محلے کی کہانیاں (نجیب محفوظ)

محلے کی کہانیاں (نجیب محفوظ)

ترجمہ: منیر فیاض
_______________________________________

کہانی ۔ ۱

مجھے زیریں منزل اور احاطے میں واقع تکیہ کے درمیان کھیلنا اچھا لگتا تھا اور دوسرے بچوں کی طرح میں بھی ہمیشہ تکیے میں واقع بیر کے درخت کی طرف جاتا تھا۔درخت کے سبز پتے اس نواح میں اگنے والا اکلوتاسبزہ تھے مگرہمارے ننھے دل تو صرف اس کے سیاہ پھل کے دیوانے تھے۔یہ تکیہ ایک چھوٹے قلعے کی مانند تھا جس کا رخ باغ کی طرف تھا مگر اس طرف کوکھلنے والااداس دروازہ، اور کھڑکیاں بھی، ہمیشہ بند رہتیں۔ساری عمارت اداسی اور تنہائی میں ڈوبی رہتی۔جب ہمارے ہاتھ اس کی فصیل کو چھوتے تو ایسا لگتا کہ ہم قلعے کے اندر پہنچ گئے ہوں۔کبھی کبھی لمبی داڑھی، ڈھیِلے چوغے اور سجی ہوئی ٹوپی والا کوئی آدمی ہماری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتا تو ہم دعا دیتے ،’’درویش! خدا تمہاری عمر دراز کرے۔‘‘۔مگر وہ زمین کو گھورتے ہوئے یا چشمے کے قریب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے خاموشی سے وہاں سے گزر جاتا۔اس کے کچھ دیر بعد وہ اندرونی دروازے سے گُم ہو جاتا۔
’’ابا!یہ کون لوگ ہیں؟‘‘
’’یہ اللہ والے ہیں۔‘‘
پھر وہ تنبیہہ کے انداز میں کہتا،
’’جو انہیں تنگ کرے گا وہ تباہ ہو جائے گا۔‘‘۔
مگر میرا دل تو صرف بیریوں کا دیوانہ تھا۔
ایک دن کھیل کے بعد میں زمین پر آرام کی غرض سے لیٹا اور سو گیا۔جب میں جاگا تو مجھے احساس ہوا کہ میں باغ میں تنہا تھا۔سورج پرانی فصیل کے پیچھے غروب ہوچکا تھا اور بہار کی نرم ہوا غروبِ آفتاب کی خوشگوارہوا کے ساتھ مل کر اور خوبصورت ہو گئی تھی۔مجھے تاریکی ہونے سے پہلے محلے میں واپس جانے کے لئے زیریں منزل سے ہو کر گزرنا تھا اس لئے میں چھلانگ لگا کر اُٹھا۔اچانک مجھے احساس ہوا کہ میں وہاں اکیلا نہیں تھا۔ کس کی نظر نے مجھے محصور کیا ہوا تھا، میرے دل کو اپنی گرم نگاہ کی گرفت میں لیا ہوا تھا۔میں نے اپنا سر تکیے کی طرف موڑا توایک آدمی کو دیکھا جو درمیان والے بیری کے درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ وہ کوئی درویش تھا مگر ان درویشوں سے مختلف تھا جنہیں میں نے پہلے وہاں دیکھا تھا۔کافی بوڑھا، دراز قامت،چہرہ جیسے نور کی جھیل ہو، سبز چوغہ، لمبی سفید پگڑی، نا قابلِ یقین جمال۔اسے گھورتے رہنے سے مجھے جیسے نور کا نشہ ہو گیا جس نے ساری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ اس جگہ کا مالک ہو گا۔دوسروں کے بر عکس اس کارویہ دوستانہ تھا۔میں باڑ کی طرف گیا اور اسے خوشی سے کہا:
’’مجھے بیر اچھے لگتے ہیں۔۔۔‘‘
مجھے لگا جیسے وہ مجھے دیکھ رہا ہو اور اپنی مترنم آواز میں کہہ رہا ہو:
’’بلبلی خونِ دلی خورد و گُلی حاصل کرد‘‘(۱)
مجھے یوں لگا جیسے اس نے میری طرف کوئی پھل پھینکا ہوا۔ میں ڈھونڈنے کے لئے جھکا مگر مجھے کچھ نہ ملا۔میں سیدھا ہو کے کھڑا ہوا تو اسے وہاں نہ پایا اور اندرونی درواز ہ تاریکی میں چھپا ہوا تھا۔
اس کے بعد میں نے اپنے باپ کویہ کہانی بتائی مگر اس نے مجھے شکی نظروں سے دیکھا۔میں نے زور دے کے اپنی بات کی سچائی کا یقین دلایا تو اس نے کہا:
’’یہ نشانیاں صرف بڑے شیخ کی ہیں مگر وہ اپنی خلوت سے باہر نہیں آتا‘‘
پھر میں نے اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کی قسم اٹھائی تو اس نے کہا:
’’ان الفاظ کا کیا مطلب ہے جو تم نے یاد کئے ہیں؟‘‘
’’میں نے تکیہ کی محفلوں میں انہیں کئی بار سنا ہے‘‘
میرا باپ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اس نے کہا:
’’کسی کو اس کے بارے میں مت بتانا‘‘
پھر اس نے اپنے بازو میری طرف پھیلائے اور صمدیہ (۲)پڑھنا شروع کر دی۔
اس کے بعد میں کئی دن تک بھاگ کے احاطے میں جاتا اور لڑکوں کے کھیل ختم کرنے کے بعد بھی بہت دیر اکیلا وہاں رہتااور بڑے شیخ کا منتظر رہتا مگر وہ نہ آتے۔پھر میں اونچی آواز میں کہتا:
’’بلبلی خونِ دلی خورد وگُلی حاصل کرد‘‘
مگر کوئی جواب نہ آتا۔میں انتظار کی اذیت میں مبتلا رہتا مگر انہیں میری اور میری بیتابی پر رحم نہ آیا۔
مجھے بعد کی زندگی میں بھی یہ واقعہ یاد آتا اور میں سوچتا کہ واقعی ایسا ہوا تھا یا یہ صرف میرا تصور تھا۔کیا میں نے واقعی بڑے شیخ کو دیکھا تھا؟یا میں نے محض اسے دیکھنے کا دعوٰی کیا تھا تا کہ لوگوں کی توجہ حاصل کر سکوں؟ کیا وہ میرا کوئی ایسا تصور تھا جو حقیقت میں نہیں تھا اور مجھے اس لئے ایسا لگا کہ میں نیند میں تھا؟یا ؂شیخ کے بارے میں جو باتیں ہمارے گھر میں ہوتی تھیں اس وجہ سے تھا؟ ایسا ہی ہو گا ورنہ شیخ دوبارہ نمودارکیوں نہیں ہوئے؟ہر کوئی یہ کیوں کہتا تھا کہ وہ اپنی خلوت سے باہر نہیں آتے؟ اس طرح سے میں نے یہ افسانہ تخلیق کیا اور اسے پھیلا دیا۔مگر شیخ کا وہ فرضی دیدار بھی کہیں میرے اندر جا کے جم چکا ہے اور میری یادوں کو معصومیت سے بھر دیتا ہے،اور مجھے اب بھی بیر بہت اچھے لگتے ہیں۔
_________

