اقبال، تحسین غالب اور اُردو شعریات

(احمد جاوید)

اقبال نے  اپنی نظم ’’مرزا غالب‘‘ میں اسد اللہ خاں غالب کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ عام قاری کو اقبال کی اس تحسین غالب کے اندر کچھ مبالغہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اقبال کا تصور شاعری، غالب کے تصور شاعری سے بالکل مختلف ہے۔ اقبال مقصدیت کے بہت بڑے ترجمان تھے جبکہ غالب اور ان جیسے دیگر شعرا شاعری برائے شاعری کا پرچم اٹھائے نظر آتے ہیں۔ ایسی متضاد صورت حال میں حضرتِ علامہ کی نظم در مدح غالب کچھ عجیب محسوس ہوتی ہے۔ کیا غالب کی شاعری واقعی اس مبالغہ آمیز تعریف و توصیف پر پوری اترتی ہے؟
یہ تعجب اس پہلو سے تو ٹھیک محسوس ہوتا ہے کہ اقبال ایک طرف تو شعر کے روایتی تصور کو بڑی حد تک رد کرتے ہیں اور دوسری طرف ایک ایسے شاعر کی پر زور مداحی بھی کررہے ہیں جو تمام تر جدت اور ندرت کے باوجود روایتی شعریات کے اکثر مسلمات سے تجاوز نہیں کرتا ۔ کم از کم فنی اور ذوقی سطح پر غالب اسی معیار سے پر کھے جانے کا تقاضا کرتا ہے جو کسی بھی بڑے روایتی شاعر کے مطالعے کے لیے درکار ہے۔ تاہم یہ چیز بھی پیش نظر رہے کہ خود اقبال کی شعری عظمت جن بنیادوں پر قائم ہے وہ نظریاتی کم ہیں اور فنی زیادہ۔ اس عظمت کے فنی اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بہت واضح نظر آتی ہے کہ اگر غالب نہ ہوتے تو اظہار اور تخیل کے بعض ایسے نادر سانچے شاید وجود ہی میں نہ آتے جن کے استعمال نے اقبال کو بڑا شاعر بننے میں ایک فیصلہ کن مدد فراہم کی۔ اردو زبان میں پیچیدہ مفکرانہ + جمالیاتی تخیل اور اس کی بنیاد پر نئے سے نئے پیکر ڈھالنے کی وہ سہار غالب ہی نے پیدا کی جو اقبال کا مایۂ امتیاز ہے۔
’’مرزا غالب‘‘ اقبال کے ابتدائی ادوار کی ایک نظم ہے، اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ غالب کی کائنات شعر میں کس درجہ رسوخ رکھتے تھے اور اردو شاعری کے لیے واحد معیار بن جانے والے اس شاعر سے بامعنی تخلیقی گہرائی میں اثر پذیر ہونے کی کیسی استعداد رکھتے تھے۔ تعجب تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ اپنے شعری سفر کے ابتدائی مراحل ہی میں اقبال کا شعری فہم اور ذوق اتنا پختہ اور اس قدر تربیت یافتہ تھا کہ غالب ایسے مشکل شاعر کے تخلیقی جوہر کو گرفت میں لے کر اس کے اصولی خصائص کو اس طرح متعین کر کے بیان کر دیا ہے ۔
میری رائے میں ناگزیر رسمی مبالغے کے باوجود اقبال نے اس نظم میں غالب کی مداحی میں کوئی ایسا مبالغہ نہیں کیا جس کی وجہ سے ہم غالب کے ہاں کوئی ایسا وصف بھی مان لیں جو دراصل وہاں موجود نہیں ہے۔ غالب اس تعریف کا مستحق ہے، بلکہ اس میں کچھ باتیں ایسی بھی دریافت ہو سکتی ہیں جن کی طرف اس نظم میں اشارہ نہیں کیا جا سکا۔
فن برائے زندگی اور فن برائے فن کا تضاد تو ٹھیک ہے ، لیکن یہ بات یاد رہے کہ فن چاہے برائے زندگی ہو چاہے برائے فن، اس کا حسن و قبح تو دونوں دائروں میں مشترک ہی رہے گا۔ شاعر کا نظریہ جو بھی ہو، اس کی شاعری کو جانچنے کا معیار بہرحال واحد ہو گا۔ہم نے دیکھا ہے کہ نظریاتی سطح پر اقبال ، حافظ کی مخالفت میں کہاں تک پہنچ گئے تھے لیکن تخلیقی اور فنی جہت سے وہ خواجۂ شیراز کو ہمیشہ شاعروں کے شاعر کی حیثیت سے دیکھتے اور سراہتے رہے۔
