ہندوستانی ریاستی چناؤ کے اتار چڑھاؤ

حسین جاوید افروز
حسین جاوید افروز

ہندوستانی ریاستی چناؤ کے اتار چڑھاؤ

از، حسین جاوید افروز

۱۱دسمبر کو پانچ ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، میزورام اور تلنگانہ میں ہونے والے ودھان سبھا چناؤ کے نتائج سامنے آئے۔ جن کے نتیجے میں کانگرس نے ہندی بیلٹ کی تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں مودی برانڈ کو بری طرح مسترد کر دیا۔ یاد رہے 2014 میں یہی تین ریاستیں بھاجپا کی جیت کا اہم ستون بن کر سامنے آئی تھیں۔

یہ نریندرا مودی کے قومی سیاست میں سَر گرم ہونے کے بعد پہلا موقع ہے کہ ان کو کانگرس کے ہاتھوں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امت شاہ جو انتخابی سائنس کی حرکیات پر گہری نگاہ رکھنے والے گرو کے طور پر جانے جاتے ہیں ہیں، ان کی بھی تمام تر انتخابی حکمت عملیاں لرزہ براندام ہو کر رہ گئی ہیں۔

جب کہ میزو رام میں میزو رام نیشنل فرنٹ اور تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راؤ کی تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کامیابیوں نے بھی ثابت کر دیا کہ شمال مشرق اور جنوبی بھارت کی سیاست میں ریجنل پارٹیوں کا غلبہ ہی پایا جاتا ہے اور نئی دلی کی مسند پر چاہے بھاجپا براجمان ہو یا کانگرس راج کرے دونوں کے لیے ان علاقائی جماعتوں کی طاقت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

یہاں یہ نکتہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ان انتخابات کو 2019 میں ہونے والے لوک سبھا کے چناؤ کے حوالے سے ایک سیمی فائنل کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ اس طویل اور تھکا دینے والے انتخابی عمل میں راہول گاندھی نے 82 کے قریب ریلیاں کر کے خود کو عوام سے جوڑے رکھا اور یوں ایک کھلنڈرے اور بگڑے ولی عہد سمجھے جانے والے راہول گاندھی نے نہایت مہارت سے اپنا امیج بدلا اور خود کو ایک منکسرالمزاج، ٹھنڈے مزاج اور محنتی لیڈر کے طور پر پیش کیا۔

جب کہ دوسری جانب بھارتی جنتا پارٹی کی مہم مودی جی کے گرد ہی گھومتی رہی جو اس انتخابی عمل میں مجموعی طور پر 32 ریلیاں کرنے میں ہی کامیاب ہوئے۔ پارٹی کا واحد پوسٹر بوائے ہونے کی بہ دولت وہ خاصے دباؤ کا شکار بھی دکھائی دیے۔

آئیے اب ہر ریاست میں سیاسی جماعتوں کی پرفارمنس اور نتائج پر عمیق نگاہ ڈالتے ہیں۔ سب سے پہلے بات ہو جائے مدھیہ پردیش، کی ریاست کی جس کو سینٹرل ریاست کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

مدھیہ پردیش کی ریاست اتر پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی ثقافت کے ملغوبے کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یعنی جب 1956 میں زبان کی بنیاد پر جب راجپوتانہ سے راجستھان بنا اور اتر پردیش اور اڑیسہ بھی جدا ہوئے تو بچا کھچا علاقہ مدھیہ پردیش بن گیا۔ لہٰذا یہاں کی سیاست ہمیشہ اتر پردیش کے زیرِ اثر رہتی ہے۔

اگر چِہ یہاں پندرہ برس سے بھاجپا یعنی بھارتی جنتا پارٹی براجمان ہے اور اس نے ریاست میں ہائی وے بھی تعمیر کرائی مگر اندرونِ دیہات کی جانب جانے والے کچے راستے ابھی بھی مرکزی دھارے سے دور ہی رہے ہیں۔ یہاں اگر چِہ شیو راج چوہان جیسے قد آور چیف منسٹر موجود تھے جو گزشتہ پندرہ برس سے وزراتِ اعلیٰ کی مسند پر براجمان تھے مگر اس بار ان کو اینٹی انکیوبینسی فیکٹر کی بدولت ہار کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم یہ امر قابلِ تعریف رہا کہ انہوں نے نتائج آنے پر از خُود استعفیٰ پیش کر دیا۔ اس ریاست میں بھاجپا اور کانگرس میں گھمسان کا رن مشاہدے میں آیا اور 230 کے ایوان میں کانگرس 114 جب کہ بھاجپا 109 اور بہوجن سماج وادی پارٹی دو نشستیں ہی لے سکی۔ یاد رہے کہ 2013 کے ریاستی چناؤ میں بھاجپا 166 اور کانگرس 57 سیٹیں ہی لے سکی تھیں۔

