لندن، پاکستانی سیاست کے بدلے ہوئے رنگ

MH Chauhan
پروفیسر محمد حسین چوہان

لندن، پاکستانی سیاست کے بدلے ہوئے رنگ

از، پروفیسر حسین چوہان

لندن کے مضافاتی ٹاؤن سلاؤ جہاں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی اکثریت ہے بَل کہ بعض سکولوں میں پچاسی فیصد بچوں کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ سکھ کمیونٹی بھی یہاں کار و بار اور سیاست میں متحرک ہے۔

حالیہ سروے میں رہائش اور قیام کے حوالے سے سلاؤ کو برطانیہ کا بہترین بل کہ درجہ اول کا ٹاؤن قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ہر طرح کے ثقافتی گل ہائے رنگ موجود ہیں۔ مساجد و مندر اور چرچ کی موجودگی مغائرت کے بر عکس امن و اپنائیت کا پیغام دے رہی ہے۔ سکھ برادری سے ایم ۔پی کا انتخاب ہماری کشمیری کمیونٹی کا حسن انتخاب ہے۔

کرتار پورہ راہداری تو بعد میں کھولی گئی مگر کشمیریوں نے اس سے قبل ہی سکھوں کے لئے اپنے دل کے دروازے کھول دئیے تھے۔یہاں کے ثقافتی رنگوں میں سب سے غالب رنگ پوٹھواری کلچر ہے،جس میں پاس ولحاظ ،باہمی مروت،مذہب وتصوف سے لگاؤ ،بیت بازی شعر خوانی اور سیف الملوک کے صوفیانہ سوزو گداز، عشق ومعرفت،مسائل انسان و کائنات ،رمز و ایما سے بھرپور شاعری سے حظ اٹھاتے رہتے ہیں اور ملکی سیاست سے بھی لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں، ہر محفل اور تقریب کا آغاز میاں محمد بخش کے کلام سے کرتے ہیں۔انگریزوں کے ہاں جو شیکسپئیر کا مقام ہے ،کشمیریوں کے ہاں وہی مرتبہ میاں محمد بخش کو حاصل ہے ،پنجابی و پہاڑی کی آمیزش سے لکھی ہوئی منظوم مثنوی کشمیر کے تہذیبی و ثقافتی اور فطری مظہر کی آئینہ دار ہے۔

لندن اور ہیتھرو ائیر پورٹ سے قریب ہونے کی وجہ سے ہمارے سیاسی اکابرین یہاں پڑاؤ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ یونیورسل کئیر فاؤنڈیشن کے چئیر مین سردار حیات نے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فنڈ ریزنگ کے لئے ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا،جس کے مہمان خصوصی ا سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر تھے۔ کوئی تیس کے لگ بھگ مہمانوں کا نہائیت سادگی سے اہتمام کیا گیا تھا۔ سارے ہی ورکنگ کلاس کے لوگ تھے، پھر قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر تو قرون اولٰی کے مسلمانوں کی یاد دلا رہے تھے، نہ پروٹو کول ،نہ شان و شوکت،نہ لباس کی تراش و خراش ،نہ ناز و نخرہ، شلوار قمیض جو کبھی منت کش استری نہ ہوئی، معلوم نہیں یہ کس کی صحبت کافیضانٍ نظر تھا، برطانوی کشمیری تو شروع سے سلاطین و امرا کا استقبال کرتے چلے آئے ہیں۔


دیار غیر میں آباد ہم وطنوں کے سیاسی فکری زاویےاز، پروفیسر محمد حسین چوہان


روایتی سیاستدانوں کی برطانیہ میں فرمائشیں اور اطوار سے تو یہ پہلے ہی تنگ آچکے تھے، مگر تحریک انصاف نے سادگی و کفایت شعاری کی ایسی ریت ڈالی ہے کہ عام شہریوں کو ان کے اور اپنے درمیان اتنی خلیج نظر نہیں آتی،جو کچھ وہ یہاں کی سوشل ڈیمو کریسی میں دیکھتے ہیں اس کی چھاپ ابھی انہیں پاکستانی سیا ستد انوں میں نظر آنے لگی ہے،اس سے قبل ایک دن تفریح طبع کے طور پر لندن پاکستانی ایمبیسی میں بھی جناب اسپیکر صاحب کی تقریر سننے کا موقع ملا ،وہاں بھی مختصر سے لوگ جمع تھے،پانی ،چائے اور بسکٹ سے تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا۔روائیتی سیاسی کلچر کی چھاپ غائب ہو چکی تھی، جہاں بوفے اور رنگ برنگے کھانے سجے ہوتے تھے ایس کلاس مرسڈیز کی جگہ سی کلاس مرسڈیز استعمال ہو رہی تھی،جس پر جناب اسپیکر سفر کر رہے تھے،اگر ان کو بس روٹ اور اس کے نمبر کا بتایا جاتا تو یقین جانئے یہ اس پر بھی سفر کرنے کے لئے تیار تھے۔

ہم بر طانویوں کو نئے حکمرانوں کی چال ڈھال سے یقین ہو گیا کہ پاکستان بدل گیا ہے،پہلی تبدیلی کا سنگ بنیاد مضبو طی سے رکھ دیا گیا ہے ،وہ تبدیلی کیا ہے کہ یہ لوگ اندر سے تبدیل ہو گئے ہیں۔نہ ہار نہ سنگھار نہ تلے کی دھار تم کتنے خوبصورت ہو ،کی عملی سیاسی تعبیر پیدا ہو چکی ہے ،کیونکہ ہم نے روائتی سیاستدانوں کو کبھی اس انداز سے ولائیت آتے نہیں دیکھٓا تھا ۔برطانوی کتنے ہی ماڈرن کیوں نہ ہوں وہ شو آف کو کبھی پسند نہیں کرتے، عقل عامہ انکے فکری آدرش کا حصہ ہے۔اسی بنا پر بیکن،جان لاک کی تجربیت پسندی۔ہیوم کی تشکیک پسندی اور برکلے کی مثالیت پسندی نے ان کی ذہنی تربیت کر دی ہے۔

جان کینز اور آدم سمتھ کے معاشی تصورات نے متحرک معاشی بنیادیں استوار کر دی ہیں۔جدلیاتی فلسفے نے ان کو طرز کہن پر اڑے رہنے سے روک دیا ہے۔برطانیہ میں پاکستانی شہری ان پڑھ بھی ہو تو اس کی زندگی پر ان مشاہیر کی تعلیمات کے لاشعوری اثرات موجود ہوتے ہیں۔عملیت پسندی اور تجربیت پسندی کے فلسفے نے آئیڈیالوجی کو خیر آباد کر دیا ہے۔ان کی سوشل ڈیمو کریسی ایک متوازن سیاسی فلسفے پر قائم ہے،جو ہر طرح کے زمانے کی نشیب وفراز کا آسانی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔جناب اسپیکر اسد قیصر صاحب نے بریکزٹ کے حوالے سے کچھ خدشات کا اظہار۔

مگر یاد رہے برطانوی سیاسی تاریخ کا یہ ایک نہائیت متنازعہ اور پچیدہ فیصلہ تھا ۔مگر برطانوی قوم کو ہر سیاسی بحران سے نکلنے کا طریقہ بھی آتا ہے کیونکہ انکے نزدیک شخصیات سے زیادہ ملک عزیز ہوتا ہے۔

ہمیں امید نہیں تھی کہ چئیر ٹی کی تقریب میں ڈیم کے لئے چندہ جمع ہو سکے گا،کیونکہ وہاں تین درجن سفید پوش لوگوں کا جمگھٹا تھا ،پھر ایک در ویش منش قومی اسمبلی کا اسپیکر جس کی شخصیت میں بظاہر کوئی گلیمر نہیں تھا،مگر سچائی اور سادگی کی قوت اتنی تھی کہ وہ ورکنگ کلاس کے لوگ جو اپنا پرانا فون کئی سالوں تک تبدیل نہیں کرتے نے اپنی توفیق سے بڑھ کر کوئی تیس ہزار کا ڈیم کے لئے چندہ دیا اکثر نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو دے رہے ہیں جو عوام کا ایک پیسہ بھی غیر ز مہ د اری سے خرچ نہیں کرتے،جن کا طرز حکمرانی کی روح قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے ملتی ہے۔ہم یہاں خوشی سے ٹیکس اس لئے دیتے ہیں کہ یہ ہم پر خرچ کرتے ہیں،تو ہم کیوں نہ اپنے ملک کی تعمیر میں ایک بصیرت افروز قیادت کا ہاتھ بٹائیں۔

