افسانہ لنگی ، از شموئل احمد

لنگی
علامتی تصویر

افسانہ لنگی ، از شموئل احمد

نوٹ: افسانہ” لنگی” میں تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بیباک افسانے کو لکھنے کی وجہ سے چند روز قبل  شموئل احمد پر جان لیوا حملہ کیا گیا ہم آزادی رائے کے خلاف اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ موصول بہ وساطت شکیل سید۔

شعبہ میں نئی لڑکی کا داخلہ ہوتا تو ابو پٹّی لنگی پہنتا۔ اس کے پاس رنگ برنگ کی لنگیاں تھیں۔ لال پیلی نیلی ہری ….. ایک نہیں تھی تو سفید۔
سفید لنگی سے ابو پٹّی کو چِڑ سی تھی۔ پہنو بھی نہیں کہ میلی نظر آتی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی رنگ ہے کہ داغوں کو چھپا نہیں پاتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کو سیاہ لنگی پسند تھی کہ گرد خور تھی لیکن ایک جیوتشی نے کہا تھا کہ سیاہ شنی کا رنگ ہے جو نا امیدی کا ستارہ ہے اور ابو پٹّی نے بھی محسوس کیا تھا کہ سیاہ رنگ کے استعمال سے اس کو اکثر خسارہ ہوا ہے۔ اس دن اس نے سیاہ لنگی بیگ میں رکھی تھی جب زر بہار اُس کے ہاتھوں سے صابن کی طرح پھسل گئی تھی اور پروفیسر راشد اعجاز کی جھولی میں جا گری تھی۔

زر بہار ایک مقامی شاعر کی دختر نیک اختر تھی۔ اس نے ایم اے کیا تھا اور اب ایم فل میں داخلہ لینا چاہ رہی تھی ۔ابو پٹّی ان دنوں شعبہ کا چیئرمین تھا۔ وہ داخلے کا فارم لیے چیمبر میں داخل ہوئی تو اس نے عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ بے چینی تو وہ ہر اُس لڑکی کو دیکھ کر محسوس کرتا تھا جو ایم فل کے لیے داخلہ لیتی تھی لیکن زر بہار کی ادائیں کچھ الگ سی تھیں۔ گفتگو کے دوران زلفوں کی ایک لٹ اُس کے رخسار پر لہرا جاتی جسے ادائے خاص سے پیچھے کی طرف سِرکاتی رہتی۔ و ہ گداز جسموں والی لڑکی تھی۔ رخسار پھولے پھولے سے تھے۔ خوبصورت نہیں تھی لیکن کہیں کچھ تھا جو ابو پٹّی کو لنگی پہننے پر اکسا رہا تھا۔

چیمبر میں داخل ہوتے ہی اس نے ادب سے سلام کیا اور پھر دو قدم چل کر اس کے ایک دم قریب کھڑی ہو گئی۔ عموماً طلباء چیمبر میں داخل ہوتے ہیں تو ایک فاصلے پر کھڑے ہو کر گفتگو کرتے ہیں لیکن زر بہار کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے برسوں کی شناسا ہو۔ اس نے پہلے اپنے والد کا نام بتایا جو شاعر ہوا کرتے تھے۔ ابو پٹّی نے متأثر ہونے کی اداکاری کی۔
’’ ماشااللہ…..کیا کہنے۔‘‘
زر بہار خوش ہو گئی اور والد محترم کی شان میں رطب اللسان ہوئی کہ مشاعرے میں کہاں کہاں جاتے تھے اور کیسے کیسے اعزازات سے نوازے گئے۔ پھر چہرے کے قریب اک ذرا جھک کر مسکراتی ہوئی بولی۔
’’ سر….میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
ابو پٹّی مسکرایا۔ ایک ہی بار میں پی ایچ ڈی…؟ پہلے ایم فل کرتے ہیں۔‘‘
اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دانتوں تلے زبان دبائی …..!
ابو پٹّی کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
’’ کس موضوع پر تحقیق کرنا چاہتی ہو؟ ‘‘
’’ کچھ بھی….۔ ‘‘
ابو پٹّی کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی لیکن اس کی مسکراہٹ برقرار تھی۔
’’ کس صنف میں؟ شاعری، افسانہ، ناول، تنقید….۔‘‘
’’ شاعر کی بیٹی ہوں تو شاعری پر ہی کروں گی۔ ‘‘
’’نئی شاعری پر کرو۔ اقبال غالب میر پر تو بہت تحقیق ہوئی۔‘‘
’’ جی سر۔‘‘
کسی کو پڑھا ہے….شہر یار، ندا فاضلی، عالم خورشید….خورشید اکبر……؟‘‘
’’ آپ پڑھا دیں گے سر….؟‘‘
’’میں….؟ میں تو بہت کچھ پڑھا دوں گا …..ہے…ہے….ہے….ہے….۔‘‘
ابو پٹّی ہنسنے لگا۔ زر بہار بھی ہنسنے لگی۔ بالوں کی لَٹ رخسار پر جھول گئی۔ گالوں میں گڈھے سے پڑ گئے۔
چیمبر میں ثاقب داخل ہوا اور ابو پٹّی کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’آپ بغیر اجازت اندر کیسے چلے آئے؟‘‘
’’ سر….میری تھیسس….!‘‘
’’ جانتا ہوں آپ نے تھیسس مکمّل کر لی ہے لیکن بے ادبی سے پیش آئیں گے تو تھیسس دھری رہ جائے گی۔‘‘
’’ غلطی ہوئی سر…معاف کیجیے گا۔ ‘‘ ثاقب سر جھکائے باہر نکل گیا۔
اس کے جانے کے بعد بھی ابو پٹّی کا غصّہ کم نہیں ہوا۔
’’ یہی وجہ ہے کہ میں چیمبر اندر سے بند کر دیتا ہوں۔ لڑکے بہت ڈسٹرب کرتے ہیں۔‘‘
’’ صحیح کہا سر۔ بغیر اجازت تو اندر آنا ہی نہیں چاہیے۔‘‘
پردے کے پیچھے سے کوئی دوسرا لڑکا جھانک رہا تھا۔
’’ دیکھو پھر کوئی جھانکنے لگا۔‘‘ ابو پٹّی کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی۔
’’ دروازہ بند کر دوں سر….؟‘‘
’’رہنے دو۔ کچھ طلبا ملنا چاہ رہے ہیں۔ تم کل دس بجے آؤ۔ فارم بھی بھر دوں گا۔ سمجھا  بھی دوں گا کیسے کیا کرنا ہے اور موضوع بھی طے کر دوں گا۔
’’شکریہ سر! میں کل آتی ہوں۔ ‘‘
زر بہار چلی گئی ابو پٹّی نے طلبا کو اندر طلب کیا۔
چار لڑکے…چھ لڑکیاں….!