یہاں ریاست کے اربن علاقے بھاجپا کے گڑھ رہے جب کہ اس بار دیہاتی بیلٹ میں کانگرس نے میدان مار لیا مجموعی طور پر ریاست میں ٹرن آؤٹ 75 فیصد رہا۔ مگر یہاں زرعی سیکٹر کے مسائل بھی چرچا کا موضوع رہے اور یوں لگا جیسے کسانوں کی بھیڑ راہول کے جلسے میں اپنا فیصلہ سنا رہی ہے۔

یہ امر دل چسپ ہے کہ گزشتہ بیس برس میں یہاں تقریباً 19 ہزار کسانوں نے خود کشی کی۔ کانگرس کو یہاں اس لیے کامیابی ملی کیوں کہ راہول نے انتخابی مہم میں سندھیا اور کمل ناتھ کو ایک متحرک ٹیم میں بدل دیا جنہوں نے مثبت نتائج کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ علاوہ ازیں کانگرس پارٹی میں تمام طبقات کو بھی واضح نمائندگی بھی دی گئی۔ جب کہ بھاجپا کو شیو راج چوہان کی بدولت اینٹی انکو بینسی فیکٹر کا بھی نقصان ہوا اس کے علاوہ رہی سہی کسر ویاپم گھوٹلے نے بھی پوری کر دی جس کو مؤثر انداز میں راہول نے اٹھایا۔

یوں مدھیہ پردیش میں ٹی ٹونٹی سمجھا جانے والا معرکہ کانگرس کے نام رہا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کمل ناتھ ریاست کے نئے چیف منسٹر کے طور پر فائز ہو چکے ہیں۔ اب بات ہو جائے راجپوتوں کی عظمت کی شاہ کار ریاست راجستھان کی جہاں ایک طرف اونٹوں کا روایتی میلہ پشکر صحرا میں رنگ بکھیرتا ہے، تو دوسری جانب اجمیر شریف جانے والے زائرین راجستھان کی فضاؤں کو روحانیت سے معطر کیے رکھتے ہیں۔


مزید دیکھیے: ٹیپو سلطان کی ریاست میں نریندر مودی کی شکست  از، حسین جاوید افروز

نیا پاکستان کیسے بنا  از، حسین جاوید افروز


اس بار ودھان سبھا کے انتخابات میں 199 کے ایوان میں کانگرس نے 99جب کہ بی جے پی نے 73 نشستیں بٹوریں۔ یاد رہے 2013 کے ودھان سبھا چناؤ میں بی جے پی 160 اور کانگرس 25 نشستوں تک ہی محدود رہی تھی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ راجستھان کی سیاسی حرکیات ہمارے خیبر پختونخواہ سے ملتی ہیں جہاں ہر بار ووٹر نئی جماعت کو چانس دیتا ہے۔ اس بار عوام چیف منسٹر وسندھرا راجے سے شدید نالاں تھی اور ساری ریاست میں یہی نعرہ گونج رہا تھا کہ ’’وسندھرا تیری خیر نہیں مودی سے بیر نہیں‘‘۔

دوسری جانب کانگرس کے نو جوان کرشماتی لیڈر سچن پائلٹ نے راجستھان کے ہر ضلع میں کڑی محنت کی اور اس طرح مارواڑ سے مشرقی راجستھان تک کانگرس کی جیت ہوئی۔ مگر یہ مودی کی الیکشن مہم کے آخری دنوں میں طوفانی ریلیاں ہی تھیں جنہوں نے بھاجپا کو عبرت ناک شکست کے دہانے سے بچا لیا۔ جب کہ کانگرس نے راجستھان میں جیت کے بھاری چانسز کے ساتھ مہم کے آخری دنوں زور کم لگایا۔ یوں سرکار تو بن گئی مگر ہیوی میڈیٹ کا خواب ادھورا ہی رہا۔

لیکن کانگرس کی جیت کے عوامل پر بات کی جائے تو راہول نے یہاں بھی اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کی شکل میں تجربہ اور جوانوں کے جوش سے لبریز ایک موثر ٹیم تشکیل دی جس نے ضلع کی سطح پر کانگرس کو متحرک کر دیا۔ جب کہ بھاجپا کی شکست کی ذمہ دار چیف منسٹر وسندھرا راجے رہی جس کا عوام سے تال میل نہ ہونے کے برابر رہا۔

