سجاد شیخ ، خواب تھا یاخیال تھا کیا تھا

Dr Shahid Siddiqui

سجاد شیخ ، خواب تھا یاخیال تھا کیا تھا

از،  ڈاکٹر شاہد صدیقی

کچھ لوگ شہابِ ثاقب کی طرح ہوتے ہیں۔ مختصر مدت کے لیے آتے اور چلے جاتے ہیں، لیکن ان کے جانے کے بعد بھی ان کی روشنی اُفق منور رکھتی ہے۔ پروفیسر سجاد شیخ صاحب بھی شہابِ ثاقب کی طرح گورڈن کالج راول پنڈی کے اُفق پر چمکے اور چلے گئے۔ لیکن ان کی روشنی کتنے ہی ذہنوں اور دلوں کو اجال گئی۔

سجاد شیخ کا گورڈن کالج کے در و بام پر نقش اتنا گہرا تھا کہ گورڈن کالج کا کوئی بھی تذکرہ شیخ صاحب کے بغیر ادھورا لگتا ہے۔

سجادشیخ نے جب بطور استاد گورڈن کالج میں قدم رکھا تو کالج میں انگریزی کے نامی گرامی استادوں کا طُوطی بول رہا تھا، جن میں فرانسس زیویر، وکٹر مل اور ڈسکوی صاحب جیسے اساتذہ شامل تھے۔

کوئی اور نو جوان ہوتا تو اس کی آواز گنبد کی آوازوں میں گم ہو جاتی اور وہ حوصلہ ہار جاتا۔ لیکن سجاد شیخ یہاں ایک جذبے سے آئے تھے۔ اپنا آپ منوانے کاجذبہ۔ اس کے لیے انہیں سخت محنت کرنا پڑی۔

سجاد شیخ کے دوست اور گورڈن کالج میں ہمارے پروفیسر آفتاب اقبال شمیم صاحب بتاتے ہیں کہ ایک روز جب شیخ صاحب سے کسی نے پوچھا کہ ایم اے کی کلاسز میں جاتے ہوئے آپ کو کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا، جہاں آپ کے ہم عمر یا آپ کی عمر سے بڑے طالبِ علم بیٹھے ہوتے ہیں؟


مزید دیکھیے:  خود احتسابی ، وہ استاد جو میرا ضمیر ہوئے  از، ڈاکٹر شاہد صدیقی


شیخ صاحب نے ایک لمحے کو سوچا، پھر بولے کہ میں ہر روز رات دو بجے تک اگلے روز کے لیکچر کی تیاری کرتا ہوں۔ ٹیکسٹ کا بہ غور مطالعہ کرتا ہوں، ممکنہ سوالوں کے جوابات کی تیاری کرتا ہوں اور پھر اگلے روز کلاس روم کی طرف جاتے ہوئے اپنے دو پسندیدہ اساتذہ ایرک سپرین اور حمید احمد خان کا تصور ذہن میں لاتا ہوں اور بلا خوف کلاس روم میں داخل ہوتا ہوں۔

سچ تو یہ ہے کہ میں نے سجاد شیخ جیسا محنتی استاد اپنی زندگی میں کم ہی دیکھا۔ گورڈن کالج میں ہمارے ایم اے کے پورے سیشن میں انہوں نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان شیخ صاحب مقررہ وقت پر کلاس میں ہوتے۔ اس زمانے میں وہ سیٹیلائٹ ٹاؤن میں رہتے تھے، کبھی ویگن پر کمیٹی چوک تک آتے اور پھر وہاں سے پیدل گورڈن کالج۔

وقت کم ہونے کی صورت میں وہ ٹیکسی پر آتے۔ سنا ہے کسی زمانے میں شیخ صاحب نے ایک موٹر سائیکل بھی رکھی ہوئی تھی، جس پر وہ کالج آتے تھے۔ لیکن موٹر سائیکل کی رفاقت کچھ عرصہ ہی رہی۔

