ایک راہیِ بیزار کا پبلک ٹرانسپورٹ کا suffer نامہ

پبلک ٹرانسپورٹ کا suffer نامہ
Illustration courtesy: Dawn.com

ایک راہیِ بیزار کا پبلک ٹرانسپورٹ کا suffer نامہ

از، شہریار خان

کوئی دو برس پہلے جب ہم گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور ساتھ ہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی دشت پیمائی کے ابتدائی ادوار بھی درپیش تھے تو ان دنوں اکثر اٹک سے راولپنڈی تک روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کی آزمائش سے گزرنا پڑتا تھا۔ فیض صاحب نے کوئے یار سے سُوئے دار تک چلنے کا ذکر تو کیا لیکن ان دونوں مقامات کے بیچ میں مسافر پر کیا گزرتی ہے، یہ ذکر سِرے ہی سے گول کر گئے۔

تھکن اور بیزاری کے الم میں جب ہم نوا مسافروں کاغم بھی شا مل ہو جائے تو ان دو شرابوں کے ملنے سے رندان سفر پہ جو گزرنی چاہیے وہ ہم پہ بھی گزری، اور خوب گزری۔ ان آوارہ دنوں کے کچھ مشاہدات اور تجربات تفننِ طبع کے لیے پیش خدمت ہیں لیکن ساتھ ہی ایک پیغام دینا بھی مقصود ہے جس کا ذکر آخر میں آئے گا۔

اٹک سے راولپنڈی تک کا سفر تقریباً دو گھنٹے کا ہے، لیکن یہ دو گھنٹے دو صدیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اگر آپ کے ہمراہی اس قسم کے ہوں جیسا کہ ہم بیان کرنے چلے ہیں۔ آئیے ہم آپ کی ملاقات کچھ ایسے مسافران سے کرائیں۔

پہلی قسم مسافروں کہ وہ ہے جو آپ کی ساتھ والی نشست پہ براجمان ہوتے ہی یہ فرض کر لیتی ہے کہ آپ کے ساتھ ان کا جنم جنم کا رشتہ ہے جس کا اظہار وہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ فوراً ہی اپنا بازو آپ کے کندھوں کے گرد حمائل کرلیتے ہیں اور کچھ اتنے قریب سے ہو جاتے ہیں کہ یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ گویا وہ ہمارے یا ہم ان کے ’وہ‘ ہوں۔ اگر آپ کا تعلق انسانوں کے اس بدذوق اور بد تہذیب گروہ سے ہے جو قربت کے تعلقات میں احتیاط کا قائل ہے اور لطیف انسانی جذبات پر کچھ زیادہ یقین نہیں رکھتا اور آپ ان کو یہ یاد دہانی کرانے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ پہلی ملاقات میں ایسی بے تکلفی کے اظہار پہ ’لوکی بھیڑے شک کرن گے‘ تو وہ اس خاوند کی سی ملامت آمیز نظروں سے آپ کی جانب دیکھیں گے جس کی زوجہ نے انہیں حق زوجیت سے انکار کر دیا ہو۔

اس کے بعد آپ کے پاس کوئی اور صورت نہیں بچتی سوائے اس کے کہ آپ کھسیانے ہو کر نگاہیں نیچے کر کے اپنا باقی سفر طے کریں۔ ایک روز ایک خان صاحب ہم سے پچھلی نشست پہ آن براجمان ہوئے اور چھوٹتے ہی اپنے بازو ہمارے کندھوں پر رکھ دیے۔ ہم نے بہتیرا پیچھے مڑ مڑ دیکھا۔ کنکھیوں سے اشارے کیے کہ شاید موصوف سمجھ جائیں کہ ہم تنگ ہو رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ ہماری قوم بجز فحش اشارے کے کوئی اشارہ سمجھ لے۔ آخر ہمیں اپنے مُنھ کہنا ہی پڑا۔ جناب تلملا ہی تو اٹھے۔ فرمانے لگے۔ تم کوئی لڑکی ہو؟ ہم نے ویسے ہی شک دور کرنے کے لیے اپنی طرف دیکھا اور پھر چپکے ہو کے بیٹھا کیے کہ اور کوئی چارا نہ تھا۔

