سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم : تاب لاوے بھی نہ بنےغالب

سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم : تاب لاوے بھی نہ بنےغالب

(عامر رضا)

چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی- ا س میں طالب علموں سے  کہا گیا تھا کہ وہ اپنے کلاس روم میں ایسے اساتذہ کی ویڈیو فلمز بنائیں جو انہیں ،سیکولر، لبرل یا  پھر، ملحدانہ خیالات کا پرچار کریں کیونکہ ایسا کرنا پاکستان کے آئین کے مطابق جرم ہے-  تاکہ ایسے  افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے۔ پھر ہمارے ایک سابق بیور کریٹ، جو کہ  سابق بیوروکریٹس والی  بیماری  دانشوریا  میں مبتلا ہیں، نے  اپنے سوشل میڈیا پیج پر ایک استاد کی ویڈیو پوسٹ کی جو کسی طالب علم نے کلاس میں بنائی۔ ویڈیو میں ایک استاد اپنے طالب کے سامنے جنت اور  دوزخ  کے  پرانے  مسائل پر  چند سوالات اٹھا رہا ہے۔ ان سابق بیوروکریٹ کی حرکت نے نہ صرف اس استاد کی زندگی خطرے میں ڈال دی اور ساتھ ہی ساتھ ایک نیا  محاذ  کھول دیا۔

ہمارے نظام تعلیم میں ایسے اساتذہ  پہلے ہی بہت کم ہیں جو کلاس میں عقل پر مبنی کوئی بات  کریں-  نظام تعلیم   کا بیشتر حصہ نااہل اور تہذیبی  نرگسیت کے مارے  ہوئے اساتذہ  سے اٹا پڑا ہے جو غیر سائنسی انداز فکر کی ترویج کر رہے ہیں۔ سائنسی انداز فکر سے مراد سوچنے سمجھنے کا وہ طریقہ ہے جومشاہدات پر مبنی ہواور دلیل کے تابع ہو۔ مفروضات کو پرکھنے کی جو یارڈ سٹک ہاتھوں میں تھمائی جا رہی ہے اس میں مذہب کا عمل دخل کم ہو۔

لیکن قابل افسوس بات ہے یہ ہے کہ ریسرچ کی کلاس میں جو گفتگو ہو تی ہے وہ بھی مذہب کے گرد گھومتی ہے۔ اور مفروضات کو مشاہدات پر پرکھنے سے پہلے ان کو جانچنے کے لیے مذہب کی یارڈ سٹک لگا دی جاتی ہے۔ اپنے مذہب  کے  قصے کہانیوں کو ارفع اور دوسروں کوناقص اور جھوٹ کا پلندہ خیال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں کو مشاہدات  اور تجربے سے ثابت کرنا مشکل ہی نہیں کسی حد تک  ناممکن ہوتا ہے۔

اگر آپ اپنی دلیل کو فلسفہ، سائنس یا پھر تاریخ پر استوار کرتے ہیں تو  فوری طور پر آپ کا ساتھی طالب علم یا پھر استاد مقدس مذہبی متن سے کوئی دلیل نکالے گا اور آپ کے سامنے پڑھ دے گا۔ اور پھر سوال کھڑا کر دے گا جو آپ کہہ رہے ہیں کہ کیا وہ اس کے مطابق ہے اگر نہیں ہے تو غلط ہے۔ ایسے میں آپ کے پاس دو  راستے  بچتے  ہیں  یا تو  آپ جان اور ایمان دونوں کو خطرے میں ڈال کر اس کا  کاونٹر آرگومنٹ دیں یا پھر آپ جان اور ایمان کو بچاتے ہوئے سیلف سنسر کا شکار ہو جائیں۔

سانئس دشمنی اور سائنس کی طرف یہ ڈسکورس کہ جہاں سائنس ختم ہو تی ہے وہاں خدا اور روحانیت شروع ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ ہمارے ایک سائنس کے استاد ہوا کرتے تھے ان کا تکیہ کلام تھا کہ سانئس دان بڑے بڑے خدائی دعوے کر تے ہیں لیکن ابھی تک ایک مکھی کا پر تو  بنا نہیں سکے۔ وہ اور بات ہے کہ اب مکھی کے سائز کا ڈرون بن چکا ہے۔

