یونیورسٹیاں اور پانامہ کہانیاں

یونیورسٹیاں اور پانامہ کہانیاں
علامتی تصویر

یونیورسٹیاں اور پانامہ کہانیاں

نعیم مسعود

یقین کیجیے گا پچھلے تین چار ماہ سے ماحول کے کمال اور جمال کچھ یوں ہیں کہ ”پانامہ، پانامہ کُوک دی، میں آپے پانامہ ہوئی“ کہیں سے یہ آواز نہیں آئی کہ ”میں وی جھوک رانجھن دی جانا، نال میرے کوئی چلے“ اب تو یہی دعا ہے کہ جو بھی فیصلہ آنا ہے، بس جلدی آ جائے۔ جس کو بھی ٹھنڈ پڑنی ہے پڑے اور جس کی چھاتی پر مونگ دَلی جانی ہے، بس دَلی جائے؟

یوں لگ رہا ہے وقت جیسے تھم سا گیا ہو، ایسے جیسے واقعی دائروں کا سفر ہے، یا حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ، کبھی کبھی تو لگتا ہے نیازی صاحب نے درست ہی کہا تھا:

مُنیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اپنی عادت ہے کہ وائس چانسلرز اور تعلیم سے ہلکا پھلکا دل پشوری کرتے رہتے ہیں اور اعلانیہ کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت اور انقلاب لیبارٹریز اور کلاس رومز سے نہ آئے تو پھر کبھی نہیں آئیں گے، اگر آیا بھی تو ٹھہرے گا نہیں۔ سطحی انقلاب مثبت تبدیلی رکھنے کے بجائے سائیڈ اِفیکٹ زیادہ رکھتا ہے اور ارتقاء سے آنے والی تبدیلی اس قدر سست ہوتی ہے کہ پسماندہ اقوام سو سال بعد پانے والی میٹرو کو آٹھواں عجوبہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

میڈیا کے حامل شہروں میں لوڈشیڈنگ کی کمی اور سڑکوں کے جال کو لوگ پیرس پیراہن سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ لوگ جو آج بھی اسپرین، دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کو ترستے ہیں، ان کی آواز آج بھی اشرافیہ اور سیاستدانوں کے شور میں دب جاتی ہے یا دم توڑ دیتی ہے۔

اگر میں کہوں کہ مظلوم، محکوم اور مزدور کی آواز میڈیا کے شور میں بھی دب جاتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ صحت اور تعلیم کی بات کرنے کے لیے اور حصول انصاف کے رَستے میں رکاوٹوں کے تذکرے کے لئے ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہے۔

ہم سب پاپولر مسئلہ، پاپولر کیس، پاپولر خبر اور پاپولر رائے کے متلاشی، سامع یا داعی ہوتے ہیں اور معاشرتی و سماجی اشاروں اور آئینوں کو دیکھنا ہی بھول جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پھر کبھی حادثے جنم لیتے ہیں اور کہیں سانحے برپا ہو جاتے ہیں۔ اس پر وہ ایک شعر یاد آگیا جو کل ہی ہمیں پی پی پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات چوہدری منظور نے بھیجا:

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ہفتہ ہی ہوا ہوگا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے ”فروغِ امن میں میڈیا کردار“ نام کے سیمینار میں مدعُو کیا۔ جن لوگوں نے تلخ حقائق سامنے رکھنے تھے، انہوں نے کڑوے سچ کی طرح رکھ دیے۔ ایک دو لوگ جو میڈیا پرسن کم اور حکومتی ترجمان زیادہ تھے، انہوں نے اپنی طوطا مینا کی کہانی جو سنانی ہوتی ہے، وہ سنائی۔ سرکاری آفیسرز کی بھی مجبوری ہوتی ہے انہوں نے اپنی سرکار چلانے کے لیے سرکاری ترجمانوں کی میزبانی کا اعزاز ضرور حاصل کرنا ہوتا ہے، سو وہ کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر بہرحال فکر انگیز نشست تھی، لیکن بات وہی ہے نا، تعلیم ہوگی تو امن ہوگا، سچ ہوگا تو امن ہوگا، قول و فعل میں تضاد ختم ہوگا تو امن ہوگا۔ استاد بڑا ہی استاد ہونے کے بجائے پروفیسر ہوگا، تو امن ہوگا۔ تعلیم فروشی کے بجائے ترسیل علم ہوگی تو امن ہوگا۔