ویسے فن کی مقصدیت کا سارا مبحث بے معنی ہے۔ ایک فن کار کسی نظریے یا فلسفے کو اپنی جمالیاتی سرگرمیوں کا مرکز بنا سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر جمالیاتی اصول اور معیارات سے پہلو تہی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح دوسرا فن کار کسی نظریے یا فلسفے سے بے نیاز ہو کر یا اُن کا پابند ہوئے بغیر فن کے عظیم نمونے ایجاد کر سکتا ہے۔ نظریہ و فکر فن کی شرائط میں سے نہیں ہیں، البتہ محاسن ہو سکتے ہیں۔ شعور کا جمالیاتی تناظر ایک مربوط معنویت پر استوار ہو تو اس کی بدولت جمالیاتی رسائی میں اضافہ یقینا ہوتا ہے۔ شاعری وغیرہ تصور جمال کی موجد نہیں ہوتی بلکہ ایک موجود تصور جمال کی خلاقانہ اتباع اور صورت گری کرتی ہے۔ ہر تہذیب دیگر مجموعی تصورات کی طرح جمال کا بھی ایک تصور رکھتی ہے۔ اس کی ماہیت ذہنی یا انفرادی یا وقتی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بھی حق اور خیر کے تصورات کی طرح وہ اقداری استقلال پوری طرح موجود ہوتا ہے جس میں تبدیلی و تغیرکا امکان محض اوپر اوپر کار فرما رہتا ہے، اصول ان کی پہنچ سے ماورا رہتے ہیں۔ ہماری روایت اپنی اصل اور مقصود، یعنی حقیقت کے تناظر میں جن بنیادی تصورات پر مبنی ہے، اُن کی باہمی نسبتوں کا شعور ہماری اصطلاح میںحکمت کہلاتا ہے ___ یعنی حقیقت کی بہ اعتبار مظاہر معرفت ۔ تصور جمال چونکہ حقیقت کے سلسلۂ ظہور اور اس میں پائے جانے والے تنوع کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اس کی کارفرمائی میں حسی اور تجربی رنگ حاوی رہتا ہے اور ذہنی کیفیت کم ہوتی ہے۔ اس لیے حکیمانہ شعور جمال کو نظریہ سازی اور فلسفہ طرازی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ۔ اس شعور کو حقیقت کا ورائے ذہن حضور میسر ہے، ذہن جن اسالیب حصول کا پابند ہے وہ اس فضا کو اول تو گرفت میں نہیں لے سکتا اور اگر یہ کوشش کرے گا تو انتشار کا موجب بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھیٹھ عارفانہ اور حکیمانہ شاعری بھی حقائق کے حضور سے عبارت ہوتی ہے، فہم سے نہیں۔ شاعری کی اس قسم میں معانی اپنی نوع کے لحاظ سے محض مفہومات نہیں ہوتے ، بلکہ حقیقت سے نسبت رکھنے والے تجربات کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا اظہار ذہن اور عقل کے لیے fulfilling ہوتا ہے۔شعرِ حکمت کی شرح بھی اسی اصول پر کی جاتی ہے کہ اس میں ذہن ایک معاون عنصر کی حیثیت سے شامل ہو کر اپنی تسکین اور سرشاری کی روداد بیان کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ اقبال کا مفکر اور فلسفی ہونا، اور مثال کے طور پر نظیری کا ایسا نہ ہونا ، ہمیں نظیری پر اقبال کی کسی جزوی فوقیت کا بھی دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ نظیری حقیقت کے self disclosure کو جس جمالیاتی درو بست میں دیکھنے کی صلاحیت اور بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے، وہ حقیقت کے ذہنی تصور سے بہت بڑی چیز ہے۔