شیخ صاحب گائیڈ بکس کے استعمال کے سخت خلاف تھے ۔ وہ ٹیکسٹ کے تجزیے پر زور دیتے۔ وہ کسی بھی ادبی متن کے فنی محاسن اور عیوب سامنے لے آتے۔ لیکچر کے دوران وہ وقت کی قید و بند سے آزاد ہو جاتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ شیخ صاحب چار چار گھنٹے تک اپنا لیکچر جاری رکھتے۔

ایک روز ہم سب نے کہا: سر آپ کبھی چھٹی کر لیا کریں، تو وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور کہنے لگے: چھٹی کا تصور میرے لیے اجنبی ہے۔ Only death can part us (موت ہی ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر سکتی ہے۔)

گورڈن کالج کے مین گیٹ کے بالکل سامنے جوبلی ہال سے متصل بالائی منزل پر ہمارا کلاس روم تھا۔ کمرے کے روشن دان سے سامنے کی سڑک نظر آتی تھی۔ اسی سڑک کے کنارے ایک ڈھابہ تھا جو مجید ہوٹل کے نام سے مشہور تھا۔

ہماری ایم اے انگریزی کی کلاس میں صرف پندرہ طالب علم تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد گیارہ رہ گئی تھی۔ ان دنوں صدر میں سیروز سنیما پر ایک انگلش فلم چل رہی تھی۔ ہم سب نے پروگرام بنایا کہ آج فلم دیکھنے جائیں گے۔

لیکن مشکل یہ تھی کہ اس روز شیخ صاحب کی کلاس تھی، جو چھٹی کے معاملے میں بہت کنجوس واقع ہوئے تھے۔ طے یہ ہوا کہ ہم سب لوگ مجید ہوٹل میں بیٹھیں گے اور اپنی کلاس کے پرویز راجہ کو کلاس میں بھیجیں گے، جو شیخ صاحب کو بتائے گا کہ آج کوئی بھی نہیں آیا اور یہ بتا کر وہ مجیدہوٹل آ جائے گا، جہاں سے ہم اکٹھے فلم دیکھنے جائیں گے۔

پرویز راجہ جو بعد میں فوج میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوا، کلاس کا سب سے شریف اور معتبر طالب علم تصور کیا جاتا تھا۔ پرویز راجہ کو بھیج کر ہم نے چائے کا آرڈر دیا اور انتظار کرنے لگے۔

آدھ گھنٹہ گزر گیا، لیکن پرویز راجہ واپس نہ آیا۔ فلم کا وقت گزرا جا رہا تھا۔ لیکن ہم پرویز راجہ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ آخر دو گھنٹے بعد وہ انتہائی غصے کے عالم میں ہوٹل کے دروازے پر نمو دار ہوا اور بولا: تم لوگوں نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ جب اس نے کلاس میں جا کر شیخ صاحب کو بتایا کہ سر آج کوئی نہیں آیا تو وہ بولے: کوئی بات نہیں تم تو آئے ہو نا۔

اس کے بعد انہوں نے پرویز راجہ کو سامنے بیٹھا کر دو گھنٹے لیکچر دیا۔ شیخ صاحب کے گھر کا دروازہ بھی اپنے طلباء کے لیے کھلا رہتا تھا۔ اس سلسلے میں وقت کی کوئی قید نہ تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی ٹیوشن نہیں پڑھائی۔

شیخ صاحب لکیر کے فقیر نہ تھے۔ ٹیکسٹ کی طرف ان کی کریٹیکل اپروچ (critical approach)تھی۔ ادب کے حوالے سے وہ رومینٹک کے بجائے کلاسیک مکتبۂِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ جذبات کی بجائے خیالات اور معنی پر ان کی توجہ زیادہ ہوتی۔ وہ گھڑے گھڑائے تصورات کو توڑنے میں ایک خاص لطف محسوس کرتے تھے۔ وہ ہم سے بھی یہی توقع رکھتے کہ کسی بھی ٹیکسٹ کا تجزیہ ہم خود کریں۔

سجاد شیخ صاحب کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کی ساری توجہ کا مرکز ان کے طالب علم تھے۔ کالج کے بعد کا وقت وہ کتابوں کی دکانوں پر گزارتے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ ہر نئی کتاب جو ان کے مضامین سے متعلق ہوتی، ان تک سب سے پہلے پہنچے۔

