ہائیڈل برگ کی ہائی سٹریٹ

ہائیڈل برگ کی ڈائری سے ایک صفحہ

لکھاری کی تصویر
صاحب مضمون، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

(ناصر عباس نیر)

دو دن پہلے ڈاکٹر کرسٹینا نے کہا تھا کہ آج شام ہم پرانے شہر جائیں گے۔ وہ مجھے پاکستانی اور ہندوستانی دکانیں دکھائیں گی اور رات ساڑھے دس بجے یونیورسٹی کی ۶۲۵ سالہ تقریبات کے سلسلے میں آتش بازی ہوگی۔ وہ مل کر دیکھیں گے۔ہائیڈل برگ یونیورسٹی ،جرمنی کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کے بغیر ہائیڈل برگ محض ایک سبزپہاڑوں میں گھر اایک قصبہ ہے،جس میں ایک چھوٹا سا دریا بہتا ہے۔ بلاشبہ یہ فطرت کے حسن کا زبردست نمونہ ہے، مگر منفرد ہرگز نہیں؛فطرت کے ایسے نمونے دنیامیں جابجا ہیں،اور بعض اس سے کہیں زیادہ خوب صورت ہیں۔یونیورسٹی نے اس شہر کو سائنس، ادب، تاریخ اور ثقافت سے سرفراز کیا ہے۔فطرت کی دست گیری جب انسانی تخیل اور ذہن،اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کرتے ہیں تو ہائیڈل برگ، لندن،استنبول ،اصفہان اور لاہور وجود میں آتے ہیں۔
ہم ساڑھے چھ بجے (ویسے ساڑھے چھ بجے یہاں سہ پہر ہوتی ہے تو ساڑھے نو بجے مغرب ہوتی ہے) اکتیس نمبر بس میں بیٹھ کر ہیپٹا نوف سے اگلے سٹاپ پر اتر گئے۔ باہن سٹراسے کی طرف چلے۔ یہ سڑک صحیح معنوں میں بین الاقوامی کہی جا سکتی ہے۔ یہاں چینی، انڈونیشائی، تھائی، پاکستانی، ہندوستانی دکانیں اور ریستوران ہیں۔ہائیڈل برگ کی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں میں نصف لاکھ کے قریب غیر ملکی باشندے ہیں،مگرزیادہ تر طالب علم ہیں یا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں،جو یہاں ملازمت کررہے ہیں،اور اسلحاظ سے یہ ایک عوامی شہر نہیں ہے۔جہاں اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی ہوں گے، کچھ ان کے ہم وطن بھی چلے آئیں گے جو انھیں اپنے وطن کے کھانے کھلائیں گے۔
ہم پیدل چلتے ہوئے پرانے شہر کی ہائی سٹریٹ میں گئے۔ یہ اس شہر کی سب سے خوبصورت گلی ہے۔ اس شہر کا اوّلین ذکر تو بارھویں صدی کی آخری دہائی میں ملتا ہے، لیکن اس کی تعمیرتیرھویں صدی عیسوی میں کی گئی،جس کی بڑی یادگار یہاں کا دور سے نظر آنے والا کیسل ہے۔اسی گلی میں سترھویں سے انیسویں صدی کی عمارات ہیں۔ اگرچہ ہائی سٹریٹ میں کرسٹ چرچ اور ٹاؤن ہال ہیں، جوگھروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کن ہیں،اور کیوں نہ ہوں ،زمینی اور آسمانی خداؤں کے گھروں کی تعمیر میں ،ان کے ماننے والوں اور محکوموں کے جملہ مادی وذہنی وسائل کام آتے ہیں۔ ان پرانی عمارتوں کے دروازوں اور کونوں پر انسانی شبیہیں بنی ہوئی ہیں، کہیں کسیبشپ اور حضرت مریم کا مجسمہ بھی نظر آ جاتا ہے، مگر زیادہ تر اساطیری کرداروں کی شبیہیں ہی، جو شاید گلی سے گزرنے والوں، ان عمارات میں داخل ہونے والوں کو کوئی پیغام دیتی ہیں، یا محض انھیں گھورتی ہیں، یاان کی نگہبانی کرتی ہیں۔