حرافہ ، افسانہ از: قمر سبزواری

حرافہ
Picture: Yigal Ozeri

حرافہ

افسانہ از: قمر سبزواری

شازیہ ہونقوں کی طرح اپنے خاوند جاوید کا مُنھ دیکھتی رہ گئی۔

حرافہ، سالی بازاری عورت کی بیٹی

تیری ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔،

میرے ساتھ تمسخر کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فاحشہ۔

جاوید۔۔۔۔ میں تو۔۔۔۔۔

آپ میری ماں کو۔۔۔۔۔۔

شازیہ کے مُنھ سے بس اتنا ہی نکل سکا۔

ہاں تو کیا کہوں کتیا کی بچی، ایک کتیا کو انسان کتیا نہ کہے تو کیا کہے، حرافہ، حرافہ، حرافہ۔۔۔

ایک بار نہیں سو بار کہوں گا۔۔۔

وہ ایک ہی سانس میں ایسے شازیہ اور اُس کی ماں کو مُغلظات بَکے جارہا تھا جیسے بہت دنوں سے یہ غلیظ القاب و آداب اُس کے حلق میں جمع تھے اوراُسے بس کسی موقع کی تلاش کسی ہلکے سے بہانے کی ضرورت تھی۔

شازیہ کے کان بند اور دماغ ماؤف ہو چکا تھا، وہ ہونقوں کی طرح چند لمحے اپنے خاوند کے تیز تیز ہلتے لبوں اور آنکھوں سے نکلتے شعلوں کو دیکھتی رہی اور پھر مُٹھیاں بھینچتی ہوئی خود کار انداز میں اٹھ کر بیڈ روم سے نکل گئی۔

کرب، خوشی، پیار دکھ، تکلیف،۔۔۔ جذبات کا فقط احساس کیا جا سکتا ہے ان کا اظہار کرنے سے یہ کبھی بیان نہیں ہوتے  شازیہ کو جاوید کے مُنھ سے اپنی ماں کے لیے ایسی گالیاں سن کر جو اذیت ملتی تھی اُس کا وہ فقط احساس ہی کر سکتی تھی، اُس کییفیت کا اظہار ممکن نہ تھا۔ كاش وه جاويد كو احساس دلا سکتی، جواب دے سکتی ۔۔۔۔۔ لیکن جواب ۔۔۔۔ وہ جاوید کو جانتی تھی وہ واپس بولنے یا جواب دینے کو اپنی آخری درجے کی توہین سمجھتا تھا اور ایسی صورت میں فیصلہ طلاق پر ہی رکتا ۔۔۔۔۔

طلاق ۔۔۔۔۔۔نہیں طلاق کیوں؟۔۔۔

وہ چاہتی تھی کہ جاوید کو اُس کیفیت کا احساس ہو، وہ بھی اُس کرب کو محسوس کرے جس سے وہ گزرتی تھی لیکن اِس کے باوجود جب اُسکی آنکھوں میں آنسو امڈ نے لگتے تو وہ اپنے زیریں ہونٹ کا اندرونی حصہ دانتوں تلے دبا کر اپنے آنسوؤں کو روک لیتی، کم از کم اُس وقت تک جب تک وہ جاوید کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔۔۔

شازیہ کو یہ تو گوارا تھا کہ وہ اس اذیت کے خاتمے کے لیے جاوید کے خود بخود سدھر جانے یا اُس کو سدھارنے کا کوئی طریقہ ہاتھ آنے تک کے وقت کا انتظار کر لے لیکن اُسے یہ گوارا نہیں تھا کہ جاوید کے سامنے اُسی کے بے بسی کے آنسو نکل پڑیں اور جاوید ترس کھا کر اُس کے ساتھ اپنا برتاؤ تبدیل کرے۔

