اردو ادب میں بڑے ناول کی تلاش

Ehsan Qazi
احسان قاضی

اردو ادب میں بڑے ناول کی تلاش

از، احسان قاضی

جب بھی اردو  ناول نگاری کی بات ہوتی ہے تو ہر دوسرے سال کچھ شور سا سنائی دیتا ہے کہ  اردو میں کسی بڑے ناول کی آمد ہوئی ہے لیکن جونہی یہ شور تھمتا  ہے تو پتہ چلتا ہے وہ صرف شور ہی تھا اور ابھی اردو ادب کو  شاید اس سمت  کافی سفر طے کرنا ہے۔ سوشل میڈیا  پر بھی  وقتا فوقتا  اردو کے  بڑے ناولوں کی تلاش جاری رہتی ہے اور کئی صاحب علم اور عام قارئین بھی اپنی اپنی پسند کے حساب سے مختلف ناولوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود  اردو  کی ناول نگاری کی روایت میں ایک تشنگی سی محسوس ہوتی ہے جس کا اظہار کئی احبا ب کھل کر اور کئی دبے لفظوں میں کرتے ہیں۔  حالانکہ اردو فکشن میں افسانے کی روایت شروع سے ہی بہت پختہ رنگ اختیار کرنے لگی تھی اور ابتدا سے لے کر آج تک کتنے ہی ایسے افسانہ نگار اردو میں موجود ہیں جنھیں بجا طور پر عالمی ادب  کے دوسرے بڑے اور نامور ادیبوں کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔   اس میں پریم چند سے لے کر منٹو تک اور پھر  غلام عباس سے لے کر احمدندیم  قاسمی اور  بیدی تک  بہت  سارے ایسے نام موجود ہیں جن کے فن کا اعتراف ہر سطح پر ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنی توانا افسانے کی روایت کے باوجود ابھی تک اردو کے دامن میں ناول کے حوالے سے چند ہی نام گنوائے جاسکتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اردو میں کامیاب یا بڑے ناول نہیں لکھے گئے بلکہ یہ ہے کہ  شاید شعوری یا لاشعور طور پر بہت سے افراد کو ابھی تک اردو ادب میں ایک ایسے ناول کی کمی محسوس ہوتی ہے  جسے اردو کے افسانوی ادب کے شہ کاروں کی طرح عالمی ادب کے مقابل بھی رکھا جاسکے۔  شاید ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ افسانہ اپنی صنف کے حساب سے خود ایک علیحدہ اور مکمل صنف ہے جبکہ ناول کے تقاضے بہت مختلف ہیں ۔

لیکن   ناول کو کیا چیز بڑا ،آفاقی یا لافانی بناتی ہے اس پہ بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اس کے باوجود اس کو مکمل بیان کرنا بہت مشکل بھی ہے کیونکہ  آخری حیثیت میں یہ بہت انفرادی تجربہ ہے اور  بہت حدتک   اس کا تعلق ذاتی ذوق اور جمالیات سے ہے ۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف ناول  کی روایت پر گہری نظر رکھنے والے نقادوں نے ضرور توجہ دلائی ہے۔  جسمیں ناول کے مجموعی  تاثر کی آفاقیت اور اس میں پیش کی گئی انسانی صورتحال کی  عکاسی کی ہر دور اور خطے کے انسانوں کے ساتھ مطابقت اور جڑت ہے ۔ اس حوالے سے تقریبا تمام اہم نقادوں نے اسی طرح کی بات کی ہے  جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بڑا ناول مکانی وسعت کے لحاظ سے مختلف ثقافتی تناظر میں یکساں مقبول ہوتا ہے ۔ یعنی  چاہے وہ کسی بھی زبان یا مقامی تناظر مییں لکھا گیا ہو      ہر خطے کے لوگ اس کے ساتھ  ایک طرح کی جذباتی ونفسیاتی وابستگی  محسوس کرتے ہیں کیونکہ شاید  اس کے اندر انسانی صورتحال کی عکاسی اس پائے کی ہوتی ہے کہ وہ   زمان و مکان اور ہر طرح کی سرحدوں سے ماورا    ہو  کر ایک اعلیٰ اور مشترکہ انسانی صورت حال کا عکاس بن جاتا ہے ۔۔یعنی  چاہے وہ ناول انگریزی، فرانسیسی، روسی  یا کسی بھی دوسری  قومی یا مقامی   زبان میں لکھا گیا ہو جب ہم اسے پڑھتے ہیں تو اس کے ساتھ ایسی ہی  وابستگی محسو س کرتے ہیں جیسے وہ ہماری ہی کہانی ہو چاہے  ان تک  ہماری رسائی ترجمہ کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو  ۔  اور  دوسری بات یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی اور اس کا  بنیادی   پیغام ہمیشہ ترہ تازہ رہتا ہے۔ 

بڑے ناول کی تلاش کا قضیہ صر ف اردو کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ ناول  جنھیں واقعی بڑے کہا جاسکتا ہے ان کے بارے میں    ای-ایم  فورسٹر نے تقریبا سو سال پہلے کہا تھا کہ جن ناولوں کو واقعی بڑا کہا جاسکتا ہے وہ تو انگریزی میں بھی خال خال ہیں ۔ اور اس میں ایم فارسٹر کا اشارہ   ٹالسٹائی ، دوستوفسکی  اور پروست   جیسے ناول نگاروں کی طرف تھا کہ ان  جیسے ناول نگار   خود انگریزی زبان میں بھی کم ہی ملیں گے حالانکہ انگلش ناول کی روایت میں لارنس سٹرن، فیلڈنگ، ڈکنز سے لے کر  تھامس ہارڈی  تک  کئی مشہور  نام ملتے ہیں  اور بیسیویں صدی میں خود ای ایم فورسٹر سے لے کر    ڈی ایچ لارنس  اور جیمز جائس تک کتنے ہی بڑے ناول نگار  موجود رہے ہیں جنھوں نے فنی مہارت سے بھرپور ناول لکھے ہیں اور انسان کے اندرون اور بیرون کو اچھوتے اور منفرد پیرائیوں میں بیان کیا ہے لیکن اگر اس کے باوجود ای –ایم فورسٹر جیسا بڑا لکھاری بھی یہ بات کرتا ہے تو  اس سے معلوم ہوتا ہے  کہ ناول نگاری کے  معیار کتنے بلند، ارفع اور مشکل ہیں کہ ان تک پہنچنا ہر کس وناکس کی بات نہیں۔ لیکن اگر ہم ناول نگاری کی تاریخ اور اس پر کی گئی تنقید کی توانا روایت سے ناواقف ہوں تو پھر کوئی بھی بات کی جاسکتی ہے اور کسی بھی ناول کو بڑا ناول قرار دیا جا سکتا ہے۔

بڑے ناول    کی بحث صرف  ای ایم فورسٹر تک ہی محدود نہیں بلکہ جب  1960 اور 70 کی دہائی میں امریکہ میں کسی ایک   بڑے نمائندہ  ناول کی تلاش کی بحث  شروع ہوئی تو  وہاں بھی  مشہور ناول نگار نارمن میلر نے کہا تھا کہ بہت سارے امریکی ناولوں میں بڑا ناول بننے کا امکان تھا مگر وہ کہیں ذرا سے فرق سے نہ بن سکے کیونکہ  ایک تو خود امریکہ بہت بڑا   اوراتنا متنوع  ملک تھا کہ کسی ایک ناول میں اس سارے تنوع کو سمونا شاید ممکن نہیں تھا ۔اصل میں ای ایم فورسڑ جن بڑے ناولوں کی طرف اشارہ کررہا تھا وہ  حیرت انگیز طور پر جن  زبانوں یا خطوں میں ملتے ہیں وہ ایک طرف  یورپی تہذیب کے  علمی وفکری مراکز  جرمنی (اور جرمنی سے ہی ملحقہ دوسرے علاقے جیسے آسٹریا وغیرہ ہیں)اور فرانس  ہیں  جہاں ناول کی ایک بالکل منفرد اور انسانی المیے اور انسان کی مجموعی سماجی، نفسیاتی اور دوسرے اس طرح کی کیفیات کو سموتی نظر آتی ہے۔ اور دوسری طرف پھر اس کے ساتھ ساتھ ناول نگاری میں   جو بڑی اور توانا روایت  ملتی ہے وہ بلاشبہ روس کے خطے میں جنم لینے والے عظیم   ناول نگاروں  کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں ایک طرف ٹالسٹائی  اور دوستوفسکی جیسے بڑے نام ہیں تو دوسری طرف گوگول ،  ترگنیف  اور دوسرے  ناول نگار   ہیں   ۔بعد میں  بیسیویں صدی کے نصف اول کے بعد یعنی 1950 کی دہائی کے آس پاس  لاطینی امریکہ میں   ناول نگاری کی  ایک  اور توانا روایت شروع ہوتی ہے جس کے سرخیل رلفو تھے اور   پھر اس روایت کو گارشیا  مارکیز   نے   بام عروج پر پہنچا دیا۔