قلم کی زبان حکومتی بولی کے بجائے جہادِ بالقلم رکھے گی تو امن ہوگا۔ یونیورسٹیوں سے پلیجرازم ختم ہوگا اور رشتے داروں اور یاروں کے بجائے قابل اور مستحق امیدواران بطورِ استاد بھرتی ہوں گے تو امن ہوگا۔ ریسرچ کے نام پر فراڈ کرنے اور دو نمبر جریدوں اور جرنلز میں دھڑا دھڑ ریسرچ چھاپنے کے بجائے اپنے شاگردوں پر کچھ توجہ دی جائے گی تو امن ہوگا۔

کم سن، نادان اور کم علم کی جگہ صاحبان کمال اور صاحبان علم وائس چانسلرز کو اگر سرچ کمیٹیاں اور وزرائے اعلیٰ مواقع دیں گے تو امن ہوگا۔ سیاسی یونیورسٹیوں کے قیام کے اعلانات کے بجائے حقیقی دانش گاہیں قائم ہوں گی تو امن ہوگا۔ یونیورسٹیاں جب کمیونٹی سنٹرز بنیں گی اور ان کے وجود سے جنم لینے والی روشنی کوچہ و بازار میں آئے گی تو امن ہوگا اور یہ میڈیا بھی سنسنی اور پاناموں و ڈراموں کے سنگ سنگ تعلیمی اہمیت و افادیت کو اپنی زبان اور شتحات قلم میں لائے گا تو فروغ امن کا باعث بنے گا ورنہ نہیں۔ بہرحال امید بھی رہنی چاہیے اور خواب بھی دیکھتے رہنا چاہیے۔ رَختِ سفر باندھیں گے تو منزل قدم چومے گی!

دو ہفتے قبل یونیورسٹی آف گجرات میں ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے ہونے والی ایک میٹنگ میں بیٹھنے کا موقع ملا تو اس میں مسلم لیگ ن کے ممبران اسمبلی اور مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی موجود تھے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ  شکر ہے کہ حاضرین نے ہائر ایجوکیشن ہی پر فوکس رکھا اور بلا وجہ پانامہ کا باب نہیں کھولا۔

ڈاکٹر ضیاءالقیوم (وائس چانسلر گجرات یونیورسٹی)، ڈاکٹر محمد علی شاہ (وائس چانسلر جی سی یو فیصل آباد)، ایم این اے جعفر اقبال، ایم پی اے عبدالرﺅف مغل (گوجرانوالہ)، ایم پی اے حاجی عمران ظفر، ایم پی اے میجر (ر) معین نواز وڑائچ، ایم پی اے نوابزادہ حیدرمہدی اور دیگر اکابرین اس پر متفق تھے کہ یونیورسٹیوں کو ریسرچ اور طلبہ کی تعلیم و تربیت مساوی رکھ کر جامعات کا حسن بحال رکھنا ہے اور سیاستدانوں کو سنڈیکیٹ میں سیاسیات کے بجائے تعلیمات کا سوچنا چاہیے!

میں سوچ رہا تھا کہ جس طرح پانامہ اثرات کے بعد خواجہ آصف کو وزیراعظم بنانے کا سوچا جارہا ہے، اگر وہ واقعی بن گئے تو کم از کم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین سیالکوٹ کی محرومیاں تو ختم ہوجائیں گی اور میں اگر کسی کو مبارک باد دوں گا تو وہ وی سی پروفیسر فرحت سلیمی ہوں گی۔ مجھے تو یونیورسٹی ہی کی سوجھی ہے، اب خواجہ صاحب جس طرح عمران خان کو اقتدار کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ”بلی کے خواب میں چھیچھڑے“، کہیں یونیورسٹی کا سوچنے پر مجھے بھی بلی اور چھیچھڑے نہ یاد کرا دیں۔

