جگہیں،چہرے ، یادیں اور خیال (سفر نامہ۔ پانچویں قسط)

(نجیبہ عارف)
چارلس والس فیلو شپ:
چارلس والس فیلو شپ سے میری پہلی شناسائی کئی برس پہلے محض اتفاق سے ہوئی تھی۔ میں ان دنوں ایک پوسٹ ڈاک فیلو شپ کے لیے کسی برطانوی یونی ورسٹی میں نگرانِ تحقیق 13900500_10155291943982222_717785101_nتلاش کر رہی تھی۔ اسی تلاش کے دوران سوآس کے زبان وثقافت کے شعبے کی سینئر لیکچرار ڈاکٹرفرینچسکا سے برقی ڈاک کے ذریعے رابطہ ہوا تھا اور انھوں نے مجھے اس فیلو شپ کے لیے درخواست دینے کا مشورہ دیا تھا۔ پھر میری چھوٹی بہن کی دوست ڈاکٹر رفعت النسا نے ، جو خود بھی میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے، یہ فیلوشپ حاصل کی اور اوسٹر یونی ورسٹی (Worcester University) میں تین مہینے کا عرصہ کامیابی سے گزارا۔ رفعی نے بھی اصرار کیا کہ مجھے اس فیلو شپ کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
آخری اور کارگر مشورہ نشاط ریاض نے دیا جو برٹش کونسل پاکستان میں پروگرام مینیجر ہیں ۔ نشاط سے میری پہلی ملاقات تین سال قبل برٹش کونسل کی ایک ورکشاپ کے دوران ہوئی تھی۔ اس ورکشاپ کے لیے پاکستان بھر کی یونی ورسٹیوں سے تیرہ اساتذہ کا انتخاب ہوا تھا۔ یہ انتخاب برٹش کونسل پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے مشترکہ طور پر عمومی مقابلے کے بعد کیا تھا۔ ورکشاپ کے لیے ان منتخب یونی ورسٹی اساتذہ کولندن کے قریب ونڈسر کے مقام پر لے جایا گیا ، جہاں دیگر ممالک کے نمائندہ اساتذہ بھی آئے اوربرٹش کونسل برطانیہ نے ان تمام اساتذہ کے لیے بین الاقوامی تحقیقی روابط بڑھانے اور کثیر ثقافتی (multi-cultural) ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی تربیت دی تھی۔ اس ورکشاپ کے دوران نشاط بھی مشاہدہ کار کے طور پر موجود تھیں۔ان کی مہربان اوردلکش مسکراہٹ نے وہیں ہم سب کو موہ لیا تھا لیکن یہ ربط پاکستان واپس آنے کے بعد زیادہ مستحکم ہوا جب ہم سب نے پاکستان کی تمام یونی ورسٹیوں کے ہم کار اساتذہ کو اپنی تربیت کے نتائج میں شریک کرنے کے لیے Cascading Workshopsکا پروگرام بنایا۔ یہ ورکشاپیں پاکستان کی چھوٹی بڑی متعدد یونی ورسٹیوں میں منعقد ہوئیں ۔ انھیں عملی شکل دینے میں برٹش کونسل سے نشاط ریاض اور ایچ ای سی سے نو ر آمنہ کا تعاون اوررہنمائی مسلسل شریکِ حال رہی۔یہ تعاون رسمی اور سرکاری نوعیت کی کارروائیوں سے کچھ بڑھ کر تھا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ یہ دونوں خواتین اپنے فرائض منصبی کو محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ شخصی لگاؤ، حب وطن اور ایمان کا جزو سمجھتی ہیں۔ ہم سب کے سب ان کے خلوص اور دوستانہ رویے کے قائل بلکہ گھائل ہو گئے تھے۔انھی ملاقاتوں کے دوران کسی دن نشاط نے بر سبیلِ تذکرہ چارلس والس فیلو شپ کی بات کی تھی۔ اس دفعہ میرے حالات کچھ مختلف تھے، مومنہ یونی ورسٹی کے ہوسٹل میں جا چکی تھی، محمد خود انحصاری سیکھ رہا تھا اور عارف کو بھی تین ماہ کی جدائی کے شاق گزرنے کا امکان مدھم پڑتا معلوم ہوتا تھا۔ یونی ورسٹی کے حالات بھی پہلے کی نسبت کچھ حوصلہ افزا تھے۔ چناں چہ میں نے رفعی سے رہنمائی حاصل کی اور درخواست دینے کا ارادہ کر لیا۔
