بغاوتوں سے بوسہ، امر سندھو کی ترقی پسند شاعری 

امر سندھو

بغاوتوں سے بوسہ، امر سندھو کی ترقی پسند شاعری 

از، حفیظ تبسم

ترقی پسند شاعری کا مطلب پرانے واضع اور دقیانوسی خیالات، روَیّے، انداز اور طریقے رد کر کے نئے اصول، ترتیب، قاعدے، اسلوب، طرز اور رجحانات کو اختیار اور قبول کرنا ہے۔ یہ شاعری، ثقافت کے نظریۂِ ارتقاء، فہم و ادراک اور معاشرے کے اثرات سے ترتیب پاتی ہے۔

امر سندھو کی شاعری معاشرے میں تشدد، دنگا فساد، آمرانہ سوچ، جبرًا اطاعت، سیاسی قبضے، انسانی برائیوں اور کم زوریوں کے ردِ عمل میں لکھی گئی ہے، جو انسان دوستی پر انحصار کرتی ہے۔ بنیادی تبدیلیوں اور انقلابی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

یہ شاعری انسان کی شخصیت پر اس کے ماحول کے اثرات بیان کرتی ہے جسے ناقدین نفیساتی سائنس بھی کہتے ہیں۔ امر سندھو کی ترقی پسند شاعری خوب صورتی اور فن سے دل پر اثر کرتی ہے جو جمالیاتی حسن کی بہ جائے انسانی آفاقیت پر زور دیتی ہے۔ جو سماج میں تبدیلی مانگتی ہے۔ اپنا نقطۂِ نظر، تشبیہ اور استعاروں سے کم جدید شاعرانہ زبان میں بیان کرتی ہے۔

یہ شاعری انسانی رنگ ڈھنگ، حالات، طور طریقے، دکھ سکھ اور حکمتِ عملی پر مبنی ہے اور ایسے معاشرے کی ترجمانی کرتی ہے جس میں انسان کی اَز سرِ نو تشکیل ہونا باقی ہے۔

امر سندھو کی شاعری میں تاریخی شعور اور عہد کی نفسیات کی جھلک ملتی ہے۔ ان کی شاعری کی بڑی انفرادیت ان کا تاریخی اور سماجی معلومات کو شاعری کا ایسا جُزو بنانا بھی ہے جو قاری کو نا گوار نہیں گزرتا، بَل کہ وہ خود اس خواب ناک فضا میں سانس لینا شروع کر دیتا ہے۔

جوں جوں میں امر سندھو کی نظموں کی قرأت کر رہا ہوں اور ان خیالات میں پختگی آتی جاتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ امر سندھو کی شاعری کے رومان میں مبتلا ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔


مزید دیکھیے: بین الاقوامی سیاسیات اور ہمارے لکھاری  از، سید کاشف رضا


امر سندھو کی کتاب سے پہلی دو نظمیں پیش ہیں۔

(Untitled)

میں۔۔!

اپنے دیس کی تنہائیوں کو

اپنا ساتھ پیش کرنا چاہتی ہوں

مگر، گیت جو بھگت کنور رام کے گلے میں ذبح کیا گیا

میرے جسم کا عنوان

بن نہیں سکتا۔

اس کے سینے پر

سر رکھ کر میں نے رونا چاہا

لیکن اماں نے بتایا کہ

میرے آنسو اور آہوں سے

رخصتی کا گیت لکھ رہی ہیں

اور ۔۔۔۔۔ پھر

اپنے حصے میں آئے،

تمام سوالات

میں نے اپنے جسم میں بو دیے۔

سمندر کے کنارے

جوانی جو گیت گنگناتی ہے

میں نے،

وہ گیت گانے کی کوشش کی تو

الفاظ مٹی،

اور مٹی میری موت بن گئی

اس کی ہر سسکی سے

میں نے اک نعرے کو جنم دیا ہے

نعرہ۔۔۔ جس کے مستقبل میں سینکڑوں کائناتیں اور

حال میں گندھک کی گولیاں اور

پھانسی کے پھندے لٹک رہے ہیں

پھندوں میں لٹکتی ہوئی گردنوں سے

میں خوابوں کا مطلب پوچھتی ہوں

جن کے بیٹے!

گندھک کی گولیاں نگل جائیں

اس گاؤں کے باسیوں کے بجائے

میں نے ان دیواروں کو

(جو گولیوں کے لیے ڈھال نہ بن سکیں)

بھی روتے ہوئے دیکھا ہے

’’ان کے خون سے

روٹیاں کب پھوٹیں گی؟‘‘

میرے خواب بار بار مجھ سے پوچھتے ہیں۔

۔۔۔۔

مزاحمتی شاعری

مزاحمتی شاعری میں جاگنے کے بعد

بغاوت۔۔۔۔!

میری رگوں میں دوڑتی

میری آنکھوں میں بھر جاتی ہے

میری بھیچی ہوئی مٹھیوں میں سانس لیتی

میرے ہونٹوں پر جاگتی ہے

بغاوتوں سے بوسہ

اور راستوں سے چھالے لے کر

میرے ہونٹ اور پیر

اجنبی زبان میں لکھی ہوئی تاریخ کی کتاب کے

خالی اوراق میں، بغیر عنوان کے ہی

پرنٹ ہو جاتے ہیں

میری آنے والی نسل، ان پرنٹس سے

نعروں کو جنم دے گی۔۔۔؟

یا، جاڑوں کی سرد راتوں میں

یہ پرنٹ جلا کر اپنے ہاتھ سینکے گی

مجھے کیا معلوم؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.