یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ساتھ نہیں بیٹھتے

یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ساتھ نہیں بیٹھتے
سانحہ عمر کورٹ سندھ جہان ابتدائی طبی مداد نا ملنے سے ایک انسانعرفان مسیح جاں بحق ہوگیا
یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ساتھ نہیں بیٹھتے

(ریاض سہیل)
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، عمرکوٹ

کسی کا بچہ بیمار ہے تو کسے کو سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا ہے۔ عمرکوٹ کے ضلعی ہسپتال میں روزانہ 600 سے زائد مریض آتے ہیں۔ ان کا معائنہ کرنے کے لیے صرف 6 ڈاکٹر موجود ہیں۔

یکم جون 2017 کو بھی یہاں کچھ ایسا ہی ماحول تھا جب شعبہ حادثات میں عرفان مسیح اور ان کے دو ساتھیوں کو بے ہوش حالات میں لایا گیا اور کچھ دیر بعد عرفان مسیح کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

ہسپتال کے ایم ایس جام کمبھار سمیت تین ڈاکٹروں پر الزام ہے کہ انہوں نے مریضوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں نہلانے کا کہا اور اسی دوران عرفان کی موت واقع ہو گئی۔

ڈاکٹر جام کمبھار اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عرفان مسیح کو مردہ حالات میں لایا گیا تھا۔

‘مسلمان ہوں اور انھیں پیشے میں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ تعصب نہیں برتنا سب مریض برابر ہیں۔میں نے زبان سے کہا اور نہ کسی سے یہ سنا ہے کہ اس کا روزہ ہے لہٰذا مریض کو نہلا کر لایا جائے پھر علاج کیا جائے گا۔’

اس مضمون کو بھی ملاحظہ کیجئے: پاکستانی اقلیتیں،مذہب اور میں

مزید مطالعہ کیجئے: اسلامی ریاست، قوانین اور اقلیتیں

یہ بھی دیکھئے: مذہبی اقلیتیں اور رمضان

عرفان کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے مسیح برادری کے 13 افراد پر ہسپتال انتظامیہ نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دے دی ہے۔

ایم ایس ڈاکٹر جام کنبھار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی زندگی خطرے میں تھی وہ لاٹھیوں کے علاوہ تیزاب لیکر آئے تھے اور انہوں ہسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

عمرکوٹ میں مسیحی برادری کے 70 کے قریب گھر ہیں جن میں سے زیادہ تر شہر کی گلیوں اور امرا کے گھروں کی صفائی کرتے ہیں۔

عرفان مسیح کے والد نظیر مسیح کہتے ہیں کہ ‘ڈاکٹروں نے بالکل فرق کیا اور کہا کہ اس کو نہلا کر لاؤ میرا روزہ ہے کپڑے خراب ہو جائیں گے۔ اگر اس کا اپنا بچہ ہوتا تو کیا وہ اسے نہیں بچاتا چاہے کپڑے خراب ہوتے یا ہاتھ خراب ہو جاتے۔ یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ساتھ نہیں بیٹھتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو صفائی کرنے والے ہیں۔ یہ معاملہ میڈیا میں آیا تبھی یہاں سیاست دان آئے ہیں ورنہ کوئی نہیں آتا۔’

ڈاکٹروں نے تعصب کیا یا غفلت برتی؟ حکومت سندھ نے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔

اس کمیٹی نے پیر کی شام متاثرین کو گیسٹ ہاؤس میں طلب کیا لیکن ان کے جانے سے پہلے ٹیم واپس جا چکی تھی۔

بیان ریکارڈ کرانے کے خواہشمند پرویز مسیح اور دیگر وہ ہی لوگ ہیں جن پر ہسپتال نے دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے۔ پرویز میسح کا کہنا ہے کہ وہ یہ بیان دینا چاہتے تھے کہ وہ چشم دید گواہ ہیں کہ ڈاکٹروں نے یہ کہا تھا کہ ان کو پہلے نہلا جائے پھر علاج کریں گے۔ برصغیر میں مذہبی رواداری کے اہم ستون شہنشاہ اکبر کی جائے پیدائش میں کیا یہ واقعہ اتفاقی تھا یا یہ ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے؟

کالم نگار اور سوشل ورکر میر حسن آریسر کا کہنا ہے کہ عمرکوٹ میں اس سے قبل بھی عدم برداشت کے واقعات پیش آ چکے ہیں، اس لیے اس واقعے کو حادثاتی یا اتفاقی نہیں کہا جا سکتا۔

‘عدم برداشت بڑھ رہی ہے، جو صوفیا اکرام کی روایات تھیں ان کو اب چھوڑ جا رہا ہے، اور مختلف مذاہب کے درمیان جو روابط تھے اور خوشگوار ماحول تھا وہ اب ختم ہوتا جا رہا ہے، اور ایک تشویشناک صورتحال جنم لے رہی ہے۔’

حکومت نے عرفان مسیح کے لواحقین کو دس لاکھ معاوضہ اور ملازمت کا اعلان کیا ہے لیکن عرفان مسیح کی والدہ ارشد بی بی کو انصاف بھی چاہیئے۔

‘میں ڈاکٹروں کو سزا دلانا چاہتی ہوں تاکہ کسی اور غریب کے ساتھ ایسا نہ ہو۔’

عمرکوٹ میں ہندو اور مسلم آبادی کا تناسب تقریباً برابر ہے۔ ماضی میں جب بھی کسی ایک کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو یہ شہر کئی روز بند رہا لیکن یہاں عیسائی برادری اقیلتوں میں بھی اقلیت ہے۔ سوگ میں جب تین روز صفائی نہیں ہوئی تو سارا شہر ان سے روٹھ گیا۔