سیاسی تحریکوں کا تریاق: ٹی او آرز نہیں، پانچ کنواروں کی شادیاں

 

 

نوید نسیم

 

اس حقیقت میں رتّی برابر بھی شک نہیں کہ شادی کرنے کے بہت نقصانات ہیں۔ مگر یقین جانیئے کہ جو مرد حضرات بنِا بیوی کے زندگی گزارتے ہیں۔ وہ بھی سُکھی نہیں رہتے۔ بلکہ اُن کی اِس  ازدواجی محرومی کا خمیازہ بعض اوقات پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔

 

ہماری معصوم عوام بھی ایسے ہی پانچ شر پسند سیاستدانوں کی بیویاں نا ہونے کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ ان میں کوئی برطانوی طلاق یافتہ ہے۔ کسی کی بیوی اللہ کو پیاری ہوگئی اور کوئی تواب تک کنوارا (مُجرد) ہے۔ پاکستانی سیاست میں آئے روز سیاسی بھونچال بھی، انھی پانچ مُطلق، رنڈوے اور مُجرد سیاستدانوں کی وجہ سے آتے ہیں۔

 

ان پانچ میں سرفہرست برطانیہ سے ناصرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ دو بار برطانوی طلاق یافتہ بھی ہیں۔ اپنی پہلی شادی کے نو سالوں بعد برطانوی طلاق یافتہ موصوف نے دوبارہ سے ایک برطانوی شہریت رکھنے والی عمر رسیدہ دوشیزہ سے دورانِ دھرنا ازدواجی رشتہ قائم کرنے کی ٹھانی اور تبدیلی کے دعوے دار کو نکاح کی اتنی جلدی تھی کہ سانحہ آرمی پبلک سکول، پشاور کے چالیسویں کا بھی انتظار نہیں کیا۔

 

برطانوی طلاق یافتہ اور برطانوی تعلیم یافتہ کے مابین شادی کا بندھن صرف نو ماہ تک قائم رہ سکا۔ مگر تحریکی خان کے قریبی ذرائع کے مطابق خان صاحب اس عرصے میں قدرے پرسکون اور مہمان نواز پائے گئے۔

 

دونوں تجربہ کار طلاق یافتگان کے درمیان دوبارہ سے طلاق ہونے کے بعد تبدیلی خان پھر سے عوام کی زندگی پانامہ لیکس کے بعد اجیرن کرنے کی دھمکیاں دیتے پائے جارہےہیں۔ (یہی نقصان ہوتا ہے بیوی ناہونے کا۔ طلاق ہوئی نہیں اور خان صاحب چلے احتجاج کرنے۔ شاید عوامی احتجاج، بیوی ڈھونڈنے کا بہانہ ہے۔)

 

دوسرے برطانوی طلاق یافتہ کراچی کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہیں جوکہ برطانیہ میں جلا وطنی اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ گھر میں بیوی نا ہونے کے سبب موصوف اتنے اُتالوے ہوچکے ہیں کہ بذریعہ فون خطاب میں بھی اپنی نجی زندگی کی ازدواجی باتیں کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اب وہ بالغوں کے ٹائم (لیٹ نائٹ) اپنے چاہنے والوں سے خطاب کرتے ہیں۔

 

ان دو مطلقوں کے علاوہ دو رنڈوے سیاستدان ایسے بھی ہیں جن کی بیویاں انھیں بہت پیاری تھیں مگر پھر وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ایک رنڈوے موصوف کی تو بیوی کی شہادت کے بعد ایسی لاٹری نکلی کہ وہ پانچ سال تک صدر کی کرسی پر بیٹھے رہے۔ مگر جب سے پہلے بیوی اور پھر صدارتی کرسی ان سے چھنی ہے۔ وہ ملک میں کم ہی پائے جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی حریف نواز لیگ کی حکومت ہونے کے باوجود وہ حکومت کو اپنی انگلیوں پر ایسے نچاتے ہیں جیسے وہ اپنی مرحوم سابقہ وزیراعظم بیوی کو نچاتے تھے۔

 

ایک اور رنڈوے وزیٹنگ انقلابی مذہبی رہنما ایسے بھی ہیں جوکہ کچھ عرصہ کینیڈا میں گزارنے کے بعد انقلاب کا ٹوکرا اٹھائے پاکستان ٹپک پڑتے ہیں اور پھر اپنے مفادات پورے کرنے کے لئے مقبول ترین اپوزیشن جماعت کے ساتھ حلالہ کرتے ہیں اور اپنے مفادات پورے ہونے پر واپس کینیڈا چلے جاتے ہیں۔

 

مولانا انقلابی کی بیوی کی وفات کے بعد اب تک مولانا صاحب کسی کو پیارے نہیں ہوئے اور اطلاعات کے مطابق مولانا ایک بار پھر سے انقلاب کا ٹوکرا اٹھائے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

 

پانچویں لیڈر وہ مُجرد رہنما ہیں جن کو آج تک کوئی خاتون پیاری ہی نہیں ہوئی مگر موصوف ٹی وی چینلز کو بہت پیارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف ٹی وی شوز میں جانے کی شرط رکھتے ہیں کہ اگر تو میں آپ کو اکیلا قبول ہوں تو میں آؤں گا۔ ورنہ معذرت۔

 

ٹی وی شوز کے شیخی خور سیاستدان صدر مشرف کے اتنے قریب تھے کہ اگر پاکستان میں ہم جنس شادیوں کی اجازت ہوتی تو شیخ صاحب شاید آج صاحبِ خاوند ہوتے۔ مگر مشرف دور کے خاتمے کے بعد سے شیخ صاحب کو متعدد انتخابی ٹھوکروں کا سامنا کرنا پڑا اور اب جبکہ  شیخ صاحب نے خان صاحب کا دامن تھاما ہے تو شیخ صاحب ایک قلیل عرصے کے بعد پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پیلے رنگ کی لال حویلی میں رہنے والے موصوف بھی دیگر چار بنِا بیوی کے لیڈروں کی طرح عوام کو آئے روز احتجاج اور حکمرانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سنسان لال حویلی کی اندھیری راتوں میں کروٹیوں پر کروٹیں بدلنا ہے۔

 

موجودہ حکومت ان پانچ بِنا بیوی کے احتجاج پسند سیاستدانوں سے یقینی طور پر تنگ ہے اور اسی وجہ سے آئے روز کسی نا کسی مسئلے پر کمیٹیاں بنا کر ٹی او آرز بنائے جاتے ہیں۔

 

کیا ہی اچھا ہوکہ حکومت متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ٹی او آرز پر متفق ہونے کی بجائے ان پانچوں سیاستدانوں کی شادیاں کروادے اور جیسا کہ ان میں سے ایک کی دوسری شادی کے بعد مزکورہ سیاستدان کچھ سکون میں تھے۔ امید ہے کہ شادیاں ہونے پر یہ پانچوں سیاستدان اپنی بھڑاس گھروں میں ہی نکال لیں گے اور عوام کو تنگ نہیں کریں گے۔