت اور جرم کا کوئی انجام نہ لانا ہی مجرم کا حوصلہ ہے، ہمیں اسی کو توڑنا ہے سزا دو انصاف دو۔”
ہال میں موجود ہر شخص جیسے ‘انصاف دو’ کا ورد کرنے لگا تھا۔ شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ وہاں گونجنے لگی تھی۔ جج صاحب گہرے مراقبے میں تھے، تب وہ لال پیلا بونا اچانک نمودار ہوا تھا۔ اب کہ وہ اپنی اصل ناٹے قد میں مدعیوں کی کرسیوں کے بیچ سے نکلا تھا۔ “یہ بھی تو سوچیں کہ آج تک لوگوں کی خبر سنتے پڑھتے رہتے ہیں کل کو آپ بھی خبر بن گئے تو… جینا تو آپ نے اور آپ کے بچوں نے بھی اسی ماحول میں ہے کیوں نہ اس کو محفوظ بنائیں، آواز اٹھائیں۔ ایک ایک آواز مل کر شور کا ایسا طوفان بن جائے گی جو ٹالے نہ ٹلے گا۔ کیا گارنٹی ہے آج محفوظ ہیں تو کل کچھ نہ ہوگا۔ جو کل ہو سکتا ہے، وہ آج ہو جائے، کوئی تو نظام بدلے… میرا ہی خون صحیح…….” بونا آہستہ آہستہ اٹکنے لگا تھا، جیسے اپنے الفاظ کے معنی اس پر آشکار ہونے لگے ہوں، “میں آج مر جاؤں کسی کے کل کے لیے؟ آج تو جی لوں، کل کس نے دیکھی؟” اس کا قد بڑھنے لگا تھا، وہ بھاگتا ہوا استغاثہ کی کرسیوں کے بیچ غائب ہو گیا تھا۔ استغاثہ کو دلیل کا سرہ پکڑ میں آیا تھا۔
“جج صاحب میں پھر یہی کہوں گا ایک عام آدمی کیا کر سکتا ہے؟ ہمارا اختیار تو ہماری اپنی ذات کے معاملات پہ بھی نہیں۔ یہ سسٹم دہائیوں سے اسی طرح چلتا آرہا ہے، آج تک کوئی کیا کر پایا ہے؟ آپ کس کے خلاف کھڑے ہوں گے اور پھر ان کے بدل میں کس کو لائیں گے؟ کون ہے جو اس شہر کا سگا ہے؟ یہ لاوارث شہر ہے، اسے کس کو سونپیں گے۔ یہ زمین پیاسی ضرور ہے، لیکن کیا آپ میں بارش کا پہلا قطرہ بننے کا حوصلہ ہے؟ اور یہ سر ہمدردی جو یہ کیس لے کر آئے ہیں جن کی عینک دوسروں کی رائے پہ ٹکی ہے, ہر آن رخ نگاہ بدلتی ہے۔ زبانی ہمدردی سے تقدیریں نہیں بدلا کرتی، اگر واقعی کوئی کچھ کر گزرنے والا ہوتا تو یہ کیس بطورِ دفاع نہیں دائر ہوتا، جرات بنفس نفیس بطور استغاثہ آکر اس کیس کو سنبھالتا، لیکن وہ تو یہاں اس ہال میں موجود تک نہیں۔’
جج صاحب پھر ماند پڑنے لگے تھے، وہ پشیمان اور تھکے ہوئے معلوم ہوتے تھے لیکن ابھی کچھ کہنے سننے کی رمق باقی لگتی تھی۔ فربہ شخص فورا آگے بڑھا تھا کہ تابوت میں آخری کیل اتار سکے۔
“سر عملاً کچھ ہو نہیں سکتا خواہ مخواہ ایسی پیشیاں کرنے سے کیا ملے گا؟ صرف ڈپریشن! خود کے بارے میں اور اپنے سے جڑے لوگوں کے بارے میں سوچیں، ختم کریں اس قصے کو دے دیں فیصلہ”
جج صاحب ایک آخری امید بھری نگاہ ہال کی وسعتوں پر ڈالنے کے بعد وہاں موجود تمام لوگوں سے مخاطب ہوئے تھے۔ “آپ سب میری روح میں سلے زخم ہیں، لیکن افسوس کہ جب تک جرات خود آکر کیس دائر نہ کرے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آپ سب فی الحال واپس لاشعور میں قید کیے جاتے ہیں۔”
