ولمنگٹن : ایک شہرِ جادوگراں

ولمنگٹن : ایک شہرِ جادوگراں

شیراز دستی

ویرازانو اپنی آنکھوں کو سورج سے ڈھانپے جہاز کے ڈیک پر کھڑا تھا۔

پانچ صدیاں قبل گیووانی ڈا ویرازانو نامی فرانسیسی سمندر دان سفرِمغرب کو نکلا۔ ادھر ویرازانو نے جہاز کے لنگر کھولے، اُدھر اٹلانٹک کے پانی اس کے ستاروں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔کپتان ویرازانو ابھی اپنے خوابوں کی رانی کو یاد کے مخمل اوڑھا رہا تھا کہ اس کے ان آفاقی منزل گروں نے جرگہ برطرف کر دیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہاز کے بادبانوں کی ڈھیلی رسیوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا۔ ان سمت سازوں کی منشا کے تابع یہ سفینہ بحرِاوقیانوس کی لہروں کی باہوں میں جھولتا، اس کی ہواؤں سے لوریاں سنتا، شہابِ ثاقبوں کی آتش بازیاں دیکھتا اس طرف کو آ نکلا جہاں امریکا کی بے نیاز پریاں بال کھولے شہزادوں کے قصے ڈالے بیٹھی تھیں۔ ۱۵۲۴ ء میں فرانس سے آنے والے ویرازانو کی زندگی میں حاضری کی ایک ایسی صبح کھِلی جس کی فجر کے وقت اس کے جہاز نے ولمنگٹن کی سر زمین پر اپنی پیشانی ٹیک دی۔ پورا دن لنگر اندازی میں صرف کرنے کے بعد دن ڈھلے کپتان تختے پر چڑھ آیا، اور آنکھ اور سورج کے درمیان ہاتھ رکھ کر اپنی منزل کا معائنہ کرنے لگا۔

سامنے اُس کے سامانِ حیرت تھا۔ پریاں تھیں، پیڑ تھے، پربت تھے۔ خوشبوئیں تھیں، رنگ تھے، ہریالی تھی۔پھر اس نے ہاتھ ذرا سا اوپر اٹھایا، اور آنکھوں کی پپلیوں کو پھیلا کر کچھ دور دیکھنے کی کوشش کی: بس پانچ سو سال ہی کے فاصلے پر اسے اک شہر نظر آیا: جہاں جھیلیں تھیں، جھرنے تھے، جگنو تھے۔ پُلیں اور پگڈندیاں تھیں، پائلیں اور پازیبیں تھیں، پنکھڑیاں اور پروازیں تھیں۔پھر مقامِ وقت میں ذرا آگے آکے اس نے ازیلیا فیسٹیول دیکھا،گرین فیلڈ لیک دیکھی، رائٹس وِل بیچ دیکھی۔ دیدہِ بینا سے فورڈن سٹیشن دیکھا، یونی ورسٹی آف نارتھ کیرولینا کو دیکھا، ولمنگٹن انٹرنیشنل ائر پورٹ دیکھا۔ اسی ائر پورٹ کے باہر مَیں، مسافرِعلم و محبت، ایک بیگ میں کچھ کتابیں اور دوسرے میں کسی کے کچھ خطوط لیے حیران و ششدر کھڑا تھا۔کپتان کو یاد آیا کہ اسے بھی کسی کو خط لکھنا تھا: اپنے بادشاہ فرانسس اوّل کو یا شاید بادشاہ کی آڑ میں شہزادی کو۔ سو مجھے مختصر سلام دعا کر کے ، ویرازانو بڑے بڑے ڈگ بھرتا پانچ صدیاں پیچھے کھڑے اپنے جہاز کی طرف لوٹ گیا۔
۔۔*۔۔
ائر پورٹ سے نکل کر میں خطوط والا بیگ سینے سے لگائے ایک ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ کشادہ سڑکیں، دراز قامت درخت، برقی اشارے، سبک رفتار سواریاں، سب اس حقیقت کے غماز تھے کہ ویرازانو نے جو ولمنگٹن مجھے عطا کیا تھا وہ ۲۰۱۶ کا تھا۔ اگرچہ عام سبزہ ابھی سفید مخملی حجاب میں تھا، پھر بھی کہیں کہیں کوئی محبت شناس ڈالی لحاف کے کونے سے جھانک کر میرے سینے سے لگے برقی خطوط کو دیکھ لیتی تھی اور پھر فوراً ہی مسکرا کر پردے کی اوٹ میں واپس چلی جاتی۔