اکثر لوگ اردو ناولوں پر تنقید سے جز بز ہوتے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ یہ شاید کسی احساس کمتری یا اردو ادب  کو عالمی ادب سے کمتر دکھانے کی کوشش ہے حالانکہ یہ ایسا  بالکل نہیں ہے ۔ زیادہ تر یہ بات ان   لوگوں  کی طرف سے آتی ہے   جو یا تو صرف  اردو ناول سے ہی شغف رکھتے ہیں    اور انھیں   ناول کی  کسی اور بڑی اور  توانا  روایت سے اتنا سروکار نہیں ہوتا  اور دوسر ی وجہ وہی ہے جس کو ای  ایم فورسٹر  علاقائی تنگ نظری یا عصبیت پسندی (Provincialism)کہتا ہے ۔ عام افراد کی حد تک تو یہ بات شاید درست ہو لیکن کسی بھی بڑے معیار تک پہنچنے کے لیے کچھ نہ کچھ کشت تو کرنا پڑتا ہے ورنہ ہمیں بہت mediocre چیزوں پر اکتفا کر ا پڑتا ہے جب کہ ادب اور ناول کی دنیا کی پہنائیاں بے پناہ ہیں سو بقول شخصے اس میں کم تر پر اکتفا کم ظرفی ہے۔

اس مضمون میں ہم یہی کھوج لگانے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جس کی وجہ سے ابھی تک  اردو ادب میں میں بڑے  ناول کی  تشنگی محسوس ہوتی ہے اور ساتھ کچھ  نمائندہ ناولوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیں گے کہ ان کے بارے میں اردو کے  معتبر  نقادوں کی  رائے کیا رہی ہے۔  

برصغیر پاک وہند کی سرزمین   داستانوں، دیو مالا ، ناٹک اور کہانیوں  کی سرزمین رہی ہے اور اس وسیع وعریض   خطے میں   ہمالیہ  سے راس کماری  تک جابجا داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ لوک کہانیوں  کی  ریل پیل الگ ہے اور وہ ہر خطے کی مجموعی ثقافت، رسم ورواج، رہن سہن اور دوسری سماجی و معاشرتی اقدار روایات کا ایک حسین مرقع ہیں او رساتھ ساتھ ان کہانیوں اور رومانوی داستانوں نے  مقامی زبان وبیان  کی ترویج اور تحفظ کا بھی کام  بخوبی نبھایا ہے۔ 

لیکن جب بات جدید دور کے ناول  کی ہوتی ہے تو  اردو زبان  میں   بڑی سطح کے ناولوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور یہ  بات اس وقت  زیادہ محسوس ہوتی ہے جب ہم ناول کو اس کے حقیقی  منبع   ،یعنی یورپ یا مغربی ناول کی روایت کے تناظر میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ ظاہر ہے اردو کی  پچھلے لگ بھگ     ایک سو پچاس سال   کی تاریخ میں بہت  سارے ناول لکھے گئے ہیں  اور بظاہر بہت مشہور بھی ہوئے  اور اب بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں لیکن ان میں سے کم ہی ناول ہیں جن کو عالمی سطح کی پزیرائی ملی ہو، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی  مفروضہ  عالمی  سازش کی وجہ سے ایسا ہوا  ہے بلکہ بظاہر  ایسا لگتا ہے  کہ یہ ناول کوئی ایسا انمٹ تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں  کہ عالمی سطح پر بھی ان کی اتنی پزیرائی ہو پاتی۔ حالانکہ ان میں سے بیشتر کے انگریزی زبان میں ترجمے بھی ہوئے (جس کا ذکر آئے گا)

اردو کا ایک مسئلہ تو یہ تھا کہ اس کی اٹھان جن دوسری زبانوں کی مرہون منت تھی یعنی عربی اور فارسی,ان میں بھی ابتدا میں   ناول نگاری کی کوئی توانا روایت نہیں تھی۔ اگر کوئی روایت تھی بھی  تو وہ صرف داستانوں کی شکل میں تھی۔ جس طرح عربی کے اندر الف لیلہ اور فارسی میں رستم و سہراب کے قصے۔ یوں کہانی یا قصے کی روایت تو تھی لیکن یہ روایت آگے چل کر ناول کو جنم نہ دے سکی جیسا کہ بعض مغربی محققین نے دکھایا ہےکہ کس طرح  الف لیلہ نے اٹلی  کے مشہور ناول نگار گوانی بو کیچیو کے ناول”    ڈی کیمرون ”  کی راہ ہموار کی لیکن  حیرت کی بات ہے کہ  اس طرز پر خود عربی یا فارسی زبان میں  بڑے عرصے تک پھر کوئی اور اس طرح کی بڑی تخلیق پروان نہ چڑھ سکی  )اگرچہ بیسیوں صدی میں عربی ناول نگاری کو نجیب محفوظ جیسا ناول نگار میسر آیا   جس کی وجہ سے بلاشبہ عربی ناول کو نئی اور بلند جہتیں ملی ہیں)

دوسرا  جب اردو زبان  پختہ ہونی شروع ہوتی ہے تو وہ زیادہ تر شاعری کی زبان تھی ابھی نثر  نے کافی سفر طے کرنا تھا اور اوپر سے    1857 میں جنگ آزادی یا غدر کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کی افتاد آن پڑی  اس  نوآبادیاتی تسلط کا اثر کافی گہر ا پڑا اور  اس وقت ظاہر ہے  لوگوں کو اپنی بقا کی فکر لاحق تھی اور  اس لیے ہمیں قومی وملکی  اور معاشرتی اصلا ح کی تحریکیں جابجا نظر آتی ہیں اور اسی پیرائے میں 1860 کے عشرے میں ناول نگاری بھی شروع ہوئی  جو زیادہ تر اصلاحی نوعیت  کی ہی تھی جیسے ڈپٹی نذیر احمد، مولوی کریم الدین کے   ناولوں میں نظر آتی ہے۔ اگرچہ اصلاحی ناولوں کا سلسلہ صرف اردو زبان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر زبان اور ہر خطے میں یہ صورت موجود رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ناول اور ادب کا مذہبی اور نظریاتی مقاصد کے حصول کے استعمال کا سلسلہ بھی ابھی تک جاری ہے۔جب دنیا بھر میں مارکسی اور کمیونسٹ تحریک عروج پر تھی تو ادب کو اس مقصد کے لیے بھی بھرپور استعمال کیا گیا اور خالصتا مارکسی اور کمیونسٹ نقطہ نظر سے نہ صرف ناول بلکہ ہر طرح کا ادب تخلیق کیا گیا جو کہ بہت سارے  سنجیدہ ادیبوں اور نقادوں کے نزدیک ادب کا سوئے استعمال  تھا۔اردو کے اندر بھی  ترقی پسندی تحریک عروج  کے عروج کے زمانے میں برصغیر پاک ہند میں ناول افسانے اور نظمیں خالصتا ترقی پزیر نظریات کے فروغ کے لیے تحریر کئے گئے جو وقتی طور پر تو مشہور ہوئے لیکن چونکہ  وہ ادب سے زیادہ ایک نظریاتی رنگ لیے ہوئے تھے  اس لیے آہستہ آہستہ منظر سے اوجھل ہوتے گئے۔ لیکن  یہ ساری تگ و دو بھی ناول کے عمومی ارتقا ء میں کوئی خاص  کردار  ادا نہیں کر پائی کہ ناول کی روایت اور توانا ہوتی اور آگے بڑھتی۔  ایک اور بات جو عام طور پر اردو ناول پڑھتے ہوئے محسوس ہوتی ہے کہ اردو ناول نگاروں نے  زیادہ تر انگریزی ناول نگاری کی روایت کی ہی پیروی کی کوشش کی اور باقی خطوں میں جو ناول لکھے جارہے تھے ان کی طرف توجہ کم رہی  اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوک داستانوں اور ادبی روایات کو بھی اپنے ناولوں میں برتنے کی کوشش بھی  معدودے چند افراد نے ہی کی ہے ۔ تو اس صورتحال میں جب خود انگریزی ادب میں بڑے ناولوں کے بارے میں ای ایم فورسٹر کی رائے یہ تھی تو جو  ناول اس ادبی روایت کی پیروی میں لکھے گئے ہوں ان کے مسائل کی کچھ سمجھ تو اسی سے آسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اردو  ادب میں بہت قابل قدر کاوشیں نظر آتی ہیں جن کا آگے چل کر ہم تذکرہ کرتے ہیں۔ 

