تقسیم در تقسیم کا عہد: ادب عالیہ اور “غیر” کا ادراک

(یاسر چٹھہ)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک یونانی، انگریز، جرمن اور ایک ہی ہسپانوی کہیں جانے کے لئے ہم سفر تھے۔ ان سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر کوئی ایک ایک کہانی لکھے گا۔ یہ ایسی کہانی ہوگی کہ جو اپنے اپنے طور پر پوری کوشش کرے گی انسانی بپتاؤں کو زبان دے سکے۔

یونانی گویا ہوا کہ بھیا میں تو ایک ایسے شخص کی کہانی لکھوں گا جسے سمندر میں پھینک دیا گیا تھا۔ وہ بچ کر واپس تو کسی نا کسی طور آ جاتا ہے، لیکن اس کے لئے واپسی کچھ ایسی خوشگوار ثابت نہیں ہوتی؛ واپس آنے پر اسے کوئی بھی پہچان نہیں پاتا۔ حتی کہ اس کی بیوی بھی اسے پہچاننے سے قاصر رہ جاتی ہے۔

یاسرچٹھہ

اب انگریز کی جانب سے اپنی نئی آنے والی کہانی کے متعلق بات کرنے کی باری آئی۔ انگریز نے آنکھوں میں گولائی پیدا کی، کہ جیسے وہ اس بات کو کہیں اپنے شعور کی گہرائیوں سے سمیٹ رہا ہو، نے کہا کہ وہ تذبذب کے شکار ایک شہزادے کی کہانی لکھے گا؛ یہ شہزادہ اس وجودی گتھی کو سلجھانے کی مشکل سے نبرد آزما تھا کہ اس دنیا میں جینا واقعتا کسی قدر کا حامل ہے۔

ہسپانوی اپنی کہانی کے متعلق بتانے لگا کہ وہ ایک کسان کے متعلق کہانی لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ کسان نیم مجنون قسم کا آدمی ہے؛ اپنے آپ کو سورما سمجھتا ہے۔ یہ اپنے ایک خارش زدہ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر بے سر و پا مہمات کے ایک سلسلے پر چل نکلتا ہے۔ اب جرمن اپنی باری آنے پر کہتا ہے کہ کہانی وہ بھی یقینا لکھے گا۔

اس جرمن کے بقول اس کی کہانی کا موضوع ہوگا ایک ایسا نوجوان جسے شدید محبت ہو گئی ہے۔ جوانی میں محبت کا ہوجانا کسی طور بھی انہونا ہر گز نہیں ہوتا، پر یہاں کا نیم انہونا پن یہ تھا کہ اسے محبت ہوئی ہے تو کسی اور سے نہیں، بلکہ ایک شادی شدہ عورت سے! جذبات کے تلاطم کا بیشتر حصہ یک طرفہ بہتا ہے۔ اخیر میں شدت محبت اس نوجوان کو موت کی آغوش میں لے جاتی ہے۔

فرض کیجئے کہ ہم یورپ کے پورے کے پورے ادب کے آثار و احوال پر مربوط و مبسوط نظر ڈالتے ہیں۔ ایسی کسی نظر کے سامنے جو کچھ آشکار ہوتا ہے وہ لگ بھگ اوپری سطروں میں عکس بند صورت حال کا ہی منظر پیش کرتا ہے۔ اوپری تمثیل تقریبا ایسے منظر نامہ کی بنت کاری کرتی ہے، جس طرح کہا جائے کہ بعینہ اسی طور پر ہومر (Homer) نے اپنی رزمیہ (epic) لکھی؛ شیکسپیئر نے اپنا ڈرامہ تخلیق کیا، اور سروانتے (Cervantes) نے شوق سفر کی زمین پر ناول رقم کیے؛ اور اسی آہنگ و رنگ میں حضرت گوئٹے نے رومانویت کی اولین کھیتیاں کاشت کیں۔

آپ کو ہو سکتا ہے یہ مذاق سا لگے، پر یورپی ادب کی تاریخ کچھ ایسے ڈھب سے ہی چلتی دکھائی دیتی ہے۔ اس بابت ایک اور بڑی تعجب خیز بات ہے۔ یہ کردار ہی آج کے دنوں کے کسی بھی جدید اور مابعد جدید عہد کی کہانی، قصے یا دیگر کسی بیانیے کی پہلی پہلی کڑی ہوتے ہیں۔ یہ کردار خود اپنی ذات کی تہوں اور پرتوں میں بہت جدید ہیں؛ یہ حاشیے پر ڈال دیئے گئے اینٹی ہیرو ہیں۔

