چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقأ:سائنس کو سائنسی بنیادوں پہ سمجھیں

ہمارا بنیادی نظام تعلیم
ٖٖفیاض ندیم ، صاحب مضمون

(فیاض ندیم)

زندگی کی ابتدا ایسا معمہ ہے جسے حل کرنے کے لیے ہر دور کا انسان تگ و دو میں رہا۔ لیکن یہ ایک ایسا سوال ہے جسے یقین کی حد تک جواب کرنا شاید ممکن ہی نہیں ہے۔ ہزاروں سالوں سے مختلف نظریات سامنے آتے رہے ہیں جو مختلف پہلووں سے زندگی کی ابتدا کے بارے جائزہ لیتے رہے۔ نظامِ زندگی کے ہر شعبے سے لوگوں نے اس موضوع پر گفتگو کی ہے اور ہمیشہ پُر اسراریت مقّدر رہی۔ کبھی فطرت شناسوں نے تو کبھی مذہبی پیشواؤں نے اسرارِ ابتدائے زندگی سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کی۔کبھی معاشرتی پنڈتوں نے تو کبھی اقتصادی مہاجنوں نے اِس مضمون میں طبع آزمائی کی۔اگر ہم زندگی کی ابتدا سے متعلق گُفتگو کریں تو زندگی کے ارتقأ کو پرائمری حیثیت حاصل ہوتی ہے اوراس لحاظ سے ماہرین دو حصّوں میں بٹے ہوئے ملتے ہیں۔ ایک وہ جو ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں چاہے اس کا طریقۂ کار کوئی بھی ہو اور دوسرے وہ جنہیں ہم انفرادی تخلیق کے ماننے والے یعنی Creationists کہتے ہیں۔ پہلے گروپ میں جو لوگ زیادہ شہرت کے حامل ہیں اُن میں چارلس بونٹ، ہالڈین ، ہکسلے، چارلس لیل، ویلک، ہربرٹ سپنسر،اوپارن اور چارلس ڈارون کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جبکہ دوسرے گروپ میں زیادہ تر معاشرتی پنڈت۔، مذہبی رہنُمأاور سائنسدانوں کی ایک لمبی لسٹ شامِل ہے۔
لیکن جِس نظریے نے ہر شعبۂ زندگی پر ان مٹ نقوُش چھوڑے ہیں بلا شعبہ وہ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ہے۔ بنیادی طور پر ارتقاء اور ابتدائے زندگی دو الگ چیزیں ہیں، لیکن ظاہر ہے ارتقاء ابتدائے زندگی کا مرہونِ منت ہے۔ اگر ارتقائی نظریہ زندگی کے تسلسل کواُس کی ابتدا تک لے جائے تووہ ابتدائے زندگی کو سمجھنے میں معاون ضرور ہو جائے گا۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کی خوبی یہی ہے کہ یہ وہ کھوجی ہے جو کھرے کا صحیح سمت میں پیچھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گو کہ یہ ایک سراسر سائنسی نظریہ تھا(اور نظریے میں چاہے وہ کتنا ہی یقین کی حد کو چھوتا ہو ، رَتی برابر جھول ضرور ہوتا ہے، ورنہ تو وہ ایک قانون بن جائے) لیکن پِچھلی دو صدیوں سے جس طرح انسانی زندگی پراس کے اثرات مُرتّب ہوئے شاید ہی کسی اور علمی بحث کے پڑے ہوں آج کل کچھ لوگ نظریۂ ارتقا کو سمجھے اور جانے بغیر اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی سائنسی اور علمی بحث کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم اس کی بنیادوں کا علم ہو۔ اگرڈارون کے نظریہ ارتقا پر اسے سمجھے بغیر بحث کی جائے تو سوائے ایسی بحث پرمذاق کا نشان بننے کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ہمارے عقائد جو بھی ہوں، ہمارا ایمان جیسا بھی ہو، اگر ایسے یقینوں اور ایمانوں پہ ہم مدلل نہیں ہیں تو ظاہر ہے آج کی علم سے بھری دنیا میں ہماری بات کوئی نہیں سنے گا اور نہ ہمارے سوالوں کے جواب ہمارے ہاتھ آئیں گے۔ ڈارون نے اپنا نظریہ کوئی ڈراینگ روم میں بیٹھ کر ٹیبل ٹاک کے دوران نہیں دیا تھا۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی کاوش ، سفر، بحث ، تنقید اور علم کی داستان ہے۔ اگر اس کی تھیوری کا ہمیں انکار کرنا ہے تو کم از کم اتبی محنت تو کرنا پڑے گی۔ صرف چند سائنسدانوں کے اعتراضات اور اپنے عقائد کی بنیاد پر اسے جھٹلانا ممکن نہیں ہوگا۔ اور مذاہب بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنے رب کی نشانیاں ڈھونڈنے کے لیے چلنا پھرنا پڑے گا، زمیں کو پھرولنا پڑے گا، تب علم کے موتی ہاتھ آئیں گے۔ ڈارون نے تو یہ سب کیا، لیکن اس پر اعتراض کرنے والوں کے پاس نہ تو اس جیسے دلائل ہیں اور نہ ویسا علم۔ ہمیں ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو سمجھنا ہو تو پہلے ڈارون کے بارے جاننا ضروری ہے اور اُن حالات کو سمجھنا ضروری ہے جن میں ڈارون کو اس نظریے کی پیش بندی میں مدد ملی۔

ڈارون کون تھا؟
ڈارون12فروری 1809کو شریوبری انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ اُس کا باپ ایک ڈاکٹر تھا اور وہ اپنے بیٹے کو بھی اپنے نقشِ قدم پر چلانا چاہتا تھا۔ لیکن ڈارون کو ابتدا ہی سے رسمی سکول کی زندگی سے نفرت ہو گئی۔ اُسے شکار اور لمبی سیروں سے شغف تھا۔ گو کہ ڈاورن کا باپ اُس کی ان حرکات سے بہت رنجیدہ تھا اور اُس نے ڈارون کو کوسنا بھی شروع کر دیا تھا کہ تم خاندان کے لئے بد نُما داغ بننے جا رہے ہو، لیکن ڈارون کی قوتِ مشاہدہ اور سیر کرنے کے شوق نے اُس کے اندر سانئس کے لئے رغبت بڑھا دی۔ سولہ برس کی عمر میں ڈارون کو میڈیکل کالج کی تعلیم کے لئے یونیورسٹی آف ایڈنبرگ میں داخل کروا دیا گیا۔ لیکن ڈارون کو میڈیکل کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ڈارون کے اپنے الفاظ میں : ایڈنبرگ میں تعلیم سرا سر لیکچرز کے ذریعے دی جاتی تھی اور یہ ناقابل برداشت حد تک غیر دلچسپ ہوتے تھے، سوائے کیمسٹری کے: (Autobiography 1876) ایڈنبرگ کے دوسرے سال میں ڈارون کو حیوانیات سے دلچسپی ہو گئی اور اُس نے سمندری جانوروں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ اُس نے جیالوجی کے لیکچرزبھی  لینا شروع کیے لیکن وہ اُسے بورنگ لگے۔
چارلس ڈارون کے باپ نے اُس کی میڈیکل سانئس میں غیردلچسپی کو دیکھتے ہوئے اسے کیمبرج میں چرچ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا۔ کیمبرج میں تین سال گزارنے کے بعد ڈارون نے بی اے کی ڈگری آسانی سے حاصل کر لی۔ اِس دوران اُس کے زیادہ تر مشاغل شکار، شراب پینا یا تاش وغیرہ کھیلنا ہی رہے۔
