نظریاتی محاذ کو متحرک کیا جائے

Zaheer Akhter Bedari aik Rozan
ظہیر اختر بیدری، صاحبِ مضمون

نظریاتی محاذ کو متحرک کیا جائے

ظہیر اختر بیدری

دنیا کا ہر وہ شخص جو دنیا میں امن اور عوام کی زندگی میں خوشحالی دیکھنا چاہتا ہے، وہ ان کی راہ میں حائل مشکلات اور دشواریوں سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حوالے سے اہل علم اہل دانش اور اہل قلم پر سب سے زیادہ ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں کہ یہ لوگ ان مشکلات ان دشواریوں کا زیادہ ادراک رکھتے ہیں جو دنیا کے امن اور دنیا کے عوام کی خوشحالی کی راہ میں روڑہ بنے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی امن اور دنیا کے اربوں انسانوں کی خوشحالی کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے اور قومی سطح پر بھی ان رکاوٹوں پر غور کیا جاسکتا ہے جو امن اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

آج ہم قومی سطح پر ان امور پر ایک نظر ڈالیں گے۔ پاکستان 20 کروڑ انسانوں کا ایک بڑا ملک ہے اس ملک میں امن و امان کی سطح پر نظر ڈالی جائے تو یہ المناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ قومی سطح کے عمومی جرائم کے علاوہ ملک کے امن و امان کو جو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے وہ خطرہ ہے دہشتگردی کا۔

اس خطرے کی خوفناکی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بلانے اب تک پاکستان کے 70 ہزار بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نگل لیا ہے جن میں مرد عورت بچے بوڑھے سب شامل ہیں اسی بلائے بد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہماری مسلح افواج اور متعلقہ ادارے مختلف آپریشن کر رہے ہیں جن میں ضرب عضب اور رد الفساد بہت اہم آپریشن سمجھے جاتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج اور دوسرے متعلقہ اداروں جن میں رینجرز سرفہرست ہے، اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اس عفریت پر قابو پانے کی کامیاب کوشش کی ہے جس کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔

اس قسم کے آپریشن ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں ہورہے ہیں اور دہشت گردوں کو اس حوالے سے نقصان بھی ہو رہا ہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں سب سے خطرناک وارداتیں ’’خودکش حملوں‘‘ کی ہیں جو ہزار کوششوں کے باوجود روکی نہیں جاسکی ہیں اور اس حوالے سے دہشت گردوں کی قیادت جس حکمت عملی پر کاربند ہے اگر اسے جاری رہنے دیا جائے تو پھر اس عفریت سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں رہے گا۔ کیونکہ ایک خودکش حملہ آور جب اپنا مشن مکمل کرکے جان سے جاتا ہے تو اس ایک کی جگہ ایک سوخودکش حملہ آور آگے آکر مرنے والے کی جگہ لینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے اور اپنی جان کی حفاظت کے لیے ہر انسان سو سو جتن کرتا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ دہشت گرد ہنستے ہوئے اپنے جسم کے ٹکڑے اپنے ہاتھوں سے اڑا لیتے ہیں؟