آج بھی ہماری ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ آج بھی ہم انہیں پہچان لیتے ہیں۔ ہماری ان سے ملاقات ان کی معروف شہرت کے رنگ والی عینک پہنی آنکھوں سے ہوتی ہے؛ ہم ان سے ان پر ملمع کاری کردہ تشریحات و تفہیمات کے رنگے ذہن کے ساتھ ملتے ہیں؛ ہماری ان سے ملاقات ان میں کی گئی آمیزشوں اور تحریفوں کی ملاوٹ میں ہوتی ہے۔ لیکن کبھی یہ بھی تو سوچئے کہ یہ خود اپنی، بہت اپنی سی شخصیت اور ذات کے بھی کسی طور پر حاملین بھی تو ہونگے؟

خیال تو یہی ہے کہ کچھ زیادہ مشکل فرمائش نہیں کردی؛ کچھ زیادہ بڑا تقاضا نہیں کر دیا! چلئے دیکھئے، کچھ آسانی کا سامان کرتے ہیں، بات دوسروں کی نظر اور دیکھنے کے ڈھب پر ڈال دیتے ہیں۔ اچھا ذرا سوچئے تو سہی کہ ان احباب کے گرد بسنے والے ان کے ہمعصر ان کو کس آنکھ سے دیکھتے ہیں؟ اور یہی دیکھ لیجئے کہ یہ صاحبان خود اپنے آپ کو کس شبیہ میں دیکھتے ہیں؟ یورپی ادب، اپنے یورپی ہم نفسوں اور ان کے آباء و اجداد کے کون کون سے خوابوں کی تصویریں پینٹ کرتے ہیں؛ یہ یورپی ادبی نمونے اپنے ہم نفس یورپیوں اور ان کے آباء و اجداد کو کون کون سے مقاصد کی نگہبانی سونپتے ہیں۔

چلئے پہلے پہل اوڈیسیئس (Odysseus) کو بطور مثال لیتے ہیں۔ وہ اتھاکا (Ithaca) کی جانب عازم سفر ہے۔ اتھاکا کا سفر آسان ہر گز نہیں۔ اتھاکا پہنچنے سے پہلے وہ سمندری لہروں سے نبرد آزما رہا۔ ان سمندری لہروں نے اسے فیئشیا (Phaecia) کے جزیرے کے پاس ایک کنارے کے سپرد کیا۔

اوڈیسیئس بے لباس تھا، اور مایوسی اس کے دل و دماغ
پر چھائے ہوئے تھی۔ اس کی مثال کیا آج کے یونان کے ساحلوں پر لٹ پٹ کر آنے والے آج کے مہاجرین ایسی نہیں دکھائی دیتی؟ شروع میں تو نوسیکا اور اس کی ہمجولیوں کو اوڈیسیئس ڈراؤنا سا آدمی لگتا ہے۔ لیکن کچھ ہی وقت میں جب اس کی طبعی و معدے کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ وہ نہا دھو کر آسودہ حال ہو جاتا ہے۔ اب اس کی اوڈیسی (Odyssey) میں جوان سال لڑکیوں کے پاس آ ٹھہرنے کے قابل بن جانے کی عکاسی ہوتی ہے؛ اس ساری عکاسی میں جلدی اور تیزی کو رو بہ عمل لایا جاتا ہے۔ اور یہ پھرتی اور تیزی کا احساس کا جتایا جانا، آج کے وقت سے کسی قدر مطابقت بھی ضرور رکھتا ہے؛ خاص کر کہ جب یورپ میں مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں بحرانی کیفیت موجود ہے، اس میں یہ کس قدر منسلک بہ عہد محسوس ہوتا ہے۔
ہر چند کہ اوڈیسیئس جو فی الحقیقت ایک اساطیری کردار ہی ہے، مگر اسے بھی اپنی مرکزی اور ہیرو جیسی حیثیت کو شرف قبولیت دلانے کے لئے بھی ایک طرح کی تگ و دو کرنا پڑی؛ اسے ہیرو کا درجہ تب کہیں جا کر نصیب ہوا جب وہ نہلایا دھلایا گیا؛ اور جب اس نے اپنے لئے صاف ستھرا، قبول حالت و کیفیت لباس میسر کیا۔

اب حضرت شیکسپیئر کے ہیملیٹ (Hamlet) ہی کو لے لیجئے۔ ہیملیٹ، کلاڈیئس (Claudius)
اور گرٹروڈ (Gertrude)روا کی نظروں میں کیسا عجیب اور نا روا شخص ہے۔ ڈان کیوئٹے (Don Quixote) کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے؛ اس کا سامنا جن دیہاتیوں سے ہوتا ہے، وہ اسے بجز ایک سر پھرے کے اور کچھ نہیں سمجھتے: جب یہ گاؤں والے اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ زمانئہ امن میں بھی زرہ بکتر پہنے کیوں گھوم پھر رہا ہے، تو وہ اپنے آپ کو گشت کی حالت میں سپاہئ دین قرار دیتا ہے؛ وہ اپنے آپ کو زمین پر سفیر خدائے ذوالجلال بیان کرتا ہے۔ جناب گوئٹے کا ورتھر (Werther) اپنے آپ کو مجذوب محبت کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ وہ اپنے خدمتگار کو کچھ دیر کے لئے اپنی محبوب، لوٹدے (Lotte) کے گھر جا کر واپس آنے کو کہتا ہے۔ اس سے اس کے مرکز نگاہ یہ ہے کہ وہ خود کسی ایسے شخص کے قرب میں رہنے کے لطف کو کشید کرے، جو اس کی محبوب کے کم از کم پاس سے ہی ہو کر آیا ہو۔