راہروانِ کُوچۂِ دلبر کی ایک دوسری قسم وہ ہے جو گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنا آلہ صوت خراش یعنی موبائل باہر نکال لیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس نظریہ پر یقین رکھتے ہیں کہ سفر کے یہ دو گھنٹے خاموش بیٹھ کر ضائع کرنے کی بجائے وہ کیوں نہ اپنے احباب کا حال احوال ہی دریافت کر لیں۔ چنانچہ وہ گاڑی کے روانہ ہوتے ہی اپنے موبائل کی رابطہ فہرست میں جو نمبر بھی پہلے نظر آئے اسے ڈائل کرکے گفتگو شروع کر دیں گے۔

اگر آپ کی ساتھ والی نشست پر ایسا کوئی ڈائیلر بیٹھ جائے تو الامان الحفیظ۔ وہ ان دو گھنٹوں میں اپنے تمام احباب سے حال احوال پوچھیں گے اور ان کی سمع خراشی سے آپ پہ کیا گزرتی ہے یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایک دفعہ ایک موصوف جو غالباً کسی ٹرک پہ پبلک ریلیشنز آفیسر یا دوسرے لفظوں میں کنڈکٹر کے عہدے پر تعینات تھے، ہمارے ساتھ آن بیٹھے۔گاڑی کے روانہ ہوتے ہی انہوں نے اپنے ہم پیشہ افراد کو کال کرنا شروع کر دی۔ ان کی گفتگو کچھ اس قسم کی تھی۔

’ہیلو‘

ہاں، جہانگیریا، توں کتھے ویں؟‘

ماں ٹھیک آں، توں سنڑا؟

استاد ٹھیک اے؟‘

(کال آف کرنے کے بعد ایک اور نمبر ڈائل)

’اوئے شیدے استاد ناں کی حال اے؟‘

سنڑا نویں ٹیر کیجے نوں؟‘

ساڈی گڈی پنڈی اے‘

کمانیڑاں نا کم کرانے پے آں‘

ان موصوف نے اسی قسم کی گفتگو مزید دو گھنٹے جاری رکھی اور ہماری روہ کیفیت تھی کہ غالب کے قفس کی طرح اسیر تو ہم تھے لیکن یقین مانیں کہ آرام میں بالکل بھی نہیں تھے۔

ایک اور دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم سے اگلی نشست پر ایک فیملی تشریف رکھتی تھی جو تین خواتین اور ایک حضرت پر مشتمل تھی۔ ان حضرت نے بھی سفر کے آغاز سے ہی اپنے کسی رشتے دار سے موبائل پر رابطہ قائم کر لیا۔گفتگو کا موضوع ان کی کسی عزیزہ کا طلاق کا معاملہ تھا جس پہ اگلے دو گھنٹے انہوں نے سیر حاصل بحث کی۔ گفتگو کیا تھی خاندانی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور گٹھ جوڑ کی ایک ہوشربا داستان تھی جس میں انہوں نے خاندان کے ان تمام خواتین و حضرات کے کردار پر روشنی ڈالی جو اس طلاق کروانے کے بہیمانہ عمل میں شریک کار تھے۔

اٹک پہنچنے سے پہلے پہلے نہ صرف ہم ان کے خاندان کے تقریباً تمام افراد سے غائبانہ تعارف حاصل کر چکے تھے بلکہ ایک طرح سے اپنے آپ کو ان کے خاندان کا ہی ایک فرد سمجھنے لگے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اس دو دلوں کے جدا ہونے کے عمل کو روکنے کے لیے ہم کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ایک اور دن کا واقعہ ہے کہ ہم اپنے دوست عبدالقیوم خٹک کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھے تھے کہ ہمارے کانوں میں ہم سے پچھلی نشست پہ بیٹھے ایک نوجوان کی گفتگو پڑی۔ وہ نوجوان شکیل بدایونی کے الفاظ میں ’درد عشق سے جان بلب تھا۔’ ہم یہاں یہ ذکر کرتے چلیں کہ بیسویں صدی کے عاشقوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ان میں سے اکثر اکیسویں صدی کے عاشقوں کو درپیش نہیں۔ بیسویں صدی کے عاشق کچھ اتنی حسرت سے کہتے تھے:

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے

کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

صاحبو! اب تو نہ خط کی ضرورت، نہ نامہ بروں کا انتظار۔ اور نہ خط کے پکڑے جانے پر پٹائی کا ڈر۔ اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی نے تہذیب کے ارتقاء میں کوئی کردار ادا کیا ہو یا نہیں، یہ ضرور کیا ہے کہ اب عاشق نہ صرف یہ کہ چوبیس گھنٹے اپنے معشوق سے رابطے میں ہیں بلکہ دوسروں کی موجودگی میں بھی