اس پس منظر میں بہتر ہوگا کہ ’’مرزا غالب‘‘ کا مصرع بہ مصرع ، بیت بہ بیت ایک تشریحی تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ امید ہے کہ اس طرح ایک تو یہ پتہ چل جائے گا کہ غالب کی شاعری کن بنیادوں پر عظمت کا ناقابل تسخیر پہاڑ بنی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ تفہیم غالب کی روایت میں اقبال نے بھی کچھ بلیغ اضافے کیے ہیں۔
فکر انسان پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
اگر غالب نہ ہوتا تو اردو کی فکری روایت میں بھی یہ نکتہ پوری طرح سامنے نہ آتا کہ فکر کا جمالیاتی منتہا کیا ہوتا ہے، اور عقلی شعور اور جمالیاتی شعور کے نقطہ یکجائی تک رسائی کے بلند ترین مراتب کا حصول کیسے ممکن ہے؟ بالفاظ دیگر، غالب نے جس طرح حقائق کے جمالیاتی حضور کو عقلی تصورات سے ممتاز کرکے دکھایا ہے، اس سے کم از کم اردو شاعری ایک اور حکیمانہ مرتبے کو پہنچ گئی ۔یہ نری مداحی نہیں ہے بلکہ اس کے شواہد غالب کی اردو اور فارسی شاعری سے بہ کثرت فراہم ہوتے ہیں۔ یہاں ان کے اردو دیوان سے دو منسوخ اشعار نقل کیے جا رہے ہیں جو غالب نے عین نوجوانی یعنی ۱۸ برس کی عمر میں کہے تھے:
نہیں ہے باوجودِ ضعف سیرِ بے خودی آساں
رہِ خوابیدہ میں افگندنی ہے طرحِ منزل ہاتماشا کردنی ہے انتظار آباد حیرانی
نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
پہلے شعر میں حضورِ حقیقت کا وجودی مرتبہ بیان ہوا ہے اور دوسرے میں علمی ۔ پہلے کا اقتضا فقدان ہے اور دوسرے کا حصول ۔یہ حکیمانہ سطح اردو شاعری کی پوری روایت میں اگر کہیں دریافت ہو جائے تو میرے لیے تعجب خیز ہو گا۔
تھا سراپا روح تو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا
غالب اردو شاعری کی ایک نہایت قیمتی روایت کا موجد ہے مگر خود اس روایت کے حدود میں سما نہیں سکتا، یعنی اس کی شاعری سے جو روایت پیدا ہوئی وہ اس کی شاعرانہ عظمت کی طرف اشارہ تو کرتی ہے مگر اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ اردو کے شعری معیارات غالب سے بڑی حد تک ماخوذ ہیں مگر اس کے شعری کمالات کی توجیہ کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس شعر میں بزم سخن اردو شاعری اور اس کی مجموعی روایت کو کہا گیا ہے، یہ نکتہ نظر میں رہے تو ساری بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی، ہر شے میں جو مستور ہے
وحدت اور ہمہ گیری، شعور کی دیگر انواع کی طرح جمالیاتی شعور کا بھی مقصود ہے۔ شعور کی ہر قسم موجودات کو اصل واحد پر استوار دیکھنا چاہتی ہے۔ یعنی حقیقت کے ساتھ نسبت ثابت نہ ہو تو موجود ہونے کا استحقاق فنا ہو جاتا ہے۔ جمالیاتی شعور اس نسبت کو اصل و مظاہر کے نظام تعلق کی بنیاد پر قبول کرتا ہے، مطلب یہ کہ حضور (presence) کو مقصود اصلی جانتا ہے اور چیزوں کی جمالیاتی قدر کو اسی حضور سے مشروط رکھتا ہے۔
دیکھیے غالب کے ہاں شعور کی یہ بلند ترین جمالیاتی کارکردگی کس کس انداز سے ظاہر ہوتی ہے۔
ہے رنگِ لالہ و گلِ نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے!