ابو پٹّی نے لڑکوں پر طائرانہ سی نظر ڈالی۔ لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھا۔ وہ یقیناً فیصلہ کر رہا تھا کہ کس کو اپنی نگرانی میں رکھے اور کس کو دوسرے اساتذہ کو سونپ دے۔
’’آپ فارم بھرنے آئے ہیں؟ ‘‘
’’ جی سر …!‘‘
’’تو میرے پاس آنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ فارم جمع کر دیں۔ آپ کا ٹیسٹ ہوگا۔ جو زیادہ نمبر لائیں گے وہ سیدھا پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں ورنہ ایم فل میں داخلہ ہوگا۔ چھے مہینے کلاسیس کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد پھر امتحان ہو گا۔‘‘
’’ سر ہمیں موضوع کے انتخاب کی آزادی تو ہے۔‘‘
کسی لڑکے نے پوچھا تو ابو پٹّی نے اُسے گھور کر دیکھا۔
’’ بالکل ہے لیکن اس موضوع کا علم بھی آپ کو ہونا چاہیے۔‘‘
لڑکا سہم گیا۔ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔
طلباء چلے گئے تو ابو پٹّی کلاس لینے چلا گیا۔
زر بہار باہر نکلی تو بہت خوش تھی۔
’’ نئی مرغی۔‘‘ لڑکوں نے اُسے سر سے پاؤں تک گھورا۔
’’ آپ ایم فل کے لیے آئی ہیں؟‘‘
’’ میں سیدھا پی ایچ ڈی کروں گی۔‘‘ نئی مرغی مسکرائی۔
ثاقب یہ سوچ کر دل ہی دل میں حقارت سے مسکرایا کہ ان کی پی ایچ ڈی تو لنگی میں ہوگی۔
’’آپ کا موضوع کیا ہے؟ ‘‘
’’ جدید شاعری۔‘‘
’’ جدید شاعری میں کیا ؟ ‘‘
’’ یہ سر طے کریں گے۔‘‘
’’ کمال ہے۔ آپ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور آپ کو موضوع کا پتا نہیں ہے۔‘‘ لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ثاقب کے جی میں آیا کہہ دے ہوشیار رہیے گا…. سر کمرہ اندر سے بند کر لیتے ہیں۔ لیکن خاموش رہا۔ وہ کوئی خطرہ مول’’ لینا نہیں چاہتا تھا۔ ابو پٹّی کو اگر بَھنک مل جاتی تو کیریئر تباہ ہونے میں وقت نہیں لگتا۔ پھر بھی اس نے دبی زبان میں کہا۔
’’سر آپ لوگوں پر مہربان رہتے ہیں اور ہمیں تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔‘‘
لڑکوں کو واقعی کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ لیکن لڑکیوں کو پریشانی نہیں تھی۔ ان پر خاص توجہ دی جاتی۔ اساتذہ آپس میں الجھ جاتے کہ کون سی طالبہ کس کی نگرانی میں تحقیق کرے گی۔ ان کے درمیان لڑکیاں مال مفت کی طرح بٹ جاتی تھیں لیکن کوئی طالبہ پروفیسر راشد اعجاز کو پسند آجاتی تو چیئرمین سے بھڑ جاتا اور اس کو اپنے حصّے میں لے کر ہی دم لیتا۔
اس کی لنگی کا رنگ زیادہ پختہ تھا۔ اس نے الگ سے ایک کمرے کا فلیٹ لے رکھا تھا اور دروازہ پر تختی لگا رکھی تھی، ” دارالمطالعہ ”۔  وارڈروب میں لنگیاں سجی رہتیں۔ کچن بھی سجا رہتا …. طالبات کو دارالمطالعہ میں بلاتا۔ چائے کا دور چلتا او رپروفیسر لنگی میں قیلولہ فرماتا۔

جو لڑکی فلیٹ کا رخ نہیں کرتی اُسے پی ایچ ڈی میں کئی سال لگ جاتے۔ لیکن وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا تھا۔ پہلے طالبہ کو یقین دلاتا کہ اُس کے بغیر وہ پی ایچ ڈی نہیں کر سکتی۔ وہ پہلا باب خود لکھ دیتا۔ بیچ بیچ میں ڈکٹیشن دیتا۔ ڈکٹیشن کے دوران لڑکی کے پیچھے کھڑا ہو جاتا اور جھک کر دیکھتا کہ اِملا کی غلطیاں کہاں کہاں ہیں؟ پھر اُس کے شانے کے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر غلط الفاظ پر شہادت کی انگلی رکھتا اور کہتا اسے صحیح کرو۔ اس طرح ہاتھ بڑھانے میں اُس کے بازو لڑکی کے رخسار کو چھونے لگتے۔ لڑکی ہٹ کر بیٹھنے کی کوشش کرتی تو اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا
تم میری مدد کے بغیر پی ایچ ڈی نہیں کر سکتبی.. ۔’ بچّی….
