بلوچستان میں خواتین کا بدلتا کردار

(فوزیہ خان)

یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین صوبوں میں ہوتا ہے کہ جہاں روایتی اور معاشرتی طور پر مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل تھی مگر گذشتہ دو تین دھائیوں سے ایک واضح تبدیلی نمایاں ہو رہی ہے۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد بلوچستان میں جائزحقوق کیلئے اٹھنے والی مختلف تحریکوں میں شامل ہو کر معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ طویل عرصے کی بے چینی اور معاشرتی استحصال نے ستر کی دھائی میں ایک انقلاب کو جنم دیا اور موجودہ صورتحال نے بھی سب سے زیادہ بلوچ عورتوں کو ہی متاثر کیا ہے۔یہاں تک کہ بیشتر خواتین براہ راست فائرنگ اور بمباری کی زد میں آکر ہلاک ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں یہ واقعات سب سے زیادہ رونما ہوئے۔
مگرموجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے کہ بین الاقوامی این جی اوز اور حکومتی اقدامات سے خواتین کے معاشرتی حالات بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں مگر دیگر قبائلی معاشروں کی طرح بلوچی خواتین کا استحصال اگر ختم نہیں ہوا تو کم ضرور ہوا ہے۔ پاکستان بھر میں صوبہ بلوچستان میں بالغوں معیارِ تعلیم 39فیصد ہے جبکہ خواتین میں 18فیصد ہے۔ یہاں ایک طرف تو آبادی میں اضافے نے معاشرتی طور پر عورت کو اہمیت کے لحاظ سے مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے جس کی بنیادی وجہ قبائلی طرزِ زندگی اور طویل عرصے سے جاری غیر متوازن حکومتی و سیاسی پالیسیاں ہیں جس سے سب سے زیادہ متاثر بلوچ عورت ہوئی ہے کہ وہ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے تاحال محروم ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غربت و فاقوں کے ساتھ ساتھ بے تحاشا بچوں کی پیدائش کی وجہ سے شادی شدہ عورتوں میں بیماریاں اور اموات زیادہ ہیں۔ بلوچستان میں 7300افراد پر ایک ڈاکٹر ہے جس میں بھی 100میں صرف 15خواتین ڈاکٹرز موجود ہیں جو کہ سب شہری علاقوں میں ہیں۔ دیہی علاقے جو شہر سے خاصے دور ہیں اتنی زیادہ شرح اموات و بیماریاں ہیں۔ یہاں قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ قبائلی رسوم و رواج اور روایتی شرم و حیا کی وجہ سے خواتین اپنے جنسی و تولیدی مسائل سے نابلد ہیں یا مرد ڈاکٹر اور دیگر طبی اسٹاف سے بات کرنے سے فطرتی طور پر گریز ں ہیں۔
یہ بات تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اپنی پچاس فیصد آبادی کو معاشری سرگرمیوں سے الگ رکھ کر سو فیصد ترقی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ خواتین کی روزہ مرہ سرگرمیوں میں شمولیت ناگزیر ہے۔ جب تک کہ انہیں مردوں کے شانہ بشانہ سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے مواقع میسر نہیں ہوں گے تو وہ معاشرہ یا قبیلہ کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ جہاں تک بلوچ خواتین کا تعلق ہے چونکہ ان کی اکثریت وہاں کی روایتی قبائلی طرز زندگی اپنائے ہوئے ہے تو اس کامعمول کا کردار بظاہر گھر داری تک محدود ہے مگر یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس طرح کی طرزِ معاشرت میں قبیلے اور گروہ کا ہر بچہ گھر پر ماں کے ہاتھوں ہی پل کر جواں ہوتا ہے۔ بلوچ قبائلی زندگی کی اصل محافظ و معاون بلوچ عورت ہی ہے۔ چاہے بلوچی زبان ہو، روایات یا حکایات ہوں، دستکاری، مقامی رقص اور موسیقی ہو یا رسوم و رواج۔۔۔ یہ سب اس بلوچ عورت ہی کے مرہونِ منت ہیں جو ابھی تک قائم و دائم ہیں۔
موجودہ دور میں یہ حیران کن صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ کہ عام تاثر کے برعکس دیگر صوبائی علاقوں کے مقابلے میں بلوچ قوم میں عورت اور مرد کی اہمیت اور مقام میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی۔ نہ ہی عزت کے نام قتل ، فرسودہ رسم کاروکاری صرف عورتوں کے قتل تک محدود ہے۔ یعنی وہاں چوری اور بے ایمانی کے نتیجے میں قبائلی رواج کے مطابق مرد ہو یا عورت سزا دونوں کیلئے برابر ہے۔ یہاں تک کہ وراثت میں بھی حصہ برابری کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح شادی کے موقع پر لڑکی کی رضامندی بھی حاصل کی جاتی ہے۔ بیوہ اور طلاق شدہ عورت کو بھی باعزت طور پر قبیلے میں ہی دوسری شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ دنیا میں مرد پرور معاشروں میں عورت عموماً ثانوی حیثیت رکھتی ہے مگر بلوچوں میں عورت گھر اور خاندان میں مکمل اور مطلق العنان حیثیت رکھتی ہے۔ بلوچ قبائلی نظام میں ماں بچوں کی پرورش اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
میڈیا (ٹی وی) کی وجہ سے ایک واضح تبدیلی نظر آرہی ہے اور قبائلی رسوم و رواج کے ساتھ تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق میڈیکل کالج میں لڑکیوں کے داخلہ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں خواتین معالجین میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف کھیل کے میدان میں ہر 11میں سے 6لڑکیاں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی سیاسی حالات میں تیزی سے رونما ہوتی تبدیلی نے قبائلی خواتین کو بھی سیاست اور حکومت میں شامل ہو کر ملکی ترقی کے دھارے میں شامل کر لیا ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تمام حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں میں بلوچ قبائلی عورتیں اپنے حقوق کے حصول کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ شامل ہو رہی ہیں۔ اس میں ان کو پولیس اور دیگر اداروں کی طر ف سے لاٹھیاں، آنسو گیس اور تشدد کا بھی برابر کا سامنا کرنا پڑا ہے یہاں تک کہ بھول ہڑتال میں بھی شامل رہی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں قومی اور صوبائی سیٹوں پر بلوچ خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
ایک اور اہم اور قابل تذکرہ بات ان بلوچ خواتین کا اپنے مسائل سے واقفیت اور ان کے ممکنہ حل کیلئے این جی اوز میں شامل ہو کر بھرپور سماجی کام کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بلوچ عورت چاہے تو جلد ہی بلوچستان میں موجود احساسِ مظلومیت میں کمی لا سکتی ہے اور وہ صوبائی طور پر ایک بار پھر سے پاکستان کی ترقی میں اپنا اہم ترین کردار ادا کر سکتی ہے ۔

 

(خصوصی شکریہ: فوزیہ خان اور trt.net.tr)