جج صاحب نے قلم چلا دیا تھا وکیل استغاثہ اور فربہ شخص تیزی سے ہال میں موجود لوگوں کو ہکالتے، دھکے دیتے ایک دور کے دروازے کی طرف لے جانے لگے تھے۔ اندھیرا بڑھنے لگا تھا۔ اس سب ہنگامے میں حیران اور مایوس وہ اصل مدعی، کالی شرٹ والا نوجوان اپنی کرسی پر واپس اآکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کا وکیل بھی تائید میں اس کے ساتھ کرسی چپکا کر بیٹھ گیا تھا۔
“آپ کو کچھ روز یہاں بیٹھے رہ سکتے ہیں، میں ہوں آپ کے ساتھ۔ پھر آپ کو بھی ان باقی لوگوں کے ساتھ جانا ہوگا۔”
وہ اسے تسلی اور حقیقت یک مںشت پہنچا گیا تھا۔
“یہ کون سی جگہ ہے؟ آپ لوگ کون ہیں ، کیا یہ برزخ ہے؟” نوجوان نے اپنے سامنے برپا محشر نما بھگدڑ کو دیکھتے سوال کیا تھا۔
“نہیں وہاں تو انسان انصاف کے مطابق مقام دیا جائے گا۔ یہ تو ضمیر کی خوابگاہ ہے، یہاں شعور کی عدالت میں فیصلہ ہونا تھا کہ ضمیر کو جگایا جائے یا تم سب سانحہ افسوس جتلا کر ایک بار پھر لاشعور میں مقید کر دیے جاؤ گے۔ تمہاری جیسی کوئی نئی آمد یونہی بیتے دکھوں کو تازہ کر دیتی ہے۔ یہ تمہاری دائیں طرف بزرگ امید ہیں، جن کو آس ہے کہ کبھی تو انصاف ہوگا۔ یہ ان کی بیٹی ہے بغاوت، یہ چاہتی ہے کہ بس کسی طرح ضمیر جاگ جائے لیکن وہ وکیل استغاثہ خود غرضی اور اس کا موٹا چیلا طمع ہمیشہ شعور کو قائل کر لیتے ہیں کہ ابھی ضمیر کو سویا رہنے دیا جائے، جاگنے کا فائدہ نہیں۔ اور ہاں، وہ گھٹتا بڑھتا بونا وہ خوف ہے۔ وہ کہیں کا بھی نہیں، وہ کبھی اِدھر کی کہتا ہے کبھی اُدھر کی۔”
نوجوان اپنے ہاتھ میں موجود فائل دیکھنے لگا، “کیا کسی کے لاشعور جتنی وقعت تھی میری؟” اس نے بزرگ سے سوال کیا تھا۔
“نہیں اللہ سے تو امید ہمیشہ باقی رہے گی، ان کو جاگنا ہوگا۔ یہ آج نہیں اٹھیں گے تو کل صور کی آواز پہ اٹھ کر تو حساب دینا ہی ہوگا۔” وہ توکل علی اللہ سے لبریز اواز میں بولے تھے ۔
“عام ادمی ہی کو جاگنا ہوگا اور جلد جاگنا ہوگا، تبدیلی کا بیج عام انسان کے لہو سے ہی سینچا جاتا ہے۔ یہ خود کو فرد واحد کیوں سمجھتے ہیں، قوم کیوں نہیں بن جاتے؟ اس شہرِ بیکساں کے والی کیوں نہیں ہوجاتے؟ لاوارث شہر میں سب ملتا ہے، سب بکتا ہے، انصاف نہیں ملتا۔ لاوارث شہر میں جنگل کا قانون بھی نہیں ملتا۔” باغی لڑکی اب پابند سلاسل، بے بسی سے بڑبڑا رہی تھی۔ ادھر طمع اور غرض سبھی کو لاشعور کے اندھیروں میں دھکیل چکے تھے، بس کچھ بچے تھے جو ان کی گرفت سے نکل نکل کے بھاگ رہے تھے۔ وہ ان کو پکڑ کے دروازہ بند کرنے ہی والے تھے کہ کسی نے اعلان داغا “نئی اینٹری”۔ بغاوت نے اپنی زنجیروں کو جھٹکا دیا تھا، ہال پھر شور سے گونجنے لگا تھا، روشنی تیز ہونے لگی تھی۔
