اے مولا ساہنوں کرپٹ حکم ران عطا کریسو

Y2R Yasser Chattha, the writer

اے مولا ساہنوں کرپٹ حکم ران عطا کریسو

از، یاسر چٹھہ 

اے پروردگار ہماری حکومت کو تھوڑا کرپٹ فرما دیجیے؛ یہ کچھ کھائے پِیے اور ہماری جان کی کچھ خلاصی ہو۔

اور اب عالَم یہ ہے کہ کھاتی پیتی ہے کچھ نہیں، (شاید سونگھتی ہو، غائب کے صیغوں کا تُو ہی جانن کار ہو) پر گلاس پہ گلاس توڑتی جا رہی ہے۔

اور مسئلہ یہ بھی نہیں کہ گلاس ختم ہو جائیں گے، مسئلہ یہ ہے کہ اب وہ گلاس بارہ آنے کے نہیں رہے۔

نِگوڑی بات اربوں کھربوں تک پہنچ گئی ہے۔ (اور پاکیزگی کا بخار ہے کہ 105 ڈگری سے بھی اوپر چڑھا جاتا ہے۔)

لہٰذا، اے پروردگارِ دو جہاں، مع دو نہیں ایک پاکستان، اور دیگر نا معلوم جہانوں کے مالک ہماری حکومت کو تھوڑا سا، بس ایویں کتری جیا کرپٹ کر دیجیے، نئیں تان اسِیں مر جاساں….

ٹھیک ہے مولا، ہمیں نیا پاکستان بنانے کا شوق ہوا تھا؛ شوق تھا، کسی ظالم نے کہا تھا، شوق دا کیہڑا مُل ہوندا۔

بس ہم اُسی کے کہنے پر ایک بار پھر لگ گئے، وہ ہے ہی ایسا زور دار کہ نہ اس پر ارٹیکل 62 لگتا ہے، نا آرٹیکل 63۔ وہ جو مارتا بھی خود ہے، اور چھانویں بھی خود لیٹ جاتا ہے۔ (چھانویں کہ جگہ آٹو کریکٹ سے چھاؤنی آیا تھا، میں نے فوراً حذف کر دیا) اور بہت توسیع سے بہت پیار کرتا ہے۔

مولا، تیرے گُنہ گار بندے ہیں، اساں جھلے، ساڈے پردے رکھ، ساڈی حکومت کُوں تھوڑا کرپٹ کر گِھن۔

پسِ پُشتِ تحریر:

Debt, liabilities mount to Rs. 40.2 trillion

by, Shahbaz Rana at Tribune.com.pk

… Pakistan’s debt and liabilities have dangerously exceeded the size of its economy and peaked to a record Rs. 40.2 trillion at the end of the last fiscal year – an addition of a whopping Rs10.3 trillion in a single year.

The Rs. 40.2 trillion total debt and liabilities were equal to 104.3% of the Gross Domestic Product (GDP), reported the State Bank of Pakistan (SBP) on Friday.

بنگالی، پاکستانی، امریکی اور جانے کون کون 

“بی بی سی (BBC)  نے 2004 میں بنگلہ دیش اور ہندوستان سمیت پوری دنیا میں رہنے والے بنگالیوں کے ووٹوں (Opinion Poll) کی بنیاد پر تاریخ کے عظیم ترین بنگالیوں کی فہرست شائع کی۔

اس فہرست کے مطابق دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بنگالیوں کی رائے میں شیخ مجیب الرحمان تاریخ کے عظیم ترین بنگالی ہیں۔

شیخ مجیب نامی غدار نے اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آنے والے رابندر ناتھ ٹیگور سے دو گنا زیادہ ووٹ لیے۔

جب کہ شیرِ بنگال اے کے فضل حق نے چوتھی،

سبھاش چندر بوس نے پانچویں،

مولانا بھاشانی نے آٹھویں،

پروفیسر امرتا سین نے چودھویں،

اور سابق وزیرِ اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی نے انیسویں پوزیشن حاصل کی۔”