خود بخود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس

چاک مت کر جیب بے ایامِ گل
کچھ اُدھر کا بھی اشارہ چاہیے

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئنہ دائم نقاب میں

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
اس باب میں غالب کے بیسیوں اشعار نقل کیے جا سکتے ہیں، یہ پانچ تو بس نمونے کے ہیں۔
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
بڑی شاعری، بڑی آواز بھی ہوتی ہے۔ شعر کی جمالیاتی تکمیل میں اس بات کا بہت دخل ہے کہ معنی اور تصویر کے ساتھ ساتھ ، لفظ کی آواز بھی اس کے حسن اور معنویت میں اضافہ کرے۔ غالب اس شرط پر بھی ہر عظیم شاعر کی طرح پورے اترتے ہیں۔ مثلاً ذیل کے اشعار میں دیکھیے کہ ان میں بننے والی مجموعی فضا میں خوش آہنگی کتنے واضح انداز سے کار فرما ہے:
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم

سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی کیا قیامت ہے
کہ دامان خیالِ یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
غرض اس طرح کی متعدد مثالیں ہیں جو اس وصف میں غالب کو انتہائی حد تک منفرد ثابت کرتی ہیں۔
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
عظیم شاعری ، آواز، تصویر اور معنی کو ایک دوسرے میں مدغم کرنے کا عمل ہے۔ آواز کا بیان پچھلے شعر میں ہو گیا تھا، یہاں پیکر تراشی اور معنی آفرینی میں اس اہم ترین شاعر کا مرتبہ دکھایا گیا ہے۔ شاعری میں تخیل ، جمال کی روبروئی میں ایسے حسی وفور سے عبارت ہے جو تصور کو محسوس بنا دیتا ہے اور حسن کی حقیقت کے لیے ایک صوری سیاق و سباق تخلیق کر دیتا ہے۔ جمال جس کامل اظہار کا نام ہے، لفظ کی شمولیت کے بغیر اس کا فعال اور تخلیقی ادراک ممکن نہیں ہے۔ شعری تخیل اسی ادراک کا دوسرا عنوان ہے۔جس کے عمومی اور mechenical مظاہر ، جمالیاتی شعور کی تخلیقی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا انسان اپنی اس طاقت کو جس میں اظہار اور ادراک ضروری امتیاز کے ساتھ یکجان ہیں، جمال کے نئے اسالیبِ اظہار کی ایجاد یا دریافت میں صرف کرتا ہے۔ یہ قوت جو جمال کی قبولیت اور اس قبولیت کے اظہار کو برسرِ عمل لاتی ہے، لفظ ہے۔ انسانی شعور کا تمام تر فعل و انفعال لفظ کی اساس پر ہے۔ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ ملفوظ ہے اور ہم اظہار کی اتنی ہی طاقت رکھتے ہیں جو لفظ ہمیں فراہم کرتا ہے۔ گویا قدرت مظہر جمال تو ہے مگر منجمد۔ تنوع ظہور جمال کا خاصہ ہے، قدرت یعنی عالم خارجی اس تنوع کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ظہورِ جمال کا اصل Pattern انسانی شعور اور لفظ کی تَہ دار نسبتوں پر استوار ہے۔ شاعر کی تخلیقی گہرائی میں صورت پکڑنے والا حضورِ جمال ، مناسبِ حال الفاظ میں اظہار پا کر چیزوں کے جمالیاتی جمود کو توڑ کر ان کے اندر موجود اس معنویت کو نئے ڈھب سے ابھار دیتا ہے جو نظر انداز شدہ حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ تخیل کو قدرت کی بہار اس معنی میں کہا گیا ہے کہ وہ چیزوں میںمظہریت کے عنصر کو ان کے دیگر عناصرِ ہستی پر غالب کر دیتا ہے۔ تخیل کی یہ شان غالب کا اصلی امتیاز ہے۔
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگِ جاں ہو گئیں
٭
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلائوں کا نزول
آج ادھر ہی کو رہے گا دیدئہ اختر کھلا
٭
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
٭
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
تو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
٭
ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب!!
ذرّے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
٭
رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
٭
دوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا!