وہ بچپن ہی سے ایسی تھی۔ پاپا جب اُس کی ماں کو گالیاں دیتے تھے تو وہ کبھی اپنے روم میں جا کر پاپا کے دیے ہوئے کھلونے توڑ دیتی اور کبھی اپنی نوٹ بک پر اتنی زور زور سے پین چلاتی کہ صفحے ایڑھی ترچھی لکیروں سے کالے ہو کر تار تار ہو جاتے لیکن وہ پاپا کو کچھ کہہ نہ پاتی۔ وہ اپنی ماں کو گالیاں نہ دینے کے لیے اپنے باپ کی منتیں نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ حالانکہ جب پاپا اُس کے اور اُس کے چھوٹے بھائی عاصم کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے عاصم کو بازو گھما کر گیند پھینکتے اور شازیہ کی طرف لڑھکتی ہوئی گیند پھینکتے تو وہ تھوڑا سا موڈ بناتی اور پھر وآپس کھینلے لگتی۔۔۔۔۔

بات یوں ہے کہ عورت کو کسی بھی عمر میں مرد کے مقابل نازک یا کمزور سمجھا جائے تو وہ سہہ جاتی ہے لیکن اُسے کم تر یا حقیر سمجھا جائے تو وہ یقینی طور پر پلٹتی ہے اور چاہے مار کھائے یا پامال ہو جائے ایک بار وار ضرور کرتی ہے۔

پاپا کے ساتھ پھر بھی ایسا کچھ چل جاتا لیکن جاوید کے ساتھ تو بالکل نہیں، شادی کے دوسرے روز سے ہی وہ جاوید کو اپنا حق، اپنا حصہ سمجھتی تھی۔ رشتے کا ایک مان ہوتا ہے کسی کے جسم و جان کی ضرورت بن جانے کا اپنا ایک غرور ہوتا ہے اور اُسے یہ بالکل گوارا نہ تھا کہ اُسے اپنا حق بھی بھیک میں ملے۔

جاوید شہر میں پیدا ہونے کے باوجود مزاج میں کہیں کہیں اپنے جاگیر دار دادا سے مشابہ تھا۔ اس کے پاس اپنے دادا کی طرح زمین جائیداد تو نہ تھی لیکن مزاج میں وہی انا پرستی اور دوسروں کو اپنا مزارعہ سمجھے کی عادت سی تھی۔ اُن کی طرح شکار کھیلنے تو نہ جا سکتا تھا لیکن گھر میں ایک بندوق ضرور رکھی ہوئی تھی جسے ہر ماہ باقاعدگی سے چمکا کر وآپس بیڈ روم کی دیوار پر لٹکا دیا جاتا۔ جاوید اپنے دادا کی طرح بلا نوش تو نہیں تھا لیکن کبھی کبھی اپنی مما سے چھپا کر اور شازیہ کو ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کردہ بتا کر ایک آدھ بوتل لے ہی آتا تھا۔ دادا عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے جاوید اپنے تئیں بیوی کو ایک برتن کی حیثیت دیتا تھا۔

 شازیہ کی ساس کے مطابق جاوید کے دادا بھی بہت سخت مزاج اور ضدی تھے لیکن جب جنسی ضروریات کی تسکین کی بات آتی تو وہ سر پر بٹھانے، پاؤں پکڑنے بلکہ بلک کر معافی مانگنے سے بھی نہ چوکتے۔۔۔۔ اب شازیہ اپنی ساس کو کیا بتاتی کہ جاوید بھی بہت بد زبان، سخت مزاج اور اڑیل تھا لیکن بستر پر اس کے مطالبات کی فہرست بہت طویل ہوتی جس میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر ڈالتا۔ دادا کو عورت پر صرف سرخ کپڑے ہی اچھے لگتے تھے، جبکہ جاوید شازیہ کو سرخ قمیض اور سفید شلوار بہت شوق سے لے کر دیتا تھا۔

صبح جاوید جب اُس کے ہونٹ چوم کر آفس کے لیے نکلا تو اُس نے اُسے بتایا تھا کہ آج وہ کچھ دیر کے لیے ممی جی کو ساتھ لے کر مارکیٹ جائے گی۔ جاوید نے مسکرا کر یہ کہتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر ایک اور بوسہ ثبت کیا، باہر جاؤ گی تو میری زیادہ یاد ساتھ رہنی چاہیے۔

لیکن شام کو گھر آتے ہی جاوید کا پارہ کچھ چڑھا ہوا تھا۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو سکتی تھی۔ آفس میں کسی کی بات سے توہین محسوس کرنا، تھکاوٹ، گھر میں کوئی بے ترتیبی یا بد نظمی یا شدید جنسی ہیجان جس کی خاطر خواہ تسکین ممکن نہ ہونے کا لاشعوری احساس جاوید کو چڑ چڑا کر دیتا تھا۔۔۔۔

شازیہ یہ تو بھانپ گئی تھی کہ اب جاوید کسی موقع کی تلاش میں ہے لیکن یہ ممکن نہ تھا کہ احتیاط کر کے اُسے کوئی موقع دیا ہی نہ جائے کیونکہ اگر کوئی وجہ نہ ہو گی تو جاوید اسی اکتاہٹ سے تلملا اٹھے گا کہ سب کچھ پھیکا پھیکا اور جامد سا کیوں ہے۔ اور وہی ہوا شازیہ نے نے جاوید کی خوشامد کے لیے ہلکا سا مسکراتے ہوئے چھیڑ خانی کے انداز میں پوچھ لیا

 کیوں حضور، نصیبِ دشمناں آج جناب کا مُنھ کیوں پھولا ہوا ہے؟

“حرافہ، سالی بازاری عورت کی بیٹی

تیری ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ تمسخر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ فاحشہ۔”

جاوید۔۔۔۔۔۔ میں تو۔۔۔۔۔ آپ میری ماں کو۔۔۔۔۔۔ شازیہ کے مُنھ سے بس اتنا ہی نکل سکا۔

ہاں تو کیا کہوں کتیا کی بچی، ایک کتیا کو انسان کتیا نہ کہے تو کیا کہے، حرافہ، حرافہ، حرافہ۔۔۔

ایک بار نہیں سو بار کہوں گا۔۔۔

کبھی کبھی شازیہ کو لگتا وہ جو چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا اس لیے چڑ جاتا ہے، کبھی وہ سوچتی اُس کو جو چاہیے وہ اُس کو مل نہیں پاتا اس لیے وہ بگڑ جاتا ہے۔ اسی تذبذب میں شازیہ کبھی بہت کھل جاتی اور کبھی بالکل ملفوف ہو جاتی۔ جب وہ شیرنی کی طرح اُس کے آس پاس چکر لگاتی تو جاوید کے باڑے میں بندھا ہوا سانڈھ ایک چھوٹی سی بلی بن کر میاؤں میاؤں کرنے لگتا اور اگر وہ ایک گدھی کی طرح کان لٹکا کر سر نیہواڑے اپنی پیٹھ پیش کر دیتی تو وہ جھنجلا کر اُس پر برس پڑتا۔

جاوید بہت بُرا سا مُنھ بنائے، لائٹ آف کیے بیڈ روم میں بیٹھا تھا۔ شازیہ جانتی تھی کہ اب وہ اپنا حق جانتے ہوئے اس انتظار میں ہے کہ اُ سے منایا جائے اور اُس سے معافی مانگی جائے۔ نہ وہ ٹی وی لاؤنج میں آئے گا نہ کھانا کھائے گا نہ باہر واک کے لیے نکلے گا لیکن اگر وہ کچھ دیر اُس کی منت کرے گی معافی مانگے گی تو وہ ایک احسان کر کے راضی ہو جائے گا کیونکہ کل چھٹی ہے اور اُسے شازیہ سے آج رات کو بہت سا کام تھا۔

شازیہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جاوید کو بالکل نہ منائے، خود راضی ہوتا ہے تو ہو نہیں ہوتا تو نہ سہی لیکن اُسے پتا تھا کہ اس طرح بات زیادہ بگڑے گی اور پھر جب تک شازیہ کی ماں آکر جاوید سے معافی نہیں مانگے گی وہ نہ مانے گا۔ شازیہ کو خود معافی مانگتے ہوئے فقط اپنی انا کو کچلنا ہوتا تھا لیکن جب اماں گھر سے آ کر جاوید سے معذرت کرتی اور جاتے ہوئے،گیٹ کے پاس رک کر شازیہ کو سرگوشی میں کہتی، بیٹی تُو میرا برا مت مانا کر، مجھے ساری زندگی تیرا باپ گالیاں دیتا رہا ہے اگر جاوید نے مجھے دو گالیاں دے دیں تو کون سی قیامت آ گئی، تو اُسے لگتا کہ اُس کی انا کی کرچیاں جاوید کے گھر سے نکل کر اُس کے باپ کے گھر تک کے سارے رستے پر بکھر گئی ہیں اور کبھی گلی میں کرکٹ کھیلتے لڑکوں کے درمیان، کبھی سبزی کے ٹھیلے والے کے پاس کھڑی عورتوں کے درمیان اور کبھی پڑوسیوں کے کار پورچ کے باہر کھڑے ہو کر جاوید اور اُس کا باپ وہ ساری کرچیاں اچھال اچھال کر کھیل رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔

اُس کی ماں کے جانے کے بعد جاوید اکثر اسے کہتا، میں تمھاری بات نہیں کر رہا لیکن عورت کی یہی اوقات ہے، پہلے اکڑ دکھائی ہے اور پھر پاؤں میں پڑ جاتی ہے، اکڑ دکھانے کی ضرورت ہی کیا ہے، پہلے ہی عقل کو ہاتھ مار لینا چاہیے نا۔

وہ کچن میں کھڑی اپنے ساتھ ہی بحث میں الجھی ہوئی تھی۔

شازیہ تیری ماں خود ساری زندگی تیرے باپ سے گالیاں سن کر خاموش رہی وہ تیرا کیا دفاع کرے گی تیرا باپ تو اس دنیا میں ہی نہیں ہے، اوہوں۔۔۔ ہوتا تو کیا ہوتا، ایک دو وہ بھی بک دیتا اور ممی ایک عورت ہونے کے باوجود تیرے لیے فقط ایک ساس ہے۔

وہ اپنی سوچوں میں گم کبھی شعور کے ساتھ اختلاط کر کے کوئی حل پیدا کرنے کی کوشش کرتی اور کبھی خود کو نفرت کے تاریک گوشے میں سر تا پا برہنہ دھکیل دیتی اسی آمادگی کے دوران کہیں سے ایک قطرہ اُس کی جبلت کے بطن میں ٹپک کر ایک ہی لمحے میں ایک نئی شازیہ کی پیدائش کا سبب بن گیا۔۔۔ حرافہ ۔۔۔۔۔ اچھا تو میں حرافہ ہوں ۔۔۔۔ ہاں میں ایک فاحشہ بھی تو ہوں۔۔۔۔۔اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ رینگ گئی اور اُس کی آنکھوں میں ایک حاملہ عورت کی تسکین ایک غرور سا عود آیا ۔۔۔

وہ د بے پاؤں کچن سے نکل کر بیڈ روم کے دروازے سے بچتی ہوئی دوسرے کمرے میں اپنے وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی اُس نے سرخ قمیض اور سفید شلوار پہنی، قمیض کے تینوں بٹن کھلے چھوڑ کر، دوپٹے کو سرکنے کے انداز میں سینے پر ڈالا اور اپنے زیریں ہونٹ کو اپنے دانتوں کے نیچے سے آزاد کر کے آنسوؤں کو راستہ دیتے ہوئے بیڈ روم میں داخل ہو گئی۔۔۔ جب ذہن میں کوئی منصوبہ کوئی لائحہ عمل ہو تو انا ساتھ دینے لگتی ہے وہ بلا تامل جاوید کے پاؤں میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔

بات شروع کرنے کے لیے معافی مانگنا ضروری تھا لیکن اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ کس بات کی معافی مانگے، بظاہر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔ کیا وہ نا معلوم غلطی کی معافی مانگے یا موڈ خراب ہونے کی وجہ پوچھنے کی معافی مانگے اگر وہ کسی ایسی بات کی معافی مانگے گی جو جاوید کے ذہن میں نہیں ہے تو بھی جاوید چیخ اٹھے گا کہ تمھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ تمھاری غلطی کیا ہے تو تم اپنی اصلاح کیسے کرو گی۔۔۔۔۔ اُس نے بات کرنے کی بجائے اپنے آنسوؤں کو گالوں تک پہنچایا اور غیر محسوس طریقے سے اپنا دوپٹہ سرکا کر اپنے دونوں ہاتھ جاوید کے پاؤں پر رکھ دیے، وہ اپنے جسم اور جاوید کی ضرورت کو اپنا وکیل بنا رہی تھی ۔۔۔

