پھٹتے آموں کا خوف 

Waris Raza

پھٹتے آموں کا خوف

از، وارث رضا

مجھے آج سے قریباً پچیس برس پہلے کا وہ دن یاد ہے جب پی ایم اے ہاؤس کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی پندرہ روزہ نشست کے دوران میری توجہ ایک منحنی سی شکل و صورت کے نو جوان کی جانب مبذول کروائی گئی جو اجلاس کے دوراں خالی خالی مگر سوچ میں غلطاں نظروں سے پوری کارِروائی کا حصہ تھا مگر محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس نشست کے خد و خال اور نشست میں پڑھے جانے والے افسانے اور دیگر مضامین پر ہوئے تنقیدی رویّے پر مکمل سَہمت نہ تھا۔

نشست کے بعد سیکرٹری کی حیثیت سے میں اس نو جوان سے ملا، مگر اس کی بے اعتنائی ختم کرنے میں نا کام رہا، البتہ میں نے اسے اگلی نشست میں آنے کا جھٹ سے دعوت نامہ دے ڈالا۔

یہ نو جوان، “جی ضرور” کہہ کر لا اُبالی قدموں سے پی ایم اے ہاؤس سے چلا گیا۔ اگلی نشست میں جب میں انتظامی امور سے نمٹا کر فارغ ہوا تو دیکھا کہ وہ نو جوان موجود تھا، مگر پہلے کے مقابلے میں کافی با اعتماد لگا۔

میں نے موقع کی مناسبت سے ان سے پوچھ لیا، “کیا کرتے ہیں آپ؟” ان کا جواب تھا، “جامعۂِ کراچی میں زیرِ تعلیم ہوں۔” میرے استفسار پر معلوم ہوا کہ موصوف انگریزی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور لکھنے لکھانے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔

ان دنوں کافی سِکّہ بند ادیب و شاعر انجمن میں با قاعدگی کے ساتھ شریک ہوا کرتے تھے، سو نو جوان قلم کاروں کو موقع دینا بھی جوئے شیر ہی تھا۔ بَہ ہر حال، تین چار نشست بعد اس نو جوان کو افسانہ پڑھنے کو کہا گیا تو اس نے ہامی بھر لی اور یوں انجمن ترقی پسند مصنفین نے کاشف رضا کی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کی غرض سے جو ہو سکا کیا۔

یہ وہ دور تھا جب جمہوری سیاست اتھل پتھل کا شکار تھی مگر انجمن اپنی سیاسی فکر اور ادب برائے زندگی کے نقطۂِ نظر کا چراغ جلانے میں مستعد تھی۔ کاشف رضا ہمیشہ سے کم گو مگر عمیق نظر رکھنے والا سوچوں میں گِھرا نو جوان لگا مجھے۔

پھر زمانے کے نشیب و فراز نے دوستوں کو مصروف کر دیا اور بعد میں پتا چلا کہ کاشف رضا صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ ایک ہی شعبے سے وابستگی نے ہمیں پھر رابطوں کی زنجیر پہنا دی اور ہم گاہے گاہے کسی نہ کسی حوالے سے ملتے اور ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے رہے۔

پھر ایک روز عقیل عباس جعفری نے بتایا کہ حلقۂِ اربابِ ذوق کی محافل کو کاشف رضا تن دہی سے آرٹس کونسل میں سجا رہے ہیں۔ چُوں کہ میں حلقے کے سرکاری بیانیے سے واقف کار تھا جو ادب بَہ راہِ ادب کی چکی میں پیسے گئے تھے، سو میں اسی ناتے کبھی حلقے کی نشستوں میں نہ جا سکا، یا نہیں جانا چاہتا تھا ما سوائے جاپانی ادیب کے ساتھ ایک شام والے پروگرام میں جو کہ وہ بھی سرکاری جگہ پر چلا کرتا تھا۔

مگر اس کا ایک فائدہ یہ ضرور ہوا کہ کاشف رضا سے رابطہ پہلے کی نسبت زیادہ بہتر ہو گیا اور یوں ہم ملتے رہے چہ جائی کہ خواہش کے با وجود بیٹھک نہ ہو سکی۔

اسی دوران کاشف رضا بچوں کے باپ بھی بن چکے تھے اور ایک سرگرم لکھنے لکھانے والے فرد کی جگہ بھی شہر میں بنا چکے تھے۔ کاشف رضا سے میرا رشتہ ادب و تہذیب سے ہمیشہ جڑا رہا بل کہ بسا اوقات کاشف رضا کے مُتلَوّن مزاج کی گرمی کو حسبِ ضرورت درست بھی کیا اور کاشف رضا نے ہمیشہ میرا مان رکھتے ہوئے میری بات کو اہمیت دی۔

یہ محبت اور شائستگی کا تعلق اس دَم اور سرخ رُو ہوا جب کاشف رضا نے معروف صحافی محمد حنیف کی کتاب پھٹتے آموں کا کیس کا اردو ترجمہ کیا۔ گو میں ہنوز اس ترجمہ کی گئی کتاب کے حصول سے محروم ہوں، مگر کاشف رضا کی دیگر ریاضتوں کے مقابل، پھٹتے آموں کا کیس نامی کتاب اس کا ایک اہم حوالہ بن گئی، جس کو خاصی پذیرائی ملی۔

اب تو یہ کتاب ہماری ایجنسیوں کے ہرکاروں کی بے تُکی حرکات کی وجہ سے ہر طرف موضوعِ بحث ہے۔ میں ان خوش نصیب میں سے ہوں جو ملک نورانی کی حیات میں ان کے رنگ ڈھنگ اور ترقی پسند فکر سے عشق دیکھ چکے ہیں۔