اس پر ستم یہ کہ وسندھرا کی ایماء پر ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل بھی خراب رہا اور تقریباً 85 اہل امید وار ٹکٹوں سے محروم رہے۔ رہی سہی کسر نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور کرپشن نے پوری کی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راہول گاندھی نے اشوک گہلوت کو وزیر اعلیٰ جب کہ سچن پائلٹ کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کر دیا ہے۔

اب ہم ذکر کرتے ہیں چند دہائیوں قبل مدھیہ پردیش کے بطن سے الگ ہونے والی ریاست چھتیس گڑھ کا جو کہ نکسلائٹ کی ریاست مخالف سر گرمیوں کی بدولت ہمیشہ بد امنی کا شکار رہتی ہے مگر اس کے معدنی وسائل بھی اہم پہچان رکھتے ہیں۔

ریاست میں 90 نشستوں پر مشتمل ایوان میں کانگرس نے اس بار میدان مارتے ہوئے 68 جب کہ بھاجپا 15 اور بہوجن سماج وادی پارٹی دو نشستیں ہی لے سکی۔ یاد رہے 2013 میں کانگرس کو 39 جب کہ بھاجپا 49 کو نشستیں ملی تھیں۔

اب اگر یہاں مودی برانڈ کی ناکامی پر بات کی جائے تو یہ غریب کسان کا غصہ ہے، یہاں کے شیڈیول کاسٹ کا غصہ ہے جو کہ رمن سنگھ کی پندرہ سال سے چلی آ رہی سرکار کے خلاف کھل کر باہر آیا۔ سارے اچھے محکمے رمن سنگھ کے پاس پڑے رہے اور عوام کے کام نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ چھتیس گڑھ میں بھاجپا مہم خاصی پھیکی رہی۔ جب کہ دوسری جانب کانگرس نے یہاں واضح فتح سمیٹی، کیوں کہ اس نے کسان سے قرض معافی کا وعدہ بھی کیا اور یہی فیکٹر تھا کہ کسان کو اس کی فصل کے دام مناسب نہ ملنے پر چاول والے بابا کہلائے جانے والے رمن سنگھ ہار گئے۔ جب کہ ریاست میں نکسل ازم کی علامت والے ضلع بستر میں بھی بھاجپا کو یک سَر مسترد کر دیا گیا۔

انڈین ملٹری اور نیم فوجی فورسز کو کشمیر کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان اسی نکسل زدہ علاقے میں ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب کہ جہاں کانگرس نے بوپیش بھگیل کو سیاسی تنظیم کے لیے فری ہینڈ دیا، وہاں کانگرسی باغی اجیت جوگی اور بہوجن سماج وادی پارٹی کا اتحاد بھی عوام میں جگہ نہ بنا سکا اور مسترد کر دیا گیا۔ جب کہ کانگرس نے آدی واسیوں کو بھی مناسب نمائندگی دی اور رمن سنگھ کے پندرہ سال دور حکومت کے خلاف کامیابی سے پرچار کیا۔

اب اگر بھاجپا کی شکست کی بات کی جائے تو سب سے پہلے کانگرسی باغی اجیت جوگی اور بہوجن سماج وادی کا اتحاد بنانا مہنگا پڑا کیوں کہ یہ کانگرس کے بڑھتے قدم روکنے میں یک سَر نا کام رہا۔ جب کہ کسانوں میں بڑھتی خود کشیاں بھی بھاجپا کی کراری ہار کا سبب بنی۔

آندھرا پریش سے جدا ہو کر بنائی جانے والی ریاست تلنگانہ میں اس بار بھی واضح مینڈیٹ حکمران جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کو ہی ملا جو 119 کے ایوان میں سے 88 نشستیں جیت گئی اور یوں KCR کی عرفیت رکھنے والے کے چندر شیکھر راؤ ایک بار پھر آسانی سے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے۔ ان کے سامنے کانگرس اور تیلگو دیشام پارٹی کا اتحاد بھی 19 سیٹیں لے کر بری طرح نا کام رہا اور دوسری جانب بھاجپا بھی محض ایک نشست ہی لے سکی۔

