آل پاکستان ادبی کانفرنس ( انجمن ترقی پسند مصنفین ) لاہور

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

آل پاکستان ادبی کانفرنس (انجمن ترقی پسند مصنفین) لاہور

از، نعیم بیگ

اتوار ۱۲ مارچ ۲۰۱۷ ایک یادگار دن کی حثیت اختیار کر گیا ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب لاہور نے آل پاکستان ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا ۔ اس ادبی کانفرنس کا انقعاد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے معاونت سے ڈاکٹر عبدا السلام ہال میں ہوا ۔ اس کانفرنس میں دو ادبی سیشن ، تیسری لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب اور چوتھا سیشن مشاعرے کا تھا ۔
آل پاکستان ادبی کانفرنس (انجمن ترقی پسند مصنفین ) لاہورراقم پہلے تینوں سیشنز میں ہمہ وقت موجود رہا ۔ مشاعرہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُس شام کو دوسری طرف حلقہِ اربابِ ذوق کا ایوانِ اقبال میں تاریخی الیکشن تھا، جسے رات آٹھ بجے ختم ہو جانا تھا ۔ چنانچہ راقم سمیت بہت سے دوسرے احباب نے ووٹ ڈالنے کی غرض سے محبتوں بھرا مشاعرہ تیاگ دیا جس پر انہیں عمر بھر افسوس رہے گا۔
البتہ الیکشن کی روئیداد اپنی جگہ اہم اور تاریخی رہی ۔ کہ وہاں حلقہ کے ادغام کے بعد ہونے والے اس الیکشن نے ادغام کے فیصلے پر مہر ثبت کر دی۔ جس پر ہر دو اطراف کی انتظامیہ مبارک باد کی حقدار ہے ۔ یہ موضوع ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے جو راقم جلد ہی سپرد قلم کرے گا۔
انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی جملہ انتظامیہ از لاہور ، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ ملتان اور مرکزی مجلس عاملہ اس تاریخی کانفرنس میں ہمہ وقت موجود رہی۔ پہلے سیشن میں گفتگو ’’ سبطِ حسن، احمد ندیم قاسمی اور ترقی پسند تحریک ‘‘ جیسے موضوع پر ہوئی ۔ اس سیشن میں مجلسِ صدارت عابد حسن منٹو ، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر حسن امیر شاہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کی ۔ اس سیشن کی نظامت مقصود خالق اور حرف آغاز عابد حسین عابد نے کیا۔
اس سیشن کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والے کئی ایک جئید سکالرز نے اپنے مقالے پڑھے ۔ جس میں یوسف حسن ، اسلم طارق ، احمد سلیم ، ڈاکٹر قاضی عابد اعجاز رضوی ، ڈاکٹر پروین کلو ، ڈاکٹر حماد رسول اور ڈاکٹر حمیرا اشفاق شامل تھے ۔
اس سیشن کے اختتام پر ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں لاہوری چکن بریانی، رائتہ اور سلاد سے ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین کی خدمت کی گئی ۔
ظہرانے کی اچھی خبر یہ تھی کہ لاہوریوں نے حسب معمول بلا حجاب و لحاظ ڈٹ کر ماحضر تناول فرمایا ۔ اور دوسرے شہروں سے آئے سینئر مندوبین خالی پلیٹیں لئے دیر تک انتظار میں کھڑے دیکھے گئے ۔
کوئی سوا تین بجے کے قریب دوسرا سیشن شروع ہوا جس میں گفتگو کے لئے موضوع ’’ عصری رجعت پسندی اور ترقی پسند نقطہ نظر ‘‘ انتہائی پر اثر اور جذباتی ثابت ہوا۔ مقررین اور مقالہ نگاروں کی شرکت کے لئے طے شدہ خواتین و حضرات سے ہٹ کر باقاعدہ کچھ سکالرز نے اپنے مقالے پڑھنے کی درخواست کی جسے بہرحال وقت کی کمی کے پیشِ نظر منظور تو کیا گیا لیکن اس سے جملہ اوقات پر اثر پڑا اور دیگر مقررین کو بھی صرف دس منٹ سے زیادہ وقت نہ مل سکا۔
اس سیشن کی مجلس صدارت بھی بھر پور تھی ۔ معروف سوشلسٹ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر مبشرحسن ، سینیٹراعتزاز احسن، اشفاق سلیم میرزا ، ڈاکٹر سعادت سعید ، ڈاکٹر انوار احمد ، الطاف حسین قریشی اور ڈاکٹر شاہ محمد مری تھے ( شاہ محمد مری فلائٹ کے میسر نہ ہونے پرحاضر نہ ہو سکے )