(۱)بلبل نے اپنے دل کا خون پیا اور پھول حاصل کیا
(۲) سورۃ اخلاص
_______________________________________

کہانی۔۳

وہ ایک خوبصورت مگرپُراسرار دن تھا۔
میرے باپ نے کافی پیتے ہوئے میری طرف پیارسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔جب وہ باہر جانے لگا تو اُس نے میرے سر اور شانوں کو شفقت سے تھپتھپایا اور باہر چلا گیا۔میری ماں نے اپنے روزمرہ کا کام حسبِ معمول غصے میں کیا مگر اس نے میرے پھیلائے ہوئے گند کو نظر انداز کر دیا اور حوصلہ افزائی کے انداز میں مجھے کہا:
’’کھیلو میرے بیٹے، کھیلو‘‘
اس نے مجھے بالکل بھی نہیں ڈانٹا۔
پھر میں کچھ دیر کے لئے چھت پر چلا گیا اور جب واپس آیا تو اپنی تنومند ہمسائی اُمِ بہرُوم کو اپنے سامنے موجود پایا۔میں تیزی سے باورچی خانے کی طرف گیا تا کہ ماں کو بتاؤں مگر وہ وہاں نہیں تھی۔میں نے اسے آواز دی مگر کوئی جواب نہ آیا۔پھر اُمِ بہرُوم نے مجھے کہا:
’’تمہاری ماں کو ضروری کام سے اچانک کہیں جانا پڑا، اس کی واپسی تک میں تمہارے پاس رہوں گی‘‘
میں نے روہانسے ہوکے اسے کہا:
’’مگر میں گلی میں کھیلنا چاہتا ہوں‘‘
’’کیا تم اپنی مہمان کو اکیلا چھوڑ کے باہر چلے جاؤ گے؟‘‘
میں صبر کے ساتھ انتظار کرنے لگا۔
کسی نے دروازے پر دستک دی؛ اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور خود دروازے کی طرف چلی گئی۔وہ کچھ دیر دروازے پر رہی اور جب واپس آئی تو محلے کا حجام حسن او ر اس کا ملازم اس کے ساتھ تھے۔وہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔ میں نے فوراً انہیں کہا:
’’ابو باہر گئے ہیں‘‘
بوڑھے نے کہا:
’’ہم تمہارے مہمان ہیں! آج ہم تمہیں ایک منفرد کھیل دکھائیں گے‘‘
وہ بسم اللہ پڑھتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا، پھر اپنے تھیلے سے چمکدار اوزار نکالتے ہوئے کہنے لگا:
’’تم یقیناًجاننا چاہو گے کہ ہم یہ اوزار کیسے استعمال کرتے ہیں‘‘
میں بیتابی سے اس کی طرف بھاگا۔
اس کے ملازم نے اس کے سامنے ایک کرسی لا کے رکھی اور مجھے اس پر بٹھادیا۔پھر اس نے کہا:
’’اب ٹھیک ہے‘‘
اسی لمحے اس کے ہاتھوں نے مجھے ا تنی مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے وہ گونداور قبضوں کے ساتھ مجھ سے چپک گئے ہوں۔ میں غصے سے چلایا:
’’مجھے چھوڑ دو‘‘
میں نے اُمِ بہروُم سے مدد مانگنا چاہی مگر وہ وہاں سے غائب ہو چکی تھی۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا جب تک وہ خوفناک جراحی شروع نہیں ہو گئی۔میں ایک خطرناک حملے کی زد میں تھا جس سے فرار یا بچاؤ ممکن نہیں تھا۔مجھے اپنا گوشت کٹنے کا شدید درد محسوس ہوا، شیطانی دھوکہ بازی سے بھرا ہوادرد جو میری پسلیوں سے ہوتا ہوا میرے دل میں اتر گیا۔میری چیخیں دیواروں سے ٹکرا کے سارے محلے میں پھیل گئیں۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ کتنی دیر تک رہا مگر میں نیند اور بیداری کے درمیان تیرتا رہا، مختلف رنگ میرے سامنے آتے جاتے رہے۔ خوف اور اداسی میری آنکھوں کے سامنے سے گزرتے رہے۔
کسی لمحے میری ماں نے حوصلہ افزائی کے لئے معزرت بھرے چہرے کے ساتھ مجھے دیکھا۔مگر اس سے پہلے کہ میں شکایت یا الزام کے لئے منہ کھولتا اس نے میرے ہاتھوں کو تحائف، چاکلیٹوں اور ٹافیوں سے بھر دیا۔
