کیا کریٹیکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟

لکھاری کا نام
Nibras Sohail

کیا کریٹیکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟

از، نبراس سہیل

آج کے تعلیمی اور تدریسی میدان میں سب سے بڑی ضرورت ’کریٹیکل تھنکنگ‘ یعنی ’منطقی استدلال ‘ کی مہارت پیدا کرنا ہے۔ بلکہ میں اس کو درست کرتے ہوئے یہ کہوں گی کہ یہ پاکستانی تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ مغرب نے اس ضرورت کا ادراک ہم سے قریب قریب نصف صدی پہلے کر لیا تھا اور اس ضمن میں ہم سے کہیں آگے بھی نکل چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی اُن قوموں کا تعلیمی نظام بھی جو وقت کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتی ہیں۔

ہمارے یہاں ابھی یہ سوال ہی بہت بڑا ہے کہ کریٹکل تھنکنگ کیسے سکھائی جا سکتی ہے؟یہی وجہ ہے کہ آج کے ٹیچرز خود کو زیادہ چیلنجز میں گھرا محسوس کرتے ہیں۔۔ بہت کثیر تعداد اُن اساتذہ کی ہے جو جدید تعلیمی نظام میں اس تقاضے کو پورا نہ کر پانے کی وجہ سے خیبت کا شکار ہیں اور بہت سے اساتذہ اس ایک وجہ سے اپنی نوکریاں بھی کھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ مسئلہ خاص طور پر دبئی میں مقیم پاکستانی اساتذہ کو در پیش ہے چونکہ یہاں روایتی طرزِ تعلیم کی ان تمام روایات کو ختم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے جو محض نالج اور یادداشت کے گرد گھومتا ہے۔ جدید طرزِ تعلیم کو اپنانے کے لئے یہاں حکومتی سطح پر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزارتِ تعلیم دبئی کے تحت ایک شعبہ KHDA -knowledge and Human Development یہ تمام خدمات انجام دے رہا ہے۔ اور اس دوڑ میں سب سے پیچھے رہ جانے والے تعلیمی ادارے پاکستانی ہیں۔ ان کی ویب سایئٹ www.khda.gov.ae پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اب اس سلسلے میں پہلی بات تو سمجھنے کی یہ ہے کہ کریٹکل تھنکنگ محض کلاس روم کے اندر کی کوئی شے نہیں ۔ یہ ایک رویے کا نام ہے۔ اور یہ رویہ کتاب، سلیبس، کلاس روم، مدارس کی مدد سے محض سیکھا جا سکتا ہے۔ اصل کام ، اس روئیے کا عملی زندگی میں اطلاق کرناہے۔ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام روائتی تعلیمی نظام ہے جہاں بچے فارمولاز کو ہی نہیں پورے پورے ریاضی کے سوالات یاد کر کے ٹاپ کر لیتے ہیں۔ بچوں کے سوچنے کے مواقع کم کم اور کہیں تو بالکل ہی نا پید ہیں۔ لہٰذا ہمارے طلباء کو بیرونی دنیا میں قدم رکھتے ہی نت نئے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ گو کہ میں ایک استاد ہونے کی حیثیت سے اس بات کی معترف بھی ہوں کہ ہمارے بچے تعلیمی نظام میں اس کمی کے باوجود کئی میدانوں میں بڑے نمایاں نظر آتے ہیں۔ جن میں سے اکثر اس لئے ایسا کر پاتے ہیں کہ وہ فطری طور پر منطقی استدلال کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چونکہ ہر فرد اس کمال خوبی کا مالک نہیں ہوتا ، اس لئے اکثریت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ کریٹکل تھنکنگ کی یہ مہارت ( Critical Thinking skills) ہمارے یہاں بھی تعلیم کے سا تھ پروان چڑھائی جائے۔ اس پر حکومتی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔


مزید دیکھیے:  سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم : تاب لاوے بھی نہ بنےغالب  از، عامر رضا


یورپ میں 1920کی دہائی میں کریٹکل ایجوکیشن پر کام شروع ہوا۔ یہ الگ بات کہ اس کی بنیاد Karl Marx کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام پہ اٹھائے جانے والے سوال ہی بنے۔ اور یوں کریٹکل ایجوکیشن کا تانا بانا بھی جا ملا ’طاقت ‘ کے استعمال سے۔ اربابِ اختیار کی مرضی ہمیشہ یہی رہی کہ کبھی سوال اٹھایا ہی نہ جائے۔ یورپ تواس طاقت کی اجارہ داری سے کافی حد تک آزاد ہو گیا مگر ہمارا تعلیمی نظام آج 21ویں صدی میں بھی تجربات سے گریزاں ہے۔