تب کچھ دیر کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھ جاتا اورکہتا
۔ ’’ آگے لکھو….‘‘
لیکن چند سطور لکھانے کے بعد پھر پیچھے کھڑا ہو جاتا اور رخسار سہلاتے ہوئے کہتا۔
’’پیاری بچّی….اس طرح غلطیاں کرو گی تو تھیسس کا ستیا ناس ہو جائے گا۔ ‘‘
جب فضا سازگار ہو جاتی تو کمرہ اندر سے بند کرتا اور لنگی….

راشد اعجاز اُسے “پہلا ایپی سوڈ” کہتا تھا۔ پہلا ایپی سوڈ ہمیشہ چیمبر میں ہوتا۔ باقی کے دارالمطالعہ میں …..۔
پروفیسر راشد اعجاز سے سبھی خائف رہتے۔ اس کی پہنچ وی سی تک تھی۔ منسٹرسے بھی اس کے روابط تھے۔ بلکہ افواہ تھی کہ بہت جلد کسی اردو ی نیورسٹی کا وائس چانسلر ہونے جا رہا ہے۔
لڑکوں کے لیے کوئی جھک جھک نہیں تھی ۔وہ آزاد تھے۔ جسے چاہتے اپنا سپروائزر بنا سکتے تھے۔ پھر بھی پروفیسر منظر حسنین کے پلّے کوئی پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ چہرے پر سفید داغ تھے اور مقطع داڑھی تھی۔ تکونی ٹوپی پہنتے تھے جو پیشانی کو ڈھک لیتی لیکن داغ چھپ نہیں پاتے۔ کسی نے کوئی سوال پوچھ لیا تو حسنین اُسے ٹارگیٹ کر لیتے اور اس کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ لیکن پنچ گانہ نماز پڑھتے اور اخلاقیات کا درس دیتے۔ ایک دو لنگی ان کے پاس بھی تھی۔ جہاں لنگی میسرنہیں ہوتی تو سوٹ کا اشارہ کرتے۔
’’ ریمنڈ کا سوٹ بہت اچھا ہوتا ہے۔‘‘
’’ سوچتا ہوں ایک سوٹ سِلوا لوں۔ ‘‘
’’ لیکن سلائی بہت مہنگی ہے۔‘‘
’’ آپ لوگوں کو کمی کیا ہے۔؟ جے آر ایف سے وظیفہ ملتا ہے۔‘‘
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے اور پریشانی کون مول لے؟ ہر سیزن میں دو چار سوٹ وہ سلوا ہی لیتے۔
اور پروفیسر ہاشمی…..؟
آنحضرت نے حرم سجا رکھا تھا۔ بیوی چھوڑ کر جا چکی تھی۔ آزاد تھے۔ لڑکیاں کچن سنبھالتی تھیں۔ کوئی چوکا برتن کرتی، کوئی سبزیاں کاٹتی۔ گل بانو کپڑے دھوتی اور ڈکٹیشن لیتی۔ علی گڑھ سے فکشن کا ایک بڈّھا بادشاہ آیا توحرم سے دو ریسرچ اسکالر بھیجی گئیں۔ پرانا عہد نامہ میں آیا ہے …..
’’اور داود بادشاہ بڈّھا اور کہن سال ہوا اور وہ اسے کپڑے اُڑھاتے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا۔ سو اُس کے خادموں نے اس سے کہا کہ ہمارے مالک بادشاہ کے لیے ایک جوان کنواری ڈھونڈی جائے جو بادشاہ کے حضور کھڑی رہے اور اس کی خبر گیری کیا کرے اور تیرے پہلو میں لیٹ رہا کرے تاکہ ہمارے مالک بادشاہ کو گرمی پہنچے۔‘‘
مالک بادشاہ نے آنحضرت کی سمیناروں میں پیروی کی اور انعام و اکرام سے نوازا۔
ثاقب نے قرۃالعین حیدر کی ناول نگاری پر کام کیا تھا۔ اس کی تھیسس مکمل ہو چکی تھی۔ وہ چاہتا تھا انٹرویو کی تاریخ مل جائے لیکن چیئرمین کا دستخط باقی تھا۔ وہ جب بھی تھیسس کی بات کرتا ابوپٹّی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔ اسے سینئر لڑکوں سے معلوم ہوا تھا کہ تاریخ یوں ہی نہیں مل جاتی۔ بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے لیکن ثاقب کسی امیر باپ کا بیٹا نہیں تھا۔ جے آر ایف کا جو وظیفہ ملتا اس سے اپنی پڑھائی اور ہاسٹل کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ اور اب تحقیق مکمل ہو گئی تھی تو وظیفہ بھی بند ہو چلا تھا۔