چارلس والس فیلو شپ کا اہتمام چارلس والس ٹرسٹ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ یہ ٹرسٹ ایک برطانوی تاجر چارلس والس کی وصیت کے مطابق ۱۹۸۱ میں برطانیہ میں قائم ہوا تھا ۔ چارلس والس نے انیسویں صدی کے اواخر میں نو آبادیاتی ہندوستان میں خاصی دولت کمائی تھی۔ اس کا انتقال ۱۹۱۶ میں ، ساٹھ برس کی عمر میں لندن میں ہوا۔ وفات سے پہلے اس نے وصیت کی تھی کہ اس کی دولت جن لوگوں کی مدد سے کمائی گئی ہے انھی پر خرچ کی جائے۔ چناں چہ اس کا ایک حصہ برطانوی خزانے میں داخل کیا گیا اور دوسرے حصے سے برطانوی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے چارممالک کے لیے ٹرسٹ قائم کیے گئے۔ یہ چار ممالک بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمر (سابقہ برما)ہیں ۔ بھارت اور پاکستان کے ٹرسٹ برٹش کونسل کے تعاون سے کام کرتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہر سال پندرہ سے بیس پاکستانی اسکالر برطانوی یونی ورسٹیوں میں تحقیق کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ فیلو شپ کا دورانیہ تین ماہ ہے۔ درخواست دینے سے پہلے امیدوار کو کسی نہ کسی برطانوی یونی ورسٹی سے رابطہ کر کے اپنے لیے دعوت نامہ حاصلؒ کرنا پڑتا ہے۔ بیشتر امیدواروں کے لیے یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ کئی یونی ورسٹیاں اور ان کے پروفیسر اس معاملے میں سردمہری کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور پلٹ کر جواب نہیں دیتے، یا جواب دیں بھی تو دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے۔ زیادہ تر چھوٹی اور نئی یونی ورسٹیاں جوش و خروش سے اس موقع کا خیر مقدم کرتی ہیں مگر وہاں تحقیق کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔دراصل یہ ٹرسٹ برطانوی یونی ورسٹیوں کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کرتا۔ اسی لیے یونی ورسٹیاں اور پروفیسر حضرات بھی اس میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ البتہ دوتین بڑی یونی ورسٹیاں ایسی بھی ہیں جو اس شرط کے ساتھ امیدواروں کوقبول کرتی ہیں کہ انتخاب وہ خود کریں گی۔ان میں اوکسفرڈ یونی ورسٹی، ایڈنبرا یونی ورسٹی اور لندن یونی ورسٹی شامل ہیں۔ یہ یونی ورسٹیاں اپنی ویب سائٹ پر علیحدہ اشتہار دے کر صرف ڈاکٹریٹ کی ڈگریرکھنے والے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرتی ہیں اور ان کے تحقیقی منصوبے جانچ پرکھ کر انھیں منتخب کرتی ہیں۔ ان کی اپنی شرائط بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً لندن یونی ورسٹی بھارت سے ہر سال ایک فیلو منتخب کرتی ہے مگر پاکستان سے دو سال میں ایک بار چارلس والس فیلو کو منتخب کیا جاتا ہے۔
ان تمام الجھنوں سے گھبرا کر میں نے رفعی کے مشورے سے لندن سے باہر کسی نسبتاً چھوٹی یونی ورسٹی سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ رفعی ہی نے مجھے اوسٹر یونی ورسٹی ( Worcester University) کی پروفیسر کرس سے متعارف کرایا اور انھوں نے اپنی یونیورسٹی کی جانب سے مجھے دعوت نامہ ارسال کر دیا۔میں نے خوشی خوشی درخواست کا فارم بھرا، تحقیقی منصوبہ بنایا اوردعوت نامے کی نقل منسلک کر کے ، حسب ضابطہ ٹرسٹ کو بھیج دیا۔