عورتوں کا ادب:کچھ پرانے اور کچھ نئے سوال

( حامدی کاشمیری )

موجودہ شعری صورت حال پر (فی الوقت شعری صورت حال ہی پیش نظر ہے ) جو کم و بیش مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھی موجود ہے۔ایک نظر ڈال کر تنقیدی تناظر میں تانیثیت کے حولے سے کئی سوالات سر اُٹھاتے ہیں،مثلاً :
۱۔ تانیثی ادب / تانیثی تنقید کی اصطلاحات وضع کرنے کا کیا جواز ہے ؟
۲۔ کیا خواتین کی تخلیقی حسیت مردوں سے مختلف ہے ؟
۳۔ قدیم ادوار میں عورتوں نے مردوں کی طرح قلم ہاتھ میں کیوں نہیں لیا ؟
۴۔ کیا خواتین کے لکھنے کے محرکات مردوں سے مختلف ہیں ؟
۵۔ کیا خواتین قلم کار مروجہ زبان میں جو مردوں کی زبان ہے، ترسیلیت کا حق ادا کرتی ہیں ؟
۶۔ خواتین، تنقید نگاری میں مردوں سے پیچھے کیوں ہیں ؟
۷۔ کیا مرد نقاد،نسوانی تخلیقات کا غیر جانب دارانہ اور منصفانہ احتساب کر سکتے ہیں ؟
ان سوالات اور اس نوع کے دیگر سوالات کا جواب تلاشنے سے قبل (جس کی کوشش آگے کی جائے گی ) خواتین قلم کاروں کے مجموعی Output کی تنگ دامنی کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ جس طرح قدیم زمانے سے مرد تخلیق کار ذہنی تحفظات اور امتناعات سے ماورا ہو کر،آزادی نفس کے ساتھ لکھتے رہے ہیں،خواتین ایسے خطوط پر لکھنے سے محترز اور معذورہی ہیں۔اس کا سبب جاننے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ معاشرتی،تمدنی اور معاشی پس منظر میں مردوں کے معاشرے میں عورت کا کیا مقام رہا ہے،اور وہ کس حد تک اپنی شخصیت کی تخلیقی انرجی کا ادراک، تحفظ،استحکام اور اظہار کرتی رہی ہے۔یہ گویا عورت کا گھریلو، ازدواجی، سماجی اور تمدنی حیثیت اور اس سے بڑھ کر اس کی تخلیقی انفرادیت کو دریافت کرنے کا عمل ہے۔
مرد مرکزمعاشرے میں عورت ہمیشہ سے محکومیت،پس ماندگی،گمنامی،توہم پرستانہ اور مجبوری کی زندگی گزارتی رہی ہے۔ مردوں کے عورتوں کے تئیں اس سلوک کو روا رکھنے کے پیش نظر،مردوں کے عورت کو’ ’نصف بہتر ‘‘ قرار دینے کو ریاکارانہ رویے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ مرد کی جنسی،جمالیاتی اور معاشرتی ضرورتوں اور رفاقتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود عورت کو مروجہ پدری نظام،ذیلی حیثیت ہی دیتا رہا ہے۔اس سے بھی زیادہ تر دد انگیز بات یہ ہے کہ وہ قدیم معاشروں میں عورت کو لونڈی یا کنیز کا درجہ دیتا رہا ہے اور بھیڑ بکریوں کی طرح اس کی خرید و فروخت میں ملوث رہا ہے۔جہاں تک مردوں کی ادبی تحریروں کا تعلق ہے ان میں بھی وہ اس کی وفا شعاری پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے یا اپنی بے وفائی کے باوجود اس سے تقاضائے وفاکرتے ہوئے اور Frailty thy name is woman کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک محبوبہ کے طور پر ہی پیش کرتا رہا اور عورت بھی’ مرتا کیانہ کرتا ‘ کے مقولے کے پیش نظر اپنی انفرادی حیثیت کو تج کر مرد عاشق کے لیے اپنے آپ کو طوعاً و کرہاً پیش کرنے یاا س کی جمالیاتی اور جذباتی تشفی کا سامان کرنے کا کردار اداکرتی رہی۔