بات یوں ہے کہ جنسی عمل کیسے تکمیل کو پہنچانا ہے یہ مرد کی جبلت میں ودیعت شدہ ہوتا ہے اگر کسی مرد نے زندگی میں کبھی بھی قربت نہ کی ہو تب بھی وہ پہلی رات کوجانتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے کچھ یونہی مقاربت کے تجربے سے گزری ہوئی عورت کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی کس ادا کی کیا قیمت ہے اور یہ کیسے وصول کی جا سکتی ہے۔۔۔۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ اکثر عورت کو ادا فروشی کی ابتدائی تربیت وہی مرد دیتا ہے جس کو وہ سب کچھ مفت میں پیش کرتی ہے۔

آج جیسے شیرنی اور گدھی کے انضمام سے ایک نئے حیوان نےجنم لیا تھا، شازیہ جاوید کی آغوش میں دھاڑنے لگتی تو اُس کی بے بسی اُس کو نیچے بٹھا دیتی اور جب وہ لیٹ جاتی تو سینے میں چبھی ہوئی کرچیاں اُس کو ایک زخمی درندہ بنا کر وآپس اوپر لے آتیں، آج جاوید کی حالت دیدنی تھی، وہ یہی تو چاہتا تھا، ایک جوالا مکھی ہو لیکن ہو اُس کے قابو میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اڑیل مست گھوڑی ہو لیکن اُس کے ہاتھوں میں پکڑی باگوں سے زخمی اور بے بس ہو ۔۔۔۔۔ شازیہ جان گئی کہ جاوید کے چڑ چڑے پن کی کیا وجہ ہے لیکن اُس لمحے اُس پر یہ بھی انکشاف ہو گیا کہ جاوید کے باڑے میں بندھے جانور کو سانڈھ یا بلی بنانا اُس کے ہاتھ میں ہے نہ کہ جاوید کے بس میں۔

جاوید کے نرخرے سے بسمل کی طرح آوازیں نکل رہی تھیں اور پھر اچانک وہ آوازیں با معنی الفاظ میں بدل گئیں , جاوید آنکھیں بند کیے نشے کے انداز میں زیر لب، شازیہ کو گالیاں دے رہا تھا، شازیہ تیرا سحر تو کسی طوائف کی طرح ہے، تیرے جسم میں جیسے سات عورتوں کی گرمی اور نشہ بھرا ہوا ہے، بازاری، رنڈی مجھے نشے میں پاگل کر دے گی کیا۔۔۔جوں جوں وہ اُس کو غلیظ ناموں سے پکار کر دبوچتا، شازیہ کی تسکین بڑھتی جاتی اور اُس کی حالت پہلے سے زیادہ مدہوش ہوتی جاتی۔

یہ گالیاں مختلف تھیں، وہ اپنی بے بسی اور شازیہ کے سحر، اُس کی جوانی کی جولانی کا اقرار اور اظہار کر رہا تھا۔ یہ معین سا فرق کم عمر و نازک اور کم تر و ناقص کے فرق جیسا تھا، یہ ایسے ہی تھا جیسے بچے کے ساتھ باکسنگ کھیلتے ہوئے اُسے مُکا مارو تو وہ ہنستا ہے لیکن غصہ کر کے دو انگلیوں کی چپت بھی لگا دو تو وہ بلکنے لگتا ہے۔

شازیہ نے آنکھیں موندے موندے ہی ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے جاوید کی چھپائی ہوئی چھوٹی سی بوتل نکالی اور ایک گھونٹ حلق میں انڈھیل کر باقی جاوید کے مُنھ کے ساتھ لگا دی۔ وہ جاوید سے بھی کچھ بلند آواز میں غرانے لگی، وہ دھیرے سے شازیہ کے کان میں بولا خاموش نہیں رہو، تم بھی کچھ بولو، کچھ ایسا کہو جس سے آگ پھیلتی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح جاوید کو آفس بھیج کر شازیہ باتھ روم کا دروازہ لاک کیے بغیر ہی شاور کے نیچے کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اُس کو شاور کے نیچے بھیگتے ہوئے اپنے جوان بدن کا لمس اور بھر پور نظارہ ایک عجیب احساس تحفظ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔

گلی میں بکھری ساری کرچیاں جیسے سینے کے اندر چلی گئی تھیں۔ اس بار اُس نے اپنی ماں کو فون کر کے جاوید کی بد کلامی کا رونا نہیں رویا تھا۔

دو تین دن سکون سے گزر گئے جاوید آخری چپقلش کو بھول بھی گیا تھا، اور شازیہ تو ۔۔۔۔۔، کچھ دن پہلے تک جو شازیہ جاوید کو دوائی کے بہانے بھی گھر میں پینے پلانے کا کچھ لانے دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ اب یہ سوچ رہی تھی کہ کیسے جاوید کا دھیان اس طرف لایا جائے کہ وہ ایک اور بوتل لے آئے۔

آج تیسرے چوتھے دن جب شازیہ کی ماں کا فون آیا تو وہ پہلے کی طرح ایک دم پھوٹ پڑنے کی بجائے تحمل سے بات کرتی رہی، ماں نے حال احوال پوچھ کر اُسے قرآن خوانی کے لیے آنے کا کہا۔۔۔۔۔ شازیہ نے خوش طبعی سے بات کی اور فون رکھ دیا۔

جاوید پھر کچھ مائل تھا، ہلکی ہلکی گپ شپ اور بوس و کنار کا موسم چل رہا تھا، شازیہ کے اندر جنی گئی حرافہ بے چینی سے باہر آنے کا انتطار کر رہی تھی۔ لیکن کوئی رستہ نہیں مل رہا تھا۔

جاوید صبح آپ کے آفس جانے کے بعد میں کچھ دیر کے لیے اماں کے ہاں جاؤں گی، کیوں کیا ہوا چھٹی والے دن خود لے جاؤں گا ناں، جاوید نے اُسے گود میں بھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

نہیں کل اماں کے ہاں قرآن خوانی ہے،بس دو گھنٹوں میں وآپس آ جاؤں گی۔۔۔

اچھا تو پھر ممی کو یا آسیہ کو لے جاؤ۔۔۔۔

ممی جی سے پوچھوں گی اگر جائیں تو آسیہ کو تو نہیں لے جا سکتی، قرآن خوانی کی محفل ہے اور اُس کے ماہواری کے دن چل رہے ہیں، اچھا نہیں لگتا ناں۔۔

جاوید ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔

کیا بے ہودگی ہے شازیہ، جاہل ہو تم بالکل

ارے کیا ہوا، کیا کیا میں نے؟

تمھارے گھر میں ایسا چلتا ہوگا بے غیرت کی بچی ہمارے ہاں نہیں۔۔۔۔

ہم کس کیفیت میں بیٹھے ہیں، کیا کر رہے ہیں اور تم مجھے میری جوان بہن کے بارے میں بتا رہی ہو کہ اُس کے۔۔۔۔۔۔

جاوید کی حالت ایسے بھوکے کی ہو گئی جو نوالہ مُنھ میں ڈالنے لگا تھا اور کسی نے اچانک اُسے بتا دیا کہ کھانے میں غلاظت ملی ہوئی ہے۔

وہ ہیجانی سے انداز میں اٹھا اور باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔

شازیہ حیرت سے پاس بیٹھی حرافہ کو دیکھ رہی تھی جو اچانک اس کے اندر سے نکل کر بستر پر اُس کے پاس بیٹھ گئی تھی۔ جاوید کافی دیر کے بعد اپنے دھیان کو بٹا پایا لیکن اس بار کمرے میں بوس و کنار کی سرگوشیاں ایسے رینگ رہی تھیں جیسے سالن سے مکھی نکال کر دوبارہ کھانا شروع کرنے والا مزا آنے کا اظہار کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