خودکش حملوں میں عموماً وہ سادہ لوح نوجوان شامل ہوتے ہیں جو تعلیم اور سیاسی شعور سے محروم ہوتے ہیں اور مذہب کے حوالے سے اپنی قیادت پر اندھا اعتماد رکھتے ہیں۔ ان سادہ لوح انسانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھانے کے لیے دہشت گردوں کے سربراہوں نے یہ فلسفہ پیش کیا ہے کہ جو شخص خودکش حملے میں اپنی جان سے گزر جاتا ہے وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے جہاں حور و غلماں اس کے منتظر ہوتے ہیں اور دودھ اور شہد کی نہریں اس کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ ایک باعلم اور باشعور انسان تو دہشت گردوں کی قیادت کے اس جال میں نہیں آتا لیکن علم و عقل سے محروم نوجوان جاہل لیکن ہوشیار قیادت کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی فوج میں بہادر سپاہیوں کے ساتھ ساتھ جنرل، کرنل وغیرہ ہوتے ہیں جو مختلف قسموں کی جنگوں کے ماہر ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی مہارت اور نوجوانوں کی جانی قربانیوں کے ذریعے اس آسیب پر قابو پالیں۔ یہ جرنیل اور کرنیل بلاشبہ فوجی ماہر ہوتے ہیں اور جنگوں کی تکنیک سے باخبر بھی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ سیکڑوں سال سے لڑی جانے والی روایتی جنگوں سے بالکل مختلف ہے اسے ہم چھاپہ مار جنگ بھی نہیں کہہ سکتے کہ چھاپہ مار جنگوں کے سپاہیوں کو بھی اپنی جان کے تحفظ کا خیال ہوتا ہے یہ جنگ تو ایسی خطرناک جنگ ہے جس میں حصہ لینے والے کو یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ جیسے ہی دھماکہ کرے گا اس کا جسم پہلے چیتھڑوں میں بدل جائے گا بعد میں دوسروں کا نقصان ہوگا۔ یعنی خودکش حملہ آور پہلے سے جانتا ہے کہ وہ ایک وحشیانہ اور اذیت ناک موت سے ہمکنار ہوگا اور وہ یہ قربانی دین کی خاطر دیتا ہے۔

ہماری اعتدال پسند مذہبی قیادت یک زبان ہوکر کہہ رہی ہے کہ خودکش حملہ آور جنت میں نہیں جہنم میں جائے گا اور بتا رہے ہیں کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے اور ساتھ ہی یہی سمجھا رہے ہیں کہ ایک انسان کا قتل سارے عالم کا قتل ہے وہ دہشت گردوں کی مذمت بھی کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کو مذہب و ملت کا دشمن بھی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن مولاناؤں اور مولوی صاحبان کی ان حقیقت پسندانہ باتوں کا خودکش حملہ آوروں اور دہشت گردوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے؟

ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہمارے ملک سمیت ساری دنیا میں یہ لڑائی فوج اور ہتھیار سے لڑی جا رہی ہے جب کہ فریق مخالف یہ لڑائی نظریاتی حوالوں سے لڑ رہا ہے اور چونکہ اس لڑائی کے سپاہی نظریاتی ہتھیاروں سے لیس ہیں لہٰذا وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔

آج کی دنیا میں ذرایع ابلاغ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اکثر جنگیں پروپیگنڈے کی بنیاد پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ ہماری اعتدال پسند مذہبی قیادت دہشت گردی اور خودکش حملوں کے حوالے سے جو موقف پیش کر رہی ہے کیا وہ موقف اور مذہبی نقطہ نظر دہشت گردوں خصوصاً خودکش حملہ آوروں تک پہنچ رہا ہے؟ اس کا جواب بدقسمتی سے نفی ہی میں آتا ہے مذہبی اعتدال پسند قیادت کے اس حوالے سے ارشادات عموماً اخباروں میں شایع ہوتے ہیں اور دہشت گردوں کی بھاری اکثریت جہل میں مبتلا ہے۔ دہشت گردوں میں مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف کلچر کے حامل لوگ شامل ہیں۔

ہمارے روایتی جنگ کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ایسے اہل علم کو اس جنگ میں شامل کیا جانا چاہیے جو دہشت گردوں کی زبان اور کلچر وغیرہ سے واقف ہیں اور دہشت گردی اور خودکش حملوں کے بارے میں ہمارے علمائے کرام کے موقف کو بھرپور انداز میں ان تمام زبانوں میں بھرپور طریقے سے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دہشت گردوں تک پہنچائیں جو مذہب کی غلط تاویلوں کا شکار ہوکر اپنی جانیں دے رہے ہیں اور دوسروں کی جانیں لے رہے ہیں ہم نے اپنے کالم کا آغاز امن سے کیا تھا۔

پچھلی دو دھائیوں سے ہمارے ملک میں امن کا حال یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والے نہ گھر کے اندر محفوظ ہیں نہ گھر کے باہر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہماری افواج بڑی بے جگری سے جنگ لڑ رہی ہیں لیکن اس جنگ کو جیتنے کے لیے جب تک نظریاتی محاذ کو متحرک نہیں کیا جائے گا یہ جنگ نہیں جیتی جاسکے گی۔