شیکسپئیر کے ڈرامے اوتھیلو میں لیڈی مونا،جو حسن و نزاکت کا مجسمہ ہے، ایک کالے فوجی آفیسر اوتھیلو سے محبت کرنے اور پھر اپنی پاک دامنی اور وفا پر اوتھول کے شک کرنے پر جان کی قربانی دینے پر مجبور ہو تی ہے۔تھامس ہارڈی کے ناول The Mager of Casterbridge میں Henchard اپنی بیوی کو نا کردہ گناہی کے باوجود سر عام میلے میں نیلام کرتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بقول اقبال ’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ ‘‘ کا اعتراف کرنے کے باوجود انسانی تاریخ میں جسے صرف مردوں کی جولاں گاہ قرار دیا گیا ہے اور جو مردوں کے کارناموں کے لیے مختص رہی ہے، عورت یک سر غائب ہے۔قدیم ادوار کی تہذیبی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ عورت مردوں کی جنسی ضرورت پورا کرنے اور گھر کی چار دیواری میں رہ کر بچوں کی پرورش اور نگہداشت پر مامور تھی۔ وہ گھریلو کام کاج کے ساتھ کسبِ ہنر سے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں شریک رہی ہے۔ پھر اجتماعی،سماجی اور سیاسی زندگی میں اس کی شرکت برائے نام تھی اور وہ تعلیم کی برکتوں سے بھی محروم رہی۔ظاہر ہے اس پس منظر میں عورت کے لیے ادبی مشاغل میں حصہ لینا اور ادب کے وسیلے سے اپنے وجود کا اثبات کرنا تقریباً نا ممکن بنا رہا۔ فنون لطیفہ میں حصہ تو دور کی بات ہے،معاشرت اور سیاست میں اس کی حیثیت محض حاشیے کی رہی ہے۔Cixous کے خیال میں کئی عورتیں،عورت کے وجود کے ساتھ ہی اس کے کسی مقام کے بارے میں بھی شبہات رکھتی ہیں۔اب اگر بعض محدود دائروں مثلاً گر ہستی دائرے میں اس کے وجود کو تسلیم کیا گیا تو بھی اس کی انسانی حیثیت سے صرف نظر کیا گیا۔ اسے بطور انساں،نام و نمود کی فطری اور جبلی خواہش کا گلا دبا کے اس کی زبان چھین لی گئی اور صدیوں تک اس کی خواہشوں،ضروریات، انانیت،ترسیلیت اور تخلیقیت سے انکار کیا جاتا رہا۔ا دب، اس کے لیے شجر ممنوعہ قرار دیا گیا،یہی وجہ ہے کہ اردو کے قدیم تذکروں میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ میر تقی میر نے اپنے تذکرے ’’نکات الشعرأ ‘‘میں اور تو اور اپنی شاعرہ بیٹی ’’بیگم ‘‘ کو بھی جگہ دینے سے انکار کیا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ صدیوں کے مردانہ سماج میں رہ کر عورتیں نفسیاتی طور پر اس حد تک مردوں کی بالا دستی کو قبول کر چکی ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے شریک غالب کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں،بلکہ خود ہی اپنی بنیادی انسانی حیثیت سے بھی صرف نظر کر کے مردوں کی تابع مہمل بن کر رہ گئی ہیں۔ان کے لیے صرف ایک مسئلہ رہ گیا ہے،وہ یہ کہ تحفظ ذات اور اس کے پیش نظر مردوں کے زیر سایہ رہ کر زندہ رہنے کا رجحان ان کی سائیکی کا حصہ بن کر ان کی فطرت بن چکا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں حصہ لینے اور بعض صورتوں میں اپنی ذات اور اہلیت کا احساس کرنے یا احساس دلانے کے باوجود مردوں کےPatriarchal سے زیادہ صورت حال میں کوئی نمایاں فرق واقع نہیں ہوا ہے۔