قانون کی حاکمیت: اٹک قلعہ اور موٹر وے

یاسر چٹھہ

موٹروے پر آئیے۔ آپ کو اپنےملک سے متعلق ایک اچھی علامت نظر آتی ہے۔ ایک حوالے سے نہیں، بلکہ کئی ایک  حوالوں سے؛ آپ کی ایک ٹوٹی آس بندھنے لگتی ہے کہ ملک عزیز میں کچھ اچھا ہو سکتا ہے۔ کچھ نا کچھ ادارے اپنے فرائض کو اس انداز سے بھی نبھا سکتے ہیں کہ جس طرح بہتر معاشروں میں وہ ادارے اپنے کام سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ ادارے ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی اچھی شہرت صحافی خرید کر، فلمیں پروڈیوس کروا کر، ڈرامے بنوا کر، سوشل میڈیا کی فوج پال کر نہیں بنائی بلکہ خالصتا اپنی  کارکردگی اور بہترین تربیت کے سر پر۔

لیکن اگر آپ ایک دل رکھتے ہیں، تھوڑا سا سوچنے سے علاقہ رکھتے ہیں تو کل ایک اور واقعہ ہوتا ہے۔ جائے وقوعہ یہی موٹروے، اور اس سے ہٹا ہوا ایک قلعہ ہے جسے اٹک قلعہ کہتے ہیں۔ یہ قلعہ اس دھرتی کے برطانوی نوآبادیاتی ایام میں بھی اچھی شہرت کے حوالوں سے نام نہیں رکھتا تھا۔ یہ روایت (کہنے کو) آزادی کے بعد بھی ایسے ہی رہی ہے۔ کل کے واقعہ کے بعد سے، ملک کے کسی بھی دیگر گوشے کی طرح، موٹروے پھر سے خار بن کے آنکھ اور دل پر چبھ رہی ہے۔ کل کا واقعہ صرف واقعہ نا رہا بلکہ سانحہ بن گیا ہے۔ کیسے؟

یہی موٹر وے شاید اگر اپنے زعم میں قانون سے بالاتر دو افسران کسی وقتی غصے کی رو میں کسی اور ریاستی عملداری کے ذمے دار اور فرض شناس اہلکار سے ان بن کرتے، تو معاملہ اور تھا۔ سنجیدہ یقینا پھر بھی تھا، اور شدید ترین ذہنی اور تربیت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے سے پھر بھی نا چوکتا۔

لیکن جو اس وقت قرائن بتا رہے ہیں کہ نئی کمک منگوائی گئی اور باقاعدہ سرکاری اسلحہ اور جیپوں کا استعمال کرکے اہلکاروں کو نا صرف زدوکوب کیا گیا بلکہ انہیں اپنے رفقائے کار کے اندر سے کھینچ کر ناجائز قید اور حبس بے جا میں رکھا گیا؛ ایک بڑے رینک کے افسر کا بھی ساتھ آنا ••• کیا اس دوران تک بھی خبر کسی اور زیادہ  بڑے افسر تک نہیں پہنچی؟ وقار کے اونچے شملے کے نیچے سے گزر کر دماغ تک اپنے بہترین ڈسپلن اور ملک کے بہترین ادارہ ہونے کی دعویداری پر کسی کو بھی خلش محسوس نا ہوئی!

ویسے وہ کون سی بہترین تربیت ہوتی ہے جو کسی ذمے دار  کو اپنے ملکی قانون کو ہر دم مقدم رکھنے کی ذہن سازی نا کر پاتی ہو؟ اور بچے چونکہ بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں••• آگے ایک لفظ بھی کیا کہیں کہ بہت سارے بڑوں کے اطوار کیسے رہے ہیں!

اور وہ جو بار بار سچ کی دریافت کے روایتی سائنسدان کہتے نہیں تھک رہے کہ آپ نے دوسری طرف کا بیان نہیں سنا! آپ ٹھیک کہتے ہیں، نہیں سنا۔ لیکن کیا وہ اپنا بیان کسی کو سنانا چاہتے ہیں؟ سناتا تو وہ ہے جس کے ذہن میں کبھی یہ شک آیا ہو کہ وہ غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ انہیں تو ہر وقت یہی فرمانا ہوتا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں اور صرف ہم ہی ٹھیک ہیں۔ ہم پر صدقے واری جاتے رہے کہ ہم “دشمن” سے آپ کو بچا رہے ہیں۔ ہم تو اپنے ناقص فہم کے مطابق یہ کہتے ہیں کہ اگر دو ہمسایوں کی فوجیں نا ہوں تو شائد ان کی آپسی اتنی دشمنی بھی نا ہو••• ہروقت گھوڑے تیار رکھنے اور بندوقوں نالیوں کو تیل لگائے رکھنے سے بھی ہاتھوں کو کسی نا کسی نوک جھونک کی خارش ہوتی رہتی ہے۔

متعدد بار پہلے کی طرح ایک بار پھر شدید مایوسی ہوئی کہ ہم نے گوروں کے اس دھرتی سے چلے جانے کے بعد کون سا نیا دستور چلن بنا لیا۔ سیاستدانوں کی کرپشن اور دیگر اختراعات ذہنی کو بہانہ بنا کر کئی بار ملکی دستور کو چلتا کیا گیا۔ سیاسی شعور اور تاریخ کے فہم سے عاری شہری آبادی کو باور کرا دیا گیا کہ بس یہ سب جو نظام ہستی چل رہا ہے، ہمارے ہی دم سے ہے۔

خدارا! اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہونے دو۔ بالی عمر میں ہی اپنی افرادی قوت کے ذہنوں میں اتنی شان و شوکت نا ٹھونس دو کہ ان سے سنبھالے نا سنبھالی جائے۔ اپنے تعلقات عامہ کے بے جا استعمال سے اپنی عزت اور وقار کے شملہ کو کلف نا لگواو۔ عزت کمانا سیکھنا چاہئے؛ مفت میں عزت کی حقدارایاں نہیں جتانا بنتا۔ تھوڑا سا حب الوطنی کا حصہ کسی اور کو بھی سونپ دو۔ خود ہی نا سمجھو کہ ہم سے ہے زمانہ۔ اس ملک کے سارے لوگوں کو اپنا وطن محبوب ہے۔ وہ اچھے اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کچھ اندازہ تو سوشل میڈیا پر لوگوں کے ردعمل سے ہوگیا ہوگا۔ انہیں سب احساسات کو اپنے اندر سمیٹ لینے کی عادات سے کچھ خاص رغبت نہیں۔ وقت کے تھوڑے سے بدلے ہوئے لیکن سرعت رفتاری سے بدلتے ہوئے چلن کے ساتھ اپنے جذبات کو، اور اپنے ہمہ دم عین حق پر ہونے کے خیال کو تختئہ سوال و تشکیک پر بھی رکھ لیا کیجئے۔

ہم نے یہ ملک عزت سے رہنے کے لئے بنایا تھا، ورنہ  تقسیم ہند  کے وقت مفت میں لاکھوں مشرقی اور مغربی پنجابیوں نے گردنیں نہیں کٹوائیں  تھیں کہ کچھ نئے بادشاہ اپنے سینوں پر مونگ دل سکیں۔ اس وقت کو اب ہمیں اب لانا ہوگا کہ جو قانون کی حاکمیت کو طاقت سمجھا ہو۔ ہر ایک کو مثال بننا ہوگا، کوئی ادارہ جاتی تفاخر اور مستثنیات کی گنجائش نہیں ہونا چاہئے۔

پاکستان زندہ باد، پائندہ باد

About یاسرچٹھہ 136 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