ناول  قدرے جدید اور پیچیدہ  صنف  ہے اور اس کا جنم بنیادی طور پر یورپ کے صنعتی معاشرے سے ہوا اگرچہ اس سے پہلے بھی ناول لکھے گئے تھے لیکن ناول کی اصل اٹھان اٹھارہویں اور انیسیویں صدی میں سامنے آتی ہے جو کہ صنعتی دور کا بھی ایک طرح سے آغاز اور نقطہ عروج بھی کہا جاسکتا ہے  اور اس طرح ناول  نے جو صنعتی دور کے  ساتھ انسانی معاشرے اور فرد پر ہونے والے اثرات کو اپنا موضوع بنایا ۔ ایک وجہ تو یہ  شاید  یہ بھی ہے کہ ناول انھیں خطوں اور علاقوں میں زیادہ بھرپور لکھے گئے ہیں جہاں کسی بھی وجہ سے معاشرے انفرادی یا کسی اجتماعی نفسیاتی، سماجی، اخلاقی کشمکش کا شکار ہوئے۔ جہاں روایات اور اقدار کی اندرونی و بیرنی حالات کی وجہ سے بہت زیادہ شکست وریخت ہوئی تو اس کا اظہار کا   ایک ذریعہ ناول ٹھہرا۔یوں یورپ کے جن علاقوں میں ناول نےجنم لیا اور جہاں یہ روایت زیادہ پروان چڑھی  وہ اسی طرح کے معاشرے تھے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ناول، جس طرح      میلان کنڈیرا نے بتایا ہے کہ صنعتی تہذیب سے پیدا شدہ بے چینی اور بحرانوں کی دستاویز ہے جس نے ایک طرف فرد کے لیے نئے مسائل پیدا کیے اورہر قدر اور روایت کی اتنی تیزی سے تبدیلی نے کسی بھی چیز کو اپنی اصلی حالت میں نہ رہنے دیا جب لوگو ں کے پاس سوچنے سمجھنے کے مروجہ زاویے بے معنی ہونے لگے تو پھر اس کا اظہار وہاں کے ذہین لوگوں نے ناول میں کیا۔ اگرچہ شاعری، ڈرامہ اور دوسری صنفوں میں بھی اس کا استعمال ہوا لیکن جس طرح بڑے پیمانے پر ناول نے اس کو ریکارڈ کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔

لیکن یہ بھی ضرور ی نہیں کہ ناول صرف صنعتی   دور کے مسائل کا احاطہ کرتا ہے ناول کی اصل یہ ہے کہ وہ انسانی صورتحال کا ایک منفرد بیان ہے  جسمیں انسانی نفسیات ، رہن سہن،  رشتے ناطوں  کی کشمکش اور کئی اس طرح کی چیزیں موضوع بن سکتی ہیں  یعنی ناول انسان کے اندرون و بیرون کی کچھ ایسی پرتوں کو ہمارے سامنے لاتا ہے  جس کا اس طرح سے بھرپور استعمال شاید اور کسی ادبی صنف کے لیے ممکن نہ ہو۔ ضروری نہیں کہ  وہی ناول کامیاب ہو جو صرف شہری اور جدید زندگی کے مسائل کو ہی موضوع بنائے بلکہ یہ دیہی زندگی کا کوئی ایسا اچھوتا پہلو بھی  ہوسکتا ہے جو اس سے پہلے نظروں سے اوجھل رہا  ہو  آخر   گارشیا مارکیز کا ناول “تنہائی کے سو سال” بھی تو ایک چھوٹے سے قصبے کی  زندگی   کے  عام مسائل سے سروکار رکھتا ہے اور پوری کہانی عام لوگوں کے گرد گھومتی ہے مگر جس ادبی  سطح پر اس کا اظہار ہوا ہے وہ   اس کو منفرد اور ارفع بناتا ہے۔ 

اردو میں پہلا ناول جس نے ایک طرح سے اردو کے جامد ماحول میں کچھ ارتعاش پیدا کیا وہ بجا طور پر  مرزا ہادی رسوا کا ” امراؤ جان ادا” تھا۔جس کا  موضوع ایک  طوائف کی کہانی ہے   ۔ ناول میں کافی تعداد میں مکالمے ہیں جو شاید ناٹک کی روایت کی وجہ سے آئے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں کسی حدتک داستان کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ اس کے بعد  بیسیویں صدی     کے شروع کی دو تین دہائیوں میں متحدہ ہندوستان میں   اردو میں جو نمایاں نام  ناول نگاری میں نظر آتے ہیں ان میں پریم چند ، کرشن چندر اور عزیز احمد  اہم ہیں ۔  اس کے بعد  تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان میں جو لوگ ناول نگاری میں نمایاں نظر آتے ہیں ان میں بلاشبہ قرۃالعین حیدر   ہیں (اگرچہ بعد میں قرۃالعین ہندوستان چلی گئی تھیں) اور پھر اس کے بعد عبداللہ حسین، شوکت صدیقی ، ممتاز مفتی، جمیلہ ہاشمی ، انتظار حسین، اکرام اللہ، انور سجاد  ا  ور دوسرے لوگ آتے ہیں ۔ ان   مشہور ناموں کے علاوہ بھی ا   ردو میں اپنے طور پر  مختلف نئے اور پرانے  لکھنے والوں نے   ناول نگاری میں مختلف تجربات کئے  ہیں جو کسی حدتک کامیاب بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن ا مر واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک اردو  کا دامن اس طرح کے بڑے ناول سے خالی ہے جس کی طرف  ای-ایم فورسٹر اور دوسرے لوگوں نے اشارہ کیا ہے۔ تاہم    معروف ادبی روایت میں جن  ناول نگاروں کو  عام طور پر اردو میں بڑا ناول نگار سمجھا جاتا ہے  وہ قرہ العین حیدر اور عبداللہ حسین  ہیں اور  اس میں قرہ العین حیدر کے ناول “آگ کا دریا “اور عبداللہ حسین کے ناول” اداس نسلیں”  کو  اردو کے بڑے ناول شمارکیا جاتا ہے۔ جب ہم بڑے ناولوں کی بات کرتے ہیں تو اس کا تعلق ضخامت سے نہیں ناول کی بڑی ادبی حیثیت سے ہوتا ہے ظاہر ہے ضخامت کے لحاظ سے  تو اردو میں کافی ناول لکھے گئے ہیں جو کافی ضخیم ہیں   ۔ 

اگر ان دوناولوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے اندر بڑے ناول بننے کے تمام تر پہلو موجودہیں لیکن اس کے باوجود یہ  ناول  عالمی سطح   پہ  وہ پزیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کسی بھی بڑے ناول کا خاصہ ہوتا ہے۔حالانکہ دنوں ناولوں کا خود مصنفین نے انگریز ی میں ترجمہ بھی کیا۔   بلاشبہ برصغیر پاک وہند کی حدتک ان ناولوں کو پزیرائی بھی ملی لیکن ان ناولوں کے ساتھ بھی وہی تکنیکی اور تخلیقی مسائل پیش آئے جن کا سامنا اردو کے دوسرے ناول نگار کرتے چلے آئے ہیں۔   

قرہ العین بلاشبہ ایک بڑی لکھاری تھیں۔اور آگ کا دریا اردو ادب میں ایک طرح سے بڑے پیمانے کے ناول کی ایک بڑی کاوش تھی۔  لیکن انھوں نے جس  موضوع  کا نتخاب کیا  وہ  شاید   زیادہ فنی مہارت کا تقاضا کرتا تھا   ۔ دوسری طرف   قرۃ العین نے  ناول کے شروع میں ہندوستان کی قدیم تاریخ سے  گوتم  کے  کردار کا انتخاب کیا  جس سےملتا جلتا   کردار  ہرمین ہیسے جیسا بڑا ناول نگار اپنے شہرہ آفاق ناول “سدھارتھا” میں پہلے ہی ایک بڑی سطح پر استعمال کرچکا تھا۔یعنی وہی دریا کے استعارے، اور قدیم ہندوستان  کی دانش کی جھلکیاں وغیرہ۔   اسی طرح ناول میں  فلسفیانہ مباحثے  جا بجا بکھرے پڑے ہیں جو کہ ناول کی مجموعی  دلچسپی کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں  جبکہ ناول کی دلچسپی کو  بہت سارے نقا د بعض اوقات  اہم اور کلیدی عنصر قرار دیتےہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  ناول میں  سنسکرت اور قدیم ہندوستان سے بہت ساری اصطلاحات کا   بے محابا استعمال ہے جو  اردو کے عام قاری کے لیے ناول کو پڑھنا کافی مشکل بنا  دیتا ہے ۔حالانکہ قرۃ العین  ایک ذہین لکھاری تھیں اور   قرۃ العین کے   کئی افسانے اور دوسرے ناول بہت کمال کے بھی ہیں  خاص کرکے” نظارہ درمیاں ہے” جیسے افسانے قرۃ العین کی فن کارانہ مہارت کا ثبوت ہیں لیکن  آگ کا دریا میں کردار نگاری تو کمزور ہے ہی اور  بھی بہت سارے مسائل ہیں جو ناول کے مجموعی تاثر کو مجروح کرتے ہیں اور قاری کئی غیر ضروری چیزوں میں کھو جاتا ہے ۔ اسی طرح   ناول میں کئی مقامات پر طویل مذہبی اور نظریاتی بحثییں ہیں، اسلامی تاریخ  کی مسلکی اور فرقہ وارانہ چشمک سے  لے کر دو قومی نظرے  تک ہر  موضوع پر کچھ نہ کچھ مواد موجود ہے۔ اس طرح کی چیزیں ناول میں آسکتی ہیں لیکن اگر انھیں صرف اسی انداز میں پیش کردیا جائے جس طرح تاریخ یا دوسری سماجی علوم کی کتابوں میں لکھی گئی ہیں تو  یہ ناول کی مجموعی دلچسپی کو متاثر کرتی ہیں۔  ان تمام تفصیلات کو پڑھتے ہوئے  کئی دفعہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ  قرۃ العین حیدر   ان تمام چیزوں کو بیان کرتےہوئے فن کار سے زیادہ ایک سکالر اور تاریخ دان کا روپ دھار لیتی ہیں ۔  اسی حوالے سے  ناول کے شائع ہونے کے فوری بعداردو  کے مشہور شاعر اور ادیب  ن م راشد نے ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ  آگ کا دریا اپنی تمام تر پہنائی کے باوجود  ہندوستان کے ایک خاص طبقے ، یعنی یو پی کے مسلمانوں کا المیہ ہے یعنی ایک طرف وہ آئیڈیلزم ہے جو الگ قومیت کے خواب دکھاتا ہے اور دوسری طرف متحدہ ہندوستان کے  قصے ہیں جو اس کا دامن  اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ ن م  راشد نے بھی ناول میں   طویل فلسفیانہ مکالموں کو ناول کی مجموعی فضا کو بوجھل بنانے سے تعبیر کیا ۔ ناول  میں مختلف شہروں اور بازاروں کی  منظر نگاری پر تبصرہ کرتے ہوئے ن م راشد نے ایک اہم بات یہ بھی کی  کہ   قر ۃالعین نے ناول میں مختلف شہروں، مقامات اور بازاروں کی منظرنگاری میں تاثریت سے زیادہ عکاسی سے کام لیا ہے  جو اکتاہٹ کا باعث بنتا   ہے۔ آخر میں   ن م راشد نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ  باوجود عمدہ  تکنیکس  کے استعمال کے  انھیں یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں  بعد میں یہ ناول  صرف تاریخی دستاویز ہی بن کر نہ رہ جائے۔مشہور تنقید نگار  وارث علوی  نے  قرۃ العین کی کردار نگاری کے بارے میں لکھا تھا   کہ  قرۃ  العین کی کردار نگاری بہت کمزور ہے۔آپ کسی کردار کے ساتھ اپنے آپ کو شناخت نہیں کر پاتے کیونکہ اس کی   اپنے کرداروں اور عمومی انسانی نفسیات پر گرفت بہت کمزور ہے۔ اور اس بات کا اعتراف   بعد میں خود قرۃ العین نے بھی کیا تھا کہ  جہاں تک  انسان   کا تعلق ہے تو وہ اسے بہت زیادہ نہیں سمجھ پائی ہیں۔ مشہور شاعر اور تنقید نگار باقر مہدی نے قرۃ العین حیدرکے حوالے سے لکھا تھا کہ قرۃ العین  حیدرکے پاس علم، صلاحیت اور  ہنر     ہے مگر ان کے اندر ” تخلیقی آگ” غائب ہے۔ 