ان کتابوں اور کہانیوں کے وہ کردار جو ان مثالیت کے درجے پر فائز ہیرو شخصیات کے آس پاس عشاق، رقیب، خدمتگار، احباب، یا محض کوئی معمولی سے راہگیر کے طور موجود ہیں، وہ ان کے بارے ایک خاص زاویے پر مبنی سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ سوچ ویسی ہی ہوتی ہے جیسی ہمیں آج تک کسی معمول کی توقعات سے باہر کی، مبالغہ سے آمیز شدہ، اور اپنے انتہائی قریب کے تجربے کی حدود سے باہر کی کسی چیز یا کیفیت کے بارے میں سوچنے کا ڈھب سجھایا گیا ہے۔

اس پہلے سے میسر سوچ کی رنگی عینک میں اوڈیسیئس اگر کچھ ہے تو محض ایک غلاظت سے لدا پھدا، تباہ حال، ڈوبے ہوئے بحری جہاز کا ملاح؛ ہیملیٹ بھی تو صرف ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جس کے خواب و خیال میں بد روحوں کا بسیرا ہے؛ ڈان کیوئٹے زمینی حالات اور فہم عامہ سے کٹا، خوابوں کے جزیروں کا باسی گردانا جاتا ہے؛ اور ورتھر ایک غیر صحتمند کیفیت و ابتلاء میں گھرا ہوا شخص!

ادب ماسوائے اس کے کیا کرتا ہے کہ یہ کسی “اپنے” کی “غیریت”، اس کے تمام عجائبات و معمولات کی سرحدوں کے پار کے خصائص کو سماج کے اندر لا موجود کر دیتا ہے۔ یہ اختلاف کے لئے سماجی مرکزیات میں جگہ پیدا کرتا ہے، اور بعض اوقات تو انہیں ذہانت و فطانت کی ماورائی فضیلت کا درجہ بھی سونپ دیتا ہے۔ یہ ادب اختلاف کرنے کی روش کو جرات کا نشان معراج قرار دیتا ہے: یہ ادب کہتا ہے کہ ہیرو وہ ہے جو اپنی کرنیوں اور اپنے ہونے کو خود اپنے ہاتھ سے اپنے لئے منتخب کرتا ہے؛ وہ خود بنتا ہے، وہ مجہول نہیں ہوتا، اس کے گرد و پیش والے، اس پر روایتی پیمانے دراز کرنے والے خود مجہول شخصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ یا ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی آزادی، اپنے آدرشوں، اپنے افکار، اپنے احساس ہائے جمال، کے لئے کسی اور دنیا کے لئے محو پرواز ہوجاتا ہے۔ مثال چاہئے، تو آپ لیجئے مثال جیمز جوائس کے کردار اسٹیفن ڈیڈالس (Stephen Dedalus) کی ان کے ناول A Portrait of the Artist میں۔ as a Young Man

فکشن کی فکریات ہمیں اپنے سے مختلف اور غیر کے متعلق تخلیقی انداز سے سوچنے کی تعلیم دیتی ہے۔ علم بشریات کی روشنی میں کئے گئے مطالعات، تحلیل نفسی، اور علم سماجیات، یہ سب کے سب ہمیں کچھ علمی و نظری ذخائر سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ یہ علمی و نظری حوالے ہمیں یہ باتیں جاننے اور کھوجنے میں مدد دیتے ہیں کہ کوئی بھی ناول بہ وسیلئہ تمثیل اور بذریعئہ تطبیق ذات، ہمیں کیا کچھ سکھانے کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ وہ حضرت ارسطو نے کیا فرمایا نہیں تھا کہ “کسی عمل کی نقل کاری،” ہی تو اصلا المیہ ہے۔

کسی شخص کے لئے بھی اس قدر بنیادی نوعیت کے دل و دماغ کے لئے فہم و فراست کے در کھولنے والا طریقے تک رسائی نہیں ہوتی۔ احساس گناہ، حسد، یاسیت، حزن و ملال، ایذا رسانی، عقل و فہم سے فرار، اور موت کا خوف وغیرہ، کیا رہ جاتا ہے جس کی تعلق داری تو انسانوں سے ہو، لیکن وہ سر زمین ادب کی شہریت کا حامل نا ہو!