پہلی بار دیکھنے میں آیا لوگ برادریوں اور علاقوں کی سیاست سے آزاد ہو چکے ہیں اور بہت سے حضرات نے کہا کہ ہم ہر مہینہ تحریک انصاف کے اکاوئنٹ میں چندہ جمع کرتے ہیں ،کیونکہ ہم کو اپنے حکمرانوں پر اعتماد ہے۔برطانوی پاکستانی شہریوں نے ائیر پورٹ پر کسٹم حکام کے معاندانہ رویے کی شکائیت بھی کی،لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی تکلیف کا اظہار بھی کیا۔ سٹاف کی کمی سے ائیر پورٹ پر مسافر کو زیادہ دیر تکلیف اٹھانا پڑتی ہے ۔برطانیہ سے پیسے لے جانے پر نئے قوانین کے اجرا پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا کہ ملک میں پیسے لے جانے پر پابندی نہیں ہونی چاےئے کیوں کہ ہر برطانوی وہاں خرچ کرتا ہے۔ یہ مطاالبہ بھی کیا گیا کہ تارکین وطن کے لیے ایک الگ دفتر کا قیام لازمی ہے جہاں آسانی سے تارکین وطن اپنی شکائیت اور مسائل کے حل کے لئے رجوع کر سکیں۔ ورنہ انہیں تھانوں کچہریوں اور سیاست دانوں کے پاس بھاگنا پڑتا ہے۔

گر چہ مغرب کی فلاحی ریاستوں کا اک گونہ انحصار چندے پر بھی ہے، لوگ اپنی جائدادیں وصیت میں مقامی کونسلوں کو دے دیتے ہیں۔ اُمَرَاء اپنی آمدن ٹیکس کے علاوہ چیرٹی میں بھی دیتے ہیں۔ مگر مغربی ڈیمو کریسی اور فلاحی ریاست کے تصور کی بنیادیں سائنسی ترقی پر استوار ہیں۔ ان کے نزدیک فلاحی ریاست سائنس کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔ سائنس سماجی ترقی کی سب سے بڑی متحرک قوت ہے اور سائنس و سیاست کو اکھٹے کیے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ سیکنڈے نوین ممالک میں با لخصوص سیاست دانوں سے زیادہ ماہرین کو قومی تعمیر و ترقی کا فریضہ سونپا گیا۔

ناروے کی سیاست میں اساتذہ کا کلیدی کردار ہے۔ آئیڈیالوجی کے بر عکس تجربیت اور عملیت پسندی نے ان ممالک کو فلاحی ریاستوں کا درجہ دیا۔ زرعی اصلاحات کیے بغیر دنیا کی کوئی ریاست فلاحی ریاست کا درجہ حاصل نہیں کر سکی۔ صنعتوں کے قیام کے بغیر خوش حالی و ترقی کا خواب ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔ تعلیمی نظام میں سائنسی طرز فکر اور طرز عمل اپنانے سے ہی چیزوں کی اصل شکل نظر آتی ہے۔

یہ وہ مغربی سوشل ڈیمو کریسی کی فکری بنیادیں ہیں جن کی بنا پر انہوں نے فلاحی ریاستوں کا مقام حاصل کیا ہے۔ برطانوی پاکستانی اپنے ملک کی بنیادیں مغرب کی سوشل ڈیمو کریسی پر استوار کرنا چاہتے ہیں، جہاں ادارے سائنس و آلاتیت کے تحت کام کریں، ٹیکس کا موثر نظام بیرونی قرضوں اور چندے سے ملک کو نجات دلا سکتا ہے، اور دیانت دار سادہ و کفایت شعار حکم ران حکم رانی کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.