کچھ عرصے بعد مجھے خط ملا کہ میرا نام انٹرویو کے لیے منتخب ہونے والے امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے اور ٹرسٹ کے سیکرٹری ٹم بچرڈ (Tim Butchard) مقررہ تاریخ کو امیدواروں سے انٹریو لیں گے۔ میں بھی حاضر ہو گئی۔ انٹرویو ہوا، نشاط ریاض بھی ٹم کے ساتھ موجود تھیں، بہت اچھی گفتگو ہوئی۔ ٹم نے میری درخواست کا اچھی طرح مطالعہ کر رکھا تھا۔ سوال جواب کرنے اور مجھ سے ایک دو نظمیں مع انگریزی ترجمہ وتشریح سننے کے بعد ٹم نے میری درخواست کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگے :
’’آپ کی درخواست بہت متاثرکن ہے؛ مگر اس میں ایک کمزوری ہے۔‘‘
میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔
’’آپ نے جس یونی ورسٹی کا دعوت نامہ حاصل کیا ہے، وہ آپ کے لیے موزوں نہیں۔‘‘
’’جی؟‘‘
’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ یونی ورسٹی اچھی نہیں ہے۔ لیکن آپ کے مضمون اور موضوعِ تحقیق کے متعلق اس یونی ورسٹی میں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں تو جنوبی ایشیا کے مطالعات کا شعبہ تک نہیں ہے۔ آپ کیسے اس یونی ورسٹی میں تحقیق کریں گی؟‘‘
’’یہ تو مشکل نہیں ہے۔ چوں کہ اس فیلو شپ کی شرائط میں یونی ورسٹی کی تدریسی ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں اس لیے میں اپنی تحقیق کے وسائل برٹش لائبریری سے حاصل کر سکوں گی۔‘‘ میں نے بڑے اعتماد سے کہا۔
’’آپ کا مطلب ہے کہ آپ اس دعوت نامے کو صرف فیلو شپ حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گی اور تحقیق کہیں اور کریں گی۔‘‘
’’جی ہاں اور جی نہیں، یقینامیں اس یونی ورسٹی کی ہم نصابی سرگرمیوں میں شریک رہو ں گی، یہیں سیمینار بھی دوں گی ،پروفیسر وں سے تعارف حاصل کروں گی اور اپنی یونی ورسٹی سے تعاون کے امکانات تلاش کروں گی، جو فیلو شپ کا بنیادی تقاضا ہے۔ لیکن اپنی تحقیق کے وسائل کے لیے لندن اور دیگر شہروں کی لائبریریوں سے استفادہ کروں گی۔‘‘
مگر ٹم میری بات سے قائل نہیں ہوئے۔ کچھ اور ردوقدح کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ کا تحقیقی منصوبہ تو لندن یونی ورسٹی کے اسکول اوف اورئینٹل اینڈ ایفریکن اسٹڈیز میں ہی بہترین طور پر پروان چڑھ سکتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سوآس میں بھی ہماری فیلوشپ پیش کی جاتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں، مجھے معلوم ہے مگر سوآس میں ہر سال درخواستیں طلب نہیں کی جاتیں۔ ‘‘
’’چند ماہ بعد وہ یہ درخواستیں طلب کرنے والے ہیں۔ کیا آپ وہاں درخواست دینا پسند کریں گی؟‘‘
مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔
’’تو کیا آپ ۔۔۔۔۔ ؟؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ آپ سوآس کے لیے درخواست دیں۔ میں ان کے شیڈول سے آپ کو آگاہ کر دوں گا اور آپ کی درخواست کی ایک نقل بھی انھیں بھیج دوں گا، مگر یاد رکھیے، وہ اپنے فیلو کا انتخاب سو فی صد آزادی سے کرتے ہیں۔ میں اس انتخاب پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ آپ کی کامیابی آپ کی درخواست اور تحقیقی منصوبے پر ہی منحصر ہے۔‘‘
