برصغیر کے مسلمان معاشرے میں رائج تعصب اور تنگ نظری

(اجمل کمال)
برصغیر کا مسلمان معاشرہ (اُردو کی ادبی دنیا جس کا نہایت مختصر جزو ہے اور اس جزو میں کُل کا عکس آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے) مجموعی طور پر نہ صرف شدید قدامت پرست اور غیرروادار ہے بلکہ اس قدامت پرستی اور عدم رواداری کی شدت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کے نام پرمولانا عبدالماجد دریابادی جیسے لوگوں نے مثلاً مرزا یگانہ اور ’’انگارے‘‘ کے مصنّفین کے خلاف جو طوفان برپا کیاتھا اس کا زور نہ صرف یہ کہ تھمنے میں نہیں آ رہا بلکہ اب تو عدم رواداری کا یہ طوفان ہماری نمایاں تہذیبی شناخت بن گیا ہے۔ معلوم نہیں ایسے لوگ اقلیت میں ہیں یا اکثریت میں، لیکن اپنے شوروغوغا سے ماحول کو اس حد تک اپنے قابو میں کر لیتے ہیں کہ ان سے اختلاف رکھنے والوں کو بہت سے موقعوں پر تو زبان کھولنے تک کی ہمت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ان فتنہ پردازوں کا زور اتنا بڑھا کہ انھوں نے منتخب اور غیرمنتخب دونوں قسم کی حکومتوں سے اپنی مرضی کے غیرمعقول اور غیرمنصفانہ قوانین بھی نافذ کروا لیے جنھوں نے آبادی کے کئی طبقوں، خصوصاً عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اس چیرہ دستی کی جھلک ادبی میدان میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً یہاں کے ایک سرکاری ادارے اقبال اکیڈمی کے تنخواہ دار کارپردازان رفتہ رفتہ اتنے دلیر ہو گئے ہیں کہ اقبال کے بعض اشعاراور افکار پر نعوذباﷲ کی ضربیں لگانے اور ان کے ایمان کو مشکوک ٹھہرانے تک سے نہیں چوکتے۔ ہندوستان میں پوری مسلمان آبادی کو پرسنل لا بورڈ والوں نے یرغمال بنا رکھا ہے جو اپنی مرضی کے نان ایشوز کو مسلمانوں کے اصل مسائل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور کسی کو انھیں ٹوکنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس مروّجہ تنگ نظراور دقیانوسی نقطۂ نظر سے اختلاف کی جرأت کرنے والے مسلمانوں تک کو دائیں بازو کی ہندو سیاسی پارٹیوں کا ہم نوا قرار دے کر چپ ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، رہے اُردو کے معدودے چند غیرمسلم ادیب تو ان کے لیے تولکیر سے ذرا اِدھر اُدھر ہونے پر بی جے پی یا آر ایس ایس سے وابستگی کا الزام تیار ہی رکھا رہتا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی قدامت پرستی اور عدم رواداری کا پورا عکس گیان چند جین کی کتاب پر ہونے والی بحث میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مخالفین کا سارا زور مصنف کو بدنیت اور سازشی ٹھہرانے پر رہاہے جبکہ کتاب میں اٹھائے گئے نکات کا تجزیہ کرنے پرتقریباً کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس کی مثال کتاب کے ’’انتساب زدگان‘‘، مقدمہ نگاروں اور ناشر کے سلسلے میں کی جانے والی خیال آرائیاں ہیں جن کا اصل بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک متجسّس پڑھنے والے کی حیثیت سے میں نے زیربحث کتاب کا بغور مطالعہ کیا اور کئی جگہ مصنف سے مختلف رائے رکھنے کے باوجود مجموعی طور پر اس کتاب کے لیے اپنے دل میں بڑی قدر محسوس کی۔ ہم دوسروں کو کیسے دکھائی دیتے ہیں، یہ ہمیں دوسروں کی رائے کے بے روک ٹوک اظہار کے سوا بھلا اور کس ذریعے سے معلوم ہو سکتا ہے؟ (یہ تاریخ اور سیاست کا المیہ ہے کہ تمام عمر اُردو میں لکھنے اور اُردو پڑھانے والے گیان چند جین کو ’’دوسرا‘‘ یا ’’غیر‘‘ کہنا پڑ رہا ہے؛ وجہ صرف یہ کہ ان کا مذہبی عقیدہ اورلسانی و تہذیبی نقطۂ نظر اُردو لکھنے پڑھنے والوں کی غالب۔۔۔اورغضب ناک۔۔۔ اکثریت سے مختلف ہے)۔
مجھے اپنے مشاہدے کی روشنی میں ان کی یہ مرکزی بات حقیقت پر مبنی محسوس ہوتی ہے کہ اُردو پر قدامت پرست مسلمان نقطۂ نظر کا غلبہ ہے اور اس نقطۂ نظر کا اظہارکئی موقعوں پر خاصا پُرتشدد اور غیرروادارانہ ہو سکتا ہے۔ اس کی جھلکیاں ادب میں بھی کثرت سے ملتی ہیں، لیکن اسے محض ادب تک محدود رکھنا نادانی ہو گی۔ مثلاً پاکستان کے بڑے قومی روزناموں (جنگ، نوائے وقت، اُمت وغیرہ) میں شائع ہونے والے مضامین اور کالموں میں اور پاکستانی تعلیمی اداروں میں مروّج درسی کتابوں میں، غیرمسلموں کے مذہب، رسم و رواج اور ثقافتی یا سیاسی نقطۂ نظر کی تحقیر اور تذلیل ایک معمول کی بات ہے (اور تو اور، علامہ اقبال سے کتنی ہی ایسی باتیں روایت ہیں جن میں انھوں نے غیرمسلموں خصوصاً ہندوؤں کے بارے میں اسی قسم کے خیالات ظاہر کیے ہیں)۔ یہودیوں اور قادیانیوں کی تو بات ہی جانے دیجیے جن کی حمایت میں کچھ کہنا گویا مصیبت کو دعوت دینا ہے، ہندوؤں کے لیے جو الفاظ بے دھڑک استعمال کیے جاتے ہیں وہ شیخ احمد سرہندی کے الفاظ کی بازگشت معلوم ہوتے ہیں۔ اب شیخ سرہندی ہوں یاشاہ ولی اﷲیا مولانا اشرف علی تھانوی یا علی میاں یا ان کے کوئی پاکستانی ہم رتبہ بزرگ، یہ سب ہستیاں عقیدت کی ایسی گاڑھی دھند میں ملفوف ہیں کہ ان کے تنگ نظر خیالات سے کھلم کھلا اختلاف کرنا انتہائی دشوار بنا دیا گیا ہے۔ یہ دشواری پاکستان میں تو ہے ہی جہاں اس غالب نقطۂ نظر کو مقتدر قوتوں اوران کے من مانے قوانین کی پشت پناہی حاصل ہے، ہندوستان میں بھی ہر اعتبار سے بند مسلمان معاشرے کے داخلی دباؤ کے باعث کچھ ایسی کم نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ جین صاحب پر کھل کر کڑکنے اور برسنے والے معترضین بشمول شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، اسلم پرویز، اطہر فاروقی وغیرہ، مذکورہ بالا متبرک ہستیوں کے خیالات، ہندوستانی مسلم آبادی کی ذہنیت اور طرزِعمل پر ان کے اثرات اور ہندوستانی معاشرے کے لیے ان کے مضمرات کو تفصیل سے زیربحث لانے اور ان کی بابت اپنی موافق یا مخالف رائے ظاہر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہاں اگر گھٹنے پیٹ کی طرف مڑنے نہیں لگتے تو پانی نشیب میں مرنے لگتا ہے۔ گیان چند جین نے اگر شیخ سرہندی وغیرہ کے معروف اور مروّج خیالات کی طرف توجہ دلائی تو ان پر سازش اور فرقہ پرستی کے قابلِ افسوس الزامات یا بنیا ہونے کے نسل پرستانہ طعنے کے ساتھ چڑھ دوڑناالبتہ آسان کام ہے جس میں کسی چوٹ چپیٹ کا اندیشہ نہیں۔