نام تو شاہد خاقان عباسی کا بھی آ رہا ہے، وہ بنے تو ہم کہیں گے کہ آزاد کشمیر اور کے پی کے کے سنگم پر مری میں ایک ٹیکنالوجی یونیورسٹی بنا دیں جس سے ایک تیر سے تین شکار ہوجائیں گے۔ کشمیر، کے پی کے اور پنجاب کے فائدے کے علاوہ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا قیام اور وہ بھی اعلیٰ محل وقوع میں۔

ارے نام تو خرم دستگیر اور احسن اقبال کے بھی آرہے ہیں لیکن احسن اقبال کئی یونیورسٹیوں کے کیمپس پہلے ہی لے جا چُکے ہیں اور نارووال میں پاکستان کا سب سے بڑا سپورٹس کمپلیکس بھی بن رہا ہے۔

نارووال کو پہلے ہی طلبہ اور سپورٹس مین امپورٹ کرانے پڑیں گے۔ مقدر دیکھیں کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم اپنی تحصیل گوجرخان کوسنوارا تو زمانے نے اسے بھی ”جرم“ قرار دے دیا اور گوجرخانی بھی ناخوش۔ ہم توکہتے ہیں کہ ایسے جرم ہر کہیں ہوں اور وزیراعظم بھی مخصوص گھروں کے علاوہ آئیں، لیکن پاناموں اور میموگیٹ سکینڈلوں سے نہیں، جمہوری طریقے سے۔ ہم جمہوری اور سیاسی طور پر پھر 1985ءمیں پہنچ گئے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔

خیر میرے دل میں پھریہ خیال آیا ہے کہ جس طرح چوہدری نثار علی خان پانامہ کیس مس ہینڈلنگ پر نالاں ہیں، کاش کبھی تمام وزرائے اعلیٰ سے بلیغ الرحمن اور احسن اقبال تک یا چوہدری نثار تک اور عمران خان و خورشید شاہ یونیورسٹیوں کی مس ہینڈلنگ پر بھی ایسے ہی ناراض دکھائی دیتے۔

بہرحال پنجاب آج بھی قدرے بہتر ہے۔ میں کبھی بگاڑ سے بچنے اور بناﺅ کے حصول کی خاطر وزیر تعلیم سید رضا علی گیلانی اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کیپٹن (ر) نسیم نواز کے حضور کالم کے بجائے خط لکھ دوں تو وہ میرٹ پر غور فرماتے ہیں، بس پنجاب ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین ایویں ہی ہیں!

”ادھر بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا“ کے پی کے کی یونیورسٹیوں کو دیکھا تو اک قطرہِ خون بھی نہ نکلا۔ پچھلے دنوں ہم نے پاکستان ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد سے التجا کی کہ کے پی کے یونیورسٹیوں کا دورہ کرنا ہے مگر وہاں کے وائس چانسلروں کا موڈ ہی نہ تھا۔

شاید ان کے پاس دکھانے اور بتانے کے لئے کچھ نہیں۔ پھرعمران خان، مشتاق غنی کس بات پر اِتراتے ہیں اور سابق ایچ ای سی چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن کیسے تعریفیں کرتے رہتے ہیں کہ کے پی کے نے انہیں وی سی سرچ کمیٹی میں ذمہ داری دے رکھی ہے؟

بڑا المیہ یہ ہے کہ ایوریج اسسٹنٹ پروفیسر ریگولر ٹائم اور اوور ٹائم سے کم از کم ڈیڑھ لاکھ ماہانہ گھر لے جاتا ہے۔ بیوی بھی پروفیسر ہو تو 3 لاکھ گیا۔ پھر وہ شکر کرنے کے بجائے متکبر ہو جاتا ہے اور طلبہ کو فوقیت نہیں دیتا۔ علاوہ بریں ریسرچ کے نام پر طلبہ سے اور دُور ہوجاتا ہے۔ لیکچر کی تیاری نہ پڑھانے میں محنت، اوپر سے کئی وی سی محض وی سی آر۔ جہاں قوم بننی تھی وہاں اب پیسے بنتے ہیں۔ یہی رہا تو یونیورسٹیاں بیورو کریٹس یا ریٹائرڈ جرنیل چلائیں گے۔ کیا ان پاناموں کے لئے بھی جے آئی ٹی؟


بشکریہ: نوائے وقت