میں بہت دن ان دردناک یادوں اور مزیدار اور رنگا رنگ ٹافیوں کے خزانوں سے معمور رہا۔ گھر میں بہت سے رشتے دار اور دوست بھی آگئے۔
میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے اپنے چوغے کو ہاتھ سے پکڑ کے اپنے جسم سے دور رکھتا۔

_______________________________________

کہانی۔۸

وہ ایام جب مجھے گھر والوں کے ساتھ قبرستان جانا ہوتا تھا میری زندگی کے پُر مسرت دن ہوتے تھے۔
ہم صبح جلدی روانہ ہونے کے لئے شام کو ہی کھجوریں اور میٹھی روٹیاں تیار کر کے رکھ لیتے تھے۔میں بید اورتلسی اُٹھائے ہوئے اپنے ماں باپ کے درمیان چلتا اور ہماری ملازمہ نیاز کی ٹوکری اُٹھائے ہوئے ہمارے پیچھے آتی۔
لوگوں کا رش اور لکڑی کے چھکڑوں کی قطاریں دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی۔قبرستان کا دروازہ میرے لئے کسی پرانے دوست جیسا تھا۔قبر میں مجھے اسکی ساخت ، تنہائی، پتھریلے کتبے اور داخلی اسرار کی وجہ سے بہت کشش محسوس ہوتی، اور یہ دیکھ کر بھی کہ میرا باپ کس طرح قبر کا احترام کرتا تھا۔قبر پر اگنے والے دھتورے کے پودے میں بھی میرے لئے کشش تھی۔میرا کھلے آسمان کے نیچے اچھلنے کو دل کرتا اور تجسس میری رگ رگ میں سما جاتا۔
لیکن حمام کی وجہ سے یہ سارا تاثر بدل گیا۔میری بہن اور اسکا بیٹا ہمارے گھر کچھ دن قیام کے لئے آئے۔حمام چار سال یا اس سے کچھ زیادہ کا تھا۔مجھے وہ بہت خوش طبع ساتھی لگتا جس کی صحبت نے میری تنہائی کو دور کر دیا۔بہت پیارا اور زندہ دل تھا وہ جو میرے ہر جھوٹ اور مکاری پر اعتبار کر لیتا تھا اور مجھ سے اکتاتا بھی نہیں تھا۔ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ بستر پرخاموش لیٹا ہوا تھا۔میں نے اسے کھیلنے کے لئے بلایا مگر اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔پھر مجھے بتایا گیا کہ وہ بیمار تھا۔ساری فضا کسی احتیاط زدہ اعصابی بوجھ کے زیرِاثر آگئی۔مجھے لگا کہ جیسے گھر میں گھٹی ہوئی بے چینی کی کیفیات تھیں۔جب میں نے یہ دیکھا کہ بے چین ماں اور بے چاری بہن کے ساتھ میرابہنوئی بھی گھر آ گیا ہے تو میری تشویش بڑھ گئی۔جب میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو مجھے الگ لے جا کر کہا گیا کہ میرے کام کی کوئی بات نہیں اور میں کہیں اور جا کہ کھیلوں۔
مگر مجھے گھر میں کچھ غیر معمولی بات محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
خطرے کی کوئی بات، کیونکہ میری ماں رو رہی تھی اور میری بہن چِلا رہی تھی۔میں نے دور سے دیکھا کہ میرا دوست بستر پر تکیے کی طرح ڈھکا ہوا پڑا تھا جس کے سانس لینے کے لئے کوئی درز یا سوراخ نہیں تھا۔بالآخر میں نے ’موت‘ کا لفظ سنا اور سمجھ گیا کہ یہ ہمیشہ رہنے والی جدائی تھی۔میں بھی رونے والوں کے ساتھ رونا شروع ہو گیا اور میرے دل میں اتنا شدید درد اُٹھا جتنی شدت کی میری چھوٹی سی عمر متحمل نہیں تھی۔
قبرستان جانے والے دن میرے لئے خوشگوار نہیں رہے تھے اوراب قبرستان کاتائثر میرے لئے تبدیل ہو گیا تھا۔میں اس کے راز جاننا چاہتا تھا مگر اس کی خاموشی نے مجھے مغموم کر دیا۔اس بات سے کہ حمام جنت میں پھولوں کے درمیان ہنسی خوشی رہ رہا ہے میری تسلی نہیں ہوتی تھی۔دن گزرنے کے ساتھ بھی یہ دکھ مٹا نہیں۔ہر طرف اداسی، خوف، محبت کی گمشدگی، دردناک یادیں اور نادید کے رازوں سے بیزاری پھیلی ہوئی تھی۔
_______________________________________
کہانی۔۱۱