لیکن اس سب کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو ناول نگاری  کی روایت میں  “آگ کا دریا” ایک بڑی کاوش تھی کیونکہ  اردو  میں اس سے پہلے اس طرح کا ناول نہیں لکھا گیا  اسی لیے تنقید نگار   مجتبی حسین   نے ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا تھا کہ   “آگ کا دریا ”  اگر ناول کے طور پر ناکام بھی ہے تو یہ ناکامی  ایک بڑی عظمت کی حامل ہے  کیونکہ یہ ایک بڑی پیمانے کی کوشش ہے جو کامیابی اور ناکامی سے بلند ہے۔ یہ میرا خیال ہے ناول پر  ایک بڑا مبسوط تبصرہ ہے  اس کےبعد اس پرمزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

عبداللہ حسین کے” اداس نسلیں” کو  عام طور  اردو میں دوسرا بڑا  ا ناول سمجھا جاتا ہے۔اداس نسلیں 1964  میں شائع ہوا اور یہ عبداللہ حسین کا پہلا ناول تھا۔   عبداللہ حسین نے “اداس نسلیں “کے لیے  سیاسی و تاریخی موضوع  کا انتخاب کیا اور وہ بھی ہندوستان پاکستان کی سیاسی تاریخ جس کا آغاز   1913 یعنی جنگ عظیم اول کے آس پاس  سے ہوتا ہے اور پھر قیام پاکستان  تک کے تمام اہم واقعات اور شخصیات کسی نہ کسی طرح ناول کا حصہ بنتی ہیں ۔ چونکہ یہ ناول  آگ کے  دریا کے کچھ عرصہ بعد ہی شائع ہواتھا تو  لا محالہ اس کا موازنہ آگ کے دریا کے ساتھ کیا جاتا رہا۔ اور  ابتدائی تبصرہ نگاروں نے  جیسے  محمد خالد اختر وغیر ہ نے یہ بھی لکھا کہ “اداس نسلیں ” میں کئی مکالمے اور تفصیلات  قرۃ العین کے ناول” میرے بھی صنم خانے” سے ماخوذ ہیں ۔ شاید یہ بات درست بھی رہی ہو  کیونکہ ہر ادیب شروع میں تو کسی نہ کسی سے متاثر ہوتا ہی ہے اور بعض اوقات لاشعوری طور پر وہ اسلوب بھی کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ممکن ہے عبداللہ حسین کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہو۔ لیکن اس کے علاوہ بھی “اداس نسلیں میں بہت سارے مسائل ہیں ۔ جیسے    اس میں  عبداللہ حسین نے  اتنی زیادہ سیاسی اور دوسری غیر ضروری  تفصیلات ڈال دی ہیں جو کوئی بہت اچھا تاثر نہیں چھوڑتیں اور  جن کی چنداں ضرورت نہیں تھی ۔ ناول پر لکھنے والے  ابتدائی تنقید نگاروں ڈاکٹرعبدالسلام  اور احسن فارقی  صاحب نے اس  طرف پہلے ہی   اشارہ کردیا تھا  کہ  “اداس نسلیں” میں  سیاسی واقعات اور سیاسی شخصیات کا  ذکر   ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان واقعات اور شخصیات  کو ناول میں زبردستی داخل کیا گیا ہے اور ایک پیوند سا لگا محسوس ہوتا ہے وغیرہ۔ ویسے بھی جس طرح ناول کے بارے میں اعلی ٰ تنقید کار یا اصول طے کر چکے ہیں کہ کوئی بھی ناول اگر ناول کے معیار، آرٹ یا فارم میں کمزور ہے تو سیاسی اور تاریخی واقعات یا شخصیات  اس کو کوئی سہارا نہیں دے سکتے کیونکہ لوگ ناول کو تاریخی یا سیاسی واقعات سے آگاہی کے لیے نہیں پڑھتے بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی، سماجی یا تاریخی تناظر کا فن کارانہ استعمال کس طرح سے کیا گیا ہے اور انسانی صورتحال (Human condition) کی عکاسی کیسے کی گئی ہے  کیونکہ تاریخ  سے آگاہی کے لیے لوگ تاریخ دانوں کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے ناول کے لوازمات اور ضروریات اور طرح کی ہوتی ہیں جن کا تعلق   اعلی  جمالیاتی اور اخلاقی اقدار کے ساتھ ہے۔ اسی لیے  میلان کنڈیرا نے  جرمن ناول و نگار ہرمن بروش کے حوالے سے لکھا ہے کہ  ناول کی واحد اخلاقی  قدر   انسانی  زندگی  کی کسی ایسی  نئی سچائی  کو آشکار کرنا ہے جو اس سے پہلے ہمارے علم میں نہ ہو۔( لگ بھگ یہی بات ڈی ایچ لارنس  نے بھی کہی تھی )   یعنی جو ناول زندگی کے کسی انجانے گوشے کو بے نقاب کرنے میں  کامیاب نہیں ہوتا ، و ہ اخلاقی طور پر ناکام اور بے معنی ہے۔  خود قرۃ العین نے ” اداس نسلیں” کے بارے میں ایک خط میں ناول کے اشاعتی ادارے کے سربراہ ریاض احمد کو لکھا  تھا کہ  “میں نے ناول اس لحاظ سے زیادہ پڑھا کہ اس کو آپ نے دنیا کے عظیم ترین ادب کے مقابلے میں پیش کیا ہے۔ اور اس بات کو ایک طرح کا تشہیری سٹنٹ یعنی    Publicity gimmick  قراردیتے ہوئے  کہا کہ یہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد جن لوگوں کو دنیا کے عظیم ادب سے تھوڑی بہت بھی واقفیت ہے ان کے لیے بڑی مشکل پیدا ہو جاتی ہے”۔

