تو لگا چھلانگ پھر

Y2R Yasser Chattha

تو لگا چھلانگ پھر

از، یاسر چٹھہ

بوڑھے درویش نے بہت سارے لکھنے والوں سے عبرت پائی کہ پڑھنا ہی زیادہ بھلا کام ہے۔ لیکن بوڑھا درویش ہے، بڑی غیر دل چسپی سے لَدی دل چسپی کا غریبِ کار (شاہ و مرتبت پسندی میں شاہ کار ترکیب سنی پڑھی تھی کیا؟ ذوقِ سلیم کو پڑنے والے جھٹکے پر معذرت کریں کیا؟ دیکھ لیتے ہیں، کر لیتے ہیں۔

آپ سوچیے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں۔

اور اس بوڑھے درویش کی تضاد بیانی و تردیدِ فعلی دیکھیے کہ اس نے بہت سارے کہنے، کہنے کی مشقوں میں رطب اللسّان سماجی کَٹی تِرچھی
socialized, chiseled and immensely rounded personalities، بولنے کے شوق میں ہونٹوں کی قوسیں سنوار سنوار تھکتے ہارتے بھلے مانسوں کی performance کی ریہرسل کرتے شعبدہ بیانوں….

(جی، آپ! اے وقت میں رُکے ہوئے اڈے پر پُر سکون قاری اس میں سے یہ ڈھونڈو اور ڈھونڈتے رہو کہ ترکیب تو شعبدہ بازی کی تھی، یہ شعبدہ بیانی کیسے ہو گئی؟ چھوڑو بابا، آگے بڑھو، اتنے آئے آپ تسلسل آزما، تسلسل رسا اور تسلسل بیاں consistency savvy قاری اور لکھاری؛ اور توقع باندھیے۔)

شعبدہ بیانوں سے یہ سبق لیا کہ کچھ وقت سوچو، ۔۔۔ ہممم، تھوڑا سا پھر سوچو، اور پھر کر جاؤ۔

بوڑھے درویش نے یہ طے کیا کہ اسے اپنے سماجی سیاق اور لوک کی sense اور nonsense کے غریب البیان زُمروں سے کچھ لینا دینا نہیں کہ:

سوچی پیا، تے بندہ گیا

جسے شکسپیئر نےاپنے کردار ہیملٹ میں overthinking کو کارِ عبرت بنا کر پیش کیا۔ لیکن یہ overthinking تھی، نکتہ نظر انداز نا ہو جائے۔


مزید دیکھیے:  کیا کریٹیکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟  از، نبراس سہیل

ہمارے سوالات  از، مبشر علی زیدی


اُس وقت بوڑھا درویش اپنی سوچ کے جلالی لہجے میں تھا۔ وہ ایسے لوگوں میں سے تھا کہ جن کے لیے سوچ بھی عمل اور فعل ہوتی ہے۔ Thinking is an act, enclosed in an action verb

یاد ہے ناں کہ بوڑھا درویش عام مانوس انداز سے بولتا نہیں۔ وہ تو محض سوچتا ہے۔

پھر بولا، یعبی سوچا اور راقم نے رقم کر لیا۔ پہلی بار سوچو کہ کیا کہنا ہے؛ پھر سوچو کہ اس پہلی بار کی سوچ میں آئی عبوری حقیقت کو کہنے/کرنے میں دو بارہ سے پہیہ ایجاد کرنے کی جَھک مارنے کی کیا، اور کتنی نسبت ratio ہے۔ اور پھر اپنا قد ناپ کر عمومی طور پر مانوس عمل کی، اور کر گزرنے to act/to do کی سچی وادی میں چھلانگ۔۔۔ با لکل اس طرح جس طرح اپنے سکول کے دنوں میں ناک کو دائیں ہاتھ کی پہلی دو انگلیوں (ہاں وہی، انگوٹھا اور شہادت کی انگلی،) سے پکڑ کر اپنے گاؤں کی نہر میں پُل کے اوپر سے چھلانگ مارتے تھے۔

اب ذرا رکو، ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ہمیں سوچنے سے خوف زدہ کیا گیا۔ اور اس سے بھی بڑا دکھ تو یہ ہے کہ ہم خوف زدہ ہو بھی گئے۔ پھر اور اس سے بھی بڑھ کر بُرا ہوا۔ سوچنے والے صرف سوچتے رہ گئے۔ انہیں یاد ہی نا رہا کہ  عام مانوس عمل کرنا بھی تھا۔

اس سے بھی ایک معاشرتی، اور اس سے آگے بڑھتے، تہذیبی کھیتی میں اس ہڑپ کر جانے طفیلیہ جڑی بوٹی parasitic herb نے سر اٹھایا کہ کرنے والے سوچ سے عاری ہوتے گئے۔ وہ صرف کارُو بن کر رہ گئے شعور کے تسلسل اور ارتقاء سے، ان کا جانے فلاناں ڈھمکاناں کہ کیا سر و کار ہوتا ہے۔

اب اور مزید کیا ہوا؟ عمل، سوچ سے تہی، سوچ عمل سے قاطعِ تعلق۔ تو جو ہُوا، اور جو نظر آتا ہے،تو بھیا اور بہن جی، وہ پھر ایسا ہی ہونا تھا، اور ایسا ہی ہوتا ہے۔

سوچو، … رکو، … پھر سوچو، … اور کر گزرو۔

بوڑھے درویش نے یہ سب کہہ سوچ کر سَر جھٹک کر نیچے پھینک دیا تھا۔ اب جانے وہ کیا کر رہا تھا۔ ہم، یعنی راقمِ واحد جو خود کو طُرم خان جاننے کی زُعمیاتِ سیہ میں وہاں سے کرنے کو اٹھ آئے۔ ہمیں اس سے کوئی فکر نہیں کہ وہ بوڑھا درویش کچھ کر رہا ہے، کہ صرف سوچ رہا ہے۔ آخر ہم درویش کو بھی تو اپنے پیمانوں سے ہی جانچیں گے ناں۔

About یاسرچٹھہ 119 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.