ثاقب انگریزی ادب کا بھی مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اس کی صلاحیتوں کے سبھی معترف تھے۔ پروفیسر راشد اعجاز اس کے سپر وائزر تھے۔ سب جانتے تھے کہ ثاقب کا مقالہ اس کی اپنی محنتوں کا ثمرہ ہے۔ کسی کو پیسے دے کر نہیں لکھوائے لیکن ثاقب غریب تھا۔
غریب ہو تو دکھ اٹھا نا پڑے گا۔
اور سکینہ وہاب…..؟موذن کی لڑکی….؟
گوبھی کے پھول میں بھی تازگی ہوتی ہے لیکن سکینہ کے چہرے پر تو خزاں کا رنگ مستقل وہم کی طرح چھایا رہتا۔ آنکھوں میں درد، کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتا تھا۔ ناک کی نوک اچانک بدھنے کی ٹوٹی کی طرح اوپر کو اٹھ گئی تھی۔ نظر پہلے ناک کے سراخوں پر پڑتی۔ پستہ قد تھی اور جسم تھٗل تھٗل تھا۔ اُسے کون پوچھتا۔ اساتذہ میں اس کے لیے کبھی تکرار نہیں ہوئی ….. اور ثاقب کڑھتا تھا۔ وہ سکینہ وہاب کے لیے عجیب سی ہمدردی محسوس کرتا جو اُلجھن بھری تھی۔ کیوں چلی آئی پی ایچ ڈی کرنے؟ کون پوچھے گا اس کو؟ لیکچرر تو زندگی بھر نہیں ہو سکتی۔ کوئی پیروی نہیں کرے گا؟ نہ تو اساتذہ کے پہلو گرم کر سکتی ہے نہ کمیٹی کے ممبران کی مٹھی۔ پھر یہاں آئی کیوں؟ غریب موذن کی لڑکی کو استانی ہونا چاہیے۔ گھر گھر میں اردو اور قران پڑھائے گی تو گذارا ہو جائے گا لیکن پی ایچ ڈی کر لے گی تو نکمّی ہو جائے گی۔ لیکن موذن کی لڑکی ذہین تھی۔ اس نے نفسیاتی کہانیوں پر تحقیق کی تھی۔ پروفیسرامجد اس کے نگراں تھے۔ وہ شاعری پڑھاتے تھے۔ فکشن سے زیادہ رغبت نہیں تھی۔ انہیں نفسیاتی ادب کی شد بد بھی نہیں تھی۔ افسانہ انوکھی مسکراہٹ ضرور پڑھ رکھا تھا اور اسی کا بار بار حوالہ دیتے تھے۔ وہ سکینہ کی رہنمائی کیا کرتے؟ لیکن سکینہ نے بہت محنت کی۔ دن بھر لائبریری میں بیٹھی پڑھتی رہتی۔ ثاقب نے اس کی مدد کی تھی۔اس نے پچاس سے زائد نفسیاتی افسانوں کی ایک فہرست تیار کی تھی اور سکینہ کو سب کی فوٹو کاپی مہیا کرائی تھی۔ ثاقب کی مدد سے سکینہ وہاب نے اپنا مقالہ مکمل کیا تھا۔ اس کا مقالہ یونیورسٹی میں جمع بھی ہو گیا تھا لیکن وائیوا کی تاریخ طے نہیں ہوئی تھی۔
ثاقب کی نظر سکینہ وہاب پر پڑتی اور وہ کڑھنے لگتا۔ ابھی ابھی وہ پروفیسر امجد کے چیمبر سے نکلی تھی۔
حسب معمول اس کے چہرے پر ٹوٹے پتّوں کا دکھ تھا لیکن کہیں سورج کی روپہلی کرنوں کا ہلکا سا رنگ بھی غالب تھا جو ثاقب کو نظر نہیں آیا۔
’’ کاٹتی رہو چکّر ڈپارٹمنٹ کے ….۔‘‘
’’ تاریخ مل گئی۔ ‘‘ وہ ہلکے سے مسکرائی۔ لیکن اس طرح مسکرائی جیسے رو رہی ہو۔
’’ ارے واہ۔ مبارک ! ‘‘ ثاقب خوش ہو گیا۔
’’ لیکن ایک الجھن ہے۔ ‘‘ خزاں کا رنگ پھر غالب ہو گیا۔
’’ اب کیا ہو گیا؟
سکینہ نے ایک پرچہ ثاقب کی طرف بڑھا یا ۔ اس نے ایک سرسری سی نظر ڈالی۔ یہ تیس ناموں کی فہرست تھی۔
یونیورسیٹیاں بھی صارفی کلچر کا حصّہ ہیں۔ رسر چ اسکالر پر واجب ہے کہ وائیوا کے لیے باہر سے استاد اعظم تشریف لائیں توپنچ ستارہ ہوٹل میں ضیافت کا اہتمام ہو ورنہ تھیسس ردّ ہو سکتی ہے۔
وائیوا لینے جامعہ سے استاد اعظم تشریف لا رہے تھے ۔وہ صرف لیگ کباب تناول فرماتے تھے۔ شعبہ سے فرمان جاری ہوا کہ حضرت کے لیے پر تکلف دعوت کا نظم کیا جائے۔ پروفیسر راشد نے مہمانوں کی فہرست بنائی ان میں رسر چ اسکالر اور شعبے کے دیگر اراکین کے نام بھی شامل تھے۔
تیس آدمیوں کی ہوٹل الکریم میں ضیافت… .؟ بٹر نان….بریانی….لیگ کباب…چکن ٹکّہ …چکن بون لیس….فش فرائی…..!