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

یہ بھی ملاحظہ کیجیے: سٹیٹس اپڈیٹ تو ہے نا

ہاں تو ہم ذکر کر رہے تھے ان حضرت کا جو ہم سے پچھلی نشست پہ بیٹھے تھے اور درد عشق نے انہیں دوسرے مسافرین و ما فیھا سے بے خبر کر رکھا تھا۔ سفر کے شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنی محبوبہ دلنواز کو کال کر دی۔ ابھی انہوں نے حال دل اور حالت دل کا احوال حوالہ الفاظ کرنے کاحیلہ کیا ہی تھا کہ اُدھر سے فون بند ہوگیا۔ موصوف نے چند گھڑیاں انتظار کی ٖ گزاریں اور پھر کال کی۔ پھر وہی ہوا۔ دل مضطر کا اضطراب ابھی مضطرب ہی تھا کہ رابطہ پھر منقطع ہو گیا۔

تیسری بار بھی ’بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی‘ اور یہ حادثہ باربار ہوتا رہا۔ اس پہ ہمارے دوست قیوم صاحب نے تبصرہ کیا کہ چونکہ جمعے کی نماز کا وقت ہے تو غالباً معشوقہ محترمہ کے کوئی بزرگ جنہوں نے نماز کے لیے جانا ہو گا وہ بار بار آکے دخل در نا معقولات کرتے ہوں گے۔ جیسے ہی بات کا آغاز ہوتا ہو گا تو وہ آجاتے ہوں گے کہ ’لوٹا کدھر ہے۔‘ موصوفہ فون فوراً بند کرکے انہیں لوٹا دے کے لوٹا دیتی ہوں گی۔ پھر جب لوٹ کے دوبارہ اس ٹوٹ بٹوٹ جو ان کے عشق میں یہاں لوٹ پوٹ ہو رہا ہے، کی کال موصول کرتی ہوں گی تو وہی بزرگ دوبارہ آ رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوں گے کہ ’میری شلوار میں آزار بند ڈال دو۔‘ اور فون پھر بند۔

اس دن ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ گرچہ اکیسویں صدی نے عاشقوں کو کافی آسانیاں فراہم کیں لیکن دشتِ وفا کے سفر میں کچھ خار ہنوز باقی ہیں۔ (یہاں ان لوٹے والے بزرگ کی خار سے تشبیہہ ہر گز مقصود نہیں)۔

پبلک ٹرانسپورٹ پر جن خواتین وحضرات کو اکژ سفر کرنے کا اتفاق کا ہوتا ہے وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہماری جان توان ڈرائیور حضرات کے رحم و کرم پر ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ ہمارے اخلاق و ایمان کا سٹیئرنگ بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یعنی اس دنیاوی سفر کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے آخری سفر کی ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پہ لینا ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اپنے مکتبہ فکر کے علماء کی آڈیو آن کر دیں گے۔ اب چاہے آپ کسی دوسرے مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے ہوں، یا آپ کا اس وقت اس وعظ کو سننے کا کوئی موڈ نہیں، آپ کو سننا پڑے گا اور اگر آپ اعتراض کرنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں تو ڈرائیور موصوف کی مذمتی گفتگو سننے کے علاوہ دوسرے مسافروں کی اس نگاہ ملامت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جس میں آپ کے مسلمان ہونے سے لے کر آپ کے والدین کی تربیت اور آپ کی بخشش تک کے تمام عوامل پر شک کا اظہار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوگا۔

مختصراً یہ کہ مولانا صاحب کو سمع خراشی کی اجازت دینے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ ایک دو دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ کچھ مسافروں نے استاد جی کی منت سماجت کی کہ ان کا پیپر ہے اور وہ پڑھنا چاہتے ہیں اور براہ مہربانی اگر وہ یہ آڈیو آف کر دیں تو اس پہ استاد فرمانے لگے کہ آخرت کے امتحان کی بجائے تم لوگوں کو اس دنیا کے امتحان کی پڑی ہے؟ او وہ بیچارے اپنا سا مُنھ لے کے رہ گئے۔

