گو گیٹ اَیم، M.b.Q گو

سلمان حیدر
سلمان حیدر

گو گیٹ اَیم، M.b.Q گو

از، سلمان حیدر 

کہتے ہیں کہ سِنَہ 712 عیسوی میں ایک فیس بک پیج پر اپلوڈ ہونے والی ایک ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ “استغفراللہ، مرتد ہے تُو”، اور “جانے مسلمِ اُمّہ کی غیرت کب جاگے گی”، قسم کے ہزاروں کامنٹس اور سینکڑوں لائکس والی اس ویڈیو میں کچھ حجابی سسٹرز کو دکھایا گیا تها؛ یہ سسٹرز ایک بحری جہاز پر رسی سے بندھی ہوئی تهیں۔ ان کے اردگرد کچھ پائریٹس ماتھے پر تلک لگائے، اپنی ایک ایک آنکھ چمڑے کی پٹّی سے ڈهکے چاندی کے جام ہاتھ میں تھامے، شراب پیتے ہوئے ان حجابی سسٹرز پر ہنس رہے تهے۔

وہ پائریٹس اتنے خوش تهے کہ ان میں سے ایک کے سونے کا خول چڑھے دو دانت بهی کلوز اَپ میں صاف نظر آ رہے تهے۔

فلم کیا تهی امت مسلمہ کی غیرت کا جنازہ تهی جسے پی ٹی آئی کے کئی پیجز پر شیئر کیا گیا، اور ٹی ٹی پی کے پیجز نے اس کا ایک سکرین شاٹ کئی دن تک اپنا کور فوٹو بنائے رکها۔


مزید ملاحظہ کیجیے:

اردو کے پروفیسر حکومت پاکستان تشکیل دیتے ہیں  از، منزہ احتشام گوندل


پھیلتے پھیلتے وہ ویڈیو اتنی پھیلی کی کسی نے حجاج بن یوسف کے پیج پر شیئر کردی۔ حجاج نے جب یہ فلم دیکھی تو اس کا جذبۂِ ایمانی بیدار ہو گیا۔ انھوں نے فوراً خلیفۂِ وقت کو فلم میں ٹَیگ کیا اور محمد بن قاسم کو ٹویٹ کیا … go get ’em

محمد بن قاسم نے فوراً جوابی ٹویٹ میں on’t لکها اور اپنے گھوڑے کا مُنھ دیبل کی طرف کر کے اَینٹر پریس کر دیا … گھوڑے کے دیبل پہنچنے سے پہلے MbQ hits Deebal کا ہَیش ٹَیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہو چکا تها۔ MbQ … حجاج … اور آٹھویں صدی کی تحریکِ انصاف اور ٹی ٹی پی کے ٹویٹر اکاؤنٹس کے فورینزک تجزیے سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان حجابی سسٹرز کا کیا بنا۔ وہ MbQ کو ملیں، یا نہیں۔ اَیم بی کیُو دیبل سے ملتان کیا کرنے چلے گئے۔ پائریٹس کا کیا ہوا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بهی معلوم نہیں ہو سکا کہ اس ویڈیو کو حجاج کے پیج پر کس نے شئیر کیا تها۔

لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کاش کوئی حجاج اور ایم بی کیُو ہوتا تو کم سے کم یورپ کی حجابی سسٹرز کی پکار سن کر ایک ٹویٹ تو کرتا … گو گَیٹ اَیم go get ’em… بُھوتنی کے۔

About سلمان حیدر 9 Articles
سلمان حیدرفاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں؛ با معنی اور جرات اظہار سے تابندہ شاعری کرتے ہیں؛ سماجی اورتنقیدی شعور سے بہرہ ور روشن خیال اور ترقی پسند آدرشوں کے حامل انسان ہیں۔ اس سے پہلے ڈان اردو کے لئے بلاگز لکھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقید ڈاٹ آرگ کے اردو سیکشن کے مدیر ہیں- "تھیئٹر والے' کے نام سے ایک سنجیدہ تھیئٹر گروپ کا اہم حصہ ہیں۔ اعلی درجے کی سماجی و سیاسی طنز ان کی تخصیص ہے۔