شازیہ کو خفیف سی شرمندگی ہوئی کہ اُس نے جاوید کو جذباتی دھچکا دیا لیکن جاوید کی گالی نے شرمندگی کے احساس کو ڈھٹائی میں بدل دیا اُدھر جاوید نے اپنا غصہ کسی مناسب موقع پر پوری شدت سے نکالنے کے لیے سنبھال لیا۔

شازیہ مہینے کے آخری ایام میں پورے ہفتے کے بعد نہا دھو کر صاف ہوئی۔ دوپہر کو وہ ممی کو لے کر مارکیٹ تک گئی اور کچھ زیر جامے اور دیگر چھوٹی موٹی اشیاء خریدیں، واپسی پر اُس نے ممی کو سفید پھولوں والی ایک سرخ قمیض لے کر تحفہ میں دی، گھر آ کر جب جاوید کی ماں نے قمیض پہن کر اُسے دکھائی تو اُس نے ضد کر کے انھیں پہنے رکھنے پر راضی کر لیا۔ چھوٹے موٹے کاموں سے فارغ ہو کر سر شام ہی اُس نے مچھلی کا سالن بنا کر جاوید کو فون کیا، کیا بات ہے، اور کتنا انتظار کرائیں گے؟

کیوں کیا ہوا بھئی، کیسا انتظار؟

شام ہونے کو ہے بس اب آ بھی جائیں، اور ہاں آتے ہوئے اپنی دوا کی بوتل ضرور لیتے آئیے گا، اب میرا گلا بھی کچھ خراب رہنے لگا ہے، شازیہ نے ماؤتھ پیس میں سرگوشی کی۔

اندھا کیا مانگے؟ دو آنکھیں، جاوید نے سب کام چھوڑے اور دوا کی بوتل لے کر گھر کی راہ لی۔

آج سانڈ باڑے کو توڑ کر باہر لپک رہا تھا، جاوید کی زمینوں کا نالہ پوری طغیانی پر تھا ۔۔۔۔۔ اللہ اللہ کر کے وہ گھر پہنچا ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے ہی جاوید کا ذہن بیڈ روم میں گھوم رہا تھا۔ اُس کی مہربان نظریں بار بار شازیہ کے کولہوں کا جائزہ لیتیں اور وہ پھر سے ایک انگڑائی لے کر صوفے پر نیم دراز ہو جاتا۔

کچھ دیر میں شازیہ خلاف معمول کھانے کی بجائے چائے کی ٹرالی دھکیلتی ہوئی ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوئی تو اُس کے پیچھے پیچھے جاوید کی امی اور بہن بھی تھیں، شازیہ نے ٹرالی آگے بڑھاتے ہوئے ممی جی اور آسیہ کو تو چائے دی اور جاوید کو سرگوشی کی، کھانا کمرے میں دوائی کے ساتھ ملے گا۔

جاوید کی ماں نے خاوند کے فوت ہونے کے برسوں بعد اس طرح کے نئے نویلے کپڑے پہنے تھے وہ سرخ قمیض اور سفید شلوار میں بالکل دس پندرہ برس پہلے کی طرح لگ رہی تھیں۔ جاوید کو انھیں ہشاش بشاش دیکھ کر ایک گونا طمانیت محسوس ہوئی، آسیہ اور ممی جی سے باتیں کرتے ہوئے اُس نے ایک دو بار کن اکھیوں سے شازیہ کی طرف دیکھا جو انجان بنی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔

جاوید کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد سونے کا کہہ کر بیڈ روم میں گیا تو شازیہ نے اٹھ کر ٹی وی بند کر دیا، جاوید۔کی بہن اور ماں اٹھ کر اوپر اپنے پورشن میں چلی گئیں۔

پسندیدہ ترین کھانا، تین چار پیگ اور پھر شیرنی اور گدھی کا آمیزہ، آج جاوید بادلوں میں تیرتا پھر رہا تھا، لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ نظر بچا کے نشے میں جھومتی ہوئی مدہوش شازیہ کو بھی حیرت سے دیکھتا جو اُس کے پر بن کر اُس کو اُڑا رہی تھی۔