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے بھی
جس طرح تخیل ، جمال کی صوری تجدید اور تشکیل کرتا ہے اسی طرح فکر اس کی معنوی ہیئت کو تخلیقی گرفت میں لانے کی کوشش کرتی ہے، بالفاظ دیگر تخیل کا انحصار جمال کے ظاہر پر ہے جب کہ فکر کا قیام جمال کے باطن پر ہے۔ فکر حسن کو نظری تسکین کا ماخذ بنا دیتی ہے۔ غالب کا تخیل چونکہ معنی کو تصویر کرنے کا عمل ہے لہٰذا ان کے ہاں فکر اور تخیل کا اصطلاحی امتیاز بہت حد تک رفع ہو جاتا ہے۔ جو مثالیں اوپر دی گئی ہیں، وہ فکر کے نمونوں کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جہاں تفکر تخیل سے ممتاز اور اُس پر غالب نظر آتا ہے،مثلاً:
ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
مہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد یاں

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقش پا پایا
غالب کی نوجوانی کی غزلوں میں سے ایک غزل کے کچھ اشعار دیکھیے جن سے یہ بہرحال ثابت ہوتا ہے کہ فکر کا جوہر غالب کے تخلیقی سرمائے میں شروع ہی سے پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہا ہے:
گر یاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہے
وسعتِ گہ تمنا یک بام و صد ہوا ہے

دیوانگی ہے تجھ کو درس خرام دینا
موجِ بہار یکسر زنجیرِ نقشِ پا ہے

درسِ خرام تا کے خمیازئہ روانی؟
اس موجِ مے کو غافل پیمانہ نقشِ پا ہے
ابھی تک ہم نے فکر کو ذہن کی فلسفیانہ صلاحیت کے معنی میں قبول کر کے غالب کے دیوان سے اس کے کچھ شواہد پیش کیے ہیں۔ یہ خیال اب آیا ہے کہ فکر ایک شعری اصطلاح بھی ہے جو مضمون آفرینی کے کام آتی ہے۔ گویا فکر جمالیاتی شعور میں وقوف (cognition) کا وہ عمل ہے یا ملکہ ہے جس کی بنیاد پر معانی کی جمالیاتی تشکیل ہوتی ہے۔ وہ معانی جو ذہن کے لیے بھی نامانوس نہیںہیں۔ دیکھیے غالب خالص عقلی تصورات کو کس طرح جمالیاتی شعور کی تحویل میں دیتا ہے:
خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
مرے دام تمنا میں ہے ایک صید زبوں وہ بھی
٭
ہوں گرمیِ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں
٭
شوق اُس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
جادہ از غیر از نگہِ دیدۂ تصویر نہیں
٭
اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب ادھر بھی
سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
٭
ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
٭
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
’’شوخیِ تحریر‘‘غالب کا وہ وصف ہے جس میں کئی چیزیں آ جاتی ہیں، مثلاً : زندہ دلی، طنازی، خود استہزائی، اسلوب کی چمک دمک، رنگیں بیانی اور وہ قوتِ اظہار جس کے لیے پیچیدہ سے پیچیدہ خیال کا بیان بھی آسان ہو۔ غالب کے حوالے سے اس وصف کا مجموعی مطلب یہ ہو گا کہ کوئی چیز اُس کی جمالیاتی دسترس سے باہر نہیں۔ اس پر مزید کمال یہ ہے کہ غالب چیزوں میں جمالیاتی معنویت کے ساتھ ایسی شدت اور حرکیت بھی پیدا کر دیتا ہے کہ ان کا اظہار ذہن پر ثبت ہو جانے والی ساکت تصویروں کی طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ زندگی کے زندہ مظاہر بننے کی طاقت فراہم کر لیتی ہیں۔ یعنی زندہ جمالیاتی مظاہر۔
غالب کے پیکروں میں اعلی درجے کی شاعرانہ معنٰی خیزی کے بعد جو اوصاف بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اُس کا شعر خواہ مایوسی کے مضمون پر ہو مگر اس کی تاثیر فرحت اور شادمانی والی ہوتی ہے۔ ’’زندگی مضمر ہے‘‘ کا مفہوم یہ بھی ہے کہ مضامین کا فرق غالب کے جمالیاتی جوہر یعنی مسرت بخشی کو مجروح نہیں کرتا ۔ ہم آپ دیکھتے ہیں کہ زبان کی انتہائی غرابت اور زمانے کے اچھے خاصے فصل کے باوجود غالب کے ہاں باسی پن نہیں پیدا ہوا بلکہ اس کے برعکس وہ غالباً واحد شاعر ہے جس کی تخلیقی گہرائیوں کو مزید کھنگالنے کی گنجائش ، ہمارے معیاری شعری ذوق میں مسلمے کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرزا غالب کے علاوہ اردو میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس کی انتہائی تحسین میں بھی نارسائی کا اعتراف یا شکوہ نہ پایا جاتا ہو۔ یہ کوئی معمولی بات ہے کہ کسی شاعر کا شعر فعلاً نا مفہوم ہونے کے باوجود پسندیدگی کی انتہائی سطح پر لے جا کر قبول کیا جائے؟ یہاں ایک نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ خود زندگی کا یہی عالم ہے، اس کا فہم حاصل نہ ہو تو بھی اس کی تاثیر قائم اور ثابت رہتی ہے۔ یعنی غالب کے شعر کی بناوٹ گویا زندگی کی بناوٹ ہے۔ اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ لب تصویر میں جنبش کیسے پیدا ہوتی ہے:
دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے!!
