درد و آہ کی سرحدیں

درد و آہ کی سرحدیں

درد و آہ کی سرحدیں

از، روزن رپورٹس

چند ہفتے قبل ارون دھتی رائے کا ناول Ministry of Utmost Happiness دست یاب ہوا تو جناب مستنصر حسین تارڑ نے اس پر ایک اخباری کالم لکھا۔ اس کالم کا ایک اقتباس رحمان عباس نے اپمی فیس بک کی وال پر بہ حوالہ شیخ نوید شائع کیا۔ اس اقتباس پر ایک چھوٹا سا مکالمہ ہوا، جسے ہم یہاں محفوظ کرنے کی غرض سے پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ کچھ احباب کی دل چسپی کا باعث ہو گا۔  

۔۔۔۔۔۔

ارون دھتی رائے کے تازہ ناول Ministry of Utmost Happiness پر مستنصرحسین تارڑ کے مضمون سے اقتباس:

یہ وہ ناول ہے جسے ایک ہندوستانی کو نہیں ایک پاکستانی کو لکھنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم صرف احتجاج کرنے کے لیے،‘ریلیاں نکالنے اور اپنے ہی ملک کو آگ لگانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم دن رات روہنگیا مسلمانوں کی کربلا کے حوالے سے سینہ کوبی کرتے ہیں لیکن ان کی مدد کو نہیں پہنچتے۔ ہم صرف آہ و زاری کر سکتے ہیں۔ ایک ناول نہیں لکھ سکتے کہ اس میں محنت، لگن اور تیقن زیادہ ہے۔ ارون دھتی رائے کا ناول کشمیر کی جد و جہد آزادی کی ایک دل گداز اور دل کو خون کرنے والی کہانی ہے۔

ہم جو کہانی نہ کہہ سکے وہ ایک ہندوستانی عورت نے کہہ دی ہے۔ گویا اس نے آج تک جتنے بھی کشمیری آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے شہید ہوئے ہیں، کم از کم ساٹھ ہزار اور جتنے بھی مقبوضہ فوج نے غائب کر کے مار ڈالے ہیں، تقریباً دس ہزار، ان سب کو تاریخ کے مضمون میں محفوظ کر دیا ہے۔

میں کہاں تک اس ناول کے اقتباس پیش کروں کہ ہر صفحہ اس لائق ہے کہ اسے نقل کر کے نہ صرف پاکستانی ادیبوں بَل کہ ٹیلی ویژن پر چیختے چلاتے، جن کے مُنھ سے غضب اور مذہبی طیش کی جھاگ نکلتی ہے، ان کو شرمندہ کروں۔

بہ شکریہ شیخ نوید


مزید دیکھیے: ارون دھتی رائے، ایک ناول لکھنے میں 20 سال کیوں لگے؟  ترجمہ و تلخیص، عامر حسینی

بے پناہ شادمانی کی مملکت، ایک جائزہ  تبصرۂِ کتاب: خضر حیات

ارون دھتی رائے، کشمیر، جنگ اور سلنڈر کی اصطلاح‏  از، علی ارقم


رحمان عباس: لیکن نوید پاکستان میں کچھ لوگ ہیں جو فاروقی صاحب کی جدیدیت کی اس تعبیر کا شکار ہیں جس میں اپنے عہد کی سنگلاخی یا سفاکی کی پیش کش کو معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ چُناں چِہ، یا تو وہ ابہام کی ندی میں غوطہ زن ہوتے ہیں، یا ایک غیر حقیقی فرضی تاریخ پرستی کا شکار۔ ان سے کیا امید کی جائے۔ نئی جینریشن ایسی حماقتوں سے باہر نکلے تو کوئی بات بنے۔

