منیر مؤمن کی نظمیں

منیر مؤمن کی نظمیں
منیر مؤمن

منیر مؤمن کی نظمیں

ترجمہ و تعارف از، رضوان فاخر

منیر مؤمن (9 مئی 1963) کا شمار بلوچی جدید ادب کے سر فہرست ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کے سات شعری مجموعے اور افسانوں کا ایک مجموعہ شایع ہو چکا ہے۔ منیر مؤمن بلوچی، فارسی اور اردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں۔

نظم                         

اس پنجرے میں بند جنگل میں

خاموشی کی یہ گٹھڑی

جو اس نے اپنی چونچ سے تھامی ہوئی ہے

اس میں تمہارا بھی حصہ ہے

وہی انگوٹھی

جو تمہیں اک دن راستے میں پڑی ملی

اس میں اس انتظار کی آنکھیں جاگتی ہیں

جو ایک رات چاند نے مجھ سے طلب کیا تھا

مجھے اندھیرے نے اپنی پناہ میں لے لیا

پھر تمہاری خواہش مجھے ڈھونڈتے ہوئے

میرے قریب سے گزر گئی

اور کل تک اسی خواہش کی چھاپ

میرے روح میں جاگتی تھی

تو اسے میں نے ایک پنجرہ بنا دیا

اور پنجرے نے ایک جنگل تخلیق کیا

پھر جب جنگل نے بات کرنا چاہی

تب تک میں خاموشیوں کی گٹھڑی بن چکا تھا

                     


مزید دیکھیے:  منیر نیازی کی شاعری میں تنہائی اور خوف کا مطالعہ  از، قمر الدین خورشید


نظم

سمندر

بادبانوں کی لکھی ہوئی کوئی گوائی ہے

اور زمیں

درختوں کی شادی میں

ہوا کا گنگنایا ہوا ایک گیت ہے

تم ہر رات

اس پہر کی آس میں جاگتی ہو

جب ہوا سو جائے

اور تم اپنی خواہشوں کو

پنچھی بنا کر اڑا دو

میں نے اپنے پیاس کا نسخہ پڑھتے ہوئے

اپنے چراغ نگل لیے ہیں

مگر میں اس بات سے آشنا ہوں

کہ جب بادباں جاگ جائیں

تو سمندر اپنی لہروں کو

جلا وطن کر دیتا ہے

تم بھی اس بات سے آشنا ہو

کہ جہاں پرند پرواز سے اکتا جائیں

وہاں زمین کی شروعات ہوتی ہے

              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظم

کل شب میں تنہا تھا

اور تنہائی جب دل میں اتر آتی ہے

تو رات اور بھی گہری ہو جاتی ہے

اور کل رات بہت اندھیرا تھا

اور تمہارے انتظار کی سحر تک

میں ماچس کی تیلیاں جلاتا رہا

آج پھر ایک رات درپیش ہے

اور ماچس میں تیلیاں بھی نہیں

ذرا نزدیک آؤ

کہ میں تمہارے رنگ اور جلوؤں کو

اپنے خالی ماچس کے ڈبے میں بھر لُوں

کہ رات بہت باقی ہے

اور تنہائی جب دل میں اتر آتی ہے

تو رات اور بھی اندھیری ہو جاتی ہے

                    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظم

           

زندگی ایک پیغام ہے

جسے موسم

دست بہ دست پہنچائے جا رہے ہیں

ہم نے نہ آہٹ بوئے

اور نہ چراغ اڑائے

یہ خواب سات راتوں کی مسافت طے کرتے ہوئے آ رہا ہے

میں آسمان پر

نہ کبوتر ڈھونڈتا ہوں

نہ ستارے

بس ایک موسم ڈھونڈتا ہوں

موسم میں اک خواب

خواب میں اک کھڑکی

اور کھڑکی میں تمہیں

         ۔۔۔۔۔۔۔

نظم

جہاں پر کسی سر گوشی کی گھاس نہیں اگتی

وہاں زندگی ایک شفاف عبادت بن جاتی ہے

کبھی کبھی تمہارا گماں

مجھے خود  سے فرار دیتا ہے

میں دور سے اپنا نظارہ کرتا ہوں

تو دیکھتا ہوں

کہ ہمارا شہر سجدے کے درمیان سو گیا ہے

اب نہ زمانہ اندر آ سکتا ہے

اور نہ ہم باہر جا سکتے ہیں

کوئی نہیں ہے

میں ہوں_____

اور تم ہو_______

اور زندگی کی شفاف عبادت ہے

جو شہر کی رگ رگ میں

کاریز کی طرح بہہ رہی ہے

                      —–

نظم

زمانہ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ایک ایسا خوب صورت گھر ہے

کہ لوگ باہر نکلنا بھول جاتے ہیں

زندگی۔۔۔۔۔۔

خدا کے بانٹے ہوئے موسموں میں سے

ایک موسم ہے

اور عشق۔۔۔۔۔۔۔

خدا کی بستی سے چرائی گئی ایک قندیل

مجھے بچپن کے اس چرائے ہوئے

 بیر کا ذائقہ یاد نہیں

مگر اس بیر کے چرانے کا ذائقہ

میری زندگی کی سب سے خوب صورت یاد ہے

میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں

تو ایسا لگتا ہے

کہ میں خدا کے باغ کے

ایک اونچے درخت پر

روشن بیر چرا رہا ہوں

             ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.