میلاد النبی ﷺ مبارک ہو؛ to all and sundry

Yasser Chttha

میلاد النبی ﷺ مبارک ہو؛ to all and sundry

از، یاسر چٹھہ

میلاد کا تہوار جس حساب سے با برکت طور پر ترقی کر رہا ہے اس میں پاپولر کلچر کی بنیادوں پر ثقافتی، سیاسی، قومی اور ان کے اوپر، نیچے، درمیان اور ساتھ ساتھ صارفی دکان داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

ابھی اس تہوار کی مختلف رسومات ترویج پا رہی ہیں۔ پچھلے چند ایک برسوں میں کیک آیا ہے۔ کہین سنا ہے (Happy birthday ya Rasool Allah (SAW، اس کے علاوہ کچھ ایسی شبیہیں بھی نظر آئی ہیں جو دیگر مسالک سے روایتی طور پر زیادہ جُڑت رکھتی آئی ہیں۔ صاف حوالے دینےسے بہ وجوہ سیلف سینسر شپ کرتے رُک رہا ہوں۔

ثقافتی حوالوں سے اس تہوار میں بر صغیری مزاج کی شمولیت پسندی inclusiveness کا کافی space ہے۔ کار و باری امکانات میں مغربی کھاتے پیتے ممالک میں کرسمس کے آس پاس کے دنوں میں صارفیت انگیختگی کے ایک ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

یہ جو ہمارے یہاں نقلو نقلی بلیک فرائیڈے کا منڈیانہ صارفی کار خانہ کھولنے کی کوشش کی گئی، جس پر بعد ازاں کئی ایک مقامی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور نا پسندیدگی کے بہ وجوہ وائٹ فرائیڈے کا چُونا پھیرا گیا، اسے بہ آسانی اور با سہولت میلاد کے موقع پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں باہر کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آنے والے مقامی حالات و ثقافت سے نا بلد طوطوں کو کچھ نئے آئیڈیاز اور جہتوں پر سوچنا چاہیے۔ اپنی بِکری کی سوچوں کے لیے نئے خیالات کو مقامی معاشرت سے کشید کرنا سیکھنا چاہیے، صرف لفظی ترجمے نہیں کرنا چاہیے۔

قومی بیانیے اور شبیہِ قومی کی ترویج و ترقی کے کرتا دھرتاؤں کے لیے بھی خیر کے خیال ہیں۔ پاکستان برانڈ بھی پروجیکٹ کیا جا سکتا ہے کہ اکثریتی میلادی ریاست صرف پاکستان ہی ہو سکتا ہے۔

باقی ماندہ سارے بھی کچھ سوچ لو۔ سلامتی کے “ادارے” نے تو اس تہوار پر بھی آج صبح نیوز چینلوں پر چلنے والے tickers سے واضح ہے 23 مارچ، 14 اگست، ستمبر، اکتوبر اور ما سوائے دسمبر کے صوبائی دار الحکومتوں میں 21، 21 اور وفاقی دار الخلافہ میں 31 توپوں کی سلامی سے اپنے نام کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔

پسِ تحریر: ان سطروں کو اپنی اپنی نیت اور اعتقادی، سیاسی و ثقافتی سوچ کے تحت مختلف سطحوں پر سمجھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

و ما علینا الا البلاغ…

پسِ پَسِ تحریر: ان مختلف خیالات کو مختلف اسلوبی و کیفیتی تہوں میں لفظوں کے سپرد کر دینے سے راقم کی مجموعی نفسیاتی کیفیت بھی تقریباً وہی ہے، جو اس تحریر کے کسی مثالی سنجیدہ و فہمیدہ قاری ideally conceived reader کی ہو سکتی ہے۔ مختلف شعوروں کی لہریں، تنقیدی فکر، آس پاس کا خوف، چنیدہ ذریعۂِ ابلاغ یعنی سوشل میڈیا کی ثقافت، فکر پر پہرے کی آلودہ آکسیجن، سیلف سینسر شپ کی فضائی حدود و قیود کا نو گو ایریا، آزادئِ تحریر و تقریر کی گُھٹی گُھٹی ماحولیات، ٹوٹتے بنتے، جُڑتے چٹختے، دھڑام سے گرتے خیالات تحریر کی پشت پر کھڑے جماہیاں لے رہے ہیں۔ اگر اس تحریر کو افسانہ کی صورت لکھتا تو یہ سطر اس افسانے کے شروع میں ضرور لکھتا جیسے سید کاشف رضا نے اپنے ناول چار درویش اور ایک کچھوا کے ہر باب کے عنوان کے نیچے بودریاغ کے مقولے کی طرح لکھی ہے کہ یہ تحریر شیطان نے آدم کو سجدہ کرنے سے چند ثانیے قبل سوچی تھی، لیکن اسے لکھنا بھول گیا تھا۔

About یاسرچٹھہ 141 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