کچھ عمارات گوتھک طرز کی ہیں اور کچھ باروق طرز کی۔ دونوں کا اپنا اپنا جمال ہے، مگر مجھے گوتھک طرزِ تعمیر زیادہ اچھا لگتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی جارہی تھیں تو انھیں بنانے والوں نے ،انھیں نہ تو گوتھک کہا ،نہ باروق۔فنِ تعمیر کی یہ دونوں اصطلاحیں بعد میں وضع ہوئیں۔دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ اوّل اوّل گوتھک اور باروق ،دونوں حقارت آمیز اصطلاحیں تھیں۔ گوتھ،ایک جرمن قبیلہ تھا،جس نے عہد وسطیٰ میں رومیوں پر حملہ کیا تھا۔سولھویں صدی کے وسط میں ایک اطالوی مصنف جیورجیو وزاری نے اس طرزِ تعمیر کا گوتھک کا نام دیا، جس میں نشاۃ ثانیہ کی عمارات کے برعکس منصوبہ بندی کا فقدان تھا۔باروق ،جو ایک فرانسیسی لفظ ہے، شاید پرتگالی سے لیا گیا ہے، اس کا مفہوم ’ناتراشیدہ ہیرا‘ ہے۔
ہائیڈل برگ کی اس ہائی سٹریٹ میں ایک جرمن خاتون کے ساتھ ،ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال آرہا تھا کہ یہ عمارتیں کم ازکم مجھ سے کچھ کہنے کی کوشش کررہی ہیں،یا میں ان کو سننے اور سمجھنے کی ایک بے اختیار سی خواہش محسوس کررہا ہوں۔ ڈاکٹر کرسٹینا کے لیے ان میں اب کوئی خاص کشش شاید باقی نہیں رہی تھی ؛ ہائے مانوسیت اور تکرار،یہ دو ایسی بلائیں ہیں جو حسن، حیرت، عظمت کا خون چو س جاتی ہیں….،مگر مجھے ان کی قدامت متاثر کررہی تھی،میں ابھی ان سے مانوس نہیں ہوا تھا۔ آخر یہ قدیم چیزیں آدمی کو کیوں ایک انوکھی طلسمی کیفیت میں مبتلا کرتی ہیں؟میں نے سوچا۔ ایک قدیم عمارت،قدیم مخطوطہ، مصوری کا قدیم نمونہ، کوئی قدیم مجمسہ یا مورتی،،قدیم تاریخ، یہاں تک کہ کوئی قدیم ہتھیارکیوں آدمی کے اندر کچھ پراسرار قسم کی ،قدرے ناقابلِ بیان کیفیت کو جنم دیتے ہیں؟ کیا ہم ان کو دیکھتے ہوئے، وقت کی اس تباہ کن طاقت کو شکست کھاتا محسوس کرتے ہیں، جس کی بربادی کے آثار کو خود ہم اپنے اندر اور آس پاس مسلسل محسوس کرتے ہیں؟یا قدیم چیزیں ہمیں ،ان فراموش کردہ زمانوں، لوگوں،باتوں سے متعارف کروا رہی ہوتی ہیں، جن کا تسلسل خود ہم ہیں؟یا قدیم چیزیں ہمیں وہ کچھ بتانے کی کوشش کرتی ہیں، جسے ہم بھول بھال گئے ہوتے ہیں،مگروہ قدیم چیز کی روح میں شامل ہوتا ہے؟ شاید یہ سب باتیں درست ہیں۔ ہم تمام قدیم چیزوں سے ایک بالکل ذاتی قسم کا ،ولولہ انگیز تعلق محسوس کرتے ہیں۔میں ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اسی یورپ،اسی جرمنی میں کیسے انھی عمارتوں کو مذہبی کش مکش کے ہتھیار کے طورپر استعمال کیا گیا۔ باروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طرزِ تعمیرکیتھولک چرچ اور پروٹیسٹنٹ اصلاح پسندوں کے درمیان رزم گاہ بنا۔یہ کچھ کم حیرت کی بات نہیں کہ مذہبی کش مکش کا مظہر اور نشانہ عمارتیں بنتی رہی ہیں، دنیا بھر میں!