غریب ہو تو الجھن میں مبتلا رہو گے۔
اور ثاقب غصّے سے کھول رہا تھا….۔
’’ تمہیں پتا ہے اخراجات کیا ہوں گے….؟‘‘
سکینہ خاموش رہی۔
’’ پچاس ہزار خرچ ہوں گے… پچاس ہزار۔‘‘
’’ سر کہہ رہے تھے اس سے شعبے کا وقار بڑھے گا۔‘‘
’’ تم شعبے کا وقار بڑھاؤ گی؟ اساتذہ اپنا وقار بڑھا رہے ہیں اور تم استعمال کی جا رہی ہواحمق اسکالر۔
’’ تو کیا کروں؟ ‘‘
’’ مرو !‘‘ ثاقب جھنجھلا گیا۔
سکینہ آبدیدہ ہو گئی۔
تم نے وظیفہ کی رقم سے پیسے کاٹ کاٹ کر اپنی شادی کے لیے جمع کیے ہیں لیکن صارفی کلچر تمہارا پیسا اپنے تصرف میں لائے گا اور تم وہیں کھڑی رہوگی۔ کیا ضرورت تھی تمہیں پی ایچ ڈی کرنے کی دختر موذن…؟ اپنے سسٹم سے باہر جینا چاہ رہی ہو تو مرو. ….. طبقہ اشرافیہ کو تم قبول نہیں ہو۔ تم موذن کی لڑکی ہو۔ معاشرہ موذن کو موذن کہتا ہے۔ موذن صاحب نہیں کہتا۔ صاحب کا لفظ امام کے لیے ہے ….‘‘
’’ ثاقب تم بھی ….! ‘‘ موذن کی لڑکی سسک پڑی۔
ثاقب خاموش رہا۔اسے ندامت ہو رہی تھی۔ وہ اپنا غصّہ اس معصوم پر کیوں اتار رہا ہے؟ خود اس کی تھیسس تو لنگی دار بکس میں بند ہے۔
ثاقب نے معافی مانگی۔
’’ ساری سکینہ….معاف کر دو۔‘‘
’’ کیریئر کا سوال ہے ثاقب۔ ‘‘
’’ ہم احتجاج بھی درج نہیں کر سکتے….‘‘ ثاقب ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا ۔
سکینہ نے آنچل کے کونے سے اپنے آنسو خشک کیے۔

ابو پٹّی نے دوسرے دن سیاہ لنگی خریدی، بیگ میں رکھا اور دس بجے اپنے چیمبر میں داخل ہوا۔ وہ اپنی کرسی کے بازو میں الگ سے ایک کرسی رکھتا تھا۔ زر بہار سلام کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ ابو پٹی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’ فارم کی خانہ پری کر لی ؟ ‘‘
’’ جی سر ! ‘‘ زر بہار نے فارم اس کی طرف بڑھایا۔
ادھر آؤ۔ اس کرسی پر۔’’ ابو پٹّی نے بازو والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
زربہار کرسی پر اس طرح بیٹھی کہ دونوں کے بازو آپس میں مس ہو گئے۔ ابو پٹّی نے فارم پر سرسری سی نظر ڈالی۔۔‘‘
’’ یہ کیا…؟ صرف نام اور پتا درج کیا ہے۔‘‘
’’ سوچا آپ سے پوچھ کر بھروں گی۔ ‘‘

’’ بچّی ہو تم ….! ‘‘ ابو پٹّی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال تھپتھپائے۔ زربہار ہنسنے لگی۔ زلفوں کی لٹ رخسار پر جھول گئی ابو پٹّی خوش ہوا کہ رخسار سہلانے کا برا نہیں مانا…اب آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ ابو پٹّی نے ایک قدم آگے …..۔
اصل میں اس کے ہاتھ جسم کی دیواروں پر چھپکلی کی طرح رینگتے تھے۔ چھپکلی کی نظر جس طرح پتنگے پر ہوتی ہے اس  طرح ابو پٹّی کی نظر بچی کے چہرے پر ہوتی کہ تاثرات کیا ہیں …؟ کس طرح شرما رہی ہے …. برا تو نہیں ….جھنجھلاہٹ کے آثار تو نہیں ہیں؟   ’نہیں’ تو رہی… ؟ بھنویں تو نہیں تن رہی .. .. کسی سے کچھ کہےگی گی؟ اگر سپردگی کے آثار نظر آتے تو دوسرا قدم بڑھاتا …. چہرے کا دونوں ہاتھوں سے کٹورہ سا بناتا اور پیشانی چومتا…کچھ دیر کرسی پر بیٹھ کر موضوع سمجھانے کی کوشش کرتا اور پیاری بچّی کہہ کر آنکھیں چومتا…پھر رخسار… اور رینگتے رینگتے چٹ سے تتلی پکڑ لیتا۔ اگر ذرا بھی شبہہ ہوتا کہ بدک رہی ہے اور کسی سے شکایت کر سکتی ہے تو پیش قدمی روک دیتا اور ڈکٹیشن دینے لگتا۔
’’ دیکھو یہ ایک مشکل موضوع ہے۔ میں لکھا دیتا ہوں۔ ‘‘
اسے یقین دلاتا کہ وہ ایک بچّی ہے اور وہ اس کا بہت بڑا بہی خواہ ہے۔ ایک دو ابواب خود لکھ دیتا اور پھر دیوار پر رینگنے لگتا۔ چھپکلی اگر مستقل رینگتی رہے تو ایک دو پتنگے پکڑ ہی لیتی ہے۔

لیکن زربہار تو خود مکڑی کے جال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ابو پٹّی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ اس کے جی میں آیا فوراً دروازہ بند کرے اور لنگی پہن لے۔ اس نیت سے وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا لیکن اسی پل سکندر طوفانی دھڑدھڑاتا ہوا چیمبر میں داخل ہوا۔ زر بہار فوراً اٹھ کر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’ السلام وعلیکم ۔‘‘
’’ وعلیکم السلام ‘‘
’’ خاکسار کو سکندر طوفانی کہتے ہیں۔‘‘ طوفانی نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
ابو پٹّی کچھ گھبرا سا گیا تھا۔ ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ بغیر اجازت اندر آنے پر طوفانی سے باز پُرس کرتا۔
’’ یہ میری چھوٹی بہن ہے۔‘‘ طوفانی نے زر بہار کی طرف اشارہ کیا۔
’’ ماشا اللہ بہت ذہین بچّی ہے۔ ‘‘
’’ اک ذرا خیال رکھیے گا حضور….! اور آپ مجھے تو جانتے ہی ہیں۔ ‘‘ طوفانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ طوفانی کو جانتا تھا۔ اس نے ایک بار شعبہ انگریزی کے ایک پروفیسر کی اس کے چیمبر میں پٹائی کر دی تھی۔ وجہ تھی پروفیسر نے ایک طالبہ کے گال سہلائے تھے جو طوفانی کی گرل فرینڈ تھی۔
خطرے کی گھنٹی…..
