واہ رے حب الوطنی: بَر قرار باقی اور قرار واقعی حب الوطنی

Yasser Chattha

واہ رے حب الوطنی: بَر قرار باقی اور قرار واقعی حب الوطنی

بس اس حب الوطنی بابت اتنی ہی بات سمجھ آئی ہے۔

بڑا خوب جذبہ ہے۔ کچھ کے لیے یہ بس حسابی رکعتوں، گنتی کی تسبیحوں، کیلکولیٹروں پر شماریاتی ذکروں سے پروردگار کو خدا ماننے جیسی … (نقطوں پر بات چھوڑ رہا ہوں… لفظ چپ جو سادھ لیتے ہیں … ہ ہ ہ ہ ہہ ہہ ہممم …)

اور کچھ کے لیے یہ نا صرف ایک زندگی ہوتی ہے، بَل کہ زندگی کا مقصد اور خمیر بھی، اور اس کیفیت میں میں خود کو غرق کر دینے والی دین داری جیسی …

ایک اور ثنویت، binary، میں دیکھیں تو ایک pace maker ہوتی ہے، اور دوسری قلب ہوتی ہے۔

(میں اپنے آپ سے، اپنے اندر کے انصاف کے بھرم سے معذرت بھی کرتا ہوں کہ اپنی کسی بات کو، اپنے کسی جائزے کو، اپنی کسی کیفیت کو، اپنے اندر اور اپنے آس کے کسی مظہر کو ثنویت، binary، کے باٹوں میں تول رہا ہوں؛ ساتھ ہی ان سے معذرت کہ جنہیں میری اس تردیدِ دعویٰ سے، اس وضاحت سے، یا اس سے وابستہ اپنی فکر و نظر میں کبھی سوال و جواب ہی نہیں رہا… معذرت احباب، معذرت… ہم اپنے آپ سے مراقبے میں رہنے والوں کچھ دکھ بڑے عجیب ہوتے ہیں … ایسے دکھ اور رنج جو ہم قلب اور آنکھ میں جھیلتے جھیلتے جانے کوئلہ ہوتے ہیں، راکھ ہوتے ہیں،.. جانے کون سی صورت ہوتے ہیں۔ ہم ہوتے بھی ہیں، یا محض واہمہ ہوتے ہیں…؟ معذرت بابُو، معذرت قابلِ صد احترام، معذرت…)

حب الوطنی کی دو قسمیں ہوتی ہیں:

1. حب الوطنی، تنخواہ دار حب الوطنی،
مراعات،
پلاٹوں سے سجی دھجی حب الوطنی،
شاہی ایوارڈوں کی خِلعتوں میں، چوغوں میں ملفوف حب الوطنی …

اس حب الوطنی سے با مشرف زیادہ تر لوگ جُگ جُگ جیتے ہیں، معزز کہلاتے ہیں، معتدل باور ہوتے ہیں … and the time goes by

الغرض، یہ بَر قرار باقی حب الوطنی ہوتی ہے۔

2. دوسری حب الوطنی، اپنے نام سے ظاہر کرتی ہے کہ دوسرے درجے کی حب الوطنی ہوتی ہے:

یہ بد نامی سہتی ہے،

مراعات سے مُنھ موڑتی ہے، یا مراعات اس سے دور بھاگتی ہیں،

چیتھڑوں میں بستی ہے، اس لیے اِس سے سماجی شُرَفاء دور کا رستہ لیتے ہیں

یہ پاگل پن کہلاتی ہے،

یہ مرنے کو جینے پر فوقیت دیتی ہے،

یہ ہم احساسی میں آفاقی نظر پیدا کرنے کی کوشش کو آدرش کرتی ہے …

ایسی حب الوطنی نبھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ نا مالِ غنیمت، نا کشور کشائی …

الغرض، یہ قرار واقعی حب الوطنی ہوتی ہے!

اب منتخب کیجیے، اپنی ساری کم ہمتیوں کے شعور کے ساتھ منتخب کیجیے کہ کون سا سودا کرنا ہے:

قلب کا، یا پھر غلب کا …

About یاسرچٹھہ 201 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