خود بخود پہنچے ہے گل گوشئہ دستار کے پاس
٭
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے گم ہے
٭
کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
٭
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر
شمس الرحمان فاروقی نے کسی جگہ غالب کے تخیل کو ’’آسمانی تخیل‘‘ قرار دیا ہے۔ان کی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بلکہ اس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غالب ذوق جمال سے آشنا آنکھ اور شعور حسن سے تشکیل پانے والے ذہن کو مخاطب بناتے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے پیکر رنگینی ، وسعت اور بلندی سے ترتیب پاتے ہیں اور حسی وفور سے زیادہ معنوی تَہ داری کے حامل ہوتے ہیں۔
فارسی شاعری کی نشاطیہ روایت میں فکر کو غلبے کے ساتھ داخل کر کے غالب نے اردو کی شعری جمالیات کے سب سے طاقت ور جوہر کو تخلیق کر کے دکھایا۔ یہ وہی جوہر ہے جس نے اقبال کے باقاعدہ فکری نظام کو شعر میں ڈھلنے کا سانچا فراہم کیا۔
جمال کو صورت کی تحدید سے ماورا کر کے فارسی کے بڑے شاعروں کی طرح غالب نے پیکر تراشی کا جو منتہا حاصل کر دکھایا ہے وہ گویا مکانی بلندیوں اور وسعتوں کی سمائی سے باہر ہے۔ غالب کی امیجری کا در و بست ایسا ہے کہ جیسے جیسے کائنات کے بارے میں ہمارا مشاہداتی علم بڑھتا جائے گا، غالب کی تصویر کردہ دنیا، اُس دنیا کا شکوہ اور پھیلائو اسی حساب سے ہمارے جمالیاتی ادراک میں آتا جائے گا۔ غالب یقینا اردو کا مشکل ترین شاعر ہے لیکن اس کے شعر کی مشکلات ، فکری کم ہیں ، جمالیاتی زیادہ۔ اس لیے غالب کا مخاطَب بننے کے واسطے فہم سے بڑھ کر ذوق کی ضرورت ہے۔ اور جمالیاتی حقائق کا شعور جس صلاحیت پر منحصر ہے وہ یہی ذوق ہے جو حقیقت کے حضور میں پروان چڑھتا ہے اور اس حضور کی جمالیاتی اساس تک پہنچنے کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ غالب کے ہاں یہ حضور کونیاتی (cosmological) ہے، ہمارے تجربے میں آئی ہوئی دنیا تا حال اتنی چھوٹی ہے کہ دیوان غالب میں اظہار پانے والی اقلیم کی سیر کرنے میں ہماری رہنمائی یا معاونت نہیں کر سکتی۔
اس گفتگو کا تعلق دوسرے مصرع سے تھا۔ پہلے مصرعے میں غالب کی ستایش کے پردے میں اقبال نے بڑی شاعری کا ایک بنیادی عنصر تعلیم کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بڑا شعری اظہار ادراک کی ہر قسم اور ہر سطح سے بلند تر ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے نطق کی تعریف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
نطق مجموعہ ہے حسی و عقلی ادراک اور اس کے اظہار کا۔یعنی اظہار کو مطابق ادراک کرنے والی استعداد، نطق ہے۔ بڑا شاعر اظہار پر لگی ہوئی اس قدغن کو توڑ دیتا ہے اور لفظ کو اس کے معنی پر غالب کر دیتا ہے ۔ یہ غلبہ اظہار کو اصل اور ادراک کو اس کی فرع بنا دیتا ہے۔ گویا اس طرح نطق کے خلقی نقص کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ غالب کے ہاں اظہار پانے والی کائنات ہمارے ہی سیاروں پر مشتمل ہونے کے باوجود ہماری کائنات سے کہیں بڑی ہے۔ نطق کو اس کے لب اظہار پر ناز کیوں نہ ہو جس نے ادراک کو مُدرَکات سے وسیع تر کر دیا:
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
٭
قمری کفِ خاکستر و بلبل قفسِ رنگ
اے نالہ نشانِ جگرِ سوختہ گیا ہے
٭
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی!
ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاںکا
٭
ہاں کھائیو مت فریب ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے
٭
خیال جلوئہ گل سے خراب ہیں مے کش!
شراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں
٭
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گلِ شیراز پر
شعریات سے بالکل ناواقف آدمی کو سمجھانے کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعر میں بیان ہونے والی پوری بات کو مضمون کہتے ہیں۔ اس بات میں ندرت و تازگی بھی ہو تو مضمون اچھا ہے اور جس عمل سے یہ تازگی پیدا ہوتی ہے اُسے مضمون آفرینی کہا جاتا ہے۔
عموماً مضامین کی نوعیت اخلاقی اور محاکاتی ہوتی ہے اور ان کی تشکیل میں واقعاتی پن کا انداز قدرے غالب ہوتا ہے۔ مضمون کا یہ عمومی اسلوب غالب کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مگر اس قدر تازگی کے ساتھ کہ گویا اس پر غالب کی مہر لگی ہوتی ہے، تاہم ان کی مضمون آفرینی کا اصل جوہر جمالیاتی+ فکری ہے۔ غالب مضمون کے واقعاتی بہائو کو اس جمالیاتی وفور میں ضم کر دیتے ہیں جہاں چیزیں ایک بلند تر جمالیاتی نظم کا حصہ بن کر معنویت کے نئے روزن اور معنی خیزی کے غیر ذہنی معیارات کے ظہور کا ذریعہ بنتی ہیں۔ میری ناچیز رائے میں معنی کی جمالیاتی تشکیل غالب کے اصل شعری کارناموں میں ایک ہے۔ یہ ایسا میدان ہے ، جہاں غالب کے سوا کوئی دوسرا اردو شاعر نظر نہیں آتا۔ خیال ہو یا احساس، تصور ہو یا جذبہ، غالب نے سب کی تقلیب اور تجدید کر کے دکھائی ہے۔ مختصر یہ کہ غالب ایسا شاعر ہے کہ پرانے راستے پر بھی قدم رکھتا ہے تو اس کی منزل بن جاتا ہے۔ پورا دیوان غالب اس کا ثبوت ہے کہ اردو شعری روایت میں عموماً دوام اسی روش کو نصیب ہواجسے غالب نے اختیار کیا۔
اس شعر کے پہلے مصرعے میں اقبال حسنِ اظہار کی روایتی اہمیت کو قبول کر کے اس کی بنیاد پر دراصل یہ کَہ رہے ہیں کہ غالب معنی و صورت کو بلند ترین جمالیاتی تناظر میں یکجا کر دیتے ہیں۔ غالب کے ہاں اس کی مثالیں ملاحظہ کیجیے :
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے؟
٭
نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا!
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
٭
نہ ہو گا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حباب موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
٭
ترے سرو قامت سے یک قد آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
٭
آہ! تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
غالب اور گوئٹے میں کئی مشابہتیں ہیں ، مثلاً اقداری معنٰی کو جمالیاتی تناظر فراہم کرنا، مابعد الطبیعی حقائق کو ٹھیٹھ انسانی نقطۂ نظر سے دیکھنا، لفظوں کو پیکر تراشی میں صرف کرنا اور ان پیکروں کو معنٰی کا ماخذ بنانا وغیرہ۔غالب کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اس کی بڑائی کا ادراک دیگر بڑے شاعروں کے ساتھ تقابل کیے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
لطفِ گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
اقبال نے اس شعر میں بڑی شاعری کے عناصر ثلاثہ بتا دیے ہیں:
۱۔ لطف گویائی یعنی حسن اظہار۔
۲۔ تخیل یعنی محسوسات میں تصرف اور ان کی جمالیاتی تشکیل ۔
۳۔ فکر ِ کامل یعنی معقولات میں تصرف اور نئے معنی کا حصول۔
اس شعر پر اقبال نے اپنی مدح غالب کو خلاصہ کر کے بیان کر دیا ہے۔ آگے کے اشعار ہمارے موضوع سے تعلق نہیں رکھتے۔
آخر میں غالب کے ایک خاص الخاص وصف کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ نظریاتی شاعر ہرگز نہیں تھا مگر اس کا شعور جمال اتنا مکمل اور معنی آفریں تھا کہ مضمون کو فلسفیانہ اور مفکرانہ منتہائوں تک لے جانے کی بھی قدرت رکھتا تھا۔ مثال کے طور پر حرکت ، فنا اور مستقبل ، علامہ اقبال کے مخصوص نظریاتی مضامین ہیں ۔ ان موضوعات پر غالب نے گویا اقبال بن کر کہا ہے:
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
٭
ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
مہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد یاں
٭
ہوں گرمیِ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں
اگر یہ اشعار کلیاتِ اقبال میں ہوتے تو متعلقہ موضوعات پر اُن کے بہترین اشعار کا درجہ پاتے۔