ابو پٹّی نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ زر بہار کو کوئی بھی لے جائے….وہ خود کو الگ رکھے گا۔
زر بہار ٹیسٹ پاس کر گئی۔ سبھی پاس کر گئے۔ ان کا بٹوارہ ہوا۔ پروفیسر راشد اعجاز کو زربہار پسند آ گئی۔ اس نے فوراً اس کو اچک لیا۔ اب اس کا میدان فکشن تھا۔ پروفیسر نے اس کے لیے موضوع کا انتخاب کیا۔
قرۃ ا لعین حیدر کی ناول نگاری”
دن گزرتے رہے۔ ثاقب کی تھیسس اسی طرح شعبے میں پڑی رہی۔ ایک دن معلوم ہوا کہ پروفیسر اعجاز اس کی تھیسس چیئرمین سے مانگ  کر لے گے ہیں۔ وہ پروفیسر سے ملا۔
’’اس میں ترمیم کرنی ہوگی۔ ‘‘
’’ کیسی ترمیم سر؟‘‘
آپ نے قرۃالعین کو ورجینیا وؤلف سے متاثر بتایا ہے کہ شعور کی رو تکنیک قرۃا لعین نے ورجینیا سے مستعار لی ہے۔
’’ جی سر ! ‘‘
’’ لیکن آپ نے دلائل نہیں دیے ہیں۔ وؤلف کے ناولوں کا نام لیجیے اور وہ عبارت کوٹ کیجیے جس میں اس تکنیک کا استعمال ہوا ہے، ساتھ ہی قرۃ العین حیدر کے ناول کا بھی اقتباس پیش کیجیے جس سے شعور کی رو کا پتا چلے۔ ریسرچ اسی کو کہتے ہیں ورنہ سوئپنگ ریمارک سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے یہ بات کسی سے سن لی اور لکھ دیا۔
’’ لیکن سر یہ بات آپ نے پہلے نہیں بتائی۔‘‘
’’ اب بتا رہا ہوں۔ اس وقت یہ بات ذہن میں نہیں آئی تھی۔ ‘‘
’اس کا ایک ایک باب آپ پڑھ چکے ہیں’او کے کر دی تھی لیکن سر تھیسس توآپ نے‘ ۔۔ ‘‘
’’آپ میں یہی خرابی ہے۔ اپنے استاد کی بات نہیں سنتے ہیں۔ یہ تھیسس اگر ایکسپرٹ کے پاس بھیجی گئی اور اس نے خامیاں نکال دیں تو ….؟

ثاقب نے حسب خواہ ترمیم کر دی لیکن راشد اعجاز گھاس نہیں ڈال رہے تھے۔ وہ جب بھی ملنے جاتا کمرہ اندر سے بند ملتا۔ ایک بار اس نے تہیہ کر لیا کہ مل کر ہی جائے گا۔ باہر ٹول پر بیٹھا رہا۔ دروازہ کھلا تو زر بہار دوپٹّہ درست کرتی ہوئی باہر نکلی تھی۔ ثاقب نے محسوس کیا کہ اس کی چال میں ہلکی سی لنگڑاہٹ ہے۔ پروفیسر بھی پینٹ کا بیلٹ کَس رہے تھے۔ ثاقب کی نظر فرش پر رکھے ہوئے بیگ پر پڑی جس کا زپ پوری طرح بند نہیں ہوا تھا۔ زپ کے کونے پر بیگ آدھا کھلا ہوا تھا جس سے گلابی رنگ کی لنگی جھانک رہی تھی۔

’‘کیا ہے سر ….’ری رائٹ‘  میں نے اس باب کو ’
’’ ابھی مصروف ہوں۔ کل دکھائیے گا۔ ‘‘
’’ سر …ایک نظر دیکھ لیتے۔ ‘‘
’’ آپ میں یہی خرابی ہے۔ استاد کی بات نہیں مانتے۔ ‘‘
ثاقب سر جھکائے کمرے سے نکل گیا۔

استاد اعظم جامعہ سے تشریف لائے۔ شعبہ میں چہل پہل تھی۔ تیس آدمیوں کے لنچ کے لیے الکریم بک ہوگیا۔ مہمانوں کے آنے جانے کے لیے سکینہ کو کار کا انتظام بھی کرنا پڑا۔
دن کے گیارہ بجے سے وائیوا شروع ہو گیا۔ شعبہ کے سیمینار ہال میں کرسیاں لگا دی گئی تھیں۔ ایک صف اساتذہ کی تھی۔ درمیان میں استاد اعظم جلوہ فگن تھے۔ سامنے کی کرسی پر سکینہ بھیگی بلّی کی طرح بیٹھی تھی جیسے مقتل پہنچ گئی ہو اور اب فرماں روا حکم صادر کریں گے۔ سکینہ کے پیچھے بھی کرسیوں کی قطار تھی جن پر طلبا براجمان تھے۔ ان سے الگ طالبات کی قطار تھی۔