جنوری کی اُس حیا دار صبح سے لے کر جون کی اُس تھکی ہوئی رات تک ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جس میں مَیں اور شہرِ ولمنگٹن ایک مکالمہ نما میں محو نہ رہے ہوں۔ اس شہرِ طلسم کی پریوں نے مجھے اپنے شہزادوں کے قصے سنائے، اس کی خوش بوؤں نے اپنی ہواؤں کے، گلوں نے بلبلوں کے، پرندوں نے منڈیروں کے، علم گاہوں نے علم سازوں کے، بازاروں نے دکان داروں کے اور کوچوں نے عشق کے ماروں کے۔ میں نے اس کی پریوں کو داستانِ حیات سنائی، خوش بوؤں کو مشرق کی اَور جانے والی ہواؤں کے نام پیغام بھیج، گلوں کو بلبلوں سے رعایت برتنے کی تاکید کی، پرندوں کو بہت دور نکل جانے کے مضمرات سے خبردار کیا، علم گاہوں سے تفاوت نہ مٹا سکنے پر شکوہ کیا، بازاروں کو انمول چیزوں کی فہرست دی، اور کوچوں کو نصیحت کی کہ پھر کسی دیوانہِ دل کی پردہ چاکی نہ کریں۔
صبح سے شام تک ولمنگٹن میری انگلی پکڑ کر مجھے اپنی گلیوں کی سیر کراتا رہتا۔ مجھے گرین فیلڈ نامی جھیل دکھائی، جہاں پریاں آج بھی کشتی رانی کرتی ہیں تو ویرازانو اپنی شہزادی کا خط ادھورا چھوڑ کر جہاز کے ڈیک پر آ بیٹھتا ہے۔ اس شہرِحسن نے مجھے رائٹس وِل بیچ دکھائی، جہاں کی ریت اس قدر والہانہ فطرت ہے کہ محبت کے مسافر کے پیروں کو سہلاتے سہلاتے سرائے میں میری خواب گاہ تک ساتھ چلی آتی تھی، اور یہاں کا

پانی تو باہیں کھولے آتا ہے اور کمر سے لپٹ لپٹ جاتا ہے۔ ولمنگٹن مجھے سٹرابری کے باغوں میں بھی لے گیا۔تازہ پھل منہ میں کھِلتا ہے تو، رس روح تک اتر جاتا ہے۔ ایک روز یہ مجھے اپنی ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ لے گیا، جہاں ہماری دنیا کے انسانوں کی طرح مچھلیاں ابھی پوری تہذیب یافتہ نہیں ہوئیں۔ اس لیے انسان جیسی مخلوق پر اعتبار کر بیٹھتی ہیں اور ایک ذرا سے چک کی پاداش میں رزقِ انس ہو جاتی ہیں۔ ولمنگٹن نے مجھے محفلیں اور میلے دکھائے، غلامی کے دنوں کے کھیت کھلیان دِکھلائے، خانہ جنگی کے دنوں کی اجتمائی قبریں دکھائیں، جنگِ عظیم دوئم میں استعمال ہونے والا وارشپ دکھایا۔۔۔
بدلے میں مَیں نے اس شہر کو اپنا سینہ چاک کر کے دکھایا: اپنے کچھ زخم دکھائے، جنگوں اور بھوک سے مرنے والوں کی یادوں کے مزار دکھائے،اور پھر اس شہرِ خواب کی حسِ جمال کی بیداری کے لیے ان برقی خطوط میں سے بہت احتیاط کے ساتھ چند ایک نکال کر پڑھوائے، مگر ویرازانو کی طرح اپنے اس وسعتِ دل رکھنے والے میزبان کی پریوں کی قصہ گوئی میں مدہوش ہو جانے کے بجائے، میں نے اس سے دعا لی، اسے الوداع کہا اور پلٹ آیا۔ کہ وہ کوچہ جسے گوگل ارتھ کے دریچے سے میں نے کئی بار دیکھا تھا، اب میری راہ کے سبھی کانٹے چُن چکا تھا، میرے لوٹ آنے کے انتظار میں اتنا بے قرار تھا کہ میرے گاؤں کی پختہ سڑک پر آن بیٹھا تھا۔

1 Trackback / Pingback

  1. You’re a magic city, dear Wilmington - aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.