حالیہ برسوں میں ٹیلی ویژن پر ڈراموں یا اشتہارات میں وہ مردوں کے استحصالی رویوں کو بے چون وچرا قبول کرتی نظر آتی ہیں۔ٹی وی Adds کے ذریعے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے جو مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ اپنے جسم کو Commercialise کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔معاشی مجبوری کے ساتھ ساتھ وہ شاید ان کی نفسیاتی ضرورت بھی بن گئی یعنی موجودہ کاروباری،صارفانہ اور مقابلہ آرائی کے دور میں پیٹ بھرنے اور تن ڈھاپنے کے ساتھ ساتھ خود کی اور گھر کی آرائش کے لیے وہ اپنے آپ کا استحصال کرانے میں تامل نہیں کرتیں۔
عورت پر مردانہ تغلب اور بالا دستی کے نتیجے میں عورت کی شکست،محرومی اور پسپائی کا مردوں کو احساس ہو یا نہ ہو، خود عورت بطور انسان اسے شدت سے محسوس کرنے سے باز نہیں رہ سکتی،لیکن مردوں کے سماجی اداروں کی حکمرانی میں وہ زبان کھولنا تو درکنار آہ کرنے سے بھی گریز کرتی رہی ہے۔اس پس منظر میں یہ ادبی کار گزاری ہی تھی جو اس کی نجات کا راستہ کھول سکتی تھی اور اس کے وسیلے سے عورت بقول فرائیڈ اپنی دبی ہوئی اور کچلی ہوئی شخصیت کا اظہار کر سکتی تھی۔چنانچہ مغرب میں انیسویں صدی میں عورتوں نے ادب کا سہار الیا،اسی طرح بیسویں صدی میں اردو کی بعض قلم کار خواتین کے ادبی اظہارات منظر عام پر آئے لیکن تعجب یہ ہے کہ عورتوں نے ادبی اظہارات کو اپنے احتجاج کا ذریعہ بنانے،اپنی حیثیت کو منوانے یا اپنی شناخت کروانے کے بجائے اپنی جنس(Gender) ہی کو نظر انداز کر کے اپنی فطری نسائیت کو پس پشت ڈال کر Male Dominated Society میں مردوں کا سایہ بن کرجینے میں اپنی عافیت سمجھ لی اور مردوں ہی کے نظریات،عقائد اورمحسوسات کو بے کم و کاست اپنے اوپر اوڑھتی رہیں اور تو اور وہ مردوں ہی کی زبان بھی استعمال کرتی رہیں۔و ہ یہ بھول گئیں کہ وہ بھی ’’ اپنے من میں ڈوب کر ‘‘ اپنی تخلیقی حسیت کو بروئے کار لا کر اپنے وجود کا اثبات کر سکتی ہیں۔اس ضمن میں عورت کا عورت پن ہی اس کی شخصیت کے ترفع کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے تخلیقی شعور کی پرداخت کر سکتا ہے اور یہ اس کا صنفی رویہ ہی ہے جو اس کے ادبی تجربات کی تشکیل کر سکتا ہے اور اس کی تخلیقات کے استناد کا ضامن ہوسکتا ہے۔لیکن صورت حال یہ ہے کہ قلم کے ذریعے اپنی اصل کو منکشف کرنے کے بجائے عورتیں اپنی ادبی تحریروں میں مردوں کی زبان،ا ن کے جذبات، ان کی سائیکی اور حسن وعشق کے بارے میں ان کے تصورات کو پیش کرنے سے ہچکچاتی نہیں، نتیجتاً وہ اپنی اصلی شناخت کو قائم نہیں کر پاتیں۔