استاد اعظم کے ہاتھ میں اسپائرل بائنڈنگ سے مزیں تھیسس کا نسخہ تھا جسے الٹ پلٹ کر وہ اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے قربانی سے پہلے بکرے کے دانت دیکھے جاتے ہیں۔
’’آپ نے ایسے موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟ نفسیاتی کہانیاں….. ؟ ہر کہانی نفسیاتی ہوتی ہے۔ ‘‘
’’سر کچھ انسانی رویّے اتنے پر اسرار ہوتے ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ان نظریات اور افکار سے مدد لینی ہوگی جو ماہر نفسیات نے وضع کیے ہیں۔‘‘
’’اچھا…؟ کس کس کو پڑھا آپ نے …؟ ماہرین کا نام تو لیجیے۔‘‘
سکینہ نے گھبراہٹ سی محسوس کی۔
’’ بتائیے…فرائڈ کا کارنامہ کیا ہے؟ ‘‘
’’ لا شعور کی بازیافت۔ ‘‘
یونگ…؟‘‘
’’ اجتماعی شعور…آرکی ٹائپ کی دریافت اسی نے کی۔ ‘‘
استاد اعظم نے پہلو بدلا۔ پھر اچانک تھیسس کا ایک ورق پلٹتے ہوئے بولے۔
’’ املا کی بہت غلطیاں ہیں آپ کے یہاں۔ ‘‘
’’ ٹائپنگ مسٹیک ہے سر۔‘‘
’’ یہ کیا جواب ہوا؟ سدھارنے کے لیے میرے پاس لائی ہیں؟ ‘‘
سکینہ چپ رہی۔
استاد اعظم نے کچھ اور ورق پلٹے۔
’’ یہ کیا….؟ اسی طرح فہرست سازی کی جاتی ہے؟ صرف کتابوں کا نام لکھا ہے۔ سن اشاعت بھی نہیں لکھا۔ پبلشر کا نام بھی نہیں ہے۔ یہ بہت غلط بات ہے…بہت غلط بات
’’ لیکن بچی نے محنت تو کی ہے۔ ‘‘ پروفیسر ہاشمی نے مداخلت کی۔
استاد اعظم مسکرائے۔ ’’ محنت تو سبھی کرتے ہیں۔‘‘
لیکن ایک بات ہے۔ تحریر اوریجنل لگتی ہے۔ا ستاد اعظم اسی طرح مسکراتے ہوئے بولے۔‘‘
ابو پٹّی نے جھک کر آہستہ سے کہا، ’’ لنچ کا بندوبست الکریم میں ہے۔‘‘
الکریم میں تیس آدمیوں کی جگہ مخصوص تھی ۔زربہار پروفیسر اعجاز سے چپکی نظر آ رہی تھی۔ وہ جدھر جاتے ادھر جاتی۔ وہ بیٹھے تو بغل میں بیٹھی۔ وہ اٹھے اور استاد اعظم کی پاس والی کرسی پر بیٹھیے تو وہاں بھی چپک گئی لیکن سکینہ وہاب کھڑی رہی۔ کوئی اسے بیٹھنے کے لیے نہیں کہہ رہا تھا۔ ثاقب نے کہا۔
’’ آؤ بیٹھو۔ ‘‘
’’میں کیسے بیٹھ سکتی ہوں؟ میں میزبان ہوں۔‘‘
’’ تم احمق ہو۔ ‘‘ ثاقب کو غصہ آ گیا۔
موذن کی لڑکی ….. غریب ….. بدصورت ….تم ملازمہ کی طرح کونے میں کھڑی رہوگی۔ا ساتذہ برآت لے کر آئے ہیں۔ تم جہیز کی رقم ادا کروگی ….پچاس ہزار….!
ثاقب بھنّاتا ہوا ہوٹل سے باہر چلا گیا۔
لیکن موذن کی لڑکی کو ڈگری مل گئی ۔وہ اب ڈاکٹر سکینہ وہاب تھی۔
ثا قب نے اپنے مقالہ میں دوبارہ ترمیم کی۔ ورجینیا وؤلف کے ناول  لائٹ  ہاؤس کا اقتباس پیش کیا۔ پروفیسر اعجاز مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے عینی کے ناول ’ میرے بھی صنم خانے‘   کی عبارت بھی کوٹ کی لیکن
چند اور مثالیں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ثاقب کو احساس ہوا کہ اس کا مقالہ مکمل نہیں ہوگا…؟ اس کے ارد گرد کانٹے سے اُگ آئے ہیں… وہ انہیں صاف نہیں کر سکتا۔
لیکن ثاقب کو ایک نشتر اور لگا۔ یہ کم گہرا نہیں تھا۔
زر بہار اس دن اترا کر چل رہی تھی اور ساختیات پس ساختیات کی باتیں کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا جس میں اس کا مضمون شائع ہوا تھا۔ وہ سب کو دکھاتی پھر رہی تھی۔ ثاقب نے دیکھا تو….