اس سیشن کے مقالہ نگاروں میں جن حضرات نے اپنے مقالے پڑھے ان میں معروف رائٹرز شاعر اور سکالرز ڈاکٹر عالم خان ، ڈاکٹر صولت ناگی ، ڈاکٹر روش ندیم ، عابد حسین عابد ، ڈاکٹر سید عظیم ریاض احمد ، حسام حر ، سجاد ندیم اور خود خاکسار بھی شامل تھا ۔
گو وقت کی کمی از حد آڑے آئی لیکن ہر سکالر نے اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کیا ۔
دونوں ادبی سیشنز کی خوبصورتی یہ تھی کہ مقررین نے اپنے خیالات میں تنوع کے ساتھ ساتھ ان سوالات کو بھی ایڈریس کیا جس پر بیشتر تاریخی مغالطے موجود ہیں ۔ جہاں اس پہلو پر گفتگو ہوئی کہ کیا ترقی پسند مصنفین کیمونسٹوں کا ایک ٹولہ تھا یا یہ تحریک باقاعدہ مقامی تہذیب و ثقافت سے جڑت رکھتی تھی ۔۔ وہیں یہ بھی کہا گیا کہ سجاد ظہیر کی دعوت کے باوجود احمد ندیم قاسمی نے کیمونسٹ پارٹی کی ممبر شب لینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ساری عمر اس تحریک کے مینوفیسٹو کے ساتھ وابستہ رہے ۔۔۔۔
دوسرے سیشن میں ایک سوال یہ بھی اٹھا کہ کیا ادبی تحاریک کسی بھی حوالے سے سیاسی جد و جہد پر مشتمل ہونی چاہیں یا نہیں ؟ اس بارے میں اسلم طارق کے خیالات بہت واضح تھے کہ ادب اور ادبی سرگرمیوں میں نقطہ نظر کے علاوہ ایکٹویزم اور سیاسی سرگرمیاں جائز نہیں ۔ جس پر کئی ایک دیگر مقالہ نگاروں اور سکالرز نے اختلاف کیا۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد ، ڈاکٹر عالم خان اور خاکسار کا یہ نقطہ نظر تھا کہ نظریاتی ادبی سرگرمیوں کا محور چونکہ انسان ہے اور انسانی سماج کی ترویج کے لئے سیاسی ایکٹرویزم اگر میسر نہ ہو تو پھر ادبی رحجانات تقویت نہیں حاصل کر پاتے بلکہ سرمایہ دارانہ اور بورژوائی دباؤ میں مر جاتے ہیں ۔
اسلام آباد سے ڈاکٹر روش ندیم نے اپنے مقالے میں عصری نظریاتی رحجانات اور انکے پوسٹ ماڈرن انسلاکات اور ترقی پسند نقطہ نظر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر صولت مرزا اور ڈاکٹر قاضی نے عالمی پوسٹ ماڈرن رحجانات اور بدلتے ہوئے عصری تقاضوں کی نشان دہی کرتے ہوئے نئیے ترقی پسند بیانیے کی ضرورت پر غور کرنے کا خیال پیش کیا۔
انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب کا یہ دعویٰ کہ ایک عرصہ بعد ایسی ادبی کانفرنس ہوئی ہے جس میں لوگوں نے کھل کر گفتگو کی ہے مبنی بر حقیقت ہے۔ بڑے عرصہ بعد ایک ایسا اجتماع دیکھا گیا جس میں لوگوں نے کھل کر گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید ، عابد حسین عابد، مقصود خالق اور حسین شمس نے ترقی پسند تحریک کے چیدہ چیدہ تاریخی نکات اور تحریک کے مقاصد پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ یہ حضرات چونکہ انتظامیہ کا حصہ بھی تھے لہذا انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
چونکہ اس بار بھی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کا اجراٗ کیا گیا تھا ، جسے دو حصوں میں عابد حسن منٹو اور ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کے ہاتھوں یہ ایوارڈ مندرجہ ذیل حضرات کو دیا گیا۔
عابد حسن منٹو ، ابراہیم جوئیو ، مسل شمیم ، اشفاق سلیم میرزا، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر ، ڈاکٹر انوار احمد ، محمود احمد قاضی ، ڈاکٹر شاہ محمد مری ، احمد سلیم ، ڈاکٹر عالم خان ، ڈاکٹر سید احمد جعفر ، ڈاکٹر صولت ناگی اور فضل احمد خسرو شامل تھے ۔

About نعیم بیگ 140 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔

1 Comment

  1. واہ بہت عمدہ بہت زبردست کانفرینس کی مکمل روئیداد پڑھ کر دلی مسرت ھوئی ــ آپ تمام ھی شرکاء اور بالخصوص نعیم بیگ صاحب قابل مبارک باد ہیں جن کے توسط سے یہ خبر ھم تک پہونچی ـ سینئر مندوبین خالی پلیٹیں لیے دیر تک منتظر رھے ـــ ھاھاھاھا

Comments are closed.