اس طرح چندر شیکھر راؤ کا وقت سے پہلے الیکشن کرانے کا جُوا مکمل طور پر کامیاب رہا ہے۔ جب کہ اسد الدین اویسی کی جماعت نے بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی کو حمایت دی۔ آخر میں ہم شمال مشرقی بھارت کی ریاست میزورام کی بات کرتے ہیں جہاں تلنگانہ کی طرح ریجنل جماعت میزورام نیشنل فرنٹ کی کامیابی نے کانگرس اور بھاجپا کو بیک فٹ پر ڈال دیا اور کل 40 نشستوں میں سے 26 پر قبضہ جمایا۔ جب کہ کانگرس پانچ اور بھاجپا محض ایک نشست ہی بٹور سکی۔ ان تمام ریاستی انتخابات نے جن کو مئی 2019 میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیمی فائنل سے تشبیہ دی جا رہی تھی، بھارت کی سیاست پر دیر پا اثرات مرتب کیے ہیں۔

اب یہ امر واضح ہوچکا ہے کہ راہول گاندھی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے خلاف مختلف ہم خیال سیاسی جماعتوں کا اتحاد مکمل طاقت سے اپنی موجودگی کا احساس دلائے گا۔ کیوں کہ ابھی سے ہی بہوجن سماج وادی کی سپریم لیڈر مایاوتی نے کانگرس کے ساتھ چلنے کا عندیہ دے دیا ہے جب کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادیو اور بہار کے اہم بھاجپا اتحادی اوپندر کشواہا نے بھی راہول کو مثبت اشارے دیے ہیں۔ جب کہ بہ طور سیاست دان راہول گاندھی نے اپنے اوپر ’’پپو‘‘ کا ٹیگ بھی اتار پھینکا ہے اور ایک بیدار مغز سیاست دان کے طور پر مودی کے سامنے جم کر کھڑے ہونے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

پچھلے دو ماہ میں راہول کی طوفانی ریلیوں نے بھی کانگرس کو چارج رکھا اور اسی لیے اب کانگرس تینوں ہندی بیلٹ کی ریاستوں میں ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو چکی ہے۔ جب کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی اور میزورام نیشنل فرنٹ کی کامیابیوں نے بھی ریجنل پارٹیوں کی اہمیت کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے دو چند کر دیا ہے۔ بہ طور کانگرسی صدر راہول نے ایک سال میں جم کر قیادت کی اور پارٹی کو بدل کر رکھ دیا۔

اس عرصے میں 9 صوبوں میں ودھان سبھا چناؤ ہوئے۔ ان میں بھاجپا محض تریپورہ میں جب کہ کانگرس کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش اور اور چھتیس گڑھ میں فاتح رہی۔ 13 پارلیمانی ضمنی چناؤ میں کانگرس نے 3 جب کہ بھاجپا محض ایک سیٹ لے پائی۔

ان ضمنی چناؤ میں بھاجپا نے 2014 میں جیتی گئی 9 سیٹیں بھی کھو دیں۔ جب کہ ودھان سبھا ضمنی چناؤ میں کانگرس نے 6 جب کہ بھاجپا نے محض ایک سیٹ لی۔ تو بہ حیثیت مجموعی ہم دیکھتے ہیں کہ بھاجپا کا گراف گزشتہ ایک سال میں گرا ہے جب کہ کانگرس نے راہول کی قیادت میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

انڈین عوام نے مندر مسجد، مورتی، گائے، اور شہروں کے نام بدلنے کی فرقہ واریت سے لتھڑی سیاست کو یک سَر فراموش کر دیا ہے۔ جس کا بڑا ثبوت ہندو بیلٹ میں بھاجپا کی شکستِ فاش ہے۔ مودی کے اچھے دن کا دعویٰ 2019 میں باطل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں ایک طرف راہول نے جوشیلی حکمتِ عملی سے کانگرسی کیمپ میں روح پھونک دی ہے، اسی طرح بھارتی عوام نے مودی پر اپنا غصہ کھل کر نکالا ہے کہ کہاں گئے وہ اچھے دن جن کا شور مچایا گیا؟

اب اگر 2019 کو دیکھتے ہوئے اگر راہول اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یو پی اے اتحاد کو درست طریقے سے انتخابی مینجمنٹ کرتے ہوئے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے لوک سبھا میں 100 پار کرنا مشکل ہر گز نہیں ہو گا۔