ہمارے یہاں اکثر اساتذ ہ کر یٹیکل تھنکنگ ہی کو ایک سٹریٹجی سمجھنے کی نادانی کرتے ہیں جبکہ کریٹیکل تھنکنگ بجائے خود کوئی سٹر یٹجی نہیں بلکہ کریٹیکل تھنکنگ کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے بہتر بنانے کے لئے سٹریٹجیز بنائی جاتی ہیں۔ دوسری اور اس سے بھی زیادہ اہم جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ چونکہ یہ ایک پورا رویہ ہے تو جب تک نصاب بنانے والے اس کو مدِ نظر نہ رکھیں گے ، اس رویہ کو کلاس روم میں اسباق کے ساتھ شامل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ کریکلم ڈیزائن کرتے ہوئے کریٹیکل تھنکنگ کے پہلو، اس کے لئے وقت کی گنجائش، اور عملی شعبوں میں اس خاص پہلو کی ضرورت کو مدِ نظر رکھا جائے تو ہی اس کو کلاس روم میں پریکٹس کرنے میں سہولت ہو سکتی ہے۔ ہمارا پاکستانی کریکلم کا سب سے بڑا سقم کریٹکل تھنکنگ کی گنجائش نہ چھوڑنا ہے۔ وہ وقت جو طلباء کو ایک مسئلہ یا نظریہ سمجھ کر اس پر مزید سوچ بچار کو درکار ہوتا ہے۔۔۔ وہ وقت جو درکار ہوتا ہے اس پہ نئے سوال اٹھانے کا، سیکھے جانے والے علم کا زندگی کی big picture میں مقام دیکھنے ، اسکی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے کا ۔۔۔وہ وقت ہمارے یہاں Content کی کثرت کی نظر ہو جاتا ہے۔ امتحانی پرچوں کے سوالات ہی کریٹیکل تھنکنگ کے مواقع فراہم نہیں کرتے۔ میرے نزدیک ہمارا امتحانی نظام ہی بنیادی طور پر اس سلسلے میں سب سے بڑی غلطی کر رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف طلباء بلکہ اسا تذہ بھی امتحانی نقطہ نظر سے کریٹیکل تھنکنگ کو غیر ضروری گردانتے ہیں۔

کیا کریٹکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟ ۔۔۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ جب کریٹکل تھنکنگ کے لئے عملی طور پہ کام کرنے کی بات آتی ہے تو اکثر اساتذہ اس موضوع پر کنفیوز دکھائی دیتے ہیں۔ اس خیال کا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ ایک فطری صلاحیت ہے ۔ اسے سیکھا یا سکھایا نہیں جا سکتا۔۔۔ اور کئی تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ’ جی یہ (پاکستانی بچے) یہ سب نہیں کر سکتے‘۔ اس ضمن میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ یہ بات سمجھ لی جائے کہ کریٹکل تھنکنگ سکھانے کے لئے اساتذہ کو اپنا ’تسلط‘ ختم کرنا ہو گا، کلاس روم سے بھی اور طلباء کے ذہنوں سے بھی۔۔۔ یہ سب سے پہلا قدم ہے جسے ماڈرن تعلیمی نظام میں Democracy in Education کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل چند نقاط بھی اس ضمن میں یقیناًمددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

1 ۔۔۔کریٹکل تھنکنگ اور ذہانت Intelligence کو برابر یا ایک ہی چیز خیال کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ کریٹکل تھنکنگ ایک مہارت Skill ہے جسے پریکٹس سے سیکھا جا سکتا ہے۔

2 ۔۔۔ ۔کریٹکل تھنکنگ سکھانے کے، ابتدائی مراحل میں اپنے اپنے مضامین کی مناسبت سے کسی بھی سوال یا مسئلے کو حل کرنے کے لئے اساتذہ کو سوچ کے بدلتے زاوئیے بآواز بلند بیان کرتے جانا چاہیءں۔ یہ Loud Thinking طلباء کو سوچنے کا انداز سکھا دیتی ہے۔

3۔۔۔سوال پوچھنا جتنا ضروری ہے اس سے زیادہ ضروری اس کے جواب کا انتظار کرنا۔۔۔ طلباء کو وقت دیں کہ وہ اس نقطے پہ پہنچ سلیں جہاں پہنچنا درکار ہے۔ اس دوران چھوٹے چھوٹے سوالات کی مدد سے ایک moderator کا رول ادا کرتے ہوئے بچوں کو مسئلے کے حل کی طرف لیتے آیئے۔ جواب بتا دینے کی جلد بازی طلباء کو اس روئیے سے کنڈیشنڈ کر دیتی ہے اور پھر وہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

4۔۔۔ سوچا کیسے جاتا ہے؟ اور درپیش مسئلے پر کس کس پہلو سے سوچنا ہے؟ ۔۔۔ یہ دو باتیں کریٹکل تھنکنگ کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ دو نکات ذہن میں رکھے جائیں تو اس کے بعد اساتذہ جو Planning کریں گے۔ وہی کریٹکل تھنکنگ کا راستہ ہے۔ اب آپ اس کی سٹریٹجیز کی طرف بڑھئیے۔ ہزاروں سائٹس پر paid /unpaid مٹیریل موجود ہے۔

آخر میں میں ایک بار پھر اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گی کہ نصاب ترتیب دیتے ہوئے اس ’وقت ‘ کو مدِ نظر رکھا جانا چاہئے جو کریٹکل تھنکنگ کے عمل کے لئے درکار ہے ۔جبکہ ہمارے یہاں سلیبس پورا کرنے کے چکر میں اوپر تلے نئے ٹاپکس پڑھاتے چلے جانا اساتذہ کی مجبوری بنا دی گئی ہے۔ اسی قدر اہم بات امتحانی نظام میں تبدیلی لانے کی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ روایتی تعلیم کا انداز چھوڑ کر ماڈرن ایجوکیشن کے طریقوں سے استفادہ کیا جائے۔

1 Trackback / Pingback

  1. تو لگا چھلانگ پھر — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.