ہمارے زمانے میں گورڈن کالج کے چیف لائبریرین ولیم صاحب تھے۔ بہت بھلے مانس انسان تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ ان سے زیادہ شیخ صاحب کو لائبریری کی کتابوں کے بارے میں علم ہوتا۔ شیخ صاحب کو کتابوں سے عشق تھا۔ وہ انگریزی، اردو اور پنجابی ادب کے رسیا تھے۔

ایک بے مثال استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پائے کے نقاد اور مترجم بھی تھے۔ انہوں نے اردو میں کئی ادب پاروں پر تنقیدی مضامین لکھے۔

بہت سے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کا انگریزی ترجمہ کیا، جن میں فیض احمد فیضؔ، احمد ندیمؔ قاسمی، آفتابؔ اقبال شمیم اور مجیدؔ امجد شامل ہیں۔ اسی طرح لئیق بابری کی پنجابی کی کتابــ ”گھگھو گھوڑے‘‘ کاترجمہ بھی کیا۔

کالج کے آخری دن شیخ صاحب نے ہمیں تین چیزوں کی تلقین کی۔ وہ بولے: سب سے پہلی چیز پابندئِ وقت ہے آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں جائیں وقت کی پابندی کو اپنے اوپر لازم کر لیں۔ دوسری اہم چیز اپنے کام کی لگن اور پیشگی پلاننگ ہے۔ کبھی اپنے کام کو taken for granted نہ لیں۔

شیخ صاحب کے مطابق تیسری اہم چیز دوسروں کی عزتِ نفس کا احترام کرنا ہے۔ شیخ صاحب کا کہنا تھا کہ ہر انسان چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب اس کی عزت نفس ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی منصب پر پہنچ جائیں پوری کوشش کریں کہ آپ کی کسی حرکت، کسی بات اور عمل سے دوسروں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ میں نے کوشش کی کہ ان تین نصیحتوں پر عمل پیرا رہوں۔
سجادشیخ کی زندگی کا آخری دور مختلف اور تکلیف دہ تھا۔ انہیں گورڈن کالج سے پاکپتن جانا پڑا، جہاں بہ طور پرنسپل انہیں اپنی اصول پسند طبیعت کے باعث شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مضبوط اعصاب کے مالک سجاد شیخ کے اعصاب چٹخنے لگے۔ اس کے بعد وہ چکوال کالج میں بھیجے گئے۔ لیکن سجاد شیخ جیسا بے مثل استاد اب فرزانگی سے دیوانگی کی سرحد سے جا لگا تھا۔

اس دور میں شیخ صاحب پر خطاطی کا جنون سوار تھا۔ اس کے پس منظر میں شاید ان کی معروف مصور صادقین سے عقیدت کا ہاتھ تھا۔ شیخ صاحب کے پاس صادقین کی خطاطی میں لکھا ہوا ان کا نام ایک قیمتی متاع تھی، جسے انہوں نے بڑی حفاظت سے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔

پھر مجھے ملازمت کے سلسلے میں راول پنڈی سے دور جانا پڑا۔ اس دوران کبھی کبھی ان کی خیر خبر مل جاتی تھی۔ پھر ایک روز ان کے جانے کی خبر ملی۔ میں لاہور میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا، کھڑکی سے باہر تیز بارش نے پوری فضا کو دھندلا دیاتھا۔

شیخ صاحب کے جانے کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے دھند میں لپٹا ہوا گورڈن کالج کا وہ عہد بھی ایک عالمِ خواب تھا، جس میں میں سجاد شیخ سے ملا تھا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے سجاد شیخ کا تصور ایک دودھیا بادل کی طرح میرے شعور کی حدوں سے باہر تحلیل ہوتا گیا۔ مجھے آفتاب اقبال شمیم کی نظم کی آخری سطریں یاد آ گئیں۔

 

بہارِ ملاقات تو واہمہ تھی
گلِ دید جس میں کھلا ہی نہیں
اس سے کیسے بچھڑنا جسے میں ملا ہی نہیں

 

About ڈاکٹرشاہد صدیقی 53 Articles
ڈاکٹر شاہد صدیقی، اعلی پائے کے محقق، مصنف، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.