اسی ملک جرمنی کے گوٹن برگ اور مارٹن لوتھر ،دو ایسے آدمی تھے ،جنھوں نے پورے یورپ کی تقدیر بدل دی ،اور بعد ازاں دنیا کی۔پندرھویں صدی کے وسط میں گوٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا،جس نے لاطینی زبان اورشارلیمن کے زمانے سے چلی آرہی پوپ کی طاقت کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بہ یک وقت ایک سنار اورلوہار گوٹن برگ بڑا زبردست آدمی تھا۔۱۴۳۰ء کی دہائی میں وہ ایسے دھاتی آئنے بنانے میں لگا تھا، جن کے بارے میں ا س کا خیال تھا کہ ان میں گرجاؤں میں موجود مقدس اشیا کی روشنی منعکس ہوسکے گی۔مسلمانوں کے عہد وسطیٰ کی کیمیا گری سے ملتا جلتا عمل !اس وقت شاید خود ا س کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک عظیم راز تک پہنچنے والا تھا،یعنی ایک مشینی چھاپہ خانہ۔ جسے گوٹن برگی انقلاب کہا گیا ہے، اس کا آغاز بیالیس سطری بائبل کی اشاعت سے ۱۴۵۵ء میں ہوا، جو لاطینی میں شایع ہوئی۔ خود گوٹن برگ کیتھولک تھا،مگر اس کے چھاپے خانے نے وہ کام کیا جو اپنی پروٹیسٹنٹ قسم کا ہے۔ اسی صدی میں مارٹن لوتھر (۱۴۸۳ء)پیدا ہوا، جس نے بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا، جو اس زمانے میں ایک ورنیکلر یعنی عوام کی ناتراشیدہ زبان سمجھی جاتی تھی۔ اگر گوٹن برگ کا ایجاد کردہ چھاپہ خانہ نہ ہوتا تو بائبل کا جرمن ترجمہ وہ انقلاب نہ لاتا،جس کے نتیجے میں کیتھولک کے مقابلے میں پروٹیسٹنٹ اصلاح کا آغاز ہوا۔ لوتھر نے کتھولک چرچ کے نظریات اور تعلیمات پر سوالیہ نشان لگائے۔اس کا کہنا تھا کہ ایک شخص،خواہ پوپ جیسا عظیم اور مقدس ہی کیوں نہ ہو، وہ کیسے کسی کے گناہوں کو کسی عمل یا نقدی کے عوض دورکرسکتا ہے؟وہ نجات اور بخشش کا خدا کا انعام سمجھتا تھا، ایک پادری کا نہیں۔ اس نے بپتسمہ اور گناہوں سے نجات کے ان سب طریقوں کو مسترد کیا جو پوپ نے جاری کررکھے تھے۔لوتھر ایک طرح سے ’بنیاد پرست‘ تھا ،کیوں کہ وہ بائبل اور حضرت عیسیٰؑ کی بنیادی تعلیمات کو چرچ کی تعلیمات پر فوقیت دیتا تھا۔اس کی’ بنیاد پرستی‘ کی انتہا کا نشانہ یہودی بنے۔مسلمانوں سے وہ شدید مذہبی اختلاف رکھتا تھا ،مگرعثمانی ترکوں سے کسی مقدس جنگ کے خیال کے بھی خلاف تھا۔البتہ جب شاہ سلیمان نے ویانا کا محاصرہ کیا تو لوتھر نے کہا کہ اس کی مزاحمت نہیں کرنی چاہیے ،کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ وہ پاپائیت کے لیے قہر الہیٰ ہیں۔خیر، لوتھر کے جواب میں کیھولک رومن چرچ نے شدید ردّ عمل ظاہر کیا۔ کتنے پروٹیسنٹ مارے گئے ،یا ان کے گھر جلائے گئے ،یہ ایک الگ لمبی کہانی ہے،اور مذہبی منافرت کے بھیانک پن کی کہانی ہے ،جسے مختلف ناموں سے دنیا بھرمیں دہرایا جاتاہے، تاہم رومن کیتھولک نے پروٹیسٹنٹوں کے خلاف جو اقدامات تجویز کیے، ان میں تمام فنون کو کیتھولک مذہبی روح، ولولے اور موضوعات سے ہمکنار کرنا تھا۔باروق طرز کے تحت تعمیر کی گئی عمارتوں میں کیتھولک عقائد وتعلیمات سمونے کی کوشش ہوئی۔ میں ہائی سٹریٹ کی عمارتوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ مذہبی جوش کس کس ساحل سے ٹکراتا ہے۔