عصری ادب اور تنقید کا بحران

ایک روزن لکھاری
طارق ہاشمی، صاحب مضمون

(طارق ہاشمی)

عصری ادب اور اِس کے رجحانات ومیلانات نیزپیش رفت پر لکھنے اور اِس کا تجزیہ کرنے کی روایت ماضی قریب تک بھی رہی ہے۔ادیب کیا لکھ رہے ہیں؟کن اسالیب اور نظریات کا فروغ سامنے آیا ہے؟یہ اسالیب ونظریات مثبت ہیںیا صورتِ حال اس کے بر عکس ہے؟کون سے نئے ادیب سامنے آئے ہیں؟نیزان کی تازہ اشاعتوں کی کیا اہمیت ہے؟یہ اور اِس نوع کے بہت سے سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیق کار،نقاداور رسائل کے مدیران تسلسل کے ساتھ مباحث میں دلچسپی لیتے اورمذکورہ سوالات پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے مگرگزشتہ کچھ عرصے سے جبکہ نظریاتی تنقید بالخصوص لسانی مباحث نے اہمیت اختیار کی ہے اور عالمی صورتِ حال کے باعث سماجی بحثوں کا رجحان عام ہوا ہے۔ عصری ادب اور اس کی قدروں کی طرف توجہ نظرانداز ہو گئی ہے۔
نظم کے حوالے سے تنقید کی نئی اخلاقیات پر لکھتے ہوئے ہمارے ایک نوجوان دوست نے یہ گلہ کیا تھا کہ ہمارے نقاد ابھی تک راشد اور میرا جی میں الجھے ہوئے ہیں اور اُس کے بعد کی نظم پر کوئی توجہ نہیں۔اتفاق سے گلہ بھی اُس وقت سامنے آیاجب مابعدراشدومیرا جی نسل بھی دنیا سے اُٹھ چکی تھی یا چند لوگ ابھی باقی تو تھے مگراپنا بیشتر تخلیقی کام مکمل کرچکے تھے گویا جس پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی وہ بھی قصہ پارینہ ہو گیا۔
کسی نقطے کی طرف توجہ دلانابھی اہم ہے لیکن اس کے باوجود بھی توجہ نہ ہونا صورتِ حال کے مزید گھمبیر ہونے کی علامت ہے۔
فکشن کی کیا صورتِ حال ہے؟اِس کا جواب شاید میں نہ دے سکوں کہ یہ میرا میدان نہیں لیکن شعری منظرنامہ واقعی ایسا ہے کہ عصری ادب پر لکھنے کا رجحان مفقود دکھائی دیتا ہے اور نظم کے مباحث کی سُوئی ابھی تک راشد،میرا جی اور مجید امجدتک اٹکی ہوئی ہے اور غزل پر گفتگوناصر کاظمی سے آگے نہیں بڑھ رہی ہے اور جو تھوڑی بہت بڑھی بھی ہے توفنون کی ادبی اسٹبلشمنٹ کے باعث عجیب و غریب مغالطوں کا شکار ہے۔جس کی ایک مثال شکیب جلالی ہے جو محض۴یا۵ غزلوں کی بنیاد پر ایسا بانس پر چڑھا لیا گیا کہ ۶۰کی دہائی کے انتہائی اہم تخلیق کاروں پربحث کا در ہی نہ کھل سکا۔
ماضی قریب تک کسی کتاب کی اشاعت کا واقعہ اہم بھی ہوتا تھااو رعصری ادب میں اس کا چرچا بھی۔کتاب چھپتے ہی رسائل میں اُس پر تبصرے تواتر سے شائع ہوتے اور صاحبِ کتاب کو اپنی کاوش کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا تھامگر اب مصنف ناشر نامی مخلوق کو بھاری رقم دے کراپنی کتاب خود ہی تقسیم کر دیتا ہے اور اس کے بعد معاملہ عنقا ہو جاتا ہے ،ہاں مگردل کے صدمے کے لیے اسے کوئی ایک آدھ کاپی فٹ پاتھ پر ضرور نظر آجاتی ہے۔
اِس وقت جامعات میں تحقیق عروج پر ہے۔اچھی ہے یا بُری اس پر پھر کسی وقت بحث ہوگی۔مگر عصری ادب سے متعلق جب کوئی موضوع تفویض کیا جاتا ہے تو طالب علموں کے مطالعہ اور رہنمائی کے لیے کتب کی دستیابی ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔کچھ کتابیں اساتذہ کی نجی لائبریریوں میں ہوں تو ہوں،بازار میں یا اداروں کے کتب خانوں میں نہیں ملتیں۔اِن کتب میں بھی معاصر ادیبوں اور ان کے رجحانات پرمواد کی دستیابی مشکل سے ہوتی ہے۔
اردو غزل پر کام کرتے ہوئے جب میں ۷۰ کی دہائی اوراس کے بعد معاصر نسل پر بحث کرنے لگاتو خود مجھے یہی مسئلہ درپیش ہواکہ معاصر ادب پر کتب نیز رسائل میں مباحث کا فقدان تھا۔جامعات میں تحقیق کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مجبوراًتنقیدی اقتباسات شعری مجموعوں کے دیباچوں اورفلیپوں سے دینے پڑے۔