اب کچھ اور کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ ٹم نے مجھے اس انتخاب سے باہر کر دیا تھا۔ میں منھ لٹکا کر واپس آگئی اور عہد کیا کہ ہر گز سوآس میں درخواست نہیں بھیجوں گی۔کون ایک دفعہ پھر اس سارے تکلیف دہ مرحلے سے گزرے۔ درخواستوں کے فارم بھرنا کون سا آسان کام ہے اور ٹم نے کہہ بھی دیا ہے کہ وہ انتخاب پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تو پھر فائدہ ہی کیا ہے۔
میں چپ چاپ واپس آگئی اور انگلستان جانے کا خیال دل سے نکال دیا۔ کچھ دن بعد برٹش کونسل سے مجھے باقاعدہ اطلاع بھی مل گئی کہ میرانام اس سال کے منتخب فیلوز میں شامل نہیں ہے۔
اس واقعے کوچند ہی روز گزرے تھے کہ مجھے ٹم کا برقی خط موصول ہوا جس میں سوآس میں درخواست دینے کی تاریخ اور طریق کار سے آگاہ کیا گیا تھا اور مجھے کہا گیا تھا کہ اگر میں چاہوں تو اس سال کے سوآس کے مخصوص فیلو کے لیے اپنا تحقیقی منصوبہ اور درخواست بھیج سکتی ہوں۔ کافی دن تک میں نے اس مشورہ پر کان نہیں دھرا۔ پھر یکایک مجھے جوش سا آیا۔ ٹم کی وعدہ پوری کرنے کی ادا بھی مجھے بھائی اور میں نے وہی منصوبہ ایک نئی درخواست کے ساتھ سوآس روانہ کر دیا۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ جولائی ۲۰۱۲ تھی اور اشتہار میں صاف صاف لکھا تھا کہ انتخاب کی اطلاع اکتوبر ۲۰۱۲ کے اواخر تک دی جائے گی لہٰذا اس دوران تفتیش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ میں نے بھی درخواست دے کر کان لپیٹ لیے۔
اکتوبر کا دوسرا ہفتہ تھا کہ مجھے سوآس فیلو کے طور پر منتخب ہونے کی اطلاع مل گئی۔

تحقیقی منصوبہ:
میں نے سوآس میں جو تحقیقی منصوبہ بنا کر بھیجا تھا اس کا موضوع تھا:
The West in South Asian Muslim Discourse: A Study of Urdu travelogues, Notes and Letters 1757-1857
اس موضوع پر کام کرنے کا خیال کافی عرصے سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا۔کچھ سال پہلے میں نے پاکستانی اردو افسانے پرگیارہ ستمبر کے واقعے کے اثرات کا مطالعہ شروع کیا تھا۔ اسی مطالعے کے دوران مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور مغرب کے درمیان جس کشمکش کو تہذیبی تصادم اور نظریاتی یا مذہبی ٹکراؤ کا نام دیا جا رہا ہے اور جس کی بنیاد پر مسلمانوں، خاص طور پر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے، اس کے تاریخی تناظر کا مطالعہ کروں اور یہ جاننے کی کوشش کروں کہ کیا مسلمان ہمیشہ سے مغربی تہذیب کے مخالف ہیں؟ کیا انھیں سائنسی و علمی ترقی اپنے مذہبی عقائد کی دشمن معلوم ہوتی ہے؟ کیا وہ مغربی معاشروں کی بنیادی اقدار کے دشمن ہیں؟ آج سے کم وبیش ڈھائی سو برس پہلے جب انگریزوں نے عملی طور پر ہندوستان پر سیاسی وعسکری غلبہ حاصل کر لیا تھا ، تو اس وقت کے ہندوستانی مسلمان اسے کس نظر سے دیکھتے تھے؟ مغلوں کے زوال کے بعد انگریز ہندوستان کی نئی سیاسی قوت بن کر ابھرے تو مقامی باشندوں، خاص طور پر مسلمانوں نے اس سیاسی قوت کے سامنے کیسے مزاحمت کی؟ اس مزاحمت کا رنگ محض سیاسی تھا یا علمی، معاشرتی اور ادبی سطح پر اس مزاحمت کے آثار نظر آتے ہیں؟
یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا اور میرے یہ ممکن نہ تھا کہ ہر سطح پر اس سوال کا جواب حاصل کر سکوں۔ اس لیے میں نے اس کے صرف ایک پہلو کو پیش نظر رکھنے کا پروگرام بنایا۔ میں نے ان سفرناموں، یادداشتوں اور خود نوشتوں کا مطالعہ کرنے کا ارادہ کر لیا جو ۱۷۵۷ سے ۱۸۵۷ ء تک کے عرصے کے دوران، جنوب ایشیا ئی مسلمانوں نے مغرب کے بارے میں رقم کی تھیں۔ یوں بھی تاریخ کے علم کا بڑا ماخذ کسی خاص دور کی تحریریں ہوتی ہیں خواہ وہ علمی و ادبی کاوشیں ہوں یا مختلف نوعیت کے ریکارڈ اور دستاویزات۔
جب میں نے اس موضوع پر کام کرنے کے لیے ابتدائی معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں تو مجھے معلوم ہوا کہ اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں یعنی ۱۷۵۷ کی جنگ پلاسی کے بعد سے ، جب انگریزوں نے بنگال اور اڑیسہ کی دیوانی حاصل کر لی، انھیں وہاں کے زمین داروں سے ٹیکس جمع کرنے کا اختیار مل گیا اور عملی طور پر وہ ہندوستان کے ایک بڑے علاقے کے حکمران بن گئے تو ہندوستان میں سماجی و معاشرتی سطح پر کئی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ ہر دور کے حکمرانوں کی طرح انھوں نے بھی اپنے عہد میں ،مقامی مؤرخین کی سرپرستی کر کے ان سے تاریخیں لکھوائیں، کتب تصنیف کروائیں اور ان کی زبان و ادب کی سرپرستی کی۔ اسی زمانے میں دیار مغرب کے اولین سفرنامے لکھے گئے جن میں پہلی بار ہندوستانی مسلمانوں نے مغربی تہذیب و تمدن، سیاست اور معاشرت پر اپنی رائے کا ظہار کیا۔ ان سفر نامہ نگاروں کے سفر کے مقاصدبہت مختلف تھے۔ ان میں سے کچھ تو سفارتی یاسیاسی مقاصد کے تحت انگلستان گئے تھے ، کچھ کو ملازمت کی مجبوری سے جانا پڑا، کچھ نے علمی تجسس اور پیاس کی تسکین کے لیے اس سفر کی صعوبتیں برداشت کیں، کچھ کسی انگریز مربی کی محبت یا مروت میں وہاں پہنچے اور کچھ محض سیر و سیاحت کے شوق میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مقاصد کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی حیثیت میں بھی فرق تھا۔ ان میں سے کچھ اپنے علاقوں کے رئیس تھے اور طبقۂ امرا میں ان کا شمار ہوتا تھا، کچھ آسودہ حال مگر درمیانے طبقے کے افراد تھے اور کچھ عام ملازمت پیشہ لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے زمانے، سماجی مرتبے اور علمی حیثیت کے مطابق اپنے احوال مختلف زبانوں میں بیان کیے ہیں۔
یوں میرے کام کی تحریریں کم از کم چار مختلف زبانوں میں موجود ہیں، جن میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی شامل ہیں۔ ان میں سے چند ایک تک رسائی حاصل ہو گئی اور چند ایک کے اصل متن تک پہنچنے کے لیے مزید کوشش درکار تھی۔لگتا تھا کہ ہندوستان یا برطانیہ جائے بغیر بات نہیں بنے گی، مگر اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ ہماری یونی ورسٹی تحقیق کے لیے فنڈ تو فراہم کرتی ہے مگر وہ سفر پر خرچ نہیں کیے جا سکتے اور یہاں مسئلہ ہی سفر کا تھا۔میں چاہتی تھی کہ پرانے ذخائر اور مخطوطات جھانک کر دیکھ لوں، شاید کہیں کوئی ایسی تحریر بھی مل جائے جو ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئی، شاید کوئی نئی دریافت ہو جائے، شاید میں کوئی تیر مار سکوں۔