وی ایس نیپال نے فلابئر  کے ناول کے اسلوب  پر لکھے گئے ایک خوبصورت مضمون  میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اکثر اوقات ناول کا موضوع اسلوب پر  اثر انداز ہوسکتا ہے جیسے فلابئر کا ناول ” سلامبو ”  ایک قدیم  تاریخی    جنگی داستان کے تناظر میں لکھا گیا ہے تو  سلامبو کے  اسلوب اور فلابیئر کے دوسرے ناولوں خاص کر “مادام بواری” کے اسلوب میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اسی لیے سلامبو کو ہرکوئی اس  دلچسپی اور رغبت سے نہیں پڑھ سکتا    جس طرح “مادام بواری” کو پڑھا  اور سمجھا جاتا ہے کیونکہ وی ایس نیپال نے بہت اہم نشاندہی کی ہے کہ سلامبو  جس تاریخی تناظر میں لکھا گیا   وہ قدیم دور کی داستان ہے جس سے فلابیئر کی واقفیت صرف تاریخی حوالوں سے ہی تھی اور وہ جس دنیا کی کہانی ہے اس کے تقاضوں کو نبھانا ایک جدید لکھاری کے لیے اتنا آسان نہیں ہے  یہی کچھ آگ کا دریا میں قرۃالعین کا مسئلہ ہے کہ اس نے ناول میں دو تین ہزار سال پہلے کے ہندوستان کی تصویر کشی کی کوشش کی ہے جو اگرچہ کافی حدتک کامیاب بھی ہے لیکن بالآخر  وہ بھی اسی محدودیت کا شکار ہوتی ہے جس کی طرف  وی ایس نیپال نے فلابیر کے حوالے سے اشارہ کیا ہے۔ یہی صورت حال  ایک حوالے سے  عبداللہ حسین کے ” اداس نسلیں” کے ساتھ بھی پیش آتی ہے کہ وہ ناول کی اٹھان متحدہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ سے کرتے ہیں جو اگرچہ بہت دور کی بات نہیں ہے لیکن تاریخ اور سیاست کو جب ناول کاحصہ بنایاجاتا ہے تو اس کو بھی نبھانا اتنا آسان نہیں رہتا او راسی لیے  اردو کے  تقرییآ     تمام معتبر نقادوں نے ” اداس نسلیں  “میں سیاسی اور تاریخی واقعات کو پیوند سے تعبیر کیا ہے جو ناول کی مجموعی فضا  کو  بہت مصنوعی اور  بوجھل بنا دیتے ہیں۔

“اداس نسلیں “عبداللہ حسین کا   پہلا ناول تھا اس لیے اس طرح کی فنی  مسائل اس میں نظر آتےہیں لیکن بعد کے ناولوں اور افسانوں  میں انھوں  نے  کافی حد تک قابو پایا اور” نشیب “کے اندر جو افسانے اور مختصر ناول ہیں وہ فنی لحاظ سے نسبتا  زیادہ  بھرپور اور مکمل نظرآتے   ہیں اس کی ایک وجہ جس  کی طرف دوسرے  تنقید نگاروں نے بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ یہ ہے کہ نشیب میں جو افسانے ہیں اس میں جو موضوعات ہیں (  یعنی ہجرت، دیار غیر  میں رہنے کا تجربہ وغیرہ  )ان کا عبداللہ حسین کو براہ راست تجربہ تھا جبکہ “اداس نسلیں”  ایک تو عبداللہ حسین کا پہلا ناول تھا اور پھر عبداللہ حسین نے  جس  تاریخی موضوع   کا انتخاب کیا   اس کے لیے  شاید جو  فن کارانہ مہارت درکار تھی وہ ابھی پختہ نہیں تھی اس لیے وہاں  کئی سیاسی اور دوسرے  واقعات کا تذکرہ اکثر مصنوعی رنگ اختیار کر لیتا ہے اور زبان بھی کمزور ہے جبکہ نشیب  کے افسانوں اور ناولوں کی زبان، بیان، منظر نگاری اور کردار نگاری زیادہ پختہ  اور  کچھ حد تک ناولوں کے معیار پر پوری اترتی نظر آتی ہے اور قاری پڑھتے ہوئے زیادہ بوجھل محسوس نہیں کرتا۔

پھر ایک اور چیز جو ان دو ناولوں (آگ کا دریا اور اداس نسلیں)  میں مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں ناولوں کو خود مصنفین نے ہی انگریزی میں ترجمہ کیا اور یہ ناول کسی اور ذہین قاری کو اس سطح پر متاثر نہ کر پائے کہ وہ  ان ناولوں کو انگریزی  یا کسی دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کے بارے میں سوچتا ۔حالانکہ    عالمی ادب کے بہت سے مشہور ناولوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں ۔ اور ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ کئی بار  ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھی دوسری زبان  کے کسی اچھے ناول کو پڑھتے ہوئے  ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس کو اردو میں ترجمہ کرنا چاہیے لیکن یہ ناول بہت عرصہ زیر اشاعت رہے لیکن   ترجمے کے لیے خود مصنفین کو ہی بیڑہ اٹھانا پڑا اور کوئی اور ایسا ذہین قاری یا مترجم میسر نہ آسکا جو ان ناولوں کو انگریزی یا کسی دوسری زبان میں منتقل کرتا۔  اور جیسا کہ کچھ ناقدین نے پہلے ہی اس طرف اشارہ کیا تھا کہ  قرۃالعین  کو خود بھی ناول کے اندر کچھ مسائل کا احساس تھا اس لیے   ناول کا انگریزی میں ترجمہ کرتے ہوئے قرۃ العین نے  اردو کے اصل  متن سے  بہت ساری چیزوں کو یا تو چھوڑ دیا      یا کافی حدتک تبدیل کردیا – اور تقریباٰ  یہی کچھ عبداللہ حسین نے بھی کیا۔ 

اردو میں بڑے پائے کے ناول نہ ہونے کی کچھ وجوہات  پر   یوسف  سرمست نے اپنی کتاب “اردو ناول بیسیویں صدی میں”  میں  روشنی ڈالی ہے  جس میں  برصغیر پاک وہند  میں عمومی   علمی   وفکری صورتحال   کے فقدان سے لے کر ادییوں کے  معاشی مسائل کو بھی ایک وجہ قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ  یوسف سرمست نے ایک اور طرف بھی اشارہ کیا ہے جو شاید زیادہ قرین قیاس ہے کہ اردو کے ناول نگار عام طور پر اپنے ناولوں   پر وہ محنت نہیں کرپاتے جس طرح کی سنجیدہ محنت ٹالسٹائی، فلابئیر،  بالزک، پروست اور دوسرے بڑے ناول نگاروں کے ہاں نظر آتی ہے ۔فلابیئر تو اپنے ناولوں پر مسلسل محنت کرتا رہتا تھا اور کئی سال لگتے تھے تب بھی وہ مطمئن نہیں ہوتا تھا اسی طرح ٹالسٹائی نے “امن اور جنگ” جیسے طویل ناول کو سات، آٹھ مرتبہ لکھا  اور اس میں کئی بار تبدیلی کی ۔ اس کے برعکس اردو میں اس حوالے سے محنت ومشقت کا عمومی فقدان نظر آتا ہے اور عام طور پر یوں لگتا ہے کہ ناول نگاروں کے ذہن میں جو کچھ آتا ہے لکھ دیتے ہیں اور   ایک بار لکھنے کے بعد  اپنے مسودے پر نظرثانی   کی ضرورت نہیں سمجھتے  اور شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سارے اردو ناولوں میں کئی  بار غیر ضروری تفصیلات کی بھرمار نظر آتی ہے۔ حالانکہ اس  طرح کی چیزوں سے باآسانی بچا جاسکتا ہے اور جو ناول نگار اس پر توجہ دیتے  ہیں  وہ ناولوں میں نظر بھی آتا ہے۔ 

اس  کے ساتھ ساتھ    نوآبادیاتی تسلط  نے بھی مجموعی علمی و ادبی  فضا کو متاثر کیا اور اس کے زیر اثر  مقامی زبان وثقافت اور ادب کے حوالے سے  جو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک احساس کمتری  پروان چڑھا اس نے بھی ادب وفن کی مقامی روایت کو گہنا دیا۔ اسی حوالے سے کچھ علمی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ  نو آبادیاتی تسلط کے ساتھ  ساتھ  برصغیر میں  سیاسی اور سماجی کنٹرول کی   طویل تاریخ نے بھی شاید اپنا اثر دکھایا ہے  جس نے  ایک عمومی فرماں برداری اور اطاعت کی  ثقافت کو جنم دیا اور بڑی سطح کی کسی چیز کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔  اس دوطرفہ  تسلط نے  شاید مجموعی علمی وفکری فضا کو بہت متاثر کیا جس  کی وجہ سے     وہ آزادانہ فضا میسر نہیں  آسکی جو بڑے ادب کی تخلیق کے لیے ایک اہم عنصر ہے   ۔         

شاید اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات رہی ہوں  لیکن یہ وہ   تمام وجوہات ہیں جو ابھی تک  اردو میں  میں کسی بڑے  ناول  کےظہور پزیر ہونے میں رکاوٹ ہیں اور اردو کو  ابھی تک ایک ایسے  خلاق اور ذہین ناول نگار کا ضرور انتظار ہے جو زبان وبیان کے  فنی محاسن کے  بھرپور استعمال کے ساتھ ساتھ ناول کی دوسری جمالیات  کی بھی عکاسی کرسکے اور  جو اردو ناول کو اس بڑے اور کڑے معیار تک لے جائے کہ  عالمی سطح  پر بھی  ان  کا اعتراف ہو۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اردو میں بڑا ناول لکھنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ وجہ شاید یہ ہے کہ جو کچھ ناول نگاروں  کے ذہن میں آتا ہے وہ لکھ دیتے ہیں  اور اس پر مزید محنت نہیں کر پاتے  زبان وبیان کو مزید نکھار نہیں دیتے وغیرہ۔اور ناول کے جو اعلیٰ ترین اسلوب ہیں ان کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر صورت پیروی مغربی ہی کی جائے، اپنی زمین اپنی زبان اپنی روایت کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک اعلیٰ تخلیق کار ایک شاہکار تخلیق کر سکتا ہے۔  مگر پھر وہی بات آتی ہے کہ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔

لیکن  اس سب کے باوجود پرانے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ  بہت سارے نئے لکھنے والے بھی    اپنے اپنے قابل قدر تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں اور  پاکستان اور  ہندوستان دونوں اطراف حالیہ دور میں بھی  ایسے ناول لکھے گئے ہیں  جو اردو ناول نگاری کی روایت کو  مزید تقویت بخشتے نظر آتے ہیں اگرچہ  ابھی اس حوالے سے کافی سفر طے کرنا باقی ہے۔ نئے لکھنے والوں میں ہندوستان میں انیس اشفاق اور خالد جاوید نے کافی اچھے تجربات  کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ پاکستان میں   نئے لکھنے والوں میں سید کاشف رضا، علی اکبر ناطق ، زیف سید اور رفاقت حیات نمایاں نام ہیں       ۔ جبکہ اس کے  ساتھ ساتھ مرزا اطہر بیگ صاحب نے بھی بلیک کامیڈی کی روایت کے تحت ناول لکھے ہیں ۔  اگر ان تمام ناولوں کا جائزہ لیا جائے تو اگرچہ یہ اپنی جگہ پر قابل قدر کاوشیں ہیں لیکن ان ناولوں کا اسلوب اور موضوعات بھی زیادہ تر روایتی اردو ناول نگاری  کی  روایت  کی ہی پیروی کرتے نظرآتے ہیں  اور ان میں سے کئی ناول باوجود ابتدائی اچھی اٹھان کے آگے چل کر اپنا نیا پن کھونے لگتے ہیں۔

انیس اشفاق ایک اچھے نقاد اور ادیب ہیں  اور انھوں نے دکھیارے اور خواب سراب میں اچھے تجربات بھی کیے ہیں۔دکھیارے ایک  آپ بیتی کے انداز میں لکھا گیا ناول ہے جس میں عام آدمی کی زندگی کے دکھ نظر آتے ہیں  اور پھر ناول آگے چل کر لکھنئو کی تہذیب کا نوحہ بھی بن جاتا ہے۔ جبکہ خواب سراب ایک طرح کی جدید “امراؤ جان ادا” کی کہانی ہے   ۔

خالد جاوید کے ناول “نعمت خانہ” کو کئی  تنقید نگاروں نے جادوئی حقیقت نگاری کا ناول  بھی قرار دیا ہے   اگرچہ اس میں کافی علامتی رنگ بھی موجود ہے ۔ خالد جاوید  چونکہ فلسفے پر گہری نطر رکھتے ہیں اس لیے ناول میں   اکثر جگہوں پر فلسفیانہ رنگ بھی غالب نظر آتا ہے۔ بہرحال  اردو میں اسے ایک نیا تجربہ اور  اچھی کاوش قرار دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان  میں  اردو ناول کی روایت میں  ایک  اہم ناول ڈاکٹر ارشد وحید کا “گمان” ہے جو 1995 کے آس پاس شائع ہوا  اور اس وقت ادبی حلقوں میں  اس کی پزیرائی بھی ہوئی لیکن  پھرشاید   ” گمان” بھی  وقت کے گرداب میں کہیں دب گیا حالانکہ اردو  ناول کی روایت میں اس طرح کے ناول کم ہی لکھے گئے ہیں جہاں  انسان کی اپنے ماحول سے بے گانگی  ، لاتعلقی اور دوسرے وجودی بحرانوں  کو اس سطح پر موضوع بنایا گیا ہو۔  یہ ناول ایک طرح سے  پاکستان کی تاریخ کے ان پہلوؤں کی  ادبی   دستاویز ہے  جن کو ہم سامنے ہوتے ہوئے بھی اس نظر سے نہیں دیکھ پاتے۔ اس میں 80-1970 کی دہائی کی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی و نظریاتی کشمکش بھی نظر آتی ہے لیکن   اس سب کے باوجود “گمان” کا   مجموعی اسلوب ناول کا ہی رہتا ہے  یعنی ایک خاص سیاسی وسماجی اور  تاریخی   پس منظرمیں انسانی صورتحال کی عکاسی۔ اور یہ عکاسی گمان میں جابجا نظر آتی ہے جو اس ناول کو بہت حوالوں سے منفرد بناتی ہے۔  ناول کے مرکزی کردار کبیر کی  ایک جامد  سیاسی اور سماجی ماحول میں      نفسیاتی و جذباتی  کشمکش  کا جو نقشہ اور اسلوب” گمان “میں  دکھائی دیتا ہے   وہ اس کا ہی خاصہ معلوم ہوتا ہے  اورحیرت انگیز طور پرآج کے مجموعی حالات کی جھلک بھی اس ناول میں بخوبی  محسوس کی جاسکتی ہے۔   

پاکستان میں نئے لکھنے والوں میں  رفاقت حیا ت اچھے لکھنے والوں میں سے ہیں۔ رفاقت حیات نے  اپنے  قدرے طویل ناول ” رولاک”   کے ذریعے   اردو ناول میں ایک ارتعاش پیدا کیا ہے۔  رولاک کی ابتدا جس انداز اور اسلوب سے ہوتی ہے وہ بہت  پختہ ادبی روایت کی نشاندہی کرتی ہے اور ابتدائی صفحات میں یوں لگتا ہے کہ ہم ایک بڑے فن پارے کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن کچھ دور جانے کے بعد رولاک کے ساتھ بھی وہی فنی  مسائل شروع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اردو ادب  ناول کے میدان میں ابھی تک کسی بڑے شاہسوار کی راہ دیکھ رہا ہے۔ رفاقت حیات اگر اپنے  ابتدائی صفحات میں  اختیار کیے گیے   اسلوب کو برقرار رکھ پاتے تو یقننا  “رولا ک ” اردو میں ایک قابل قدر اضافہ ہوتا لیکن وہ بھی کچھ دور چلنے کے بعد ہانپنے لگتے ہیں اور  دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک ایسے  عامیانہ  اسلوب    کو اختیار کرتے ہیں  جو ناول کی اٹھان کو اپنے ابتدائی معیار سے گرا دیتا ہے۔ پھر رولاک کا مسئلہ بھی وہی غیر ضروری طوالت ہے حالانکہ اس کو بھی بہ آسانی  دوتین سو صفحات  میں سمیٹا جاسکتا تھا وغیرہ۔

ایک اور نمایاں نام علی اکبر ناطق کا ہے۔ علی اکبر ناطق نے اپنے افسانے کی کتاب، قائم دین کی اشاعت سے ادبی حلقوںمیں ہلچل پیدا کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ناطق  کی شاعری کو بھی کافی پزیرائی ملی۔ اس کے بعد ناطق نے ناول کی وادی پرخار میں قدم رکھا اور ا پنے پہلے ناول “نولکھی کوٹھی” کے ساتھ وارد ہوئے۔۔اس  ناول میں علی اکبر ناطق نے بھی پنجاب میں انگریز راج  کے  نوآبادیاتی دور کو موضوع بنایا ہے۔ ناطق کے اندر ایک پیدائشی فن کار چھپا ہوا ہے اور وہ بات کرنے کا فن بھی جانتے ہیں اور ان کے کئی   افسانے ان کے فن کی پختگی کی عمدہ مثال ہیں۔ نولکھی کوٹھی میں بھی ناطق نے  ناول کے کچھ حصوں  میں اپنے فن کا بھرپور  استعمال  بھی کیا ہے  ۔ لیکن آگے چل کر ناطق کا قلم بھی  ادب کے لطیف پیرائے کو چھوڑ کر ایک ایسے عوامی اسلوب  کی طرف چل پڑتا ہے  جو ناول کی مجموعی فضا کو اپنے معیار سے گرا دیتا ہے۔ اگرچہ ناطق کے اندر کہانی کہنے کا فن ہے  جو ناول کو بہرحال دلچسپ ضرور بناتا ہے  لیکن وہ بھی جو ذہن میں آتا ہے لکھ دیتے ہیں اور اس کے بعد اس پر نظرثانی  کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ یہ اردو کے اکثر  ناول نگاروں کا ایک المیہ رہا ہے کہ ان کے اندر کسی بھی بات کو لطیف پیرائے    یا  ا سلوب  میں بیان کرنے  کا   فقدان ہے  وہ ہر بات کی تفصیل  قاری تک پہنچانا چاہتے ہیں  جیسے یہ ناول نہیں بلکہ بہت ساری غیر ضروری تفصیلات کی کھتونی ہو  اور اس طرح  وہ قاری    کے  تخیل کے  لیے کوئی چیز نہیں چھوڑتے۔