ویسے وہ ڈرائیونگ ایسی کررہے تھے کہ یوں لگتا تھا کہ وہ امتحان بھی زیادہ دور نہیں بلکہ غالب امکان تھا کہ وہ طالب علم دنیاوی امتحان سے پہلے آخرت کے کمرہ امتحان تک پہنچا دیے جاتے۔ ان ڈرائیور حضرات کی دیکھا دیکھی کچھ مسافر بھی ثواب دارین کے چکر میں اپنے موبائل پر اونچی آواز میں نعت یا تلاوت لگا لیتے ہیں کہ سفر کے دوران کچھ آخرت کا سامان بھی اکٹھا ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے۔

ایک دوسرا مکتبہ فکر ڈرائیور اور مسافروں کااس کے متضاد رویے کا قائل ہے۔ وہ مسافروں کو زبردستی موسیقی سنانا چاہتا ہے چاہے وہ سنننا چاہیں یا نہیں۔ وہ اس چیز کی کوئی پروا نہیں کریں گے کہ گاڑی میں بزرگ یا خواتین بیٹھی ہیں اور اپنی ڈفلی اور اپنا راگ لگا کے بیٹھے رہیں گے۔ ان کو ٹوکنے کے بھی کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے۔

ان مشاہدات کو آپ کے گوش گزار کرنے کا بنیادی مقصد تو زندگی کے یک رنگی کینوس پر چند رنگوں کے چھینٹے پھینکنا تھا، لیکن ایک سنجیدہ بات بھی ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ارسطو نے اپنی کتاب “Poetics” جو شاعری اور ڈراما کے اصول و ضوابط پر ایک بحث ہے، میں ڈرامے کے کرداروں کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک خصوصیت “appropriateness” ہے۔ اس کا ترجمہ ’مناسبیت‘ کروں گا۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ڈرامائی کردار کا برتاؤ اس کے معاشرتی رتبے اور حیثیت کے مطا بق ہونا چاہیے۔ میں اس میں وقت اور جگہ کا اضافہ کرنا چاہوں گا اور یہ کہوں گا کہ ہر انسان کا معاشرتی برتاؤ اس کی معاشرتی حیثیت، وقت اور جگہ کے مطابق ہونا چاہیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم میں اس چیز کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ ہماری بالکل تربیت نہیں کی جاتی کہ ہمیں کس وقت اور کس مقام پر کیسا رویہ اپنانا چاہیے جو ہماری معاشرتی حیثیت کے مطابق ہو۔

ان واقعات سے جو راقم نے اوپر بیان کیے ہیں آپ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم لوگوں کو اس چیز کا اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ہم کہاں بیٹھے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے لوگ مختلف طبقۂِ فکر، مذاہب، فرقوں اور سوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر کوئی اپنی کسی پریشانی اور مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔ کوئی خود بیمار ہے، یا کسی بیمار کی عیادت کو جا رہا ہے؛ یہ بھی ممکن ہے کوئی کسی کے انتقال پر جا رہا ہو۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو اپنے فرقے کے عُلَماء کی تقاریر زبردستی سنانا یا موسیقی سناناایک انتہائی نامناسب فعل ہے۔ تلاوت کے لیے بھی مناسب جگہ اور ذہنی خشوع وخضوع کی ضرورت ہوتی ہے اور سفر کرتے ہوتے اس کے تقاضے نہیں نباھے جا سکتے۔

سفر کے دوران آپ کے کسی رویے یا حرکت سے دوسرے لوگوں کو تکلیف تو نہیں ہو رہی، یہ خیال ذہن میں ہونا چاہیے۔ جب کوئی فون پر گفتگو کررہا ہو تو اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ ایک عوامی منطقے کی مقام و جگہ ہے اور یہاں اپنے گھریلو اور ذاتی مسائل زیر بحث لانا مناسب نہیں۔ راقم کا خیال ہے کے والدین اور اساتذہ کو بچوں کی یہ تربیت کرنا چاہیے کہ انہیں کس وقت اور کس مقام پر کیا رویہ اپنانا چاہیے، تب ہی ہم کوئی تھوڑے مہذب معاشرتی حیوان بن سکیں گے۔ اور، ہاں بصورتِ دیگر ہمیں اس گئے گزرے نا خالص دور میں خالص حیوان کے چُنیدہ مرتبے سے کوئی اور ہر گز  نیچے نہیں لا سکتا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.