فرد، معاشرہ، ریاست اور اعتماد و بے اعتمادی

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فرد، معاشرہ، ریاست اور اعتماد و بے اعتمادی

از، ڈاکٹر عرفان شہزاد

کسی حادثے یا نا کامی کی صورت میں خود اعتمادی اور بے اعتمادی کے رد عمل میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خود اعتمادی ایسے کسی منفی واقعہ سے سبق سیکھتی، اس کا سامنا کرتی اور اس پر قابو پاتی ہے، جب کہ بے اعتمادی ایسے کسی واقعے کے دو بارہ ہو جانے کے خوف کا شکار ہو کر بے عمل ہو جاتی ہے، یا اس کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہے۔

مثلاً بچپن میں کسی کو اگر بلی کتے وغیرہ نے زخمی کر دیا ہو یا کسی تار سے کرنٹ لگ گیا ہو تو ممکن ہے وہ اس کے اثر سے ساری زندگی نہ نکل سکے۔ بلی کتے کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہوں اور یا بجلی کا کام کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہوں۔ لیکن دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس خوف سے نکل آئیں، حادثے کو فارمولا نہ بنائیں اور ہر دن ایک نیا دن سمجھیں۔

رسول اللہ ﷺ کے دور میں جب مدینہ کے منافقین نے مسلم خواتین کے خلاف مہم چلائی، وہ انھیں چھیڑتے، پکڑے جاتے تو بہانہ بناتے کہ ہم تو لونڈی سمجھ کر بات کر رہے تھے، ان پر تہمتیں لگاتے، تو ریاست نے یہ نہیں کیا کہ خواتین کو گھروں میں رہنے کی پابندی لگا دی ہو، بَل کہ ان اوباشوں کے عذر کو ختم کرنے کے لیے کہا  گیا کہ اپنے معمول کےلباس پر ایک بڑی چادر لے کر نکلا کریں تا کہ پہنچان لی جائیں کہ معزز خاندان کی خواتین ہیں، اور انھیں چھیڑنے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایک مرتبہ یوں بھی ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں فجر کی نماز کو جاتی ہوئی ایک خاتون کا ریپ ہو گیا، مگر اس کے با وجود یہ حکم  نہیں دیا گیا کہ خواتین آئندہ گھروں میں رہا کریں، یا اندھیرے کی نمازوں میں مسجد نہ آیا کریں۔ اس کے بَر عکس ریاست اس مجرم کی تلاش اور اسے سزا دینے کے لیے سر گرم ہو گئی۔

ہمارے ہاں جب کہیں بم دھماکا ہو جاتا ہے تو اس کے بعد تا حیات وہ سڑک یا راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ کوئی بھی حادثہ پیش آ جائے تو ان کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی یونیورسٹی میں نشے کا ایک کیس پکڑ لیا جائے تو  باقی ساری طالبات پورے سماج کو اپنی صفائیاں دینے پر مجبور پاتی ہیں۔ راستے میں انھیں کوئی تنگ کر دے تو بے اعتماد غیرت اگلے دن سے ان کے گھر سے نکلنے پر پا بندی کا مردانہ فیصلہ صادر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ بے اعتمادی کی علامات ہیں۔


مزید دیکھیے:  فرد، پاکستانی معاشرہ اور ہماری ریاست  از، ڈاکٹر افتخار بیگ

اسلامی ریاست، قوانین اور اقلیتیں  از، ڈاکٹر عرفان شہزاد

مسولینی کی جو قبر بولتی ہے تو ہٹلر کی روح جھومتی ہے  از، یاسر چٹھہ

کمال فن کے لیے فاشزم کا خاتمہ ضروری ہے  از، نصیر احمد


اسی طرح ماضی میں کوئی جنگیں اگر ہم ہار ہی گئے ہیں تو نسلوں کے ذہن سے اسے محو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، عُذرِ لنگ تراشے جاتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ غلطی کسی اور کی تھی اس لیے ہم ہار گئے، ورنہ ہم ہارنے والے نہ تھے۔ حقائق سے نظریں چرانے کی قومی پالیسی اختیار کرنے اور ان حادثات پر بات نہ کرنا اور نہ کرنے دینا، یہ سب بے اعتمادی کے باعث ہوتا ہے۔

تدریس میں جو استاد سوال نہ پوچھنے دے، تو طلباء سمجھ جاتے ہیں کہ اس کے پاس جواب نہیں اور وہ اپنی کم علمی اور نا لائقی چھپانا چاہتا ہے۔ جب ریاست آپ کو سوال نہ کرنے دے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے۔ لیکن اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

خود کو اتنا مہان بنانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہر سوال پر آپ کی بے عزتی محسوس ہو، اتنا کوئی بھی مہان نہیں ہوتا۔ اپنی غلطیوں سے خود بھی آگاہ ہونا چاہیے اور دوسروں کو بھی کرنا چاہیے تا کہ دو بارہ ایسے حادثات  سے بچا جا سکے۔

بے اعتمادی کی ایک اور علامت، بے جا خود اعتمادی کا کھوکھلا اظہار ہوتا ہے۔ خود اعتمادی تن کر رہنے اور لب و لہجہ کو با رعب کر لینے سے نہیں، حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے آتی ہے۔ یہ ہیجان خیز نعروں اور لفظوں سے نہیں آتی، تجزیہ کرنے سے آتی ہے۔ خود اعتمادی سیکھنے سے آ جاتی ہے، بے اعتمادی چھپانے سے کبھی نہیں آتی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.