یہاں ترقی پسند مصنفین کیفی اعظمی، فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، سبطِ حسن کی کتابیں بڑے دھڑلّے سے چَھپ کر ملک کے پڑھنے والوں میں مکتبۂِ دانیال کی آبرُو مندی کو محفوظ کیے رکھتی تھیں؛ آرٹسٹ لیاقت حسین کے ٹائٹل اور فن کارانہ سر ورق کی یہ کتب روشن خیالی کی شمع روشن رکھنے کا ایک مضبوط وسیلہ تھیں، جہاں سے روسی ادب کی معروف کتابیں بَہ آسانی پڑھنے والوں کو ارزاں قیمت پر دست یاب ہوا کرتی تھیں۔ پھر زمانے کی کروٹ اور فوجی آمر ضیاء کی شب گزیدہ سحر سے مذہبی انتہا پسندی پھوٹی مگر مکتبۂِ دانیال نے اپنی ڈَگر برقرار رکھی۔

مشکل حالات میں حوری نورانی نے مکتبۂِ دانیال کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے تئیں باپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔ جس میں حوری کو مشکلات پیش آئیں مگر حوری اور نومی کے پایہ ہائے استقامت میں لغزش تک نہ آئی، گو مکتبہ کو حوادثِ زمانہ کی کتب بینی کم ہونے کے نقصانات بھی سہنے پڑے مگر آج بھی مکتبۂِ دانیال ملک میں روشن خیال کتابوں کی فراہمی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔

ابھی چند برس قبل ہی حوری نورانی کو عائشہ صدیقہ کی انگریزی کتاب کے ترجمے، خاکی کمپنی پر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا جب خلائی خداؤں نے خاکی کمپنی کی اشاعت کو بند کروا کر ملک کے تمام کتب دکانوں سے اٹھوا لیا اور حوری سمیت ناظر محمود اور بہت سے دیگر کو کافی مشکلات اٹھانی پڑیں، مگر ملک نورانی کی بہادر بیٹی حوری نے روشن خیال فکر بکھیرنے کی شمع روشن رکھنے کے ارادے سے ایک مزید خطرہ مول لیا اور کاشف رضا سے صحافی   محمد حنیف کی پھٹتے آموں کا کیس چھاپی اور ایک جرات مندانہ کام کیا۔

ابھی، پھٹتے آموں کا کیس نامی یہ کتاب مکمل پذیرائی بھی نہ حاصل کر پائی تھی کہ قومی سلامتی کے ٹھیکے داروں کے خفیہ اردلیوں نے پھٹتے آموں کا کیس نامی کتاب کو عام عوام کی دستِ رَس سے دور کرنے کی ٹھان لی اور مکتبۂِ دانیال پر دھاوا بول دیا اور دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے ساری موجود پھٹتے آموں کا کیس ناکی کتاب کو مارکیٹ اور مکتبۂِ دانیال سے اٹھوا لیا۔ بل کہ ترجمہ کار کاشف رضا اور صحافی محمد حنیف کو دھمکیاں دے کر خاموش رہنے کی تلقین کی۔

میں جس کاشف رضا کو جانتا ہوں تو اس ناتے یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کاشف نے کتاب کی روح کو قائم رکھنے میں دل و جان ایک کر دیے ہوں گے اور بلا کسی خوف کے ایمان دارانہ سطح پر پھٹتے آموں کا کیس نامی کتاب کو قارئین تک پہنچایا ہو گا۔

اب اس کے اردو ترجمے کے بعد ہمارے قومی سلامتی کے زر داروں کو گیارہ برس کے بعد اس کتاب کے خطر ناک نتائج نظر آنے کو دیکھتے ہوئے ان خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان عقل کا ماتم ٹائپ ایجنسیوں پر ماتم سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ آخر وہ اظہار پر پا بندی کے ایسے چٹکلوں سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔

اس کی سادہ سی وجہ سماج میں خوف پیدا کر کے در اصل اپنے غلام پسند بیانیے کو سماج پر تھوپنے کی ایک ایسی بھونڈی شکل ہے جس کے اطلاق میں اب دیر ہو چکی ہے اور سماج ذہنی غلامی کی زنجیروں کو کترنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سو بہتر ہے کہ قومی سلامتی کے خوانچے دار اپنے بوسیدہ خوانچے یا تو متروک کر دیں یا پھر عوام کے آزاد ذہن کی فراوانی کو قبول کر لیں۔ وگرنہ صبح رات کے اندھیروں کو کھا ہی جاتی ہے۔

تاریک سوچ کے غلام بیانیے کے اہل کار سمجھ لیں کہ نہ وہ ترقی اور ذہنی بالیدگی کا پہیہ روک پائیں گے اور نہ ہی بندوق کی طاقت انہیں محفوظ کر سکے گی۔ لہٰذا کاشف رضا، محمد حنیف، ناظر محمود، یا حوری نورانی کے راستے میں روڑے اٹکانے سے سیلِ رواں رکنے کا نہیں۔ سو ہوش کے ناخن بڑھائیں، پھٹتے آموں کا کیس بننے سے محفوظ رہیں اور انسانی آزاد سوچ کے راہی بنیں کہ یہی وقت اور زمانے کی پکار ہے:

وضو بنائیں وہ جنھیں اذان دینا ہے

ہمیں تو صبح کے خاطر ہی جان دینا ہے

About وارث رضا 19 Articles
وارث رضا کراچی میں مقیم سینئر صحافی ہیں۔ ملک میں چلنے والی مختلف زمینی سیاسی و صحافتی تحریکوں میں توانا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھوں میں دیکھنا ان کی جد وجہد کا مِحور رہا ہے۔