یوں اب مودی کو کانگرس کی طرف سے شمالی اور سینٹرل ہندوستان میں گھمسان کی جنگ کا سامنا رہے گا۔ لیکن یہ بات بھی دل چسپ ہے کہ 2003 میں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھاجپا نے بَر سَرِ اقتدار کانگرس کو شکست دی تھی مگر اس کے چند ماہ بھی 2004 کے لوک سبھا چناؤ میں اسے کانگرس کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی تھی۔ نامور صحافی اور تجزیہ نگار راجدیپ سرڈیسائی جو ان سب ریاستوں میں اپنے پروگرام کر چکے ہیں اور انتخابی حرکیات کو باریک بینی سے جانتے ہیں ان کے مطابق راہول نے اس مُہم میں جو جوا کھیلا وہ اس میں کامیاب رہے کیوں کہ انہوں نے جان لیا کہ بہتر ہے کہ اب لوکل سیاست دانوں کو بھی طاقت اور اعتماد دیا جائے اور غریبوں کسان مزدور اور چھوٹے بیوپاریوں پر فوکس کیا جائے۔

دوسرا انہوں نے خود کو عوام کے سامنے ایک اچھے ہندو کے طور پر پیش کیا اور مندروں پر بھی متواتر حاضری دی۔ لیکن یقین مانیے کہ ابھی بھی مودی فیکٹر ہندوستانی سیاست میں موجود ہے اور سوائے چھتیس گڑھ کے بھارتی جنتا پارٹی نے ہارنے کے با وجود جم کر انتخابی لڑائی لڑی ہے۔ جب کہ کانگرسی رہنماء نوجوت سنگھ سدھو کے مطابق بھارت کا نیا مہا بَلّی اب راہول گاندھی بن چکا ہے۔ اب کانگرس ابھرتا ہوا سورج ہے جب کہ بھارتی جنتا پارٹی ایک ڈوبتا ہوا ستارہ ہے۔ برے دن جانے والے ہیں اور راہول جی آنے والے ہیں۔ کیوں کہ یہ پبلک ہے سب جانتی ہے۔

راج ناتھ سنگھ کا یہ یہ بیان کہ ان انتخابات کا لوک سبھا پر اتنا فرق نہیں پڑے گا ہر گز سنجیدہ سیاست کی غمازی نہیں کرتا کیوں کہ ہندی بیلٹ میں شکست کے بعد اب بھاجپا تھنک ٹینک کو اب یہ سوچنا چاہیے کہ راہول کو اب کی بار یہ مینڈیٹ نہرو، اندرا یا راجیو کے نام پر نہیں بَل کہ اس کی اپنی کڑی محنت کی بدولت ملا ہے لہٰذا اب راہول یا گاندھی خاندان کا مذاق اڑانا کوئی دانش مندانہ قدم نہیں ہے۔

ان انتخابات یہ بھی ثابت ہوا کہ بھاجپا اب مودی کے سہارے ہر جگہ اپنے زعفرانی جھنڈے گاڑنے کی خواہش ترک کرے بَل کہ پارٹی میں نئے لیڈروں پر بھی بھروسا کیا جائے تا کہ مودی پر دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ عوام نے یوگی آدیتہ ناتھ ماڈل کو بھی کوئی لِفٹ نہیں کرائی ہے۔ کیوں کہ 2019 مئی میں عوام کے تمام طبقات خصوصاً کسان، مزدور، چھوٹے دکان دار اور نو جوان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مودی سالانہ بنیادوں پردو کروڑ نوکریاں فراہم کیوں نہیں کر سکے جب کہ آج کے بھارت میں سالانہ پچاس لاکھ نوجوان ڈگریاں تھامے نوکری کی آس میں سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں۔

مودی عملی طور پر بھارت میں صفائی مہم کیوں نہ کامیاب کر سکے؟ آج جب کسانوں کے 200 گروپس میں شامل پچاس ہزار کسانوں نے دہلی میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرہ کیا تو مودی سرکار جواب کیوں نہیں دے سکی؟ آخر کیوں نوٹ بندی کے ثمرات اب تک خواب ہی ہیں اور کب ہر بھارتی کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے لوٹی ہوئی دولت کی آمد کے ساتھ جمع ہو سکیں گے؟

نام ور محقق اور سیاست دان ششی تَھرُور نے دُرُست نشان دہی کرتے ہوئے یہ ٹوئٹ کیا کہ ۱۱دسمبر کو بھارتی عوام نے ووٹنگ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا اور مودی کو تین مرتبہ طلاق دے دی ہے۔

About حسین جاوید افروز 52 Articles
حسین جاوید افروز جیو نیوز سے وابستہ صحافی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.