Naseer Ahmed, the writer
مطالعۂ خاص و فکر افروز

یوگی آدتیہ ناتھ اور سلویا پلاتھ

وقت گزرنے کے بعد سیکیولر جمہوری ریاست ہندوتوا کے برپا کیے ہوئے مذہبی اور ثقافتی فسادات کی طرف سے مُنھ پھیر کر دیکھنے لگی۔ اور سیکیولرزم کے یوگی آدیتیہ ناتھ […]

Naseer Ahmed, the writer
جمالِ ادب و شہرِ فنون

سب رنگ کے ادیبوں کے جدت و جمہوریت سے فاصلے 

سب رنگ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اس میں ترجمے تو چلیں ٹھیک ہی ہوتے تھے، لیکن جو اپنے ادیبوں کی کاوشیں ہوتی تھیں ان میں جمہوریت، قانون، حقوق اور شہریت پر اتنا ارتکازِ […]

Naseer Ahmed, the writer
مطالعۂ خاص و فکر افروز

کرونا سپیشل: سائنسی سماج و سائنس دان، سازش کے نظریے اور دنیا جہاں کے لاڈلے

برطانیۂِ عظیم میں بھی ایسے ہی لاڈلے وزیرِ اعظم ہیں۔ ان کو بھی بیماری کی نوعیت سمجھ نہیں آئی۔ تاخیر کے نتائج خود بھی بھگت رہے ہیں اور لوگوں کی جانیں کرونا وبا […]

Naseer Ahmed, the writer
مطالعۂ خاص و فکر افروز

خواتین کے حقوق، مایوسی، امید اور ریفارمز 

گفتگو ہی ممکن نہیں رہی۔ بس گروہوں، لشکروں، جتھوں کے ہی تذکرے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ذرا حواسِ خَمسہ کا استعمال
کر لیں تو فرد ڈھونڈنا کوئی اتنا مشکل نہیں ہے۔ خواتین کے حقوق […]

انسانی فطرت، انصاف بہ مقابل طاقت
ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

انسانی فطرت، انصاف بہ مقابل طاقت (قسط دہم)

انسانی فطرت، انصاف بہ مقابل طاقت (قسط دہم) ترجمہ، نصیر احمد فوکو: جی ہاں، لیکن میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔ ریاست ہائے متحدہ میں جب آپ کوئی غیر قانونی حرکت کرتے ہیں […]

Naseer Ahmed, the writer
خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

‘میرا جسم میری مرضی’ آپ کیا کہتے ہیں؟

جمہوری فکر کے مطابق انسان کے حقوق اور فرائض اس کی رضا کے احترام پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب اپنے جسم پر ہی رضا اور اختیار کے حقوق نہیں ہیں تو اقوامِ متحدہ میری مرضی […]

انسانی فطرت، انصاف بہ مقابل طاقت
ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

انسانی فطرت، انصاف بہ مقابل طاقت (قسط نہم)

تصوراتی، فلسفیانہ فریضے کو مکمل طور پر پرے رکھ دینا اک ننگِ عظیم ہو گا۔ انسانی فطرت کے اس تصور کے درمیان ربط کشی کی کوشش کرتا ہے جو تصور انسانی آزادی اور انصاف […]

Naseer Ahmed, the writer
جمالِ ادب و شہرِ فنون

ہمارا زیادہ تر ادب تفہیم کے خلاف سازش ہی تو ہے

بس زبان و بیان کا حسن تھوڑا بہتر بنا کر تفہیم اور تفہیم کے نتیجے میں انسان دوست مقاصد کو فروغ  دینے میں کام آ سکتا ہے۔ باقی سب تو کچرا ہی ہے اور ردی کے ٹوکرا ہی اس کی منزل ہے۔ اس کچرے کو سنبھالے رکھنے سے کیا فائدہ۔ […]