یہ اقتباس بھائی حماد نجیب کی یاد داشت کا شاخسانہ ہے (… شاخسانہ… لطف کے لیے یہ اسمِ صفت برتا ہے، کیا کریں لوگ زبانوں اور مختلف قسموں کے مَتنوں کی تفہیم کے متعلق برائلر مرغیوں کا سُوپ پیتے ہیں،) یا تخلیقیت کی ہنر مندی، اس کو ان کی صداقت، امانت، دیانت، شرافت  اور پھر صداقت کے صدر بازار سے گزار کر ہم بھی وہاں ان کی فیس بک چار دیواری پر یہ تبصرہ کیے۔ (نقل لفِ ھٰذا ہے، اس پیرا گراف کے نیچے نشاناتِ اقتباس میں۔)

بھائی صاحب کا اقتباس factual statement کا درجہ رکھتا ہے، ہماری محض رائے ہے۔ یوں تو حقائق کا کوئی انتخاب بھی رائے کی forensics اور traces (کلچرل سٹڈیز کے ہمہ دان اس کو مناسب انداز سے اداراک و فہم میں جگہ دے سکتے ہیں، خالص ادبی والے من بھاوت رنگ رلیاں مناتے رہیں، ساہنوں کیہ)

لوگ عمومی طور پر جن کو public sphere اور macho roles میں زیادہ دیکھتے ہیں،  وہ افراد ان کی پسندیدگی کے زیادہ حق دار ٹھہرتے ہیں۔

پاکستان میں سروے کرتے تو عین ممکن ہے لوگ ایوب خان، یا ضیاء، یا پھر راحیل شریف کو قبولیت دیتے۔ (یا پھر کسی عصری اوتار کو)

ہم جیسے معاشروں، بَل کہ، امریکی دائیں بازو کے سفید پرست بھی macho personalities کو پسند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تبھی ٹرمپ، مودی، عمران خان، طیب اردوان، قذافی، شاویز، احمدی نجاد یہ کہہ پاتے ہیں کہ یہ سب تمہارا بھرم ہے کاکا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔

بنگالی مبارک باد کے لائق ہیں کہ انہوں نے ٹیگور کو “قادیانی” قرار دے کر نوچ نہیں ڈالا۔

کشمیر اور چندہ بیٹری، مع نیا پاکستانی معاشی ٹریفک اشاریہ

یہ نیا پاکستان کی دن دُگنی، اور رات نہ جانے کتنے گُنی معاشی ترقی ہی ہے کہ کشمیر پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کے احتجاج کی تو ہدایت کر دی گئی، مگر چندہ مانگنے کی طرف سوچا بھی نا گیا۔ برہمن کہتے نا تھے کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ مگر تم پٹواری کہاں سمجھتے ہو۔

 ورنہ یہ تمہی تھے، یہ تمہارے ہی آباء تھے جنہوں نے زمانے کے سمندر سے گوہرِ فردا نکالا تھا۔ اور کَیا کِیا تھا:

صرف مُٹھی بھر میسیج…

… صرف 8000 پر دس دس روپے کے میسیج کر کے ڈیم تو ڈیم سمندر بھی بنا چھوڑے تھے۔

اور اب چَین سے نا صرف ایسی بانسری بَجا رہے ہیں کہ نِیرُو باجوہ تک شانت ہے، بَل کہ، اُس کے امرت میں

 نہا رہے ہیں،

وضو کر رہے ہیں،

اُسے گَٹ گَٹ پی رہے ہیں،

گلاس دھو رہے ہیں،

اور ہاتھ بھی دھو رہے ہیں۔

دو دُمی حرف، یعنی کہ پسِ نوشت:

جس کو سمجھ نہیں آتی جا کر اپنی بھینس چَرائے

And the postscript:

“Imagination was given to man to compensate him for what he is not; a sense of humor to console him for what he is.”

Francis Bacon

So not just smile but laugh, and laugh loudly being born.

Apologies for the gendered and reactionary pronouns, but they’re in a quotation.

About یاسرچٹھہ 155 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