اردو ناول نگاری میں ایک اور قابل ذکر اضافہ مشہور ادیب ، نقاد اور صحافی  ، زیف سید کا” گل مینہ”  ہے ۔ زیف سید نے گل مینہ میں آرٹ اور کرافٹ کا بہت اچھا استعمال  کیا ہے۔  زیف سید بنیادی طور پر ایک سکالر اور مؤرخ  کا پختہ ذہن رکھتےہیں اور ادب، تاریخ اور تنقید نگاری کے حوالے سے ان کے مضامین بہت اہمیت کے حامل ہوتےہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ایک فن کار بھی چھپا ہوا ہے اگرچہ   جس طرح  تنقید نگار وارث علوی نے اردو کے مشہور  ناول نگار اور ادیب  عزیز احمد کے بارے میں   لکھا تھا  کہ  ان میں سکالر اور فن کار کی کشمکش رہتی تھی یہی کچھ زیف سید  کے بارے میں بھی کہا  جاسکتا  ہے کیونکہ وہ  بھی بیک وقت کئی علمی ادبی محاذوں پر سرگرم  رہتے ہیں اور ان کے اندر بھی  فن کار اور سکا لر کی کشمکش محسوس کی جاسکتی ہے ۔لیکن  زیف سید بہرحال  بات کہنے کا فن جانتےہیں  اور شاید اسی لیے  ان کے ناولوں میں  وہ عمومی جھول نظر نہیں آتے جو اردو کے دوسرے ناول نگاروں کے ہاں نظر آتے ہیں پھر چونکہ وہ شعبہ صحافت سے بھی وابستہ ہیں تو اپنی تحریروں کی اچھی طرح کانٹ چھانٹ کرتے ہیں اور اتنی ہی بات کرتےہیں جتنی ضروری ہوتی ہے۔ گل مینہ بھی ایک بہت عمدہ کاوش ہے اور چونکہ  قبائلی علاقوں کی  تاریخ اور  حالیہ دور کے بہت سارے مسائل کا احاطہ کرتی ہے جو ہمارے سامنے وقوع پزیر ہوئے ہیں تو ابھی اس کی ادبی حیثیت کا تعین شاید نہ ہوسکے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ آج سے کچھ عرصہ بعد یہ ناول اس طرح کے حالات پر ایک اہم تاریخی ناول بن جائے کیونکہ  اس کاکرافٹ  کافی  توانا  ہے۔ 

سید کاشف رضا  اپنے ناول “ایک کچھوا اور چار درویش” کے ذریعے  ناول کی دنیا میں وارد ہوئے اور ناول میں کچھ نئے تجربات بھی کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاشف رضا  شاعر اور صحافی  بھی ہیں تو دونوں شعبوں کا کچھ نہ کچھ اثر ناول پر بھی موجود ہے۔ اگرچہ کاشف رضا    نے اپنے تئیں کچھ نیا پن لانے کی کوشش کی ہے ناول کی اٹھان بھی اچھی ہے  لیکن  بدقسمتی سے وہ بھی  کئی جگہوں پر  ناول کے  اعلیٰ ادبی معیار کو  قائم نہیں رکھ پائے ہیں  اور ناول بہت ساری چیزوں کا ملغوبہ بن کر رہ گیا ہے جس میں سیاست، سماج، جنس اور  بہت کچھ ہے لیکن اکثر جگہوں پر انداز بیان بہت عامیانہ  محسوس ہوتا ہے۔ ناول  میں جنس اور  طنز  کا استعمال  دودھاری تلوار پر چلنے کے مترادف ہے اور  اسی لیے  کئی جگہوں پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ کاشف رضا اس  میں کئی بار لڑکھٹرائے ہیں   اور توازن قائم نہیں رکھ پائے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ   ناول میں کہانی او ر جاندار کردار نگاری  غائب ہے اور کوئی کردار ایسا نہیں ہے جو یاد رہ جانے والا ہو ۔

اس کے علاوہ  ناول نگاری میں کچھ نئے تجربات مرزا اطہر بیگ صاحب  نے بھی کیے ہیں۔ مرزا اطہر بیگ ایک کہنہ مشق لکھاری ہیں ۔ ان کے ناول ” غلام باغ ” کا کچھ عرصہ کافی چرچا رہا لیکن آ ہستہ آہستہ وہ بھی  ادبی منظر سے غائب ہوگیا۔ غلام باغ بھی ایک ضخیم ناول ہے اور اس میں مرز اطہر بیگ نے  بلیک کامیڈی  کی تکنکیک  کےا ستعمال  کی کوشش کی ہے لیکن ناول   اس حوالے سے کوئی دیرپا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے کیونکہ  یہ بھی غیر ضروری طوالت کا شکار ہوتا ہے اور کئی  فلسفیانہ، سماجی اور دوسرے مباحث ناول کو بوجھل کردیتےہیں۔   اگرچہ بیگ صاحب کی یہ کاوش اپنی جگہ ضرور اہم ہے  لیکن  ابھی تک” غلام باغ”    بلیک کامیڈی کی توانا روایت کے مقابل کافی پیچھے کھڑا ہے۔ 

تاہم اس سب کے باوجود  اردو ادب  کی ناول نگاری کی روایت میں  کچھ ایسے ناولوں کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی جن کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ  بڑے ناول کے اوصاف رکھتے ہیں بلکہ  بہت حدتک وہ ناول نگاری کے   اعلٰی  تقاضوں کو نبھاتے  بھی نظر آتے ہیں اور جن کے بارے میں اردو کے معتبر نقادوں کی رائے بھی بہت مثبت اور حوصلہ افزا رہی ہے۔   ان میں بیسیویں صدی میں پریم چند کا ناول” گئو دان” ہے جو  بنیادی طور پر ایک سادہ لوح  دیہاتی  کسان  کی کہانی ہے اور جس انداز سے دیہی زندگی اور دیہقانی نفسیات کو پریم چند نے بیان کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ناول پہلے صفحے سے  ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔ اردو کے بہت سے معتبر نقادوں کی رائے بھی یہی ہے کہ اگر پریم چند ناول کو دیہی زندگی کی   کردار نگاری اور منظر نگاری تک محدود  رکھتے تو یہ بلاشبہ ایک بڑا ناول تھا لیکن آگے چل کر نظریاتی اور فلسفیانہ مباحث ناول کو اپنے مرکز سے ہٹا دیتے ہیں اور یوں ناول ایک بڑے ناول کے معیار سے کچھ قدم پیچھے رہ جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اس کا ابتدائی حصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے اندر بلاشبہ   ایک بڑا ناول بننے کی خوبیاں موجود ہیں۔

اس کے بعد حالیہ دور میں   انڈیا سے تعلق رکھنے والے ناول نگار سید محمد اشرف بجا طور پر ایک بڑے ناول نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں اور ان کے دونوں ناول یعنی “نمبردار کا نیلا” اور “آخری سواریاں” آرٹ اور کرافٹ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ نمبردار کا نیلا سید محمد اشرف کا پہلا ناول ہے جو 1997 میں شائع ہوا اور ایک تمثیلی کہانی ہے۔ جبکہ آخری سواریاں 2016 میں شائع ہوا۔ “آخری سواریاں “میں سید محمد اشرف کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے اور اس ناول کو  ایک طرح سے اردو ناول کی روایت کی  مزید  پختگی کا علمبردار ناول کہا جاسکتا ہے جو آرٹ اور کرافٹ دونوں سطحوں پر ناول کے اعلی معیار کو چھوتا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ سید محمد اشرف کے ناولوں کو پڑھتے ہوئے ہم ایک ایسے جمالیاتی تجربے سے گزرتے ہیں جو بیک وقت ہمیں ایک طرف  کتھارسز سے گزارتا ہے اور دوسری طرف ایک اچھوتے اور حسین تخلیقی احساس سے بھر دیتا ہے یہ تمام بڑے آرٹ کا خاصہ ہے اور  سید محمد اشرف نے  “آخری سواریاں ” کے اندر  ناول نگاری کے نازک فنی تقاضوں کو جس خوبصورتی سے نبھایا ہے وہ ان کا ہی خاصہ محسوس ہوتا ہے اور ان کے ناول پڑھتے ہوئے کہیں بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا کوئی غیر ضروری تفصیلات نہیں ہیں اور جس بسیار نویسی کا شکار اردو کے اکثر ناول نگار نظر آتے ہیں اس سب سے محمد اشرف نے بجا طور پر اپنا دامن بچا رکھا ہے  وہ اتنی ہی بات کرتےہیں جتنی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں بھی اپنے کرافٹ کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ اور اس بات کو غلط ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں  ہے کہ اردو میں بڑا ناول نہیں لکھا جاسکتا۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے ہر صفحے  پر سید محمد اشرف کی محنت نظر آتی ہے  اور یہی وہ چیز ہے جو اردو ادب  میں ناول نگاری کی روایت کو مزید توانائی بخش سکتی ہے۔ 