سائنس کی طرف ہمارا یہ رویہ ریاست نے بنایا ہے۔ وہ ریاست جس کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے مذہب کی ضرورت ہو وہ مذہب کی اجارہ داری کا دعوٰی کرنے والوں کی حمایت اور ان کے ادارے کو برقرار رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب سے ڈارون کی تھیوری اور سیاسیات، معاشیات، فلسفے اور ادب سے مارکسزم کو نکال دیا گیا۔ اور اس کی جگہ پر سبجیکٹ میں مذہبی نظریہ شامل کردیا گیا کہ مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ ڈارونزم اور مارکسزم  کو مردود   ٹھہرایا اور مشاہدات پر مبنی علم کی بجائے واردات قلبی کو مقدم ٹھہراکر ہم نے ایک ایسی نسل تخلیق کی جو سانئسی انداز فکر کواپنانے میں ناکام رہی۔

 

نظام تعلیم کے علاوہ پاکستان میں میڈیا خاص طور پر ٹی وی نے سائنس، ڈارونزم اور مارکسزم  کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ ایک مشہور ٹی وی رائٹر جوکہ پاکستان میں صوفی ازم کے باوا آدم سمجھے جاتے ہیں ان کے ڈراموں میں ان دونوں نظریات کے خلاف پروپیگنڈہ بڑے لطیف انداز میں کیا جاتاتھا۔ ان  کا ایک ڈرامہ سائیں اور سائکیٹرسٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ ماڈرن سائیکالوجی  ہماری نفسیاتی الجھنوں کا حل نہیں دے سکتی ہے اور ہمیں سائیں کی ضرورت ہے۔ اور وہ سائیں جو اپنے پاس ہر آنے والے کو پیغمبر کی اولاد کہتا ہے۔ ایسے کئی اور ڈرامے، ناول اور افسانے ہیں جنہوں نے سائنس کے خلاف بیانیے  کی آبیاری کی۔

چند ماہ پہلے جامعہ پنجاب میں کتابوں کی ایک نمائش دیکھی۔ کتابوں کے زیادہ تر سٹال  مذہبی اور روحانیت پر مبنی لٹریچر بیچ رہے تھے اور  جو بینرز لگے ہوئے تھے وہ چیخ چیخ کر سائنس پرلعن طن کر رہے تھے۔ اس طرح کے بک فئیر اور وہاں پر آنے والے سٹال اور بینرز  بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں جو ہم سائنس کے خلاف  گذشتہ کئی دہائیوں سے بن رہے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں میں  واردات قلبی اور فزکس کے نظریات پر سیمینار زمعمول بن  رہے ہیں۔ طلباء کو جنوں کی مدد سے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور دل  کی بیماریوں کے  علاج کے لیے  مذہبی متون  کے استعمال  کرنے  ترغیب ایک عام بات بن چکی ہے۔ گذشتہ سال رمضان کی سحری ٹرانسمشن میں سرکاری ٹی وی پر دل کے معالج اس نسخہ کا سرعام پرچار کر رہے تھے اور اپنی اس ڈسکوری کو انہوں نے کسی میڈیکل جرنل  میں شائع نہیں کروایا کیونکہ ان  کا خیال تھا میڈیکل سائنس  اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

سائنسی انداز فکر کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کی  ایک وجہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسے افراد کی بھرتی اور تعیناتی بھی جوکہ اپنے مضمون کے ماہر نہ ہوں۔ یہ افراد یونیورسٹیوں میں اعلی پوزیشنز پر  خوشامد، سفارش اور چاپلوسی کی مدد سے پہنچ جاتے ہیں۔ چونکہ  اپنے   سبجکیٹ پر عبور نہیں ہوتا اور کلاس میں وقت بھی پورا کرنا ہوتا ہے تو ایسے میں مذہب ہی واحد سہارا بچتا ہے جو وقت کو پورا کر سکتا  ہے۔ یہ صرف تعلیمی  اداروں کا حال نہیں بلکہ کچھ ادارے ایسے ہیں جہاں پروفیشنل ٹریننگز میں ایسے ریسورس پرسنز کو بلا لیا جاتا ہے جو کہ سبجکیٹ پر تو عبور نہیں رکھتے ہاں مذہب کے ساتھ اس کا موازنہ اچھا کر لیتے ہیں۔ ایک ایسی ورکشاپ میں جانے کا اتفاق ہوا۔

پہلے دن  جو صاحب بلائے گئے وہ سرکاری ٹی وی سے ڈائریکٹر نیوز کے عہدے  ریٹائر ہو ئے تھے ان کا موضوع تھا جدید ذرائع ابلاغ  کے دور میں موثر ابلاغ – انہوں نے کمال خوبصورتی سے پوری گفتگو مذہب سے شروع کی اور مذہب پر مکمل کردی۔ جدید میڈیا سے کوئی ایک مثال نہیں دی۔ اس کے بعد جو بھی آیا وہ پیغمبروں کی زندگیوں اور اقبال کے اشعار کے ذریعے ٹی وی پرو ڈکشن پڑھاتا رہا۔

استادوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو ادب، سائنس، فلسفہ، معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، ابلاغیات اور دیگر علوم پڑھانے کی بجائے جماعت میں صرف اور صرف سطحی قسم کے مذہبی نظریات اور روحانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ وہ نہ تو خود اپنے سبجیکٹ پر عبور رکھتے ہیں اور نہ طالب علموں میں اس مضمون  کے بارے میں کوئی دلچسپی پیدا کر پاتے ہیں۔ ہہی وجہ ہے ہم ہر جگہ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں بات کے بارے میں مذہب کیا کہتا ہے۔

استادوں کی دوسری قسم جو ناقدانہ نظر پیدا کر سکتی ہے ان کے خلاف محاذ کھل جاتا ہے۔ ہر کس و نا کس ان کے منہ آتا ہے ان پر صرف ترقی کے دروازے ہی بند  نہیں ہوتے بلکہ زندگی کا قافیہ بھی تنگ کر دیا جاتا  ہے۔

کمرہ جماعت ہو یا پھر پروفیشل ٹریننگ کی ورکشاپ  نااہل لوگ مذہب کو اپنی جاہلیت چھپانے کے استعمال کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ اپنے جیسے ہی گھامڑ پیدا کرتے ہیں جو بعد کو ان کے نقش قدم پر ہی چلتے رہتے ہیں۔

جو استاد  مجھے ریسرچ اور سائنس کی کلاس میں دینی تعلیمات دینی شروع کر دے اس کے خلاف میں شکایت کس  تھانے میں درج کراوں  کیونکہ وہ بھی تو اپنے فرض سے رو گردانی کر رہا ہے۔ وہ فزکس یا پھر میڈیا کے ماہر کی تنخواہ لیکر مذہب اور روحانیات پڑھا رہا ہے۔

بوئے گل نالہ دل دودِ چراغ محفل

جو تیری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

5 Comments

  1. آپ کی ہر بات سے متفق۔ ہمارے ہاں تخلیقی صلاحیتوں کے قاتل ٹیچرز کےایسے ہی ہتھکنڈے ہیں۔ کیونکہ تخلیقی صلاحیت ابھارنے اور حاصل کرنے میں ذہن کو مزدوری پر لگانا پڑتا ہے، لیکن مذہبی افیون کیا ہی اچھا نشہ ہے کہ استاد بھی محترم نظر آتا اور بغیر محنت کے طالب علم کو بھی سکون حاصل ہو جاتا۔آپ نے مذہب کے استعمال پہ کیا ہی اچھی تحریر لکھی۔

  2. عامر آپ نے بالکل درست بات پوائنٹ آوٹ کی ہے ہم نے زندگی کا ہر رشتہ مذہب کے ساتھ جوڑ دیا ہے جس کا خمیازہ ہماری نسلوں کو بھگتنا پڑے گا ہم اپنے بچے کو صحیح غلط کی جمنی بھی پہچان کرا دیں مگر اسے ہمارا معاشرہ اور لوگ کنفیوز کر دیں گے any how point out sensitive issue

    • کیا استاد ے جو کچھ اس ویڈیو میں کہا اسے معاشرے کا کوئی اخلاقی پہلو اجاگر ہوا ہے۔اس کی کم از کم مزمت کی توفیق تو ہو ی چاہیے۔

  3. محترم جس استاذ کا حوالہ آپ نے دیا وہ سائینس یا ٹیکنالوجی کا استاذ نہیں بلکہ اردو کا استاذ تھا اور ایک بات آئین کی شکل میں موجود ہے تو کیا اس کو پامال کئے بغیر پڑھائی نہیں ہو سکتی ؟ مزید براں وہ سوال کہاں اٹھا رہا تھا وہ تو کچے اذہان کے سامنے ان کے نظریات و عقائد کا مذاق اڑا رہا تھا۔ اور یہ مفروضہ ہی بے بنیاد ہے کہ ہر نظریہ کو مشاہداتی تجربہ کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے ۔ خود بہت ساری سائنسی تھیوریاں اس اصول پر پوری نہیں اترتی ۔

  4. کیا استاد ے جو کچھ اس ویڈیو میں کہا اسسے معاشرے کا کوئی اخلاقی پہلو اجاگر ہوا ہے۔اس کی کم از کم مزمت کی توفیق تو ہو ی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*