ابھی میں اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ سوآس کی فیلو شپ کا امکان روشن ہو گیا۔مگر میں نے ابتدائی معلومات حاصل کرنے کا کام جاری رکھا۔ جوں جوں اس بارے میں میری معلومات بڑھتی گئیں، میرے شوق اور تجسس میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔یہاں تک کہ جب میں نے لندن میں قدم رکھا تو میں اکیلی نہیں تھی۔مرزا اعتصام الدین، دین محمد، میر محمد حسین، ابو طالب لندنی، یوسف خان کمبل پوش، نواب عبدالکریم ، مسیح الدین علوی اور لطف اللہ بھی میرے ساتھ تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے میری دو نہیں ، اٹھارہ آنکھیں ہیں، میں جہاز کی کھڑکی سے جھانکتی تو مجھے سمندر کی وہ طوفانی لہریں سنائی دیتیں جو ’’ازابیلا‘‘، ’’مورس‘‘ اور’’یورپا‘‘ پر پہلی بار سمندری سفر کرتے ہوئے ان مسافروں کوصدیوں قبل سنائی دی تھیں، کبھی کہیں سے فلائنگ فش کا نظارہ دکھائی دیتا، کبھی جھولتے ہوئے جہاز کے ہچکولے میرے ذہن کی کسی عقبی کھڑکی سے برآمد ہوتے اور کبھی دور کہیں سینٹ ہیلنا اور کیپ اوف گڈ ہوپ کے ساحلوں کی ہوا مجھے چھو کر گزرتی۔پھر ان سب کی حیرتیں، مایوسیاں اور مسرتیں بھی مجھے جھیلنا پڑتیں۔ فٹ پاتھ دیکھ کر حیران ہونے والے، رات کو سڑکوں کے کنارے جلتے ہوئے لیمپوں کی روشنی سے مرعوب ہو جانے والے، باغوں اور فواروں کے نظارے سے مسحور ہونے والے، اور دوسری طرف اپنے مشن کی ناکامیوں کا دکھ اٹھانے والے اور اخلاق و انصاف کے پردے میں چھپی خودغرضانہ بے رحم سیاست کا شکار ہونے والے ، ہندوستان کے مسلمان مسافر میرے اندر دوبارہ جی اٹھے تھے۔
لندن پہنچے ابھی چند ہی روز ہوئے کہ ایک نسوانی سایہ بھی میرا ہم سفر ہو گیا۔ یہ مریم تھی۔ پہلی ہندوستانی خاتون ،جسے جہانگیر (۱۶۰۵۔ ۱۶۲۷) نے ملکہ الزبتھ کے نوجوان سفیر ولیم ہاکنز کو اپنے دربار سے وابستہ رکھنے کے لیے ، اس کی زوجیت میں دے دیا تھا اور وہ ۱۶۱۴ میں لندن پہنچی تھی لیکن جب اس کا سفر شروع ہوا تھا تو وہ ولیم ہاکنز کی شریک حیات تھی اور جب ختم ہوا تو ٹاورسن اس کی تقدیر اور زندگی کا مالک بن چکا تھا۔ ہاکنز نے کسی پر اسرار وبائی مرض کا شکار ہو کر راستے ہی میں دم توڑ دیاتھا۔یہ واقعہ میرے زمانۂ تحقیق سے بہت پہلے سترھویں صدی کی دوسری دہائی میں پیش آیا تھا لیکن مریم کی حیرت اور قسمت کے دھچکے بھی میرے ہم رکاب ہو گئے۔
اب لندن میں اکیلے گھومنا کہاں ممکن رہا تھا۔ ایک جلوس میرے ہمراہ تھا اور اس جلوس کی قیادت اسی دشمنِ جاں، اسی ہم ذات کے ہاتھ میں تھی جس نے میری زندگی کو دوٹکڑے کر رکھا ہے۔ نصف صدی ہونے کو ہے، میری اور اس کی جنگ ختم ہوتی ہے نہ ہم دونوں میں صلح کے آثار پیدا ہوتے ہیں۔اس دونیم زندگی کو جھیلتے جھیلتے میری قوت حیات ادھ موئی ہو گئی ہے۔ جب بھی میں کسی ایک نتیجے پر پہنچتی ہوں،تصویر کا دوسرارُخ مجھے اپنی جھلک دکھانے لگتا ہے ۔
’’ حقیقت صرف سفید نہیں ہے بی بی!، یہ سیاہی بھی حقیقت ہے۔ اسے بھی دیکھو!‘‘
ہر ایمان کے اندر کفر اور کفر میں ایمان دکھائی دینے لگتا ہے۔
گناہ اور ثواب، سزااور جزا، اندھیرا اور اجالا اس طرح مدغم ہوجاتے ہیں کہ ایک دھندلکے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اگر یہ میری نظر کی کمزوری ہے تو کاش کوئی مجھے ایک عینک لا دے،
اگر یہ عقل کا فتورہے تو کیا وہ سارے یونانی،جرمن اور فرانسیسی فلسفی مل کر بھی اس کمی کو پورا نہیں کر سکتے؟
اور اگر یہ روح کی بیماری ہے تو کہاں ہیں ممتاز مفتی کے دھوبی اور اشفاق احمد کے رنگ ریز، کیوں اس کا مداوا نہیں کرتے ؟