معاصر ادب پر کیوں نہیں لکھا جاتا؟اس کے دو اسباب تو اوپربیان کیے جا چکے ہیں کہ فی زمانہ نظری خصوصاً لسانی بحثوں نے ایسا زور پکڑا ہے کہ اہلِ قلم سے لے کر طالب علم تک پیرول اور لینگ کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اورآجمولاکھاکھاکے موٹی موٹی اصطلاحات کو ہضم کرنے کی فکر میں ہیں۔دوسراسماجی دانشور یعنی حسن عسکری بننے کافیشن۔لیکن اِس سے بھی بڑھ کر وہ خوفِ فسادخلق ہے جس میں مبتلا ہو کر جرأتِ تحقیق و تنقیدکے ساتھ ساتھ جرأتِ اخلاق و اقداربھی پسِ پشت ڈال دی گئی ہے۔دروغ برگردنِ راوی ایک بڑے محقق نے کہا کہ وہ اپنی رقم کردہ تاریخ کوعصری ادب تک نہیں پھیلائیں گے کیونکہ وہ متنازعہ نہیں ہوناچاہتے۔اب اگر اِس طرح سوچا جائے تو کسی کے حق میں آپ کلمۂ خیرکیوں کہیں گے۔
اُردوغزل اور نظم پر میں نے جو تھوڑا بہت تنقیدی کام کیااُس میں معاصرنسل کو اپنی ترجیحات میں ضرور رکھااورکتب کی اشاعت کے بعد بہت سے گلے شکوے بھی سننے پڑے کہ میں نے فلاں کوکیوں نظراندازکیااورفلاں پرمختصراًاورفلاں پرمفصل کیوں لکھا۔مذکورہ اعتراضات اورگلے حسبِ توقع تھے مگراِن کے خوف سے پوری معاصرنسل کونظراندازکرکے تنقیدی اخلاقیات سے گریزکرنا بھی گوارانہ ہوا۔
معاصرادب پرنہ لکھنا اورکلاسیک کی عظمت کو مزید عظمت عطاکرنااس سماجی رویے کی وجہ سے بھی ہے جسے مردہ پرستی کہا جاتا ہے۔ ادیب کبھی مردہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ بھی ظلم ہے کہ زندہ ادیب کو نظر انداز کر کے اُسے جیتے جی مار دیا جائے۔عصری انسان کی عظمت کا اعتراف تو خیر ہمارے مزاج ہی میں نہیں ہے تومجموعی سماجی مزاج کایہ عکس معاصر تنقید میں بھی واضح ہے کہ موجودہ اہلِ قلم کو جو توجہ درکار ہے،وہ دستیاب نہیں۔
معاصر ادب پر نہ لکھنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ تنقید اور تخلیق کا مکالمہ اپ ڈیٹ نہیں رہااور نیا نقاد ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہا ہے اورنئے ادیب کو جوتوجہ چاہیے،وہ اس سے محرومی کے باعث تنہائی کا شکار ہے۔ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی تخلیق کی محض تحسین چاہتا ہے بلکہ اُس مکالمے کا خواہاں ہے جو تخلیقی عمل کی تازگی کے لیے بہت ضروری ہے۔
عصری ادب کی مجموعی صورتِ حال کو جاننے کے لیے بھی عصری ادب پر لکھا جانا بہت ضروری ہے ورنہ تو میڈیا پر چھائے رہنے اور گروہ بندی کے گُروبننے کے رویے کے باعث اب بھی بعض ناادیب ہی ادب کے سرخیل بن کر ابھررہے ہیں اور ماضی کے بعض مغالطے ایک تسلسل اختیار کر رہے ہیں۔
نقاد کا لکھنا اُس تربیت کا بھی حصہ ہے کہ تنقید کو پڑھ کرایک عام قاری یاطالب علم کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ عصری ادب کودرست زاویوں سے دیکھنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اورجب تربیت کا یہ عمل رکاوٹ کاشکار ہوجائے یابندہوجائے توادب کی تفہیم کے حوالے سے مغالطے جنم لینا شروع کر دیتے ہیں اورفی زمانہ تویہ گھمبیرصورتِحال ہے کہ عام قاری اور طالب علم اپنے عصر کے ادیبوں سے سرے سے واقف ہی نہیںیعنی اُس کی معلومات راشد،میرا جی،مجیدامجداورناصرکاظمی سے آگے خیرخیر ہی ہے۔
عصری ادب کے حوالے سے تنقید کا یہ بحران گھمبیر ہے۔عسکری صاحب نے تونامعلوم کن وجوہات کی بنا پرکئی برس قبل ادب کی موت کا اعلان کر دیاتھا لیکن فی زمانہ عصری تخلیقی صورتِ حال پر عدم توجہ اورعملی تنقیدکاضعف مرگِ ادب کا سبب ہوسکتاہے۔