سماجیات کا احترام اور شہری کی انبساط

Naeem Baig

سماجیات کا احترام اور شہری کی انبساط

میکسم گورکی نے کہا تھا کہ دنیا کے سب سے خوب صورت الفاظ انگریزی میں not guilty ہیں۔

آج اتفاق سے اخبار دیکھتے ہوئے ایک خبر پر نظر رک گئی۔ خیالات تھے کہ اچھل اچھل کر ذہن میں احتجاج کرنے لگے اور رہائی کی دُہائی دینے لگے۔ سوچا انھیں قید سے نجات دوں تو شاید کچھ سکون بَہ حال ہو۔ خبر بڑی دل چسپ ہے آپ بھی پڑھیے اور سر دُھنیے۔

حیرت اس سماجی المیے پر ہے کہ ہمارے پاس کس قدر فرصت کے لمحات ہیں کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی نجی زندگی میں جھانکنے پر بے قرار رہتے ہیں اور  دوسروں کو خوش ہونا تو بالکل دیکھ نہیں سکتے۔

یہی حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے۔ ساہی وال کا واقعہ ہو کہ صلاح الدین کا، کوٹ رادھا کشن میں ایک عیسائی خاندان کو زندہ جلا دینے کا واقعہ ہو کہ قصور میں زینب کا، مجرم قانون کی گرفت میں آتے آتے برسوں لے لیتے ہیں۔ لیکن جہاں تاک جھانک پر یہ ہو کہ رنگ رلیاں منائی جا رہی ہیں، ترنت کارِ روائی وائی ہوتی ہے۔

ڈاکے اور فائرنگ پر پولیس کو مطلع کر کے فوری آمد کی درخواست کر لیں۔ مجال ہے کہ گھنٹوں شنوائی ہو۔ جب تک آپ لٹ چکے ہوں، یا دو چار لوگ فارغ نہ ہو چکے ہوں تب تک آمد محال ہوتی ہے۔

روز نامہ جنگ لاہور 28 اکتوبر، 2019

ہاں البتہ مُنھ سونگھنا ہو، کوئی دوست لڑکی کے ساتھ بائیک پر ہو، پارک کے کسی کونے میں کوئی جوڑا اپنے مستقبل کے سہانے سپنوں میں کھویا ہوا ہو، جھٹ سے کارِ روائی ہوتی ہے۔ اور gulity  قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی کی تذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

اب یہ رنگ رلیاں منانا جیسے الفاظ اس قدر بے ہودہ اور قابلِ دست اندازیِ پولیس phenomena بن چکے ہیں۔ حیرت اس پر بھی کہ کیا بندہ، کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ  آزادی سے اپنی خواہش اور مرضی سے اپنی خوشیاں بانٹ نہیں سکتی اور وہ بھی ایک چار دیواری کے اندر؟

مجھے نہیں معلوم کہ یہ کوئی کمرشل ایکٹویٹی تھی، یا نجی؟ (اگر غیر قانونی کمرشل ایکٹیویٹی تھی تو اس ہوٹل/موٹل/یا فارم ہاؤس کی انتطامیہ کو موٹا سا لاکھوں روپیہ کا جرمانہ کیجیے تا کہ کچھ خزانے میں جمع ہو۔ یہ رنگ رلیاں کی خبر، یا گرفتاریاں چِہ معنی دارد؟) بَہ ہر حال، دونوں صورتوں میں یہ کارِ روائی اختیارات کی بے ہودہ encroachment ہے۔

اگر یہی کام کسی سڑک پر کھلے عام ہو رہا ہو تو چلیں کوئی مان بھی لے، حالاں کہ دنیا بھر میں میوزک، ڈانس اور روڈ شو اب سڑکوں پر ہوتے ہیں اور پولیس وغیرہ امن و امان کو قائم رکھتی ہے اور کسی دوسرے کو اس عمل میں رخنہ نہیں ڈالنے دیتی۔ یہاں ستم یہ کہ  انہی اداروں کے افراد ایک دوسرے کو لطف اندوزی کے لیے ایسے پیغامات وٹس اپ اور سوشل میڈیا پر دیتے ہیں اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں۔

اس بد ترین دور میں جہاں مفلسی، بے روز گاری، غربت اور دیگر سماجی مسائل مُنھ پھاڑے انسان کو ہڑپ کرنے کو تیار ہوں، جہاں ملک میں ہمہ وقت جنگی ماحول بن چکا ہو، جس معاشرے میں لوٹ مار، رشوت ستانی کا بازار ہَمہ وقت گرم ہو، سیاسی ابتری عروج پر ہو۔ اور ہر بے جا پا بندی لگ چکی ہو، وہاں شہری اپنی خوشیوں کو منانے کا کیا اہتمام کریں؟

اگر وہ اپنے طور پر کسی چار دیواری کے اندر مل جل کر میوزک سن لیں، یا ڈانس کر لیں یا کچھ مشروبات سے لطف اندوز ہو لیں تو کیا قیامت مچی جا رہی ہے؟

 ایسا کرنے سے کسی نجی محفل میں قانون کی کیا پامالی ہو رہی ہے؟ کیا باقی کام یہاں اوپن میں درست ہو رہے ہیں؟ کیا پولیس، یا ادارے دیگر سماجی، ملکی، معاشی انتظامی سطح پر درست کام کر رہے ہیں؟ کیا عوام کو صحت، تعلیم، روز گار یا دیگر شہری سہولتیں مہیا ہو چکی ہیں؟

کیا ایسا نہیں کہ دانستہ عوام کو خوشیوں سے دور رکھنے کے لیے اس قسم کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں تا کہ کسی صورت کہیں سکون نہ رہے اور لوگ اسی طرح ایک دوسرے کو کاٹنے دوڑتے رہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے اداروں/قانون کے رکھوالوں کو اور مقامی انتظامیہ کو  زیب نہیں دیتا۔ خدارا معاشرت کو اب بہتر برس بعد کھلنے دیں۔ بہت ہو چکیں یہ مُنھ سونگھنے کی کارِ روائیاں۔

از، نعیم بیگ 

About نعیم بیگ 122 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