ہمارے یہاں شہروں کو مسلمان بنانے کی کوششیں ہوئیں،اور عہد وسطیٰ سے جدید عہد تک کا یورپ ہر شے کو کیتھولک بنانے پر تلا تھا؛یہ ایک طرح سے گھروں کو بھی گرجے کی صورت دینے کی کوشش تھی۔شاید ا س کے پیچھے یہ خیال تھا کہ ایک عمارت کے ذریعے مذہبی تصورِ کائنات زیادہ مؤثر انداز میں، بغیر ابہام کے پیش کیا جاسکتا ہے،اور وہ دیرپا ہوتا ہے،اور ہر وقت نگاہ کے روبرو رہتا ہے ۔لیکن اس سے مذہب کا رنگ تو ہر جگہ نظر آسکتاہے ، مذہب نہیں؛ مذہب اپنی روح کو ایک عظیم ہستی یا بے کنار حقیقت کے روبرومحسوس کرنے ،جز کی سطح سے بلند اور آزاد ہونے، ایک بے کراں کیفیت کو عالم سرشاری میں محسوس کرنے، اور چھوٹی ، معمولی،نجی اغراض سے آزاد ہونے کی ناقابل بیان کیفیت سے عبارت ہے۔مذہب کے نام پر قائم ہونے والی حکومتوں یا سیاست یا تحریکوں یا عمارتوں میں باقی سب کچھ ہوتا ہے، بس یہ مذہب نہیں ہوتا۔
کوئی ایک گھنٹہ ہم چلتے رہے۔اسی گلی میں ڈاکٹر کرسٹینا نے ایکہندوستانی ریستوران میں رات کا کھانا کھلایا،جو دراصل ہم نے شام سے ذرا پہلے کھایا۔ میں نے پالک گوشت اور انھوں نے آلو بینگن پسند کیے۔ ہم نے انھیں چپاتیکہی، مگر انھوں نے ابلے ہوئے چاولوں پر ہمارے مطلوبہ سالن ڈال کر ہمارے آگے دھر دیے۔میں انھیں کیسے سمجھا تا کہ میں چاول نہیں کھا سکتا۔ خیر!میں نے تمام احتیاط کو بالاے طاق رکھا۔ عرصے بعد مرچ مصالحے والاکھانا کھایا تو خوب مزہ آیا۔شاید بے احتیاطی کا بھی کوئی مزہ ہوتا ہے،یا اپنے دیس کے کھانوں کا بھی ایک ناستلجیا ہوتا ہے!!
ہمارے پاس کافی وقت تھا۔ اس لیے ہم نے شہر کی خوب سیر کی۔ نیکر کے پرانے پل پر گئے۔ وہیں آتش بازی ہونی تھی، اسی لیے شام پانچ بجے سے اسے بند کر دیا گیا تھا۔ دوپہر سے بونداباندی ہو رہی تھی اور ہم دعا کر رہے تھے کہ بارش نہ ہو تاکہ آتش بازی ہو سکے۔ پُل کے سامنے گلی میں کئیبسٹروہیں۔ وہیں ایک بسٹر ومیں بیٹھ کر کافی پی۔ چلتے ہوئے ،کھانا کھاتے ہوئے اور کافی پیتے ہوئے ان سے کئی موضوعات پر باتیں ہوئی۔ زیادہ تر ہائیڈل برگ کے بارے میں، اور کچھ گوئٹے اور اقبال سے متعلق اور کچھ ان کی اردو سے وابستگی کے بارے میں۔
بارش نہیں ہوئی، اس لیے ٹھیک وقت پر آتش بازی ہوئی۔ ہم چلتے چلتے دریا کے دوسرے پل پر پہنچے۔ وہاں سے آسمان میں آگ سے آرٹ تخلیق کرنے کے اس زبردست مظاہرے کو ٹھیک طرح سے دیکھا جا سکتا تھااور داد دی جا سکتی تھی، مگر یہ داددل ہی دل میں یا تماشائیوں کے سامنے دی جاسکتی تھی کیوں کہ وہ آرٹسٹ جو نسل در نسل اس فن سے وابستہ ہیں، ہم سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ پہلے کیسل کو آگ میں نہلایا گیا۔ اس کیسل کو سولھویں صدی میں فرانسیسوں نے تباہ کیا تھا اور آگ لگائی تھی۔ اس سے پہلے کہ پورا کیسل جل کر راکھ ہو جاتا، ایک فرانسیسی جرنیل نے کیسل کو بچا لیا۔ چناں چہ اب یہ کیسل آدھا جلا ہوا اور آدھا سلامت ہے اور پورے کیسل کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا کام ہو رہا ہے۔ کیسل کو روشن کرنے کا طریقہ انوکھا ہے۔ کچھ اس انداز سے اسے منور کیا جاتا ہے کہ لگتا ہے اسے آگ لگی ہوئی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس طور یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم اس آگ کو نہیں بھولے،اور اس آگ سے پھیلنے والی تباہی کو نہیں بھولے ۔گویا ایک طرح سے اپنی یادداشت کی گم شدگی کے خلاف مزاحمت ہے۔کیسل کو اس طرح آگ میں نہلانے،یا روشن کرنے میں تفریح، سنجیدگی، فن ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں۔اس منظر کو دیکھتے ہوئے ، ا س بات کو نظرا نداز نہیں کیا جاسکتا کہ آگ بربادی ہی کی نہیں، روشنی اور حرارت کی علامت بھی ہے۔کم ازکم میرے لیے یہ منظر دلچسپ،حیرت انگیز اور یاد گار تھا۔یہ ایک الیوژن تھا ،مگر حقیقی معلوم ہوتا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اس نئے مفہوم کو جس طور پیش کیا جاتا ہے، فرانسیسی فوج کی جرمن قوم سے دشمنی کی یاد بہرحال تازہ ہوتی ہے،اور اس طرح کے واقعات ایک قوم کے خلاف دشمنی اور اپنی قوم کے لیے محبت کے جذبات کو بہ یک وقت ہوا دیتے ہیں۔قوم پرستی بھی کیا انوکھی شے ہے__ کیسل بس چند منٹ ہی آگ میں جلتا/روشن ہوتا ہے۔ اس کے بعد پرانے پل پر آتش بازی شروع ہوئی۔ کوئی آدھ گھنٹے تک رنگ و نور کی بارش ہوئی۔ بے ضرر چنگاریوں سے فضا میں عجب پیٹرن بنائے گئے۔ طبعی ستاروں کے جھرمٹ، کبھی پھول، کبھی دائرے اور کبھی فوارے۔ فضا میں فقط چنگاریاں چھوڑنے کا نام آتش بازی نہیں، موسیقی کی طرح ہے، ایک خیال کو سو رنگ سے ادا کرنے کا نام ہے! اور پھر دریا میں جس طور فضا میں نور کی برسات سے بننے والے پیٹرن منعکس تھے اور لرزرتے تھے، ان کا الگ لطف تھا!
رات کے بارہ بجے ،یہ سب میرے اندر روشن ہے،اور شاید طویل عرصے تک روشن رہے!!

About ناصر عباس نیرّ 36 Articles
ڈاکٹر ناصرعباس نیر اردو زبان کے تنقیدی ادب کا ایک با اعتبار حوالہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی مستند کتابوں کے مصنف ہیں: ان میں ● جدید اور مابعد جدید تنقید ● لسانیات اور تنقید ● متن ،سیاق اور تناظر ● مجید امجد: حیات، شعریات اور جمالیات ● ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری ● مابعد نو آبادیات اردو کے تناظر میں ● اردو ادب کی تشکیل جدید شامل ہیں۔ ان کی زرخیز ذہنی صلاحیتوں کے با وصف ہم یقین رکھ سکتے ہیں ک کتابوں کی یہ فہرست بڑھتی ہی جائے گی۔ حال ہی میں فکشن میں بھی اپنا ایک توانا حوالہ اپنی افسانوں کی کتاب ●خاک کی مہک کی صورت مہا کر چکے ہیں۔ جبکہ ● چراغ آفریدم انشائیہ کی طرف ان کی دین ہے۔ ● اردو تنقید پر مغربی اثرات کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ ہائیڈل برگ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کے حامل ہیں۔ ite here abotu Nasir abbas

1 Comment

  1. بہت دلچسپ مضمون ہے معلوماتی ،تاریخی،اور نظریاتی بھی، مذہب کے نام پر قائم ہونے والی حکومتوں ،تحریکوں، یا سیاستوں یا عمارتوں میں باقی سب کچھ ہوتا ہے بس یہ مذہب نہیں ہوتا،،
    کیا خوب تجزیاتی سطریں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.