’’ ارے….ارے…ارے….یہ تو میرا مضمون ہے۔ ‘‘
’’ ما بعد جدیدیت کے اسرار۔ یہ میں نے لکھا ہے۔ تم نے اپنے نام سے کیسے شائع کرا دیا؟ ‘‘
’’ آپ کا مضمون کیسے ہو گیا جناب؟
’’ بالکل میرا ہے۔ تم نے چوری کی ہے۔‘‘
’’آپ کے نام سے کہیں شائع ہوا ہے تو بتائیے۔‘‘
’’میں نے کہیں شائع نہیں کرایا۔ میں اس سے مطمئن نہیں تھا تو پھاڑ کر پھینک دیا اور یہ تمہارے ہاتھ لگ گیا۔‘‘
’’ واہ ! کیا لاجک ہے؟ ‘‘
’’میں تم پر مقدمہ دائر کروں گا۔ ‘‘
’’ آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں۔ میں سر سے کہوں گی۔ ‘‘
’’سر نے ثاقب کو بلوایا ۔زر بہار بھی بیٹھی ہوئی تھی۔
’’آپ ان کو دھمکی کیوں دے رہے ہیں؟‘‘
’’میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں سر۔ لیکن انہوں نے میرا مضمون اپنے نام سے شائع کرا دیا ہے۔ ‘‘
’’ کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟ مضمون کی نقل دکھائیے۔ ‘‘
’’ نقل نہیں ہے۔‘‘
’’ کیوں؟ ‘‘
’’میں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا لیکن مجھے معیاری نہیں لگا تو پھاڑ کر پھینک دیا کہ دوبارہ لکھوں گا۔‘‘
’’اس بچّی نے بہت محنت کی ہے۔ میں گواہ ہوں۔ میری رہنمائی میں اس نے لکھا ہے اور آپ اس پر الزام لگا رہے ہیں؟ جائیے اپنی تھیسس مکمّل کیجیے۔‘‘
غصّے سے ثاقب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کے جی میں آیا کھری کھری سنا دے کہ ہم جب بھی کوئی مقالہ لے کر آئے آپ نے گھاس نہیں ڈالی۔ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی سے مضامین لکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس جاہل لڑکی پر اتنی عنایت …. ؟
کمزور آنسو پیتا ہے۔
ثاقب آنسو پی گیا۔ اس نے خود کو ہی کوسا۔ غلطی اس کی ہے۔ مضمون پھاڑ کر پھینکنے کی کیا ضرورت تھی۔ رہنے دیتا ڈائری میں۔ اس حرّافہ کے ہاتھ تو نہیں لگتا؟
اساتذہ کے رویے سے ثاقب دل برگشتہ ہو گیا تھا۔ شعبہ میں اس کا آنا جانا کم ہو گیا۔ اس نے تھیسس میں کئی بارترمیم کی لیکن پروفیسر اعجاز کو ہر بار کمی محسوس ہوئی۔
قدرت بھی کبھی پے درپے زخم لگاتی ہے۔
اس بار ثاقب سنبھل نہیں سکا۔ وہ ایک دکان پر کچھ مسوّدے کی فوٹو کاپی کرانے گیا تھا۔ وہاں اسے زربہار کی تھیسس نظر آئی اور اس کے قدموں تلے زمین جیسے کھسک گئی۔ یہ اس کی اپنی تھیسس تھی جسے زر بہار نے اپنا نام دے دیا تھا۔ اس نے دکان سے تھیسس اٹھائی۔ دکان دار اسے روکتا ہی رہ گیا لیکن وہ سیدھا شعبے میں پہنچا۔ وہ پاگل کی طرح زر بہار کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ اسے کاری ڈور میں نظر آئی۔
’’ کیوں رے حرّافہ …؟ یہ تیری تھیسس ہے؟ ‘‘
زر بہار کانپ گئی۔
ثاقب نے اسے دونوں ہاتھوں سے دبوچا۔
’’ میری تھیسس چوری کرتی ہے۔‘‘
’’ تمیز سے بات کیجیے۔ ‘‘
’’ تمیز سے بات کروں تجھ سے…..؟ ازاربند کی ڈھیلی دوسروں کو تمیز سکھاتی ہے….؟ ‘‘
’’ چھوڑیے مجھے…..‘‘
ثاقب نے اسے دیوار سے اڑا دیا۔ ’’ لنگی میں ریسرچ کرتی ہے کمرے میں بند ہو کر ….۔‘‘
’’ مجھے جانے دیجیے۔ ‘‘
’’ ساختیات اور پس ساختیات ….؟ ‘‘
’’ میں کہتی ہوں چھوڑیے مجھے۔ ‘‘
’’ثاقب نے اس کی  چھوڑوں تجھے…؟ میرا مضمون چوری کرلیا، میری تھیسس چوری کر لی اور تجھے چھوڑ دوں….۔‘‘ چھاتیاں زور سے دبائیں۔
زر بہار سسک پڑی۔
ثاقب نے اس کی جانگھ اپنی جانگھ سے بھڑا دی۔
’’ میری جان ….. صرف لُنگی بردار کو دوگی…؟ ‘‘
لڑکے اس کے ارد گرد جمع ہو گئے۔
’’کیا کرتے ہو ثاقب…؟ چھوڑو اِسے۔ ‘‘
’’ میری تھیسس چوری کی ہے۔‘‘
’’ اس کو ذلیل کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ اس پروفیسر سے کہو جو ریسرچ کے نام پر جنسی استحصال کرتا ہے، پیسے لیتا ہے اور تھیسس بیچتا ہے۔ ‘‘
لڑکوں نے کسی طرح اس کو زربہا ر سے چھڑایا۔
ثاقب سیدھا پروفیسر راشد اعجاز کے چیمبر میں گھسا۔ اس کی پشت پر لڑکے بھی تھے۔
’’ سن لے لنگی بردار….! جس دن تیری داشتہ کو وائیوا کی ڈیٹ ملی اس دن ایف آئی آر درج کر اوں گا۔‘‘
شعبے نے چپّی سادھ لی۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔
ثاقب نے بھی ڈپارٹمنٹ چھوڑ دیا اور فوٹو کاپی کی دکان کر لی۔
وہ مسوّدے کی اسپائرل باینڈنگ کرتا ہے اور کمزور بچّوں کی تھیسس لکھتا ہے۔
***