جاوید نے شازیہ کو آغوش میں لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی پسندیدہ سرخ قمیض اور سفید شلوارکو دیوار کے ساتھ پڑے سنگل صوفے کی طرف اچھال دیا۔ کمرے کی خاموشی سرگوشیاں کرنے لگی۔ اپنے خمار اور شازیہ کے بھر پور تعاون سے جاوید بہت جلد ہی اُس ترائی میں اترنے لگا جہاں پر رکنا اب اُس کے بس میں نہیں تھا، اُس نے انگیا سرکا کر اپنے ہونٹ آغوش میں پڑے مخملیں تھال میں سجے ہوئے خوشوں پر رکھ  دیے۔

میری نئی انگیا کی کوئی تعریف نہیں، ہوں ۔۔۔۔ بہت خوب صورت ہے، جاوید کے مُنھ سے الفاظ خود بخود گرنے لگے۔

آج ہی دو، لائی ہوں. ایک ممی کو دی ہے، کالی والی، جو انھوں نے شام میں پہنی ہوئی تھی اور ایک یہ ہے، سرخ۔

شازیہ۔۔۔۔۔ جاوید کے حلق سے ایسی گھٹی گھٹی آواز نکلی جیسے کوئی اندھے کنویں میں اترا ہو اور تہہ میں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے آواز دینے کی کوشش کر رہا ہو۔

شازیہ نے ہاتھ سرکا کر کھلی ہوئی بوتل اٹھائی اور دو خالص گھونٹ نیچے  لیٹے ہوئے جاوید کے مُنھ میں انڈیل کر اُس کے اوپر ہچکولے لینے لگی۔ جاوید اور اُس کی زبان کے درمیاں رابطہ اور کمزور ہو گیا۔۔

جاوید کے نرخرے سے نکلتی ہوئی آوازیں خود بخود الفاظ کا روپ دھارنے لگیں، حرافہ۔۔۔۔ مارنے کا ارادہ ہے کیا۔ تُو کیا تیرے جیسی ایک اور بھی آ جائے تو اُس کو بھی بے حال کر دوں۔۔

شازیہ نے جاوید کے سینے کے بال ہلکے سے کھینج کر کان کی لو پر زبان پھیرتے ہوئے سرگوشی کی۔

پتا نہیں میرا اور ماں جی کا دیکھنے میں سائز تو ایک ہی ہے لیکن مجھے یہ ذرا ڈھیلی ہے۔

اوہ، شازیہ۔۔۔ جاوید  دلدل میں ڈوبتے ہوئے جسم کی طرح بے سود  تگ و دو کرنے لگا۔

اُن کا سینہ تو اب بھی ایسے سنبھالا ہوا ہے  کہ رشک آتا ہے۔۔۔۔

برسوں سے کسی نے ۔۔۔۔۔۔۔

جاوید کی زبان سے جملہ تو پھسل گیا لیکن کنواں جیسے پاتال میں بدل گیا۔

نشے کے خمار میں ذلت کی کھٹاس گھلنے لگی۔۔

جاوید نے شیر کے پنجوں میں آئی ہوئی ہرنی کی سی نظروں سے ہوا میں جھومتی شازیہ کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا، چپ ہو جا رنڈی خدا کے لیے چپ ہو جا یا مجھ سے دور ہو جا۔۔۔۔۔ یا تو میرے دماغ کی نسیں پھاڑ دے گی یا پھر ‍ مجھے میری نظر میں ہی۔۔۔۔

شازیہ نے نیچے لیٹے ہوئے جاوید پر ایک ذلت آمیز نگاہ ڈالی اور مزید جارحانہ  انداز اپنا لیا۔

پلائی کی دیوار پر لٹکی بندوق بیڈ کے ہچکولوں سے نیچے گری اور پرانی لکڑی کا دستہ درمیان سے دو ٹکڑے ہو گیا۔

شازیہ طلاق کا خوف جاوید کے سینے پر تھوک کر اُسے ہاتھ سے ملتے ہوئے نشے میں بُڑ بُڑائی، تیری ماں کی۔۔۔۔۔، رنڈی کے بچے، پہلے ہی عقل کو ہاتھ۔ مارنا چاہیے نا۔ بعد میں ہاتھ جوڑنے کا کیا فائدہ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.