عصمت خانڑیجو کا ہسپتال میں ریپ اور قتل

آج 22 اپریل کی پریس کانفرنس کا احوال

Ali Arqam aik Rozan writer

عصمت خانڑیجو کا ہسپتال میں ریپ اور قتل

رپورٹ از، علی ارقم

۲۲ سالہ عصمت خانڑیجو (عصمت جونیجو غلط رپورٹ ہوا ہے) ابراہیم حیدری کے ایک ماہی گیر کی بیٹی تھیں۔ والدین نے اسے پڑھایا لکھایا، سال پہلے تک وہ انڈس ہاسپٹل کے زیر انتظام ٹی بی کے خلاف چلنے والی مہم کا حصہ تھیں۔ اور انھیں مجبورًا وہاں سے استعفٰی دینا پڑا۔آپ نے والدین کو انڈس ہسپتال کی ٹی بی مہم کے ایک کرتا دھرتا ڈاکٹر شکیل کے رویے کی شکایت کی تھی، جس سے ہراساں ہو کر اس نے پہلے تو انڈس سے سندھ گورنمنٹ ہسپتال تبادلہ کرایا اور پھر نوکری چھوڑ دی۔

‏کچھ دن قبل اسے دانت کے درد کے علاج کے حوالے سے سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی جانا پڑا، جہاں اسے ایک ہفتے کی دوا دے کر دو بارہ آنے کا کہا گیا۔ ایک ہفتے بعد وہ پھر دوا لینے گئیں، جب وہ جانے لگی تو اپنی والدہ سے کہا کہ وہ تھوڑی دیر میں واپس لوٹ کر کھانا بنا لے گی، وہ تکلیف نہ کریں۔

لیکن تین گھنٹے گزرنے کے بعد بھی وہ واپس نہ آئیں تو والدہ تشویش میں پڑ گئیں۔ ایسے میں اسے فون آیا کہ ان کی بیٹی کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھیں جناح لے گئے ہیں، آپ وہاں پہنچیں۔

والدہ گرتی پڑتی جناح ہسپتال کے لیے نکلیں، آدھے راستے میں تھیں کہ پھر فون آیا کہ آپ جناح ہسپتال نہ جائیں بَل کہ ادھر سندھ گورنمنٹ ہسپتال آ جائیں، وہاں سے وہ پلٹیں اور جب ہسپتال کے دروازے پر پہنچیں تو انھیں پھر کہا گیا کہ انھیں تو جناح ہسپتال لے گئے ہیں۔

وہ ٹھٹک گئیں اور شک کا اظہار کیا کہ یہیں کوئی گڑ بڑ ہے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ٹی بی وارڈ  کے کمرے میں گئیں تو ان کی بیٹی عصمت خانڑیجو کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ جب کہ کمرے میں اسی ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹر ایاز کے ساتھ حیران کن طور پر انڈس ہسپتال کی ٹی بی مہم کے کرتا دھرتا ڈاکٹر شکیل بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر شکیل عصمت کی والدہ کو دیکھ کر وہاں سے نکل گئے۔

‏انھیں کہا گیا کہ عصمت کو علاج کی غرض سے اینٹی بائیوٹک کا انجکشن لگایا گیا جس کا ری ایکشن ہوا، جس کے لیے دوسری دوا دی گئی لیکن ان کی حالت خراب ہو گئی۔ نتیجتًا موت واقع ہو گئی۔

والدہ ہسپتال عملے کے بیان، بہ قول ان کے جان بوجھ کر انھیں دیر کرانے اور ڈاکٹر شکیل کی وہاں موجودگی سے ٹھٹک گئی تھیں، انھوں نے یہ بات نہ مانی، لاش لینے سے انکار کر دیا۔

عصمت کی موت کی خبر ابراہیم حیدری میں پھیل گئی تو پورے علاقے میں اشتعال و غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ معاملہ بڑھا اور ایف آئی آر درج کی گئی لیکن پولیس نے اہلِ خانہ کی مرضی کے بر خلاف صرف غلط دوا لگانے والے ڈاکٹر ایاز کو ہی صرف نام زد کیا، اور ڈاکٹر شکیل کا نام ڈالنے سے انکار کیا۔

‏اہل خانہ کو واقعے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں جب کہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ عصمت کو اینٹی بائیوٹک نہیں بَل کہ بے ہوشی کی دوا دے کر اس کا ریپ کیا گیا، پھر زہر دے کر قتل کر دیا گیا، ‏اخبارات میں کورنگی نمبر پانچ پولیس کے حوالے سے چھپنے والی خبروں میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ عصمت خانڑیجو کو ریپ کے بعد قصدًا زہریلی دوا کا انجکشن لگایا، اجزاء کے نمونے فارنزک ٹیسٹ کے لیے اسلام آباد میں قائم لیب کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

والدین کو ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں دی گئی ہے، لیکن وہ جائز طور پر اس معاملے کی بھر پُور تحقیقات، ریپ اور قتل کے سنگین جرم میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عصمت کے اہل محلہ، سندھ کمیشن فار ہیومن رائٹس، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس، عورت حق، اور فشر فوک اور سول سوسائٹی کارکنان اس معاملے میں عصمت کے خاندان کا بھر پُور ساتھ دیں گے، سماجی کار کن جبران ناصر نے کہا کہ عصمت کے اہلِ خانہ کی ڈی آئی جی عامر فاروقی سے اس سلسلے میں آج ملاقات کرا رہے ہیں۔