یہ امر بہر کیف خوش آیند ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں مرد اساس معاشرے میں عورتوں نے تعلیم کی برکتوں سے فیض یاب ہو کر اور فکر و آگہی کے فروغ کے نتیجے میں شعوری طور پر اپنے بارے میں سوچنا شروع کیا اور اپنی شخصی،سماجی اور معاشی آزادی کے حق میں تحریکیں چلانا شروع کیں۔ امریکا میں آزادی نسواں تحریک ۱۹۶۰ء کے اواخر میں چلی،جس کا اثر انگلستان کی نسوانی تحریک پر بھی پڑا۔یہ جرمنی اور فرانس میں بھی جلد زور پکڑنے لگی ۔امریکا میں نسوانی آزادی اور نسوانی ادب و تنقید کو یونیورسٹیوں کے ادبی شعبوں اور نسوانی مطالعات کے شعبوں میں رائج کیا گیا ہے۔انگلستان اور فرانس میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تحت نسوانی تحریک کو تقویت ملی۔مختلف تنظیمیں اورجماعتیں وجود میں آئیں، عورتوں کی سوانحی کتابیں چھپ گئیں۔اس طرح سے عورت حصار زمانہ سے نکل کر کار زار حیات میں حصہ لینے پراصرار کرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ وہ زندگی کے مختلف شعبوں طب،قانون، تدریس،کھیل کود، سیاست،انجینئرنگ، اور کمپیوٹر میں اپنا لوہا منوانے کی جدوجہد کرتی رہی ہیں اور وہ سماجی برابری،آزادی،شخصی توقیر کے لیے ایک زور دار جدوجہد میں مصروف ہو گئی۔ چنانچہ موجودہ عہد تک آتے آتے،عورت کو تولد دیگرے کے عمل سے گزرنا پڑا اور اسے اپنے ہونے کا احساس کرنے او ر احساس دلانے کے لیے بڑے بڑے کٹھن مراحل سے بھی گزرنا پڑا ہے۔حالیہ برسوں میں اس نے جو کچھ لکھا ہے اور خاص کر جو کچھ اس وقت لکھا جا رہا ہے، وہ اس کے وجود کی تخلیقی اور سماجی اثباتیت کی طرف اشارہ کناں ہے۔
اس حقیقت کو مد نظر رکھ کرکہ عورت اپنے جسم اور جسم کی بدلتی حالتوں،ماں بننے کی صلاحیتوں اور اپنی جنس کی بنا پر مرد سے مختلف ہے اور اس پر دریدا کا binary opposites ٰ یعنی مرد / عورت کا تصور منطبق ہوتاہے،جس کی رو سے عورت جنسی،جسمانی اور نفسیاتی طور پر مرد سے الگ ہے۔ فن کارانہ سطح پر اپنے غالب مخالف جنس کی زبان میں جو بقول “Oppressor’s Language” Richہے اپنے نازک،لطیف (Subtle) اور گریزاں محسوسات کو پیش کرنے کی سعی کرتی ہے اور حتیٰ المقدور مرد ادیبوں کے مقابلے میں اپنی تحریروں میں زبان،اسلوب،لب و لہجہ،رویوں، کردار،صنف اور تجربوں کے تعلق سے فرق روا رکھتی ہے۔وہ مرد کے مقابلے میں عورت کے درجے،طرز زندگی،مذاق، مشاغل،رنگ،نسل اور خواہشات کو بھی نسائی رنگ عطا کرتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک منفرد تانیثی ادبی کلچرکو صورت پذیر کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ وہ بقول مشہور تانیثی نقاد شووالٹر ’’ حیات،لسانیات، تحلیل نفسی اور تمدن‘‘ چار (Models of Difference) کو نمایاں کر رہی ہے۔ اس طرح سے تانیثی ادب میں لسانی جمالیات اور تخلیقیت کی شناخت دائرہ امکاں میں آتی ہے۔ مجموی طور پر خواتین قلم کاروں کی شخصیت resistence،کشمکش، بے بسی کے ساتھ ساتھ خواب بینی،مثالیت،رومانیت، عافیت پسندی اور جنسی آگہی کے علاوہ باغیانہ ردعمل اور مفاہمانہ رویے کے تضادات پر محیط ہو جاتی ہے۔

———————————-

ادارہ ’’ایک روزن‘‘ خواتین حقوق اور تھیوری پر مسلسل مضامین شائع کر رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے قارئین کے لیے و اہم موضوعات پر اعلیٰ تحریریں پیش کریں۔ یہ مضمون پروفیسر حامدی کاشمیری صاحب کے ایک مضمون’’تانیثی ادب : تنقیدی تناظر میں ‘‘ سے لیا گیا ہے۔