آخر میں ایک اور بات کی طرف اشارہ کرنا شاید اہم ہو کہ اردو  میں ناول نگاری  کی کمزور روایت کی ایک وجہ  شاید یہ بھی  رہی ہے کہ اردو میں نثر یا ناول پر تنقید کی روایت    بہت  ابتدائی مرحلے میں تھی اور نثر میں یہ روایت ابھی بہت پختہ نہیں تھی جبکہ اس کے برعکس شاعری  یا دوسری اصناف کے میدان میں زیادہ اچھی تنقید اور علمی کام نظر آتا ہے۔ حالانکہ تنقید کی اہمیت کے حوالے سے مشہور لاطینی ادیب  اوکتاو پاز نے کہا تھا ادب کی تخلیق کے لیے تنقیدی فضا بہت اہم ہے۔  لیکن اردو تنقید کے بارے میں ویسے بھی  مشہور نقاد کلیم الدین احمد نے شروع میں  کہا تھا  کہ وہ انھیں محبوب کی کمر کی طرح موہوم دکھائی دیتی ہے ۔اگرچہ بعد میں اردو میں  ناول کی تنقیدی روایت بھی ایک توانا شکل اختیار کرگئی او رناولوں پر بہت اچھی تنقید ملتی ہے جس میں  ڈاکٹر عبدالسلام، احسن فارقی صاحب  ،  ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی ، یوسف  سرمست  اور  وارث علوی  کا کام بہت وقیع اور اہم ہے  اور انھوں نے ناول اور فکشن کے  فنی اور دوسرے محاسن  پر بہت اچھا  لکھا ہے  جس کے زیر   اثر یہ امکان پید اہوچلا ہے کہ  آگے چل کر اردو میں    ناول نگاری اور ناول نگاری کی تنقید   ایک  توانا شکل اختیا ر کرلے گی   ۔ تاہم  موجودہ تنقیدی فضا میں  ایک طرف تو “انجمن ستائش باہمی “کی روش   عام ہے  اگرچہ نجی طور پر لوگ مختلف رائے دے رہے ہوتے ہیں لیکن دوسری طرف  وہ مروت یا رواداری  میں  ایک روایتی  ستائشی تبصرہ یا مضمون لکھ دیتے ہیں  یہ روش خود ناول نگار اور مصنفین کے ساتھ بھی  زیادتی ہے کیونکہ اس سے انھیں اپنے کام کا حقیقت پسندانہ یا دیانتدارانہ تجزیہ کرنے کا موقع نہیں مل پاتا اور وہ وہی غلطیاں دہرائے چلے جاتے ہیں۔ اور دوسری طرف کئی دفعہ    افراط وتفریط  کا گمان ہوتا ہے یعنی یا تو کسی فن پارے کو بالکل رد کردیا جاتا ہے یا پھر ساری  توانائیاں  اس کی  تعریف وتوصیف میں  صرف کردی جاتی ہیں۔ سیدھی دو ٹوک بات کہنے کا انداز نہیں رہا جس  کی وجہ سے نئے پڑھنے اور لکھنے والوں کو بعد میں الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے  کہ کونسی بات صحیح ہے۔

اردو  فکشن میں  تنقید کی کمی کی  وضاحت کرتے ہوئے مشہور ادیب اور ناول نگار   قاضی عبدالستار نے     ایک  بار  کہا  تھا کہ  فکشن کی تنقید اس لیے بھی مشکل ہے کہ آپ کو بہت پڑھنا پڑتا ہے شاعری پر تو کچھ غزلیں یا نظمیں پڑھ کر تنقید ہوسکتی ہے لیکن فکشن اور بالخصوص ناول وغیرہ کے تجزیہ و تنقید کے  لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے ۔یعنی پہلے   خود ناول کو پڑھنا اور پھر اس کے تجزیے کے لیے اور کئی چیزوں کا  مطالعہ کرنا  ۔

جدید تنقید نگاری میں ایک  اور مسئلہ مختلف قسم کی نئی  ادبی تھیوریز  کے تحت  ناول یا کسی بھی فن پارے کا تجزیہ کرنا ہے اور یہ زیادہ تر  مکتبی تنقید کا مسئلہ ہے جو  صرف ان  لوگوں کو مدنظر رکھ کر لکھی جاتی ہے جو ادب سے زیادہ ہر طرح کی نئی اور انوکھی تھیوریز اور نظریات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ادب میں تھیوریز کے بے جا استعمال کے بارے میں مشہور ادیب اور نقاد جار ج سٹائینر نے کہا تھا کہ ”  فنونِ لطیفہ و ادب کی جانچ پڑتال میں نظریات کا سہارا لینا   مجھے ایک طرح  کی    عیاری اور    فریب  محسوس ہوتا ہے” ۔ اور یہ بات کافی حدتک درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی ادبی فن پارے یا  ناول کو اپنے فن پر کھڑا ہونا چاہیے ناکہ بعد کی ادبی تھیوریز کے زور پر اسے بڑا  یا  چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔کیونکہ ناول جس انسانی صورتحال   کا عکاسی کرتا ہے یا جس چیز کا نمائندہ ہے وہ  ادبی تھیویریز سے آگے کی چیز ہے ادب لوگ اسی لیے پڑھتے ہیں کہ وہ اس میں اپنی اور دوسرے انسانوں کی صورتحال کا کچھ تجربہ کر سکیں ناکہ اس لیے کہ ان میں مختلف  ادبی تھیویریز تلاش کریں۔ ہمارے بہت سارے اردو کے نقاد ناولوں کا تجزیہ ان جدید تھیوریز کی روشنی میں تو ضرور کرتے ہیں   لیکن کسی فن پارے کا وہ تجزیہ جو عام قاری کو اس  ناول کے جمالیاتی اور اخلاقی  تجربے سے روشناس کرائے اس کی  طرف کم توجہ کرتے ہیں یا وہ  جو چیز ایک بار کسی وجہ سے بڑی کہلائی جاچکی ہے  تو اس کو چیلنج کرنے سے گھبراتے ہیں اور اس کا نتیجہ ادب کے مجموعی انحطاط میں ہی نکلتا ہے جہاں مختلف قسم کی  تھیوریز کی تو  بھرمار ہو لیکن خود ادب ان تھیوریز میں دب جائے۔ 

یہ وہ تمام تر علمی و  ادبی  اور تنقیدی  ماحول ہے جس میں اردو  ناول نگار  ی پروان چڑھ رہی ہے لیکن اس سب کے باوجود اردو  میں مختلف نئے لکھنے والے ہر طرح کے تجربات بھی کررہے ہیں جو لگتا ہے کہ آگے چل کر اردو ناول نگاری کی روایت کو مزید توانا بناسکتے ہیں  اور اس بات کا ضرور امکان ہے کہ اگر اردو ناول نگار  اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کو وسعت دیں اور ناول  نگاری کے  عمومی مسائل پر قابو پالیں   تو  کوئی وجہ نہیں کہ اردو زبان  میں بھی ایک بڑے اور بھرپور ناول کا ظہور نہ ہو   کیونکہ مسئلہ اردو  زبان  کے اظہار کی صلا حیت کے فقدان کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کونسا ناول نگار   ناول  نگاری  کے اعلی فنی محاسن  کا    تخلیقی استعمال کر پاتا ہے اور زبان وبیان کے ایسے تجربات سے اردو کو روشناس کرا پاتا ہے جو کسی بھی  فن پارے کو زمانی و مکانی لحاظ سے  بڑ اادبی شہ پارہ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ 

حوالہ جات

  • -Aspect of Novels ای ایم فورسٹر1927
  •   The Curtains میلان کنڈیرا- 2007
  • اکتایو پاز-Alternating Current 1983
  • وی ایس نیپال-Writers people : The way of looking & Feeling 2007
  • مقالات ن م راشد (مضامین) مرتبہ شیما مجید شائع کردہ بک  ٹائم  کراچی 2017
  • باقیات باقر مہدی-ریختہhttps://www.rekhta.org/ebooks/detail/baqiyat-e-baqar-mahdi-ebooks?lang=ur  
  • وارث علوی- ( باقر مہدی-باقیات باقر مہدی ریختہ)
  • اردو ناول بیسیویں صدی میں :عبد السلام  -اردو اکیڈمی سندھ، کراچی:1973
  • بیسویں صدی میں اردو ناول: یوسف سرمست-2000
  • 11.ڈاکٹر عبدالسلام، اداس نسلیں ایک جائزہ ،مشمولہ: سیپ کراچی،شمارہ۴۶،۱۹۸۳ء،ص۱۱۶
  • 12.قرۃ العین حیدر فن اور شخصیت -جمیل اختر شائع کردہ آکسفورڈ  2019
  • 13.ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی، ادب اور اقدار  – شائع کردہ اردو اکیڈمی۔ سندھ کراچی 1998
  • 14.ڈاکٹر تہمینہ عباس ،اداس نسلیں : ایک بازگشت، ترجیحات اردو جنرل September 10, 2022
  • 16.محمد خالد اختر ،اداس نسلیں ،مشمولہ :فنون، اکتوبر ، نومبر، ۱۹۶۴ء،ص۲۶۱،۶۲۲

17.ڈاکٹر احسن فاوقی- سیپ کراچی بحوالہ  ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی (ادب اور اقدار 1998)

  • 18.جارج سٹائنر -ایریٹاErrata-An Examined Life))1997