عامر حسینی: مستنصر حسین تارڑ اپنے ملک کے اندر آشوب پہ آج تک ایک افسانہ نہ لکھ سکے۔ وہ بنگالیوں، سندھیوں، بلوچ، پشتونوں بارے کچھ بھی فکشن میں نہ لا سکے۔ ارون دھتی رائے تو اپنے ناول میں mainland elite کو  بے پردہ کیا ہے۔ یہ Pakistani mainland elite I mean Punjab urban chattering class’ mentality toward the Baloch, Bengalis, Sindhis, Pashtuns and many others
کو کبھی expose نہ کر پائے۔ فکشن میں ان کو قلعہ جنگی نے زیادہ متاثر کیا اور یہ حیدر آباد، سندھ، پکا قلعہ ٹریجڈی سے کبھی inspiration نہ پکڑ سکے۔ اوجڑی کیمپ راول پنڈی کے سانحے نے جو ان سے چند سو کلو میٹر پہ ہوا تھا کوئی ناولٹ تک نہ لکھ سکے۔

ہندوستانی قبضے میں سسکتے بلکتے کشمیر پہ کہانی کو نہ لکھے جانے پہ پاکستانی ادیبوں کے رونے دھونے فضول ہیں جب سسکتے بلکتے بلوچستان کی کہانی نہ بیان کی جائے۔

ارون کی کتاب کا ترجمہ میں نے مکمل کر لیا ہے۔ بس دس صفحات باقی ہیں۔ مجھے کشمیر کہانی میں’بلوچ کہانی’ نظر آتی رہی اور میں نے اپنے پاکستانی انجم، ٹیلو، صدام حسین، مریم ایپی، استاد کلثوم بی، نیمو گورکھپوری، اپنے کیپٹن امریکی سنگھ، اود بلاؤ، غارت گر پا لیے ہیں۔

یاسر چٹھہ: عامر بھائی کیا دل لگتی بات کہی۔ میری روز گار گاہ کے رستے میں کچھ دنوں سے کشمیریوں کے حق میں سرکاری اشتہار لگے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ مستنصر صاحب جیسے میرے کئی اور ہم وطن بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ آنسوؤں کی لفظی جھڑی لگ جاتی ہے۔

میں بھی انسان ہوں، اداس ہو جاتا ہوں کہ کشمیریوں کے ساتھ بہت ظلم روا ہے، اور کب سے روا ہے۔ لیکن انسانیت کے احساس کا مسئلہ یہ ہے اور سدا سے ہے کہ یہ اپنے رنگ، نسل، ہم مذہب اور ہم وطن کی ذہنی و جغرافیائی اکائیوں اور سرحدوں سے پَرے جھانکنے لگتی ہے۔ (روایت کے لیے منحوس ہوتی ہے یہ!) پر وہ کشمیریوں کے حق میں لگے پوسٹرز میرے ذہن کے پردہ پر بار بار بلوچستان، اندرون سندھ، اوکاڑہ فارمز، گلگت بلتستان لے آتے ہیں۔ خود کو انسان تو سمجھ سکتا ہوں، پر روایتی وطنی مثالیے کا گُنہ گار باور کرتا ہوں اور کرایا بھی جاتا ہوں۔

مستنصر صاحب نسبتاً اچھا تبصرہ کر سکتے تھے، وہ ارون دھتی رائے کو بڑے انسان کے طور پر دیکھ سکتے تھے، کہ جس نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات پائی۔ وہ ان کے لیے آئینہ ہو سکتی تھیں، دیکھ کر خود کو نکھارنے کا، اپنا احتساب کرنے کا۔ لیکن مستنصر صاحب نے ارون دھتی کے بڑے پن کو اپنے ہم وطنوں کی بیان کرنے کی میراث و ملکیت کا چِھن جانا سمجھا۔

ان کا کتاب پر تبصرہ، یا تبصرے کا وہ حصہ جو ہمیں اس وقت میسر ہے، اس سے مجھے مستنصر صاحب کے کسی کم زوری کا لمحے کا تاثر ملتا ہے۔ میں یقیناً غلط بھی ہو سکتا ہوں۔ اور کچھ کے لیے تو حتمی طور پر غلط۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.