ہم سب مدرسے کے احاطے میں کھڑے اپنے امتحان کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔ہم نے ’کُتّب‘(۱) کا درجہ مکمل کرنے کے بعد اسکا امتحان دیا تھا اور اب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔سکول کا مہتمم ہیڈ ماسٹر کے کمرے سے باہر آیا اور ان طلبا کے نام پکارے جو امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔پھر اس نے کہا ’’جنھوں نے اپنے نام اس فہرست میں سُن لئے ہیں وہ یہیں رہیں اور باقی اپنے گھروں کو جائیں۔‘‘
میرا نام اس فہرست میں نہیں تھا۔ میں خوشی سے بھرگیا۔میں نے سوچا کہ امتحان میں ناکامی کا مطلب یہ ہوا کہ میرا تعلیم اور استاد کی چھڑی سے رشتہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیااور آئندہ زندگی بہت مزیدار اور پریشانیوں سے آزاد ہو گی۔
میرے باپ نے میرے نتیجے کے بارے میں استفسار کیا تو میں نے نہایت سکون سے اسے جواب دیا:
’’میں فیل ہو کے گھر واپس آگیا ہوں‘‘
’’شرم آنی چاہئے تمہیں۔۔۔میرا خیال تھا تم کسی قابل ہو گے۔۔۔‘‘
میں نے پھر بھی خوشدلی سے کہا:
’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘
’’کوئی فرق نہیں پڑتا؟‘‘
’’مجھے’ کُتّب‘ سے اور مدرسے سے اور استاد سے نفرت ہے۔۔۔خدا کا شکر ہے کہ میری ان سب سے جان چھُوٹی‘‘
میرے باپ نے غصے سے کہا:
’’کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ اب تم گھر میں ہی رہو گے؟‘‘
’’ہاں، یہی بہتر ہے‘‘
’’گلی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کیلئے،درست؟‘‘
میں نے بیتاب ہو کے اس کو دیکھا اور اس نے حتمی انداز میں کہا:
’’تم ایک سال مزید کُتّب کے درجے میں پڑھو گے، اور پاؤں پر چھانٹے لگنے سے تمہاری عقل ٹھکانے آجائے گی‘‘
میں احتجاجاً کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس نے پھر کہا:’’تعلیم کے ایک لمبے سفر کے لئے تیار ہو جاؤ۔جب تک تم ایک معزز انسان نہیں بن جاتے ایک کے بعد ایک درجہ پڑھتے رہو گے۔‘‘
امتحان میں ناکام ہونے کی خوشی بس چند گھنٹے ہی رہ سکی!

(۱) مدرسے کا ابتدائی درجہ جس میں طالبعلم زیادہ تر قرآن حفظ کرتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.