کیمبرج کے دوران بھی ڈارون کی زیادہ تر دلچسپیاں نباتیات اور حیوانیات سے متعلق ہی رہیں۔ اِس دوران اُس نے بِیٹلز(Beatles)کی مختلف انواع کو بھی اکٹھا کیا۔ کیمبرج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شریوبری میں چٹانوں کے مشاہدات میں مصروف ہو گیا۔

HMS Beagle کا سفر:
اس دوران اُس کی ملاقات پروفیسر ہنسلو سے ہوئی جو کیمبرج میں ماہرِ ارضیات اور فطریات تھے۔ اُس نے ڈارون کو برٹش رائل نیوی کے سروے شپ ایچ ایم ایس بیگل پر ماہرِفطریات کے طور پر جانے کی ترغیب دی۔ یہ بحری جہاز جنوبی سمندروں میں ایک لمبے سفر پر روانہ ہونے والا تھا۔ یہ پانچ سالہ سفر تھا اور ڈارون اُس پر رہتے ہوئے اپنی مرضی کے جانداروں کی اکٹھا کر سکتا تھا اور اُنہیں اپنے استعمال کے لیئے واپس انگلینڈ لا سکتا تھا۔ اس سفر کے دوران جہاز کے کپتان نے جو خود بھی فطرت میں گہری دلچسپی رکھتا تھا ، ڈارون کے لیئے مُختلف جانداروں اور چٹانوں وغیرہ کی وضاحت بھی کرنا شروع کر دی۔ اُس نے ڈارون کو جیالوجسٹ چارلس لیل کی کتاب : پرنسپلز آف جیالوجی: بھی دی جس میں چٹانوں کے بارے میں بے بہا معلومات تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ چٹانوں میں تبدیلیوں کے کے طریقے اور زمین کی مُختلف تہوں کی بناوٹ اور اُن کی جیالوجیکل ٹائم سکیل سے مطابقت کے بارے مُختلف سائنسدانوں کی آراء پر مبنی مباحث درج تھے۔
سفر کے دوران ڈارون اپنے مُشاہدات کو لکھتا گیا اور مُختلف علاقوں سے فوسلز، پودے اور جانوروں کے نمونہ جات کو بھی اکٹھا کرتا گیا۔ اور ساتھ ہی ہر علاقے کی چٹانوں کو بھی اپنے مشاہدے کا حصہ بناتا گیا۔

گیلاپیگوس جزائر کے مشاہدات:
ڈارون نے گیلاپیگوس کے جزائر پر بہت منفرد قسم کی انواع کا مشاہدہ کیا۔ اور دیکھا کہ ہر جزیرے پر مخصوص قسم کی انواع پائی جاتی ہیں جو دوسرے نذدیکی جزائر کی انواع سے قدرے مُختلف ہوتی ہیں۔ اُس نے وہاں چڑیوں کی ایک قسم فنچز کا مُشاہدہ کیا۔ اور دیکھا کہ ہر جزیرے پر فنچز کی ایک مخصوص قسم پائی جاتی ہے، جِس کی خصوصیات دوسرے جزیرے پر موجود فنچز سے ذرا مختلف ہوتی تھی۔ اسی طرح کچھووں کی مُختلف

جزیروں پر پائی جانے والی اقسام میں بھی اسی طرح کے تغیرات موجود تھے۔
اس سفر کے دوران ڈارون نے ہزاروں کی تعداد میں جانوروں، پودوں ، فوسلز اور پتھروں کے نمونے اکٹھے کیے اور اُنہیں اپنے ساتھ انگلینڈ لے کر آیا۔

انگلینڈ واپسی:
HMS Beagle، 1836کو واپس انگلینڈ آیا۔ ڈارون سفر کے دوران پروفیسر ہنسلو اور چارلس لیل کے ساتھ بھی خط و کتابت کے ذریعے منسلک رہا اور اُنہیں مختلف نمونے بھی بھیجتا رہا۔ ہنسلو نے ڈارون کے بھیجے ہوئے نوٹسسز کو 31صفحوں کے پمفلٹ کی شکل میں کیمبرج سائنٹفک کمیونٹی اور سائنسدانوں تک پُہنچایا۔ چارلس ایک گریجویٹ سٹوڈنٹ کی حیثیت سے سفر پر روانہ ہوا تھا، لیکن ایک مشہور سائنسدان کے طور پر واپس لوٹا۔ اُس نے ایسی نایاب کولیکشن کی تھی کہ مشہور سائنسدانوں اور فطرت شناسوں کے درمیان اُس کا نام عزّت سے لیا جانے لگا۔ اور ڈارون کا باپ بھی اُس دُکھ سے باہر آگیا کہ اُس کا بیٹا خاندان کے نام پر دھبہ بننے جا رہا ہے۔

