اَن کہی فریاد
جمالِ ادب و شہرِ فنون

اَن کہی فریاد

سکینہ نے روتے ہوئے دربار کو چھوڑ دیا، بادشاہ کو یہ عمل ہر گز پسند نہ آیا۔ اِس سارے معاملے کے بعد بادشاہ کی خوشی کا وہ عالَم نہ تھا جو سکینہ کی سکینہ کے گاؤں […]

Iftikhar Baloch
جمالِ ادب و شہرِ فنون

رکشا ڈرائیور 

اسی وقت سڑک سے ایک تیز رفتار گاڑی زناٹے سے گزری۔ ایسی چپ میں جس کی آواز نے کمپنی، دفتر، خواجہ صاحب اور ندا کو ہوا میں تحلیل کردیا اور رکشا ڈرائیور راشد رہ گیا۔ […]

Hussain Mirza
جمالِ ادب و شہرِ فنون

شہر میں میلہ

غصہ اُس کے سخت الفاظ اور کڑک دار لہجے میں مُنتقل ہو گیا۔ ایک تجسس بھری آواز کے ساتھ اُس نے امجد سے پوچھا، “تم نے میرے بارے میں کیا لکھا ہے؟ شہر میں میلہ” […]

Naseer Ahmed, the writer
جمالِ ادب و شہرِ فنون

کیرولین جنگل میں

کیرولین جنگل میں (بَہ نام  نریندر مودی) از، نصیر احمد  شب سیاہ میں گم کردہ راہ کیرولین ایک گھنے جھنڈ میں شمعوں کی طرح  روشن اپنی آنکھوں کی مدد سے کسی رستے کے نشانات ڈھونڈ […]

آتشیں بلاؤز
جمالِ ادب و شہرِ فنون

آتشیں بلاؤز 

آتشیں بلاؤز  کہانی از، نعیم بیگ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم چھوٹے سے قصبے کی گندی سی گلی میں کرایے کے ایک کمرے میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دن گزار رہے […]

سارہ
خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

سارہ

سارہ کہانی از، نادیہ عنبر لودھی شام کے ڈھلتے منظر نامے سے چند امید کے جگنو چننا کسے مرغوب نہیں ہے۔ لیکن تنہائی اس کے قدموں میں حائل تھی۔ اس کا نام سارہ تھا۔ عام […]

چُنی ایک افسانہ ایک کہانی
مصنف اور تصنیف و تالیف: روزنِ تبصرۂِ کُتب

چُنی ایک افسانہ ایک کہانی

چُنی ایک افسانہ ایک کہانی تبصرۂِ کتاب از، نوشین قمر  سائرہ اقبال لکھتی ہیں: ”حقیقت لکھنا بھی آسان ہے اور پڑھنا بھی، مشکل ہے تو بس تسلیم کرنا… ۔“ ان ہی تمام تر حقیقتوں میں […]

بھوک کی کتیا
جمالِ ادب و شہرِ فنون

بھوک کی کتیا

بھوک کی کتیا کہانی از، عرشی یاسین “لے یہ کھا لے،” مَلکی نے کیلے کا چھلکا اپنے بچے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ اس وقت بچے کی بھوک مٹانے کے لیے اُس کے پاس کچھ […]

Zaigham Raza
جمالِ ادب و شہرِ فنون

دور کا سفر

دور کا سفر کہانی از، ضیغم رضا مجھے لگا کہ روزن سے چھن کر نبیلہ پہ پڑتی ہوئی چاندنی کی کرنیں اسے اشارے کر رہی ہیں؛ جنہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رد کر رہی […]

دہلیز کے پار
جمالِ ادب و شہرِ فنون

دہلیز کے پار

اس دور کے مہذب غلاموں کے مہذب اور شائستہ نام ہیں یہ۔۔۔ مقدس رشتوں کے نام پر رو ز میری حق تلفی ہو گی۔ وہ ڈگری ہولڈر جاہل روز میرا گلا گھونٹے گا۔ اس سے بہتر ہے […]