تو حضور جس قدر تعلیم عامہ دگر گونی کا شکار ہوتی ہے، کہ تخیل و جدت کاری کا قحط آن موجود ہوتا ہے، (کچھ وقت کے لئے وسائل و رقوم کی دستیابی کو ایک جانب رکھئے)، اسی قدر ادب عالیہ کی طرف نگاہیں بلند ہوتی ہیں، ایک آس بندھتی ہے کہ ادب عالیہ آئے اور متبادل و مددگار تعلیمی بنیاد کا کردار اپنے سر لے۔

جس قدر ہم یورپی ادبی روایت کے بنیاد گزار اور نشان بخش حوالوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اسی قدر ہم اس تلاش اور کھوج کی راہ پر چل نکلتے ہیں جس سے ہم پر کسی “غیر” کو سمجھنے کے گم گشتہ اور ڈھکے ہوئے در کھلنے لگتے ہیں۔ غیر شعوری طور پر ہم اس چیز کو تسلیم کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں “غیر” محسوس ہونے والا ہمیشہ ایک پہیلی کی طرح ہوتا ہے؛ مزید یہ کہ اس “غیر” کو اپنے فہم و ادراک میں کسی نا کسی طور پر جگہ دینے کے لئے آسانی سے تراشی جانے والی اور فوری تیار شدہ ترکیبیں کسی بھی با معنی منزل تک نہیں لے جاتیں۔
لحظہ بھر کو رکئے؛ ذرا فرض کیجئے کہ اوڈیسیئس اس کے ماسوائے کچھ نا ہوتا کہ، وہ محض ایک غرق آب جہاز کا ملاح ہوتا۔ ذرا پھر توقف کیجئے، اور سوچئے کہ اوڈیسیئس کے اہلیان فیشئیا کے جزیرے پر آن پہنچنے سے ہمیں کس قدر ان مہاجرین اور لوگوں کے متعلق سیکھنے اور جاننے میں مدد ملتی ہے جو موجودہ وقتوں میں ہر روز یورپ کے ساحلوں پر اترتے ہیں۔

کچھ اور قیاسوں اور مفروضوں کو تھوڑا وقت دیجئے۔ آج کل ہجرتوں اور مہاجرین کا معاملہ اہم انسانی حوالوں میں سے ایک ہے۔ ان مہاجرین سے کس طرح معاملہ اور برتاؤ رکھنا ہے، اگر ہم یہ صرف ابلاغ عامہ کے ذرائع کو سونپ دیں، اگر ایسا ہو کہ ہم ادب عالیہ کے غرق آب جہازوں کے ملاحوں کو فراموش کردیں… اوڈیسیئس اور رابنسن کروسو سے لے کر میشل ٹرنیئر کے “فرائیڈے” نام کے ناول کے حوالوں تک کو ذہن میں رکھئے … ہم سب کے سب مہاجرین کو ایک ڈگر اور نظر سے بھالنے والے دقیانوسی تصورات کے ہی اسیر رہیں گے؛ وہ دقیانوسی خیالات جن کی رو سے ایسے ہم جنس اور ہم نظر و فکر متصور ہونے والے مہاجرین، اہلیان یورپ پر محض جبر کے پہاڑ توڑنے کے لئے ہی آتے ہوئے لگتے ہیں۔

آمیندہ میخلوپولو

ادبی ذرائع اس غیر متشکل خوف، ان خدشات اور خود ترحمی کی دھیرے سے تحلیل کرتے ہیں۔ ان کو نئی شکلوں اور ترکیبوں میں ڈھالتے ہیں؛ وہ ان خوفوں، خدشات اور خود ترحمی کے اجتماعی و عوامی سطحوں کے احساسات کو شخصی اکائیوں کے درجے میں ڈھالنے کا کام سر انجام دیتے ہیں؛ ادب ہمیں باور کرتا ہے کہ ہمیں اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ “غیر” اپنی اصل میں وہ نہیں ہوتا، جو اس میں سے ہماری پہلی پہلی نظر کو نظر آتا ہے۔

 نوٹ: یوکرائن، اوڈیسہ  میں منعقدہ دوسرے بین الاقوامی ادبی میلے میں سے گارڈین، لندن نے یونانی سے انگریزی زبان میں اخذ کیا۔ اس کے بعد “ایک روزن” پر اسے ایک نئی صورت اور زبان اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں مرکزی کے علاوہ بھی بیشتر خیالات آمیندہ میخلوپولو (Amanda Michalopoulou) کے ہیں۔

About یاسرچٹھہ 101 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

1 Trackback / Pingback

  1. عاطف علیم کی کہانی کاری — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.