ڈارون کے سفر کے سائنسی نتائج:
اس سفر کے بعد ڈارون نے یہ دعوٰی کیا کہ برِ اعظم جنوبی امریکہ آہستہ آہستہ بُلند ہو رہا ہے اور اسے بعد میں تسلیم بھی کیا گیا۔ چارلس لیل نے ڈارون کو آمادہ کیا کہ اپنی دریافتوں کو : جیالوجیکل سوسائٹی آف لندن: میں پیش کرے۔ 1837 میں ڈارون نے ایسا کیا۔ اس پیش کش کے دوران ڈارون نے پرندوں کے نمونے بھی پیش کیے اور ایک ہی ہفتے کے اندر مشہور ماہرِعلم الطیور جان گولڈ نے ان نمونوں کا مُشاہدہ کیا اور اعلان کیا کہ یہ پرندے فنچز کی بلکل نئی اقسام ہیں۔ ڈارون نے فنچز کی 12نئی انواع کو دریافت کیا۔ اسی دوران ڈارون نے مصنوعی چُناؤ کے ذریعے پالتو جانوروں کی نئی نئی قِسمیں بنائے جانے کے مُتعلق پڑھا اور اُس کی قُدرتی چُناؤ سے مطابقت کے بارے سوچتا رہا۔ اُس کا خیال تھا کہ ماحول بھی چُناؤ کی قوّت فراہم کر سکتا ہے اور جاندار اپنے ماحول کے مُطابق ڈھلنے کے لئے نسل در نسل تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ جیسے مصنوعی چُناؤ کے ذریعے کسان جانوروں کی آنے والی نسلوں میں اپنی مرضی کی خصوصیات کا چُناؤ کر کے نئی بریڈز بنا سکتے ہی، اسی طرح جب قدرتی چناؤ کا عمل ایک لمبے عرصے کے لیے کارفرما رہے تو وہ جانداروں میں نئی نئی خصوصیات کے اُبھرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
1845 میں ڈارون نے اپنے خیالات کو شائع کروایا اور اُس نے لکھا کہ اُس کے خیال میں فنچز کی نئی اقسام ایک ہی اصل قسم میں ارتقائی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں۔
ڈارون نے نہائت غیر جذباتی انداز میں اس سارے عمل کو کھنگالاورنہ وہ اپنا نظریۂ ارتقاء شاید 1839 میں ہی شائع کروا چُکا ہوتا، لیکن وہ اس سے مُتعلق مذید ثبوت اکٹھے کرنے میں لگا رہا۔ 18جون 1958 کو اُسے ایک خط ملا جسے کھولتے ہی اُسے ایک جھٹکا سا لگا۔ یہ خط ایک نوجوان سکالر الفرڈ رسل ویلک کا تھا۔ جو شرقِی ہند کی طرف محوِسفر تھا۔ ویلک نے اپنے ایک ریسرچ پیپر کے بارے میں ڈارون کے خیالات جاننا چاہے تھے۔ پرچہ قدرتی چُناؤ کے ذریعے ارتقاء سے مُتعلق تھا۔ اسی کام پر ڈارون نے اپنی زندگی کی تین دہائیاں صرف کر دی تھیں۔ لیکن اسے کبھی ایک تھیوری کی شکل میں شائع نہیں کروایا تھا، کیونکہ وہ آخری ثبوت تک جانا چاہتا تھا۔ ڈارون نے ویلک کو لکھا کہ اُس کا پرچہ کسی بھی سائنسی جریدے میں شائع ہو سکتا ہے۔ ڈارون نے ویلک کا پرچہ دوسرے سائنسدانوں کو بھی دکھایا۔
ڈارون کے دوست جانتے تھے کہ اس نظریے تک ڈارون ہی سب سے پہلے پُہنچا تھالہٰذا اُنہوں نے ڈارون ۔ ویلک کے نام سے مشترکہ پرچہ لینن سوسائٹی کے سامنے پڑھنے کا مشورہ دیا۔ ڈارون یہ پرچہ پڑھنے نا جا سکا کیونکہ عین اُسی دن اُس کے بیٹے کی موت ہوئی اور اُسے بیٹے کی آخری رسومات ادا کرنے جانا تھا۔ جب ڈارون اور ویلک کا پرچہ پرھا گیا تو ابتدائی تور پر اُسے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔
ڈارون کی کتاب : انواع کی ابتدا: (origin of species)۔1859کو شائع ہوئی۔ اور اس کتاب کی 1250کاپیاں فوراََ فروخت ہو گئیں۔ کسی تنازع سے بچنے کیلئے ڈارون نے کسی مخصوص نوع جیسا کی Homo sapiensوغیرۃ کا ذکر اس کتاب میں نہ کیا۔ لیکن اُس نے لکھا:
.. ہو سکتا ہے کہ تمام انواع جو بھی اس زمین پر آج زندہ ہیں ، کسی ایک ابتدائی نوع جس نے سب سے پہلے سانس لیا تھا ، سے ارتقاء کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی ہوں۔.. Origin of species 1859.
اُس کے بعد ڈارون نے اَس کتاب کے چھ ایڈیشن شائع کروائے اور ہر ایڈیشن میں کسی نئی بات کا اضافہ ہوتا تھا۔ اُس کا مشہور جملہ..سب سے مُناسب کی بقا.. Survival of the Fittest اُس کے پانچویں ایڈیشن میں سامنے آیا۔ اور دراصل ارتقاء کا لفظ بھی 1872کے چھٹے ایڈیشن میں لکھا گیا۔ ڈارون نے اپنے نظریے کی سپورٹ میں بے شُمار دلائل دیے۔ اُس کے دلائل بیالوجی کی ہر شاخ سے تعلق رکھتے تھے، خاص طور پر پیلونٹالوجی، ایمبریالوجی، اناٹومی، بائیوجیوگرافی وغیرہ سے ثبوت کا انبار ہے جو اُس نے : قدرتی چناؤ کے ذریعے ارتقاء : کے حق میں دیا ہے۔
اگر ہم ڈارون کے نظریہ کے مُطابق طریقۂ ارتقاء کو مختصراََ لکھنا چاہیں تو اِن نُکات کی روشنی میں لکھ سکتے ہیں:
ٓٓٓآبادی میں بلاروک اضافہ:
ہر نوع اپنی آبادی میں اضافہ کا رُجہان رکھتی ہے۔ جیسے ایک بیکٹیریم سے 24گھنٹے میں اڑھائی کلوگرام کے قریب بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسری انواع میں بھی تیزی سے آبادی میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ تمام انواع جن میں extinctionکا رُجہان نہیں ہے اپنی تعداد بڑھاتی چلی جاتی ہیں۔ خرگوش، بکریاں، بھیڑیں، چیونٹیاں، مکھیاں وغیرہ بہت تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتی ہیں۔
ٓ
آبادی میں تغیرات:
ایک ہی نوع کے جانداروں کی خصوصیات میں بے شُمار تغیرات ہوتے ہیں۔ جیسے تمام انسان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اپنے قد، رنگ، جسامت، عقل، طاقت وغیرہ میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہی صورتِ حال دوسری انواع میں بھی ہے۔ باقی جانداروں میں بھی اسی نوعیت کے تغیرات ملتے ہیں۔ تمام خرگوش ہو بہو ایک جیسے نہیں ہوتے، تمام بکریاں، کچھوے، پرندے، مینڈک اپنے مابین تغیرات رکھتے ہیں۔

وسائل کی کمی:
آبادی میں اضافہ تو بلاروک ٹوک ہوتا ہے، یا اگر روک ہوتی بھی ہے تو اس کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا، لیکن آبادی میں اضافے کی نسبت وسائل بہت سست رفتاری سے بڑھتے ہیں۔ ڈارون کو اسی دوران مالتھس کے آبادی میں اضافے سے متعلق نظریے کو پڑھنے کا موقع بھی ملا۔ جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ آبادی میں اضافہ جیومیٹریکلی ہوتا ہے۔ یعنی آبادی میں اضافہ 2 سے 4،4 سے8،8سے16اور اسی پیٹرن پر ہوتا ہے، لیکن وسائل ارتھمیٹیکلی arithmeticallyبڑھتے ہیں، یعنی وسائل 1سے 2 ہوتے ہیں2سے3، 3سے 4، 4 سے5 اور اسی پیٹرن پر بڑھتے ہیں۔ مالتھس کے مطابق چونکہ وسائل کے بڑھنے کی رفتار، آبادی میں اضافے کی رفتار سے کہیں کم ہوتی ہے، لہٰذا ایک وقت آئے گا کہ آبادی کے لحاظ سے وسائل اتنے کم ہو جائیں گے، جو آپسیں جنگوں کا باعث ہوگا۔ اور ایسے مقابلے میں صرف وہی لوگ باقی رہیں گے جو زیادہ طاقتور ہوں گے۔ اِس سٹڈی سے ڈارون نے یہ اخذ کیا کہ یہ صورتِ حال صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام جاندار آبادی میں لا محدود اضافے کی وجہ سے وسائل کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔

وسائل کے حصول کا مقابلہ اور قدرتی چُناؤ:
وسائل کی کمی کی وجہ سے جانداروں میں ان کے حصول کے لیے مقابلے کا رجہان ہوتا ہے اور یہ مقابلہ ہر اُن جانداروں کے مابین ہوگا جن کے وسائل مشترکہ ہوں گے۔ جیسے اناج پر انسان بھی گُذارہ کرتے ہیں اور بہت سے حشرات کی خوراک بھی وہی اناج ہے۔ لہٰذا انسان اور حشرات میں اناج کے حصول کے لیے مقابلہ ہے۔ اسی طرح انسانوں کا آپس میں بھی اناج کے لیے مقابلہ ہے، کیونکہ سب انسان تقریباََ ایک ہی قسم کی خوراک کھاتے ہیں۔ اسی طرح باقی انواع میں بھی یا تو نوع کے اندر ہی، یا مختلف انواع کے جانداروں کے درمیان ہر قسم کے وسائل کے لیے مقابلہ رہتا ہے۔ اور اس مقابلے میں کامیابی اُن جانداروں کو ملتی ہے جو زیادہ بہتر مقابلے کی خصوصیات والے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ انسان اناج کی فصل پر پلنے والے تمام کیڑے مکوڑے مارنے کے لیے تدابیر کرتا ہے۔ اور اپنی عقلی خصوصیت کی وجہ سے کیڑوں کی ایسی ہی خصوصیت پر غالب ہونے کی وجہ سے اُن پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح باقی صورتوں میں بھی جو جاندار بہتر خصوصیت والا ہو گا وہ تو کامیاب رہے گا، جبکہ دوسری صورت میں یا تو ختم ہو جائے گا، یا اُسے نقل مکانی کرنی ہو گی۔ اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، ایسے مقابلے خواہ انواع کے اندر ہوں یا مختلف انواع کے درمیان، کمزور خصوصیات کو بہرحال آہستہ آہستہ ختم ہو جانا ہوتا ہے، کیونکہ وسائل کے حصول میں ناکامی اُن کی زندگی کے خاتمے کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح اگلی نسلوں میں اپنی خصوصیات کو وہی جاندار مُنتقل کر پاتے ہیں جن میں مقابلے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ ایک قدرتی چُناؤ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو پہلے سے بہتر کرتا چلا جاتا ہے۔ چونکہ قدرتی حالات میں لا محدود وقت دستیاب ہوتا ہے، لہٰذا بہت سی نسلیں گذر جانے کے بعد جاندار اپنے آباؤ اجداد سے بہت مختلف ہو جاتے ہیں اور ایسا عمل نئی نئی انواع کے اُبھرنے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔
زمیں پر چونکہ مختلف جغرافیائی علاقوں میں وسائل بھی مختلف ہوتے ہیں اور اُن کے حصول کے لیے خصوصیات کا فرق بھی علاقوں کے لحاظ سے ہوگا، اس طرح زمین پر جغرافیائی تفریق کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں انواع بھی مختلف ارتقاء پذیر ہوں۔ اور یہ عمل زمیں پر جانداروں کے تنوع کا باعث بنا ہو۔
ڈارون کا نظریہ ارتقاء خالصتاََ ایک سائنسی انداز کی کوشش تھی۔ جسے سائنسی بنیادوں پر دلائل کی مدد سے پیش کیاگیا۔لیکن اس کے اثرات نہ صرف حیاتیاتی علوم کی سطح پر انقلاب کی شکل میں ظاہر ہوئے بلکہ انسانی تاریخ پر بھی اس کے نہ مٹنے والے نقوش مرتب ہوئے۔کارل مارکس اور فریڈرک اینگل کے کمیونسٹ نظریات کی تشکیل میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا بڑا حصہ ہے۔کارل مارکس اور اینگل کے نزدیک دنیا میں جا بھی ترقی ہوئی ہے وہ ایک تہذیبی تصادم کے نتیجہ میں ممکن ہوئی ہے اور ان کے نزدیک موجودہ تصادم سرمایہ کاروں اور مزدوروں کے درمیان ہے۔اُن کے مطابق جلد ہی مزدور طبقہ کامیاب ہو جائے گااور کمیونسٹ انقلاب کا باعث بنے گا۔مارکس اور اینگل کے نظریات کو ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے ایک سائنسی بنیاد فراہم کی ۔ جیسا کہ مارکس اور اینگل کے خطوط اور مارک کی تصنیف داس کیپیٹل”Das Kaptial” کے انتساب سے ظاہر ہوتا ہے جوڈارون کے نام ہے۔مارکس کے بعد اس نظریے کے مطابق کمیونسٹ ریاست کے معماروں اور رہنماؤں مثلاََ لینن،ٹرٹسکی اور سٹالن کے خطابات اور تصانیف سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے متاثر ہو کر اپنے نظریات اور خیالات کو نہ صرف ترقی دی بلکہ انسان کو تاریخ کے بدترین تصادم سے دوچار کیا ۔روسی تاریخ کے اُن تیس سالوں میں جبکہ سٹالن کی حکومت تھی تقریباََ دو کروڑ انسانوں کا قتل ہوا۔اُسکی حکومت کے دوران سکولوں میں زمین کی عمر،زمین کی ابتداء اور ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تعلیم لازمی تھی۔

About فیاض ندیم 14 Articles
پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حیاتیات میں گریجویشن اور ماسٹرز کیا۔بعد ازاں انھوں نے اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ’’ تعلیمی انتظام و انصرام‘‘ میں ماسٹرز بھی کیا اور آج کل ’’تعلیمی انتظام و انصرام ‘‘(EPM) میں ایم ایس کر رہے ہیں۔فیاض ندیم کری کولم ونگ(curriculum) سے بھی گاہے گاہے وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے سکول اور کالج کی سطح کے حیاتیات کے مضمون کے نصاب کی تیاری میں بھی حصہ لیا اُن کی لکھی اور نظر ثانی کی ہوئی درسی کتابیں کے پی کے اور وفاقی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں فیاض ندیم اسلام آباد کے ایک سرکاری کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔ اُن کا شعبہ حیاتیات اور نباتیات ہے۔