جملۂ معترضہ: جدید دنیا کے کم از کم دو بڑے پہلو ایسے ہیں جن سے نمٹنے کی کوئی تدبیر مسلمان معاشرے میں مروّج قدیم دقیانوسی نسخوں میں دستیاب نہیں۔ ایک تو یہ کہ ایسے کثیرمذہبی اور کثیرتہذیبی معاشرے میں کیسے رہا جائے جہاں مختلف گروہوں کا باہمی تعلق حاکم اور محکوم کا نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ جدید دور کی عورت سے کیسے معاملہ کیا جائے جو مرد کے برابر کا فرد بننے سے کم پر راضی نہیں۔ میری رائے میں آج کی دنیا کے ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں کوئی معقول تہذیبی طرزِعمل مرتّب کرنے کے لیے مسلمانوں کا مذکورہ بالا قدامت پرست اندازِفکر سے علی الاعلان پیچھا چھڑانا ضروری ہے۔ یہ مسلمانوں کے دانشور طبقے کی ذمے داری ہے جسے وہ مؤثر طور پر انجام دینے سے اب تک قاصر رہا ہے۔
برصغیر کے مسلمان معاشرے میں رائج تعصب اور تنگ نظری پر مبنی خیالات ادبی اور تنقیدی تحریروں میں بھی اپنا عکس ڈالتے رہے ہیں۔ جین صاحب نے بطورمثال داستان امیرحمزہ اور بوستان خیال، کاظم علی جوان اور اخترحسین رائے پوری کے ترجموں اورمولوی عبدالحق، ابواللیث صدیقی، معین الدین عقیل، فرمان فتح پوری وغیرہ کی تحریروں کے باقاعدہ حوالے دیے ہیں اور اقتباسات پیش کیے ہیں۔ اس پر ان کے معترضین کا ردّعمل صرف اس تلملاہٹ تک محدود رہا ہے کہ یہ حوالے دینے یا ان اقتباسات سے کوئی معنی برآمد کرنے کی جرأت ہی کیونکر کی گئی۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ اس موضوع کی جانب اشارہ کرنا اور اُردو کے قدیم اور جدید ادیبوں، مورّخوں، مترجموں، محقّقوں اور نقّادوں کی تحریروں میں اس قسم کے رجحانات کی نشان دہی کرنا ہی فرقہ پرستی کے مترادف ہے۔ ادھر پاکستان میں ہند مسلم معاشرے اور اُردوکی انھی متعصبانہ خصوصیات کو اس کے اعزاز واکرام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اُردو کی دورُخی سیاست کو دیکھتے ہوئے مذکورہ بالا ردّعمل کوکسی حیرت کا سبب نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی بابایانِ اُردو اس زبان کو دوقومی نظریے اور قیامِ پاکستان کی بنیادقرار دینے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں تو ان کے ہندوستانی ہم رتبہ بزرگ اسے ہندومسلم اتحاد کی زبان قرار دینا مرغوب رکھتے ہیں۔ ہم جیسے سادہ لوحوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان دونوں یکسر متضاد خیالات پر بیک وقت اور یکساں درجے کا ایمان رکھیں۔ انگریزی ناول 1984 کے مصنف جارج آرول نے اسی قسم کے اندازِ فکروگفتگو کے لیے ’’ڈبل تھنک‘‘ (doublethink) اور ’’ڈبل اسپیک‘‘ (doublespeak) کی اصطلاحات وضع کی تھیں۔ گیان چند جین نے یہ کہنے کی جرأت کی ہے کہ جب اُردو کے مسلمان لکھنے والے دیگر مذاہب کی متبرک سمجھی جانی والی ہستیوں، ان باشندوں کے رسم ورواج، ان کی ثقافتوں اور زبانوں کی تحقیر کرتے ہیں، یا مسلمان حملہ آوروں، حکمرانوں اور داستانی کرداروں کے ان کارناموں پر فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے کتنی بت شکنیاں کیں، کتنی عبادت گاہیں مسمار کیں، کتنے کفار کو تہہ تیغ کیا، کتنوں کو (بزور شمشیر یا بزور کولھو) حلقۂ اسلام میں اور کتنوں کی مستورات کو (بزورنکاح یا بلانکاح) اپنے حرم میں داخل کیا، وغیرہ، تو خواہ خود ان لکھنے والوں یا ان کے ہم مذہب پڑھنے والوں کو اس کا احساس ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو، دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو اس سے رنج پہنچ سکتا ہے اور پہنچتا ہے۔ میں ان کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ان تمام مذکورہ (اور غیرمذکورہ) تحریروں کا مطالعہ اس زاویے سے بھی کیا جانا چاہیے تاکہ اُردو زبان سے ان منفی رجحانات کو دور کیا جا سکے اور اُردو کے لکھنے اور پڑھنے والوں کو ان امور کے بارے میں حسّاس بنایا جا سکے۔ اگر اُردو دنیا اور برصغیر کے مسلم معاشرے میں انصاف کا چلن ہوتا اور ہم لوگوں میں اپنے سے مختلف کسی دوسرے نقطۂ نظر کے وجود کو تسلیم کرنے کی اہلیت ہوتی تو یہ بات اُردو کے کسی مسلمان لکھنے والے کی طرف سے سامنے آنی چاہیے تھی۔ اس کے برخلاف یہاں حال یہ ہے کہ اس حقیقت کو سامنے لانے پر گیان چند جین پر لعن طعن کی جا رہی ہے۔
ہمارے یہاں مروّج اس رویے اور اس کے عواقب کا اندازہ مندرجہ ذیل تین نمایاں مثالوں سے کیا جا سکتا ہے جو ’’حریف‘‘ زبانوں سے اُردو کی کشمکش کے سلسلے میں ہماری تاریخ میں ملتی ہیں۔ ۱۹۰۰ء میں شمال مغربی صوبہ و اودھ کے لیفٹیننٹ گورنر میک ڈونل نے حکم جاری کیا کہ اُردو کے ساتھ ساتھ ناگری رسم الخط کو بھی صوبے کی عدالتوں میں استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ ۱۹۵۴ء میں پاکستان کی مرکزی اسمبلی نے (مشرقی بنگالیوں کی چھ سالہ مسلسل جدوجہد کے بعد) ایک رسمی قرارداد منظور کی کہ اُردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو بھی پاکستان کی قومی زبان سمجھا جائے گا۔ ۱۹۷۲ء میں صوبہ سندھ کی اسمبلی نے (سندھیوں کی تیرہ برس کی متواتر کوشش کے بعد) قرارداد منظور کی کہ اُردو کے ساتھ ساتھ سندھی کو بھی صوبے کے اسکولوں میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس بات کو دھیان میں رکھیے کہ ان تینوں موقعوں پر اُردو کو ہٹا کر اس کا مقام کسی دوسری زبان کو نہیں دیا جا رہا تھابلکہ اُردو کو اس کی جگہ قایم رکھتے ہوئے دوسری زبان کو اس کا حق دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن بابایانِ اُردو نے اس کوشش کو بلاتکلف اُردو کے قتل سے تعبیر کیا، کیوں کہ کسی اور زبان کو جینے یا پنپنے کی گنجائش دینا ان حضرات کے نزدیک اُردو کی موت کے مترادف ہے۔ وجہ بالکل سادہ ہے، اُردو کی سیاست پر قابض یہ لوگ اس بات کا ادراک کرنے کے اہل ہی نہیں کہ لوگوں کے کسی اور گروہ کی بھی اپنی زبان سے وابستگی ہو سکتی ہے اور اس گروہ کے بھی لسانی حقوق ہو سکتے ہیں۔ ان کا اندازِفکر انیسویں صدی کی ہندمسلم معاشرت کے بطلِ جلیل، شہید ملت نواب شمس الدین خاں (بابائے داغ) سے مستعار معلوم ہوتا ہے جن کی نظر میں انصاف اس کا نام تھا کہ ان کے والد کی چھوڑی ہو ئی جاگیروں میں سے ان کے برادرخورد کو کچھ نہ ملے، سب کچھ نواب موصوف کو دیا جائے اور فرنگی استعمارسے ان کی دشمنی اسی ارفع اخلاقی قضیے کی بنیاد پرشروع ہوئی تھی کہ انگریز حاکموں نے اس ترکے کا ایک حصہ ان کے بھائی کے حوالے کر کے انصاف کا خون کر دیا تھا۔

About اجمل کمال 7 Articles
ajmal kaml

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.