ہمارے ہاتھ میں تو قلم ہیں

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

ہمارے ہاتھ میں تو قلم ہیں

(نعیم بیگ)

ہمارے ملک میں جب سے جمہوری روایات ما بعد جدید تناظر میں پھلی پھولی ہیں، ہر شخص نے اپنے نجی ملفوظات کو سرکاری درجہ عطا کر رکھا ہے۔ میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی کچھ سرکاری طور پر کہوں کچھ غیر سرکاری۔ ایسے دور میں جب کوئی کسی کی نہیں سنتا، آپ ہمیں سن رہے ہیں۔ حالانکہ ہم شاعر اور فکشن نگار آج کل کچھ بھی تو نہیں کہہ رہے ہیں۔ ہم تو صرف وہی کہہ رہے ہیں، جو دیکھتے ہیں۔

سنیے، میں پچھلے دنوں نیویارک جا رہا تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ لیکن میں نے جھوٹ بولنا حکمرانوں سے سیکھا ہے ، اور یہ بھی کہ آدمی جھوٹ بولے تو کم از کم ویژن تو ہو۔

کوئی بڑا جھوٹ، کوئی بڑی بات۔ حکمرانوں سمیت ہم سب اس بات پر متفق ہو چکے ہیں جو کام بھی ہو وہ حجم میں بڑا ہو۔ بھلے کرپشن ہی کیوں نہ ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ کسی قسم کی چوری نہیں ہونی چاہیئے۔
میں کہتا ہوں اچھی بات ہے چوری رکنی چاہیے لیکن ڈاکے بھی رکنے چاہئیں۔
لیکن روکے کون؟
ہمارے ہاتھ میں میں تو قلم ہیں۔ ہتھیار جن کے پاس تھے، وہ خود کُش بن گئے، باقی بچا کیا؟

چلیے آگے بڑھتے ہیں اور کچھ فکشن پر بات کر لیتے ہیں۔ پوری دنیا میں ادب میں فکشن نگاری کا مختصر چلن رائج ہو چکا ہے۔ ناول تو اپنی جگہ قائم دائم ہے، لیکن افسانہ روز بروز  مختصر اور کسا ہوا پسند کیا جا رہا ہے۔

میں پوپ ادب کی بات نہیں کر رہا۔ اس میں تو اب لباس رہا ہی نہیں۔ بلکہ یہ بِکنی زدہ تحریر بن چکی ہے جس میں خیال آفرینی صرف عنوان میں ہوتی ہے کہانی غائب اور کردار غیر مرئی اور جادوئی۔ لوگ کہتے ہیں ترقی پسند تحریک ختم ہو گئی ہے۔

میں کہتا ہوں ابھی تو وہ پالنے میں ہی تھی کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات دیکھ کر یار لوگوں نے اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ پاکستان بننے کے بعد کیا کیا جتن نہ ہوئے انہیں کچلنے کے لئے۔ دراصل ترقی پسندی انسانی مسائل کا وہ واحد راستہ اور حل تھی جسے سرمایہ دارانہ نظام سہہ نہ سکا۔

آپ اردو کے کسی بڑے افسانہ نگار یا فکشن رائٹر کو لے لیں، یہاں ناموں کی تفصیل مطلوب نہیں، آپ کہیں گے تو میں دسیوں نام گنوا دونگا، لیکن دیکھیں کہ یہ سارے ادیب ترقی پسند تحریک کے دور کی پیدا وار ہیں۔ آج بھی ہم جب کسی افسانہ نگار کو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترقی پسند تحریک کی سماجی کمنٹمنٹ ان فکشن نگاروں کی تحریر میں نہیں ہے۔

میرا خیال ہے کہ وہ ہے اور رہے گی، بھلے زمانے بدلتے جائیں، انسان کے بنیادی مسائل جب تک حل نہیں ہو نگے، یہ معاملہ وہیں رہے گا۔ آج جدیدیت کی شروع کی گئی ہیئت پرستی کی بحث ہمارے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے؟ ماسوائے اس کے کہ ادب کو محض ادب تک محدود کر دیا جائے۔ ادب توجبھی ادب بنے گا جب اس میں آپ انسانی زندگی کو لائیں گے، ورنہ کائنات کے رازوں سے پردہ تو سائنس اٹھا رہی ہے۔ کیوں نہ ہم سب مل کر اسے ادب ڈکلیئر کردیں۔ آج بھی فکشن نگاروں کی حساس، عمیق اورفکری نظر انسان پر ہی کیوں ہے؟

اس کی صاف وجہ ہے کہ ادب کی تخلیق انسانی تخلیق سے فکری مماثلت رکھتی ہے۔ مقصدیت سے ہٹ کر اور وہ بھی سماج سے، کوئی شے ماورا نہیں۔ خدا لگتی کہئے، کیا آج بھی بک سٹالز پر وہی افسانہ نگار ، فکشن نگار مقبول نہیں ہیں جنہوں نے ترقی پسند تحریک کے عہد میں جنم لیا تھا؟ آج بھی کرشن چندر، پریم چند، قراۃ العین، منٹو، بیدی، ظہیر سجاد، غلام عباس، احمد عباس وغیرہ نہیں پڑھے جا رہے ہیں؟

ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمانے بدلے تو جدیدیت بھی ایک طرف کو کھڑی ہو گئی اور ما بعد جدیدیت نے اپنے رنگ روپ دکھائے۔ جس میں فنی امتیازات ، انسلاکات، میلانات ، موضوعات اور فنی اسالیب پر گفتگو ہوئی۔ حالانکہ یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مابعد جدیدیت اب کہاں رکے گے۔۔۔ کہا جا رہا ہے ما بعد مابعد جدیدیت اپنا راستہ بنا رہی ہے۔

لیکن دیکھیے پھر وہی بات کہ جدیدیت کے بعد منظر بدلا ہے۔ کائناتی تناظر، سیاق اور ثقافت وہی انسانی ہے جس نے اپنی کیفیاتی اور حساسیت کی روش بدلی ہے۔ انسان وہی ہے۔ مسائل وہی ہیں، بلکہ نفسیاتی سطح پر سماجی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

نائن الیون واقعہ کے بعد دنیا کی سوچ اور نقشہ تبدیل ہوتا نظر آتا ہے جسے پہلے تہذیبوں کی جنگ کا نام دیا گیا، لیکن عالمی سطح پر نامقبولیت کے خوف سے اسے وار اگینسٹ ٹیررازم میں بدل دیا گیا۔ یہ ایک محض اتفاق نہیں تھا بلکہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت دوسری جنگِ عظیم کے مکمل خاتمے سے کچھ پہلے فروری انیس سو پنتالیس میں عالمی لیڈرشپ نے یلٹا کانفرنس میں جہاں یورپ کی تقسیم کا فارمولا طے کیا تھا وہیں چند دیگر فیصلے بھی کئے گئے تھے جن میں آئندہ کے جنگی میدان بھی غیر سرکاری طور پر چن لئے گئے تھے۔

یہ جنگ جاری ہے۔ اس کے نتائج بھی سامنے ہیں۔ پوری دنیا کا امن کہیں کھو چکا ہے۔ انتشار کو اس قدر وسعت دی گئی کہ کہیں دور دور تک امن کا ساحل نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ استعمار کے ان فیصلوں کے خلاف ہماری جنگ ابھی جاری ہے۔ تیسری دنیا میں اگر ترقی پسند ادیب و شاعر اپنے قلم کا ہتھیار استعمال نہیں کرے گا تو پھر اور کیا کرے؟

خیر یہ موضوع بہت طویل ہے یہاں ان باتوں کا مقصد بیاں صرف یہ تھا کہ دوستوں کی محفل میں کچھ سولات اٹھائے جائیں۔ کچھ سوچ کے نئے در وا کئے جائیں۔ کچھ تازہ ہوا کے جھونکے غنودگی کی پرچھائیں دور کریں۔
آئیے کچھ خوشگوار لمحوں کو بھی اسیر کیا جائے۔
ویسے ایک بات ضرور کہوں گا۔

ہمارے یہاں ادبی محفلوں میں جملہ سامعین و حاضرین شائستہِ ادب، نستعلیق، باذوق بے حد و حساب سخن فہم ہیں۔ میں نے انہیں آج تک کسی گھٹیا شعر کی داد نہ دیتے ہوئے اور شریف آدمی کی ہوٹنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہاں اگر کوئی مجھ جیسا نثر نگار یا فکشن نگار خراب افسانہ یا مضمون پڑھ کر جانے لگے تو اور زیادہ تالیاں بجاتے ہیں۔ میں ان تالیوں کو رخصتی تالیاں کہتا ہوں۔
اللہ اللہ ۔۔۔ایک زمانہ تھا کہ داد و تحسین کی طلب و تمنا ایسی کہ اگر دو تین فقروں پر تالیاں نہ بجیں تو فکشن نگار کا نہ صرف منہ اتر جاتا تھا، بلکہ خود بھی سٹیج سے اترنے کو جی چاہتا تھا۔ اب ما بعد جدیدیت دور میں عالم یہ ہے کہ ہر ہر فقرے پر دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کوئی دیرینہ دوست تازہ دشمنی کی بنیاد پر رخصتی تالیاں نہ بجا دے۔
اللہ کی امان میں رہیے۔
شکریہ


عرض مدیر: مصنف کی جانب سے یہ مضمون بطورِ مختصر خطاب، انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس منعقدہ ۴۔ جنوری ۲۰۱۷.ء بمقام پاک ٹی ہاؤس لاہور پڑھا گیا۔ اس کو یہاں کچھ مناسب تدوین کے بعد قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔

About نعیم بیگ 111 Articles
ممتاز افسانہ نگار‘ناول نگار اور دانشور نعیم بیگ مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔گوجرانوالہ اور لاہور کے کالجوں میں زیرتعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا . لاہور سےوائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزار‘ا جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزوقتی لکھاری کے طور پر ہمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بشمول عالمی رائٹرز گلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں